ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے مارکیٹنگ سیزن 27-2026 کے لیے خریف کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کو منظوری دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAY 2026 3:23PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سربراہی میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے مارکیٹنگ سیزن 27-2026 کے لیے 14 خریف فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں اضافے کو منظوری دے دی ہے۔

حکومت نے مارکیٹنگ سیزن 27-2026 کے لیے خریف فصلوں کی ایم ایس پی میں اضافہ کیا ہے تاکہ کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کی نفع بخش قیمتیں ملنا یقینی بنایا جا سکے۔ گزشتہ سال کے مقابلے ایم ایس پی میں سب سے زیادہ مطلق اضافہ(ایبسولیوٹ انکریز) سورج مکھی کے بیج (622 روپے فی کوئنٹل) کے لیے تجویز کیا گیا ہے، جس کے بعدکپاس(کاٹن) (557 روپے فی کوئنٹل)، نائیجر سیڈ (515 روپے فی کوئنٹل) اور تل (500 روپے فی کوئنٹل) کا نمبر آتا ہے۔

مارکیٹنگ سیزن 27-2026کے لیے تمام خریف کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتیں (ایم ایس پی) درج ذیل ہیں:

(روپے فی کوئنٹل)

نمبر شمار

 

فصلیں

ایم ایس پی 2026-27

 

لاگت* کے ایم ایس 2026-27

لاگت پر مارجن (فیصد)

 

ایم ایس پی

2026-27 میں ایم ایس پی میں اضافہ

 

 

اناج

2025-

26

2013-

14

2025-26 سے زیادہ

2013-14 سے زیادہ

 

 

 

 

 

 

 

 

1۔

 

دھان

عام

2441

1627

50

2369

1310

72

1131

(86فیصد)

 

گریڈ A^

2461

-

-

2389

1345

72

1116

(83فیصد)

2.

 

جوار

ہائبرڈ

4023

2682

50

3699

1500

324

2523

(168فیصد)

 

مالدنڈی

^

4073

-

-

3749

1520

324

2553

(168فیصد)

3.

باجرہ

2900

1858

56

2775

1250

125

1650

(132فیصد)

4.

راگی

5205

3470

50

4886

1500

319

3705

(247فیصد)

5۔

مکئی

2410

1544

56

2400

1310

10

1100

(84فیصد)

 

دالیں

6۔

تور/ارہر

8450

5496

54

8000

4300

450

4150

(94فیصد)

7۔

مونگ

8780

5438

61

8768

4500

12

4280

(95فیصد)

                     

 

8.

اُڑد

8200

5418

51

7800

4300

400

3900

(91 فیصد)

 

تلہن

9.

مونگ پھلی

7517

5011

50

7263

4000

254

3517

(88فیصد)

10۔

سورج مکھی کا بیج

8343

5562

50

7721

3700

622

4643

(125فیصد)

11۔

سویا بین (پیلا)

5708

3805

50

5328

2560

380

3148

(123فیصد)

12.

تل

10346

6897

50

9846

4500

500

5846

(130فیصد)

13.

نائیجر سیڈ

10052

6701

50

9537

3500

515

6552

(187فیصد)

 

کمرشیل

 

 

 

 

 

 

 

14.

 

کپاس

(میڈیم اسٹیپل)

8267

5511

50

7710

3700

557

4567

(123فیصد)

 

(لانگ اسٹیپل)^

8667

-

-

8110

4000

557

4667

(117فیصد)

 

*اس لاگت سے مراد وہ تمام اخراجات ہیں جو نقد ادا کیے گئے ہوں، جیسے کہ اجرت پر حاصل کیے گئے مزدور، بیل/مشینری، زمین کا کرایہ، بیج، کھاد، نامیاتی کھاد، آبپاشی کے اخراجات، آلات اور فارم کی عمارتوں کی فرسودگی (گھساوٹ)، ورکنگ کیپیٹل پر سود، پمپ سیٹ چلانے کے لیے ڈیزل/بجلی، متفرق اخراجات اور خاندان کے افراد کی محنت کی تخمینی قیمت۔

^ دھان (گریڈ اے)، جوار (مالدنڈی) اور کپاس (طویل ریشہ) کے لیے لاگت کے اعداد و شمار الگ سے مرتب نہیں کیے گئے ہیں۔

مارکیٹنگ سیزن 27-2026 کے لیے خریف کی فصلوں کی ایم ایس پی میں اضافہ مرکزی بجٹ 19-2018 کے اس اعلان کے عین مطابق ہے جس میں ایم ایس پی کو کل ہند اوسط پیداواری لاگت کے کم از کم 1.5 گنا مقرر کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ کسانوں کو ان کی پیداواری لاگت پر ملنے والا متوقع منافع سب سے زیادہ مونگ (61 فیصد) میں ہونے کا تخمینہ ہے، جس کے بعد باجرہ (56 فیصد)، مکئی (56 فیصد) اور ارہر/تور (54 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔ باقی تمام فصلوں کے لیے کسانوں کا منافع ان کی پیداواری لاگت پر 50 فیصد ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں، حکومت ان فصلوں کے لیے زیادہ ایم ایس پی  کی پیشکش کر کے اناج کے علاوہ دیگر فصلوں جیسے کہ دالیں، تلہن (تیل دار بیج) اور غذائی اناج/ شری انّ کی کاشت کو فروغ دے رہی ہے۔

سال 15-2014سے 26-2025 کے عرصے کے دوران، دھان کی خریداری 8418 ایل ایم ٹی رہی، جبکہ 05-2004 سے 14-2013 کے دوران دھان کی خریداری 4590 ایل ایم ٹی تھی۔

سال 15-2014 سے 26-2025 کے عرصے کے دوران، 14 خریف فصلوں کی خریداری 8746 ایل ایم ٹی رہی، جبکہ05-2004سے 14-2013 کے دوران یہ خریداری 4679 ایل ایم ٹی تھی۔

سال 15-2014 سے 26-2025 کے عرصے کے دوران، دھان اگانے والے کسانوں کو 16.08 لاکھ کروڑ روپے کی ایم ایس پی رقم ادا کی گئی، جبکہ05-2004 سے 14-2013کے دوران کسانوں کو 4.44 لاکھ کروڑ روپے ادا کیے گئے تھے۔

سال 15-2014 سے 26-2025کے عرصے کے دوران، 14 خریف فصلیں اگانے والے کسانوں کو 18.99 لاکھ کروڑ روپے کی ایم ایس پی رقم ادا کی گئی، جبکہ05-2004 سے 14-2013 کے دوران کسانوں کو 4.75 لاکھ کروڑ روپے کی ایم ایس پی رقم ادا کی گئی تھی۔

***

ش ح۔ م م  ۔ ص ج

U. No-7022


(ریلیز آئی ڈی: 2260669) وزیٹر کاؤنٹر : 4