پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر بین وزارتی بریفنگ


خطے میں موجود تمام بھارتی سمندری عملہ محفوظ ہے، اور پچھلے 72 گھنٹوں کے دوران نہ تو کسی بھارتی پرچم والے جہاز اور نہ ہی بھارتی عملے والے کسی غیر ملکی جہاز سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے

ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل میں ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ پر مبنی نظام کے تحت ترسیل تقریباً 96 فیصد تک بڑھ گئی ہے تاکہ اس کے غلط استعمال یا ڈائیورژن کو روکا جا سکے

58,500 سے زائد پی این جی صارفین نے اب تک MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن رضاکارانہ طور پر واپس کر دیے ہیں

ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 MAY 2026 6:34PM by PIB Delhi

مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، حکومتِ ہند مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ شہریوں کو باقاعدہ معلومات فراہم کی جائیں۔ اسی سلسلے میں آج نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک میڈیا بریفنگ منعقد ہوئی، جہاں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اور بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے افسران نے ایندھن کی دستیابی، سمندری آپریشنز اور اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔

توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے موجودہ ایندھن کی سپلائی کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ بتایا گیا کہ:

عوامی ایڈائزری  اور شہریوں میں آگاہی

  • شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں کیونکہ حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
  • افواہوں سے بچیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
  • ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس غیر ضروری طور پر نہ جائیں۔
  • شہریوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ متبادل ایندھن جیسے پی این جی، اور بجلی یا انڈکشن کُک ٹاپس استعمال کریں۔
  • تمام شہریوں سے درخواست ہے کہ موجودہ صورتحال میں روزمرہ استعمال کے دوران توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

حکومتی تیاری اور سپلائی کے انتظامی اقدامات

  • جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کی 100 فیصد سپلائی جاری رہے۔
  • کمرشیل ایل پی جی کے لیے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دوا سازی، اسٹیل، آٹوموبائل، بیج، زراعت وغیرہ جیسے شعبوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔  اس کے علاوہ  تارکین وطن مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام  ایف ٹی ایل کی سپلائی کو 2 اور 3 مارچ 2026 کی اوسط یومیہ سپلائی کی بنیاد پر دوگنا کر دیا گیا ہے۔
  • حکومت پہلے ہی سپلائی اور طلب دونوں طرف کئی معقول اقدامات نافذ کر چکی ہے، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ کے وقفے کو 21 سے بڑھا کر 25 دن کرنا اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور سپلائی کے لیے مختلف شعبوں کو ترجیح دینا شامل ہے۔

ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مربوط کوششیں اور ادارہ جاتی نظام

  • ریاستی حکومتوں کو ضروری اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سپلائی کی نگرانی کریں اور ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف کارروائی کریں۔
  • ریاستی/مرکز کے  زیر انتظام  علاقوں کی حکومتوں کا بنیادی کردار ضروری اشیاء بشمول پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی سپلائی کی صورتحال کی نگرانی کرنا اور اسے منظم کرنا ہے۔ حکومتِ ہند نے اس حوالے سے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو متعدد خطوط اور ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے دوبارہ تاکید کی ہے۔
  • حکومتِ ہند نے 27.03.2026 اور 02.04.2026 کے خطوط کے ذریعے شہریوں کو تسلی دینے کے لیے فعال عوامی رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایندھن کی وافر دستیابی کے بارے میں اعتماد پیدا کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں 02.04.2026 کو (سیکریٹری، وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی صدارت میں) اور 06.04.2026 کو (سیکریٹری، وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی صدارت میں، اطلاعات و نشریات اور صارف امور کے سیکریٹریز کے ساتھ) اجلاس منعقد ہوئے، جن میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا:
  • روزانہ پریس بریفنگ جاری کرنا اور باقاعدہ عوامی مشورے (ایڈوائزری) جاری کرنا۔
  • سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور غلط معلومات کی فعال نگرانی اور ان کا تدارک کرنا۔
  • ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ نافذ العمل کارروائیوں کو تیز کرنا اورتیل  مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر چھاپوں اور معائنے کا سلسلہ جاری رکھنا۔
  • پی این جی کے استعمال کو فروغ دینا اور متبادل ایندھن کی حوصلہ افزائی کرنا۔
  • ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دینا، خاص طور پر گھریلو ضروریات کے لیے، اور سپلائی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کی تقسیم  کے نشانے کو پورا کرنا۔

نفاذ اور نگرانی کی کارروائیاں

  • ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں نفاذکی کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 3 دنوں کے دوران ملک بھر میں 5000 سے زائد چھاپے مارے گئے۔
  • اسی طرح  عوامی شعبے کی  تیل مارکیٹنگ کمپنیوں پی ایس یو     ، او ایم سیزکے افسران کی جانب سے اچانک معائنوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور گزشتہ 3 دنوں میں 3100 سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس کا معائنہ کیا گیا ہے۔
  • پی ایس یو     ، او ایم سیزنے اچانک معائنوں کو مزید مضبوطی کے ساتھ جاری رکھا ہے اور 463 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں، جبکہ 81 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس کو گزشتہ روز تک معطل کر دیا گیا ہے۔

ایل پی جی سپلائی

گھریلو ایل پی جی سپلائی کی صورتحال:

  • موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
  • گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
  • ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرشپس پر کسی قسم کی کمی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
  • صنعتی سطح پر آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ تقریباً 99 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
  • ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی)پر مبنی ترسیل تقریباً 96 فیصد تک بڑھ گئی ہے تاکہ غلط استعمال اور ڈائیورژن کو روکا جا سکے۔  ڈی اے سی صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہوتا ہے۔
  • گزشتہ 3 دنوں کے دوران تقریباً 1.34 کروڑ ایل پی جی سلنڈرز کی ترسیل کی گئی، جبکہ بکنگ تقریباً 1.32 کروڑ سلنڈرز کی تھی۔
  • گزشتہ روز تقریباً 47.51 لاکھ ایل پی جی سلنڈرز کی ترسیل ہوئی، جبکہ بکنگ تقریباً 45.36 لاکھ سلنڈرز کی تھی۔

کمرشیل ایل پی جی کی سپلائی اور ایلو کیشن اقدامات:

  • کمرشیل ایل پی جی کا مجموعی کوٹہ بحران سے پہلے کی سطح کے تقریباً 70 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جس میں 10 فیصد اصلاحات پر مبنی ایلو کیشن  بھی شامل ہے۔
  • گزشتہ 3 دنوں کے دوران 5 کلوگرام  وزن کے تقریباً 1.87 لاکھ ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت کیے گئے۔
  • 3 اپریل 2026 سے  عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں( پی ایس یو     ، او ایم سیز) نے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز کے لیے 14,500 سے زائد آگاہی کیمپ منعقد کیے ہیں، جن میں 2.34 لاکھ سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز بھی فروخت کیے گئے۔
  • گزشتہ روز تقریباً 348 کیمپس کے ذریعے 4919 پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت ہوئے۔
  • آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی، ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد مختلف ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں  کمرشیل  ایل پی جی کی فروخت کا منصوبہ تیار کرتی ہے۔
  • مئی 2026 سے اب تک مجموعی طور پر 1,32,341 میٹرک ٹن  کمرشیل  ایل پی جی فروخت کی جا چکی ہے۔
  • گزشتہ 3 دنوں کے دوران مجموعی طور پر 23,588 میٹرک ٹن  کمرشیل ایل پی جی فروخت ہوئی ہے۔
  • اسی عرصے میں عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 963 میٹرک ٹن آٹو ایل پی جی بھی فروخت کی گئی ہے۔

قدرتی گیس کی سپلائی اور پی این جی کے فروغ کے اقدامات

  • صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے گھریلو پی این جی اور سی این جی ٹرانسپورٹ کے لیے 100 فیصد سپلائی یقینی بنائی گئی ہے۔
  • دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں، بشمول سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس کے ذریعے سپلائی، کو بڑھا کر تقریباً 80 فیصد تک کیا گیا ہے۔
  • سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں ( جی ایز ) میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور کینٹینوں جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں، تاکہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کم کیے جا سکیں۔
  • ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سی جی ڈی نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے درکار منظوریوں کو تیزی سے مکمل کریں۔
  • حکومتِ ہند نے 18.03.2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اضافی 10 فیصد  کمرشیل ایل پی جی الاٹمنٹ کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی کی طویل المدتی منتقلی میں معاونت کریں۔
  • اس وقت 22 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے تجارتی ایل پی جی کی اضافی الاٹمنٹ حاصل کر رہے ہیں، جو پی این جی کے فروغ سے متعلق اصلاحات سے منسلک ہے۔
  • حکومتِ ہند نے گزٹ نوٹیفکیشن مورخہ 24.03.2026 کے ذریعے ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت نیشنل گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیات کی بچھانے، تعمیر، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) آرڈر 2026 نافذ کیا ہے۔ اس آرڈر کے تحت ملک بھر میں پائپ لائنیں  بچھانے اور توسیع کے لیے ایک آسان اور مقررہ مدت والا فریم ورک فراہم کیا گیا ہے، تاکہ منظوریوں میں تاخیر اور  برموقع رسائی کے مسائل کو حل کیا جا سکے اور رہائشی علاقوں سمیت قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیز تر ترقی ممکن ہو سکے۔ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع میں تیزی آنے، آخری مرحلے تک رسائی بہتر ہونے اور صاف ایندھن کی طرف منتقلی کو فروغ ملنے کی توقع ہے، جس سے توانائی کی یقینی فراہمی مستحکم ہوگی اور بھارت کی گیس پر مبنی معیشت کو تقویت ملے گی۔
  • پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھریلو پی این جی کنکشنز کو تیزی سے فراہم کریں۔ اسی طرح نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 کو 30.06.2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ پی این جی کی توسیع کی رفتار برقرار رہے۔
  • صاف، محفوظ اور خود کفیل توانائی کے مستقبل کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند نے ماڈل ڈرافٹ اسٹیٹ سی بی جی پالیسی تیار کی ہے۔ یہ ماڈل پالیسی ایک جامع اور لچکدار رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرے گی تاکہ ریاستیں اپنی سرمایہ کار دوست اور عمل درآمد پر مبنی پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔ وہ ریاستیں جو اس پالیسی کو اختیار کریں گی، انہیں  کمرشیل ایل پی جی کی اضافی ایلو کیشن کے اگلے مرحلے میں ترجیح دی جائے گی۔
  • مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 7.64 لاکھ پی این جی کنکشنز کو فعال کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید 2.81 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی تعداد 10.45 لاکھ کنکشنز تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 7.99 لاکھ صارفین نے نئے کنکشنز کے لیے رجسٹریشن بھی کروایاہے۔
  • 20.05.2026 تک 58,500 سے زائد پی این جی صارفین نے MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشنز رضاکارانہ طور پر واپس کر دیے ہیں۔

 خام تیل کی صورتحال اور ریفائنری آپریشنز

  • تمام ریفائنریاں مکمل  صلاحیت  کے قریب چل رہی ہیں اور ان کے پاس خام تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کا بھی مناسب اسٹاک برقرار رکھا جا رہا ہے۔
  • ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ گھریلو استعمال کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
  • پیٹروکیمیکل فِیڈ اسٹاک کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بین وزارتی مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حکومتِ ہند نے 01.04.2026 کے حکم نامے کے ذریعے ریفائنری کمپنیوں اور پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو اجازت دی ہے کہ وہ C3 اور C4 اسٹریمز کی مخصوص کم از کم مقدار اُن اہم شعبوں کے لیے فراہم کریں جن کا تعین سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی (سی ایچ ٹی )کرتا ہے۔
  • محکمہ دواسازی، محکمہ کیمیکل و پیٹروکیمیکل (ڈی سی پی سی) اور محکمہ فروغِ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی )کی درخواستوں کی بنیاد پر  ایل پی جی پول سے روزانہ 1120 میٹرک ٹن C3-C4 مالیکیولز، دوا سازی، کیمیکل اور پینٹ کے شعبوں کی کمپنیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
  • یکم مئی 2026 سے اب تک ممبئی، کوچی، وشاکھاپٹنم، چنئی، متھرا اور گجرات کی ریفائنریوں نے کیمیکل، دوا سازی اور پینٹ انڈسٹری کو تقریباً 10,600 میٹرک ٹن C3-C4 مالیکیولز اور تقریباً 3,940 میٹرک ٹن بیوٹل ایکریلیٹ فروخت کیا ہے۔

ایندھن کی ریٹیل دستیابی اور قیمتوں سے متعلق اقدامات

  • ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
  • مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس اثر سے صارفین کو بچانے کے لیے حکومتِ ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کے ذریعے اس بوجھ کا کچھ حصہ خود برداشت کیا جائے۔
  • حکومتِ ہند نے 15.05.2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈیزل پر برآمدی لیوی کو 23 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 16.50 روپے فی لیٹر کر دیا ہے اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر لیوی 33 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 16 روپے فی لیٹر کر دی ہے۔ اس کے علاوہ  ، پیٹرول پر ایکسپورٹ  ڈیوٹی 3 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
  • ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

سمندری سلامتی اور جہاز رانی کارروائیاں

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے خلیج فارس میں موجودہ سمندری صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خطے میں بھارتی جہازوں اور عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات جاری ہیں۔

  • یہ بتایا گیا کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت، وزارت ِخارجہ، بھارتی مشنز اور سمندری شراکت داروں  کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سمندری عملے کی فلاح و بہبود اور جہاز رانی کے بلا تعطل آپریشنز کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • خطے میں تمام بھارتی سمندری عملہ محفوظ ہے، اور گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران کسی بھی بھارتی پرچم والے جہاز یا بھارتی عملے والے غیر ملکی جہاز سے متعلق کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
  • ڈی جی شپنگ کنٹرول روم کے قیام کے بعد سے اب تک 10,106 کالز اور 22,215 سے زائد ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ گزشتہ 72 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 404 کالز اور 903 ای میلز سمندری عملے، ان کے اہل خانہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے موصول ہوئی ہیں۔
  • وزارت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی شیپنگ) کے ذریعے اب تک 3,316 سے زائد بھارتی سمندری عملے کی محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 99 افراد کو خلیج کے مختلف مقامات سے واپس لایا گیا ہے۔
  • بھارت میں تمام بندرگاہوں پرکارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی قسم کی دقت یا رکاوٹ رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔

*****

 (ش ح ۔ ض ر۔ م ذ)

U.No: 7390


(रिलीज़ आईडी: 2263874) आगंतुक पटल : 42
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Bengali , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam