زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زراعت اور دیہی ترقی  کے مرکزی وزیرجنا ب شیوراج سنگھ چوہان نے وزیراعظم نریندرمودی کی اپیل کو‘‘ملک کی ازسرنو تعمیر کا ایک عظیم قومی مشن ’’قرار دیا

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیراعظم مودی ایسے محب وطن ہیں ،جو عوام سے کوئی بھی اپیل کرنے پہلے ہر معیار پرخود کو پرکھتے ہیں

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ  چوہان نے اپنے گاڑیوں کے قافلے کو کم کر دیا، اب  ان کےقافلے میں صرف تین گاڑیاں شامل ہوں گی

ہم ملکی سیاحت کو فروغ دیں گے اور غیر ضروری بیرونی سفر سے گریز کریں گے :جناب شیوراج سنگھ چوہان

انہوں نے محکموں کو ہدایت دی  کہ “ورک فرام ہوم” کا ایسا ماڈل اپنائیں،  جس سے کام متاثر نہ ہو

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزارت کی سطح پر افسران اور ملازمین کو مشورہ دیا  کہ غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کریں اورہر افسرمزیدپانچ افراد کو بھی اس پر عمل  کرنےکی ترغیب دے

انہوں نے کہاکہ بیرونِ ملک دورے صرف انتہائی ضرورت کے وقت ہی کیے جائیں اورکوشش یہ ہونی چاہئے کہ زیادہ تر اجلاس ورچوئل طریقے سے منعقد ہوں

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ شہری اس قومی مشن میں ملکی مصنوعات کے استعمال اور متوازن طرزِ زندگی اختیار کر کے اپنا تعاون دے سکتے ہیں

کیمیائی کھادوں کے متوازن اور دانشمندانہ استعمال کو فروغ دینے کیلئے “کھیت بچاؤ ابھیان” شروع کیا جائے گا :جناب شیوراج سنگھ چوہان

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وہ عوامی نمائندوں کو خطوط لکھیں گے، جن میں ان سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اپنی 25 فیصد زمین پر قدرتی اور نامیاتی کھیتی اپنائیں

مرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان  نے  وزارت کے افسران کوہدایت دی کہ ہر افسر کم از کم پانچ افراد کو “ووکل فار لوکل” اور دیسی مصنوعات کے فروغ کیلئے ترغیب دے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت کی سطح پر میٹرو ریل اور عوامی نقل و حمل کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا


پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 MAY 2026 9:05PM by PIB Delhi

زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی  کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج وزیرِاعظم نریندر مودی  کی جانب سے وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی اپیل کے تناظر میں  نئی دلی کے کرشی بھون میں وزارتِ زراعت، زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر)، وزارتِ دیہی ترقی اور محکمۂ زمینی وسائل کے سینئر افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

 

1.jpg

اجلاس کے دوران جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیرِاعظم نریندرمودی کیلئے قومی مفاد سب سے بڑھ کر ہے اور وہ ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم ملک کیلئے کوئی اپیل کرتے ہیں، تو وہ قومی مفاد میں نہایت ضروری ہوتی ہے اور ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

 

2.jpg

مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے وزیرِاعظم نریندرمودی کی جانب سے ملک کے عوام سے کی گئی مختلف اپیلوں پر عمل درآمد کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام افسران اور ملازمین دیسی مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیں اور کم از کم پانچ پانچ کنبوں کو بھی اس کے لیے ترغیب دیں۔ “ووکل فار لوکل” اور “سودیش ابھیان” کے تحت مقامی مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت کی سطح پر افسران اور ملازمین غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کریں اور ہر افسر مزید پانچ افراد کو بھی اس کام کیلئے آمادہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ضروری بیرونی دوروں سے بچنا چاہیے اور صرف انتہائی ضرورت کی صورت میں ہی بیرونِ ملک سفر کیا جائے۔ مرکزی وزیر نے افسران کو ہدایت دی کہ زیادہ سے زیادہ کام ورچوئل ذرائع سے انجام دیا جائے اور ویڈیو کانفرنسنگ و ای-آفس نظام کو فروغ دیا جائے۔ ساتھ ہی “ورک فرام ہوم” یا ہائبرڈ ماڈل کے امکانات کا جائزہ لینے کو بھی کہا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس سے کام متاثر نہ ہو۔ اسی دوران مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے گاڑیوں کے قافلے کو بھی کم کر دیا ہے اور اب ان کے قافلے میں صرف تین گاڑیاں شامل ہوں گی۔

جناب چوہان نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات میں بیرونِ ملک سفر کے بجائے ملک کے اندر سیاحت کو فروغ دینا چاہیے، کیونکہ بھارت قدرتی حسن اور تنوع سے مالا مال ہے۔ انہوں نے عوامی نقل و حمل اور ای-گاڑیوں کے استعمال کو بھی فروغ دینے کی بات کہی۔

جناب شیوراج سنگھ نے کہا کہ تربیتی پروگراموں اور اجلاس میں کھانے سمیت دیگر ضروری اشیاء میں صرف دیسی مصنوعات ہی استعمال کی جائیں۔ ساتھ ہی موٹے اناج اور ملک میں تیار کردہ خوردنی تیلوں کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔

کھیتی میں بڑھتے ہوئے کیمیائی کھادوں کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اس سے ہماری زمین کو نقصان پہنچ رہا ہے اور مٹی کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر قابو پانے کے لیے کھادوں کے متوازن استعمال اور قدرتی و حیاتیاتی کھیتی کو وسیع پیمانے پر فروغ دینا چاہیے۔ مرکزی وزیرِ زراعت نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک میں کھادوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن ہمیں اس کے متوازن اور دانشمندانہ استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے کسانوں کو بیدار کرنے کی خاطر “کھیت بچاؤ ابھیان” شروع کیا جا رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ کھادوں کے متوازن استعمال کے لیے زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل (آئی سی اے آر کے سائنسدانوں کی قیادت میں 1657 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گاؤں کی سطح پر کسانوں کو بیدار اور تربیت فراہم کریں گی۔ اس کے ساتھ ہی گاؤں گاؤں میں “کھیت بچاؤ کمیٹیاں” بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے یقین دلایا کہ قدرتی کھیتی کو صحیح طریقے سے اپنانے پر پیداوار میں کوئی کمی نہیں آتی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ اس سمت میں عوامی بیداری مہم چلائی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں 8 لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ زمین پر تقریباً 18 لاکھ کسان قدرتی طرز پرکھیتی کر رہے ہیں۔ ہدف یہ ہے کہ ملک کی کم از کم 25 فیصد زرعی زمین پر قدرتی اور حیاتیاتی کھیتی کو فروغ دیا جائے۔ اس سلسلے میں وہ خود تمام منتخب عوامی نمائندوں کو خط لکھنے والے ہیں، جس کے ذریعے وہ ان نمائندوں سے اپیل کریں گے کہ وہ اپنی 25 فیصد زمین پر قدرتی اور حیاتیاتی کھیتی اختیار کریں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیرِاعظم نریندرمودی ایک دور اندیش رہنما ہیں، جو صرف آج کے نہیں بلکہ آنے والے پچاس برسوں کے بھارت کے بارے میں سوچتے ہیں۔ وہ ایسے محبِ وطن ہیں جو پہلے خود کو کسوٹی پر پرکھتے ہیں، پھر دوسروں سے کوئی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں اٹھایا گیا ہر قدم ملک کی ازسرِ نو تعمیر کے عظیم قومی مشن میں ایک اہم تعاون ہے۔

اجلاس میں افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ جلد از جلد ان نکات پر مفصل عملی منصوبہ تیار کریں تاکہ وزارتِ زراعت اور دیہی ترقی قومی مفاد میں ایک مثالی کردار پیش کر سکے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ع د

U.NO.7087

 


(ریلیز آئی ڈی: 2261297) وزیٹر کاؤنٹر : 7