الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
راجستھان کو اپنی پہلی سیمی کنڈکٹر فیکٹری ملی
بھارت کی پہلی ایس ایم ای کی قیادت میں قائم سیمی کنڈکٹر سہولت کا سہسرا سیمی کنڈکٹر کی جانب سے بھیواڑی میں افتتاح
مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے سیمی کنڈکٹر جیسی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل صنعت میں راجستھان کے داخلے کا خیرمقدم کیا
سالارپور میں ایلسینا کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر (ای ایم سی) کا بھی افتتاح کیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 MAY 2026 6:13PM by PIB Delhi
راجستھان کے بھیواڑی کے علاقے خوش کھیڑا کے سالارپور میں ایلِسینا کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر (ای ایم سی) اور سہسرا سیمی کنڈکٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کی سیمی کنڈکٹر اے ٹی ایم پی/او سی اے ٹی سہولت کا آج مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے ورچوئل طور پر افتتاح کیا۔

افتتاحی تقریب راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ جناب بھجن لال شرما اور ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

یہ تقریب بھارت کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور سیمی کنڈکٹر کے عالمی مرکز بننے کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پیش رفت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی ”میک اِن انڈیا“، ”ڈیجیٹل انڈیا“ اور ”آتم نربھر بھارت“ جیسی دوراندیش پہل کے ذریعے ممکن ہو رہی ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے اسے ریاست راجستھان کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا، کیونکہ راجستھان نے سیمی کنڈکٹر صنعت میں قدم رکھا ہے، جو جغرافیائی سیاسی نقطۂ نظر سے عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک اہمیت کی حامل صنعت ہے۔
انہوں نے گزشتہ 12 برسوں میں بھارت کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پیداوار تقریباً 13 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ کر 6 گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ برآمدات بڑھ کر تقریباً 4.24 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موبائل فون اب بھارت کی سب سے بڑی برآمدی شے بن چکے ہیں۔
مرکزی وزیر نے اس کامیابی کا سہرا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دیا، جنہوں نے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز کو ترجیحی شعبوں کے طور پر فروغ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانکس کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اسکیم، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹو جیسی اسکیمیں ریاستی حکومتوں اور صنعتوں کے اشتراک سے منظم انداز میں نافذ کی جا رہی ہیں۔
راجستھان کے وزیرِ اعلیٰ جناب بھجن لال شرما نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی حکومت نے مارچ 2026 میں راجستھان سیمی کنڈکٹر پالیسی متعارف کرائی ہے اور دہلی این سی آر کے قریب واقع خطے کو ایک مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ترقی دینا ان کی ترجیح ہے۔
مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے بھی کہا کہ پہلے بھیوادی خطہ بنیادی طور پر آٹوموبائل صنعت کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن اب یہاں سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس صنعتوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ایلسینا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر (ای ایم سی)
بھیواڑی میں یہ کلسٹر 50.3 ایکڑ رقبے پر 46.09 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے۔ حکومت ہند نے ای ایم سی اسکیم کے تحت اس منصوبے کے لیے براہِ راست 20.24 کروڑ روپے کی معاونت فراہم کی ہے۔
یہ کلسٹر ایم/ایس ایلسینا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے قائم کیا گیا ہے، جو ایلسینا کے تحت ایم ایس ایم ای صنعتوں کے اشتراک سے ایک مشترکہ اقدام ہے۔
یہ کلسٹر عالمی معیار کے انفراسٹرکچر سے آراستہ ہے، جس میں بلا تعطل بجلی اور پانی کی فراہمی، اندرونی سڑکیں، مرکزی انتظامی سہولیات، ٹیسٹنگ اور تربیتی مراکز، اور اسمارٹ کلاس رومز و لیبارٹریز پر مشتمل ایک مخصوص اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر شامل ہیں۔
یہ کلسٹر قومی راجدھانی خطے کے قریب اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے، جہاں سڑک، ریل اور ہوائی رابطے کی مضبوط سہولت موجود ہے۔ اس کے باعث توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کلسٹر الیکٹرانکس کمپوننٹ مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرے گا۔
ای ایم سی پہلے ہی 20 کمپنیوں کی جانب سے 1,200 کروڑ روپے سے زائد کی مجوزہ سرمایہ کاری کو راغب کر چکا ہے۔ یہ کمپنیاں سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ، الیکٹرانک کمپوننٹس، ایئر کنڈیشنر، آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجیز، ای وی پارٹس اور صنعتی الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اس وقت 11 کمپنیاں فعال ہیں، جن کی مجموعی سرمایہ کاری 900 کروڑ روپے سے زائد ہے اور ان کے ذریعے 2,700 سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔
کلسٹر میں کام کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں ایسان فیم انڈسٹریز، ای پیک ڈیوریبل، سہسرا سیمی کنڈکٹر، سہسرا الیکٹرانکس، ورادا گرین انرجی، دُگّر پاور پروڈکٹس اور الیکٹرانکس سیکٹر اسکل کونسل آف انڈیا وغیرہ شامل ہیں۔
سیمی کنڈکٹر اے ٹی ایم پی/او سی اے ٹی سہولت
ایم/ایس سہسرا سیمی کنڈکٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کی یہ سہولت بھارت کی پہلی چھوٹی اور درمیانی صنعت (ایس ایم ای) ہے جس نے سیمی کنڈکٹر چپس کی تجارتی پیداوار شروع کی ہے۔
یہ سہولت وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) کی الیکٹرانک کمپوننٹس اور سیمی کنڈکٹرز کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم کے تحت تیار کی گئی ہے، اور اسے 150 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا ہے۔ اس سہولت میں مائیکرو ایس ڈی اور فلیش اسٹوریج جیسی مصنوعات کے لیے میموری چپس کے ساتھ ساتھ ایل ای ڈی ڈرائیور آئی سیز، ای سمز اور آر ایف آئی ڈی مصنوعات کی پیکیجنگ کی جائے گی۔
اس یونٹ کی موجودہ سالانہ پیکیجنگ صلاحیت 60 ملین سیمی کنڈکٹر یونٹس ہے، جبکہ ایس پی ای سی ایس کی معاونت سے متوقع صلاحیت تقریباً 43 ملین یونٹس ہے۔ آئندہ 2 سے 3 برسوں میں اس صلاحیت کو بڑھا کر تقریباً 400 سے 600 ملین یونٹس سالانہ تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
یہ سہولت اپنی پیداوار کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی عالمی منڈیوں، جن میں امریکہ، جرمنی، فرانس، مشرقی یورپ، چین اور نیپال شامل ہیں، کو برآمد کر رہی ہے۔
یہ سہولت اب اپنی مصنوعات کی تحقیق و ترقی کی جانب بھی پیش رفت کر رہی ہے، جس میں ایل ای ڈی ڈرائیور چپس اور دیگر سیمی کنڈکٹر مصنوعات شامل ہیں۔ یہ ادارہ ای ایس ایس سی آئی اور تکنیکی اداروں کے اشتراک سے نوجوانوں کو سیمی کنڈکٹر پیکیجنگ اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی تربیت بھی فراہم کرے گا۔
موجودہ عالمی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ایندھن کے استعمال میں جہاں ممکن ہو کمی لانے کی اپیل کے تحت یہ تقریب ورچوئل طور پر منعقد کی گئی۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 7132
(ریلیز آئی ڈی: 2261598)
وزیٹر کاؤنٹر : 16