امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سی سی پی اے نے گمراہ کن اشتہارات اور غیر شفاف تجارتی طریقوں کے لیے کوچنگ اداروں پر جرمانہ عائد کیا

سی سی پی اے نے کوچنگ کے شعبے میں گمراہ کن اشتہارات اور غیر شفاف تجارتی طریقہ کار

کے خلاف ملک گیر کارروائی کی؛ کوچنگ اداروں کو 60 سے زیادہ نوٹس جاری کیے گئے اور ان پر 1.39 کروڑ روپے سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 MAY 2026 1:30PM by PIB Delhi

سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے گمراہ کن اشتہارات، غیر شفاف تجارتی طریقہ کار اور کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کے تحت صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جانے پر موشن ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ پر 10 لاکھ روپے اور سیکرکے کریئر لائن کوچنگ(سی ایل سی) پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے حتمی احکامات جاری کیے ہیں۔

یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے لیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بھی مصنوعات یا خدمات کے بارے میں کوئی جھوٹا یا گمراہ کن اشتہار شائع نہ کیا جائے۔

چیف کمشنر محترمہ ندھی کھرے اور کمشنر جناب انوپم مشرا کی سربراہی والے سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی(سی سی پی اے) نے موشن ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ اور کریئر لائن کوچنگ(سی ایل سی)، سیکر کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔ اتھارٹی نے پایا کہ ان کوچنگ اداروں نے آئی آئی ٹی-جے ای ای اور  این ای ای ٹی امتحانات میں کامیاب امیدواروں کے نام، تصاویر اور کامیابیوں کو نمایاں طور پر استعمال کرتے ہوئے بڑے دعوے کیے، جبکہ ان امیدواروں کے منتخب کردہ مخصوص کورسز سے متعلق اہم معلومات کو چھپایا گیا۔

موشن ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا کیس: درج ذیل دعوے کیے گئے تھے

 

      1.           “جے ای ای ایڈوانسڈ نتیجہ 2025: موشن کے مطابق جے ای ای ایڈوانسڈ میں کامیاب طلبہ کا تناسب 3231/6332 = 51.02 فیصد‘‘
  1. ’’جے ای ای (مین امتحان) 65.8 فیصد 6930/10532‘‘
  2. मोशन है तो सिलेक्शन है
  3. “نیٹ رزلٹ 2025: کامیاب طلبہ کا تناسب 6972/7645 = 91.2 فیصد‘‘
  4. “نیٹ رزلٹ 2025: ٹاپ 500 آل انڈیا رینک (جنرل اور او بی سی) میں 19 طلبہ شامل اور ہمارے 7 طلبہ نے آل انڈیا رینک انڈر- 100 حاصل کی ہے۔”

سی سی پی اے نے ادارے کی جانب سے اپنے سرکاری ویب سائٹ، یوٹیوب چینل، انسٹاگرام اکاؤنٹ اور اخباری اشتہارات میں شائع کیے گئے گمراہ کن اشتہارات کا از خود نوٹس لیا۔ سی سی پی اے نے مشاہدہ کیا کہ ادارہ کامیاب امیدواروں کے نام اور تصاویر کو نمایاں طور پر دکھاتا تھا، جبکہ ساتھ ہی اپنے ادا شدہ پروگراموں جیسے “فل ٹائم کلاس روم پروگرام”، “ریذیڈینشل پروگرام”، “نرچر بیچ”، “انتھوز بیچ” اور “ڈراپر/لیڈر بیچ” کی تشہیر بھی کرتا تھا، لیکن ان کامیاب امیدواروں کے اصل میں اختیار کیے گئے کورسز سے متعلق اہم معلومات ظاہر نہیں کرتا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل (تحقیقات) کی جانب سے کی گئی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ اشتہارات میں دکھائے گئے زیادہ تر طلبہ “آئی-ایکلویہ (آن لائن)” کورسز میں داخل تھے۔ سی سی پی اے نے پایا کہ “آئی-ایکلویا” کورس  جی ای ای اور  این ای ای ٹی(نیٹ) امیدواروں کے لیے ایک نمایاں رینکرز بیچ ہے، جو آن لائن اور آف لائن دونوں فارمیٹس میں دستیاب ہے اور منتخب طلبہ کو امتحان اور انٹرویو کے عمل کے ذریعے مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم، اشتہارات میں یہ اہم معلومات ظاہر نہیں کی گئی تھیں کہ کامیاب امیدواروں نے کون سا کورس اختیار کیا تھا۔

تفتیش میں یہ بھی پایا گیا کہ ادارے نے کچھ ایسے طلبہ کے نام اور تصاویر بھی استعمال کیے تھے، جنہوں نے امتحان مکمل ہونے کے بعد داخلہ لیا تھا، جس کے ذریعے تشہیری مقاصد کے لیے ان کی کامیابی کا جھوٹا کریڈٹ ادارے کو دیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ طلبہ یا ان کے والدین/سرپرستوں کی مناسب رضامندی حاصل کیے بغیر ان کے نام اور تصاویر استعمال کی گئیں۔

سی سی پی اے نے پایا کہ بار بار مواقع دیے جانے اور دستاویزی ثبوت پیش کرنے کی ہدایات کے باوجود ادارہ اشتہارات میں کیے گئے متعدد دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اتھارٹی نے مانا کہ کامیاب امیدواروں کے اختیار کردہ کورسز کی نوعیت سے متعلق اہم معلومات کو چھپانا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 کی دفعہ 2(28) کے تحت گمراہ کن اشتہار اور دفعہ 2(47) کے تحت غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔

کریئر لائن کوچنگ(سی ایل سی، سیکر کا کیس: درج ذیل دعوے کیے گئے تھے

  1. ’’ایم بی بی ایس، آئی آئی ٹی اور دیگر اداروں میں 1650 سے زائد سی ایل سی طلبہ”
  2. ’’نیٹ میں آل انڈیا رینک-100 میں سی ایل سی سے2 طلبہ”
  3. ’’دہلی کے ایمس میں سی ایل سے کے3 طلبہ”
  4. سی ایل سی کے6 طلبہ نے 720 میں سے 710 سے زائد نمبر حاصل کیے‘‘
  5. ’’آل انڈیا رینک-1000 میں نتائج میں 7 گنا اضافہ‘‘
  6. सीकर में Best CLC AIR-1000 में गत वर्ष सर्वाधिक 7 गुना वृद्धि

سی سی پی اے نے کریئر لائن کوچنگ(سی ایل سی)، سیکر کی جانب سے اپنے سرکاری ویب سائٹ اور اخباری اشتہارات میں شائع کیے گئے گمراہ کن اشتہارات کا از خود نوٹس لیا۔ سی سی پی اے نے مشاہدہ کیا کہ ادارہ کامیاب امیدواروں کو نمایاں طور پر پیش کرتا تھا اور ساتھ ہی مختلف کلاس روم پروگراموں کی تشہیر بھی کرتا تھا، جبکہ ان امیدواروں کے ذریعے اختیار کیے گئے اصل کورسز سے متعلق اہم معلومات کو چھپایا جاتا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل (تحقیقات) کی جانب سے کی گئی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ بار بار مواقع دیے جانے کے باوجود اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ تفتیش میں یہ بھی پایا گیا کہ جن طلبہ کے نام اور تصاویر اشتہارات میں استعمال کیے گئے تھے، ان میں سے کئی صرف ٹیسٹ سیریز کورسز میں داخل تھے، جس بات کو جان بوجھ کر اشتہارات میں ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

سی سی پی اے نے مزید مشاہدہ کیا کہ ادارے نے اپنے دعوے  ’’ایم بی بی ایس، آئی آئی ٹی اور دیگر اداروں میں 1650 سے زائد سی ایل سی طلبہ” کے حوالے سے متضاد مؤقف اختیار کیے۔ اپنی تحریری گزارش میں ادارے نے کہا کہ یہ تعداد 1996 سے اب تک کے مجموعی داخلوں پر مشتمل ہے، جبکہ سماعت کے دوران اس نے دعویٰ کیا کہ یہ تعداد صرف سال 2024 سے متعلق ہے۔ اتھارٹی نے مانا کہ اس طرح کے متضاد بیانات  اوردعوے غیر ثابت شدہ اور گمراہ کن  ہیں۔

اتھارٹی نے یہ بھی پایا کہ دونوں ادارے اس بات کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے کہ نتائج کے اعلان کے بعد کامیاب امیدواروں سے تحریری رضامندی حاصل کی گئی تھی، جیسا کہ کوچنگ سیکٹر میں گمراہ کن اشتہارات کی روک تھام سے متعلق رہنما اصول 2024 میں لازم قرار دیا گیا ہے۔

سی سی پی اے نے دونوں کوچنگ اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ فوری طور پر گمراہ کن اشتہارات کو بند کریں، آئندہ ایسے اشتہارات شائع کرنے سے باز رہیں اور مستقبل میں اپنے اشتہارات میں درست اور مکمل معلومات فراہم کریں۔ تاہم دونوں اداروں نے سی سی پی اے کے ان احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن(این سی ڈی آر سی) میں اپیل دائر کر دی ہے۔

کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2019 صارفین کو معلومات حاصل کرنے کا حق دیتا ہے، جس میں یہ حق شامل ہے کہ انہیں درست اور حقیقی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ باخبر ہوتے ہوئے بہترفیصلے کر سکیں۔ گمراہ کن اشتہارات اس حق کو متاثر کرتے ہیں اور صارفین کے مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں، جہاں طلبہ اپنا قیمتی وقت، محنت اور مالی وسائل صرف کرتے ہیں۔

سی سی پی اےنے مشاہدہ کیا کہ کامیاب امیدواروں کے ذریعے اختیار کیے گئے مخصوص کورسز سے متعلق اہم معلومات کو چھپانا، جن میں یہ شامل ہے کہ آیا ان امیدواروں نے فل ٹائم کلاس روم پروگرام، آن لائن کورسز، فاؤنڈیشن بیچز، کریش کورسز یا محض ٹیسٹ سیریز میں شرکت کی تھی، اس ایکٹ کے تحت گمراہ کن اشتہار کے مترادف ہے۔

اب تک سی سی پی اے نے کوچنگ اداروں کو گمراہ کن اشتہارات اور غیر شفاف تجارتی طریقوں پر 60 سے زیادہ نوٹس جاری کیے ہیں تاکہ طلبہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور کوچنگ سیکٹر میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ تفصیلی جانچ اور تحقیقات کے بعد سی سی پی اےنے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان(سی ایس ای)، آئی آئی ٹی-جےای ای، این ای ای ٹی، آر بی آئی اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے کوچنگ فراہم کرنے والے 31 کوچنگ اداروں پر 1.39 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔

(حتمی حکم نامہ سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کی ویب سائٹ: https://doca.gov.in/ccpa/orders-advisories.php?page_no=1) پر دستیاب ہے۔

 

****

 

 

 

ش ح ۔م ع ا۔  ن ع

U. No.7102


(ریلیز آئی ڈی: 2261390) وزیٹر کاؤنٹر : 11