ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
’’ عالمی اثرات کے لیے مقامی سطح پر عمل ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی دن 2026 کے موقع پر بھارت نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور معاشرے کی قیادت میں اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا
مرکزی وزیر ماحولیات نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مقامی اقدامات، اے بی ایس فریم ورک اور معاشرے کی شمولیت کے کردار کو اجاگر کیا
پروجیکٹ چیتا نے پناہ گاہوں کے تحفظ، جنگلاتی حیاتیات کی سائنسی دیکھ بھال اور تحفظ کی کوششوں میں معاشرے کی شرکت کو مضبوط بنایا: وزیر اعلیٰ (مدھیہ پردیش)
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 MAY 2026 1:15PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرجناب بھوپیندر یادو نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے ساتھ آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ مینجمنٹ (آئی آئی ایف ایم ) بھوپال میں حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی دن 2026 کی قومی سطح کی تقریب اور چیتا تحفظ سے متعلق ایک پروگرام کی صدارت کی۔ اس تقریب کا موضوع ’’ عالمی اثرات کے لیے مقامی سطح پر عمل ‘‘ تھا، جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، عوامی شمولیت اور ماحولیاتی بحالی کے تئیں بھارت کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ تقریب مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے حکومت مدھیہ پردیش، قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے ) اور بین الاقوامی بگ کیٹ الائنس (آئی بی سی اے) کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ اس موقع پر دیگر معزز شخصیات میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ اور مدھیہ پردیش کے جنگلات و ماحولیات کے وزیر جناب دلیپ اہروار بھی موجود تھے۔ تقریب میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران، این بی اے، آئی بی سی اے، سائنس دانوں، جنگلاتی افسران، حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں کے اراکین، محققین، صنعتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش، جسے وسیع پیمانے پر ’’بھارت کی ٹائیگر ریاست‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، ملک میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور جنگلاتی حیات کی حفاظت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے ریاست کی مالامال ماحولیاتی تنوع پر روشنی ڈالی، جس میں جنگلات، ویٹ لینڈاور دریائی ماحولیاتی نظام شامل ہیں، جو روزگار اور ماحولیاتی تحفظ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے مدھیہ پردیش میں چیتوں کی دوبارہ بازآبادکاری کو بھارت کے تحفظاتی سفر میں ایک تاریخی کامیابی اور ماحولیاتی و حیاتیاتی تنوع کی بحالی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ چیتا نے قدرتی مسکن کے تحفظ، جنگلاتی حیاتیات کی سائنسی دیکھ بھال اور تحفظ کی کوششوں میں عوامی شمولیت کو مضبوط بنایا ہے۔
ڈاکٹر یادو نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ مدھیہ پردیش نے حیاتیاتی تنوع کے نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں کے قیام اور عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کی تیاری کے ذریعے اہم اقدامات کیے ہیں، جس سے مقامی لوگوں کو روایتی علم اور حیاتیاتی وسائل کے تحفظ کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے بین الاقوامی دن 2026 کا موضوع ’’ عالمی اثرات کے لیے مقامی سطح پر عمل ‘‘ ماحولیاتی پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کے حصول کے لیے معاشرے اور مقامی اداروں کو بااختیار بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بامعنی عالمی نتائج صرف مضبوط مقامی اقدامات، عوامی شمولیت اور پائیدار طرز زندگی کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
وزیر موصوف نے بھارت کے مالامال حیاتیاتی ورثے اور روایتی ماحولیاتی علمی نظاموں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے حیاتیاتی طور پر نہایت متنوع ممالک میں شامل ہونے کے ناطے بھارت کے پاس ہمالیہ، جنگلات، دلدلی زمین، گھاس کے میدان، ریگستان، ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام جیسے متنوع ماحولیاتی خطے موجود ہیں۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ عوامی قیادت میں ہونے والی تحفظاتی روایات، جیسے عقیدت سے جڑے جنگلات، لوک اقسام، مقامی نسلیں اور مقامی نگہداشت کے طریقے، انسان اور فطرت کے درمیان گہرے ثقافتی اور ماحولیاتی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق سوچ صرف ایک ہی نوع کے تحفظ سے آگے بڑھ کر پوری زندگی اور باہم مربوط ماحولیاتی نظاموں کے تحفظ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی سائنس دانوں نے اس حقیقت کا شدت کے ساتھ اعتراف کیا ہے کہ پودے اور جانور الگ الگ زندہ نہیں رہ سکتے بلکہ وہ پیچیدہ اور ایک دوسرے پر منحصر ماحولیاتی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی حیاتیاتی تنوع کا تحفظ فطرت کی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کے مقابلے میں اس کی ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو مستحکم بناتا ہے۔

جناب یادو نے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن اور کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے نفاذ کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 نے قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی، ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں کے ذریعے ایک مضبوط غیر مرکزی ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے۔
وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ حیاتیاتی تنوع (بی ڈی) ایکٹ، قواعد و ضوابط میں حالیہ ترامیم نے صنعتوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے اور کاروبار میں آسانی کو فروغ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو صنعتوں سے مناسب فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ رسائی اور فائدہ شراکت داری (اے بی ایس) کے نظام کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ملک بھر میں مستحقین کو تقریباً 145 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے تقریباً 11 ہزار حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیاں مستفید ہوئی ہیں۔ وزیر موصوف نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ گاؤں کی سطح کی حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں کو رسائی اور فائدہ شراکت داری کے فوائد کی منتقلی کے ذریعے سہولت فراہم کریں، جس سے وہ مشن موڈ میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مزید بااختیار ہو سکیں گی۔
جناب یادو نے کہا کہ پروجیکٹ چیتا، جو 2022 میں ایک بڑے گوشت خور جانور کی دنیا کی پہلی بین براعظمی منتقلی کے ذریعے شروع کیا گیا تھا، ماحولیاتی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور گھاس کے میدانوں کے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے لیے بھارت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں یہاں کے ماحول کے مطابق چیتوں کے ڈھل جانے اور افزائش سے چیتوں کی طویل مدتی بازآبادکاری اور قدرتی مسکن کی بحالی کی کوششوں میں حوصلہ افزا پیش رفت کی نمائندگی ہوتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب کیرتی وردھن سنگھ نے زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا خوراک کے تحفظ، آبی تحفظ، روزگار، موسمیاتی استحکام اور پائیدار ترقی سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے بھارت کی روایتی ماحولیاتی شعور اور پائیدار طرز زندگی کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں ماحولیات کے لیے طرز زندگی کی عالمی تحریک بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ تمام ماحولیاتی تحفظاتی اقدامات کی بنیاد ہے۔

اس تقریب میں صنعتوں، تعلیمی اداروں، تحفظاتی تنظیموں اور مقامی لوگوں کے حیاتیاتی تنوع کی نگہداشت، ماحولیاتی بحالی، پائیدار وسائل کے استعمال اور تحفظاتی شراکت داریوں کو فروغ دینے میں کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر درج ذیل اشاعتیں، اقدامات اور آگاہی مواد جاری کیے گئے:
- حسب ضرورت تیار کردہ مائی اسٹامپ
- بھارت کی حیاتیاتی تنوع رپورٹ 2026: حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کو پیش کی گئی ساتویں قومی رپورٹ سے حاصل شدہ جانکاریاں
- بھارت کی اے بی ایس کو نافذ کرنے میں پیش رفت: ناگویا پروٹوکول پر بھارت کی پہلی قومی رپورٹ سے حاصل شدہ جانکاریاں
- اے بی ایس کا مکمل پورٹل
- رسائی اور فائدہ شراکت داری پر فلم
- امرکنٹک حیاتیاتی ورثہ مقام پر فلم
- مدھیہ پردیش کے دیولوک ونوں (عقیدت سے جڑے جنگلات) کے تحفظ پر فلم
تقریب کے موقع پر ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز، حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیوں اور مختلف محکموں نے موضوعاتی نمائشوں کے ذریعے اپنی حصولیابیوں، اختراعی اقدامات اور حیاتیاتی بنیاد پر تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کی۔ اس نمائش نے بہترین طریقۂ کار کے تبادلے، عوامی قیادت میں ہونے والی تحفظاتی کوششوں کے فروغ اور حیاتیاتی تنوع پر مبنی پائیدار روزگار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ معزز شخصیات نے آئی آئی ایف ایم بھوپال میں ریاستی محکمۂ جنگلات کی 20 موٹر سائیکلوں اور ایک ریسکیو ٹرک کو بھی روانہ کیا۔


**************
ش ح ۔ م ش ۔ م الف
U. No.7416
(ریلیز آئی ڈی: 2264118)
وزیٹر کاؤنٹر : 17