ریلوے کی وزارت
مسافر ریزرویشن کے جدید تر نظام کی جانب ٹرینوں کی منتقلی اگست میں شروع ہوگی
ریلوے کے وزیر نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ 40 سال پرانے نظام سے جدید تر نظام کی جانب منتقلی کو بغیر کسی مسافر کو تکلیف پہنچائے آسان طریقے سے یقینی بنایا جائے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 MAY 2026 6:15PM by PIB Delhi
ریلوے بھون میں ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے آج ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ 40 سال پرانے ریزرویشن نظام سے جدید تر نظام کی طرف منتقلی کے دوران مسافروں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ میٹنگ میں ریلوے کے مرکزی وزیر مملکت وی. سومنا اور رویت سنگھ بٹو بھی موجود تھے، جنہوں نے اس عمل کو ہموار اور مسافر دوست بنانے پر زور دیا۔

1986 میں شروع ہونے والے اس نظام میں گزشتہ 40 سال کے دوران چند معمولی تبدیلیاں کی گئی تھیں، تاہم اب اسے مکمل طور پر ازسرِنو تیار کیا گیا ہے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
ریلوے ریزرویشن نظام نے کئی اہم مراحل طے کیے ہیں۔ 2002 میں انڈین ریلوے نے انٹرنیٹ پر مبنی ٹکٹنگ کا آغاز کیا۔ آج یہ نظام اس قدر مقبول ہو چکا ہے کہ زیادہ تر لوگ ٹکٹ کاؤنٹرز پر جانے کے بجائے آن لائن طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت ملک میں تقریباً 88 فیصد ٹکٹنگ کی مانگ آن لائن چینلز کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے۔
ریل ون ایپ مسافروں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اسے گزشتہ سال جولائی میں لانچ کیا گیا تھا اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں اسے ملک بھر میں 3.5 کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔
اس کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ایپ عام شہریوں کو ریلوے سے متعلق تمام معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹکٹنگ اور دیگر خدمات سے متعلق شکایات بھی حل کرتی ہے۔
آج جب آپ ٹکٹ بک کرتے ہیں تو یہ ایپ یہ بھی بتاتی ہے کہ آیا ویٹنگ لسٹ والا ٹکٹ کنفرم ہونے کے امکانات رکھتا ہے یا نہیں۔ اس میں اے آئی پر مبنی کنفرمیشن امکان کی پیشگوئی کا فیچر شامل کیا گیا ہے جو رواں سال متعارف ہوا اور صارفین میں کافی مقبول ہے۔ ویٹنگ لسٹ کنفرمیشن کی درستگی 53 فیصد سے بڑھ کر 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ریل ون ایپ میں بکنگ، کینسلیشن اور ریفنڈ سمیت ریزرو ، غیرریزرو اور پلیٹ فارم ٹکٹوں کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ یہ بروقت ٹکٹ اسٹیٹس، ٹرین شیڈول، لائیو ٹرین رننگ اسٹیٹس، پلیٹ فارم معلومات، کوچ پوزیشن اور ریلوے مدد (ریل مدد) جیسی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ دورانِ سفر مسافر اسی ایپ کے ذریعے اپنی نشست پر کھانا بھی منگوا سکتے ہیں۔
ملک بھر میں روزانہ تقریباً 9.29 لاکھ ٹکٹ اس ایپ کے ذریعے بک کیے جاتے ہیں، جن میں 7.2 لاکھ غیرریزرو اور 2.09 لاکھ ریزرو ٹکٹ شامل ہیں۔ یہ ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے اور گوگل پلے اسٹور سے 3.16 کروڑ جبکہ ایپل ڈیوائسز پر 33.17 لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔
بھارت میں انڈین ریلوے عام شہریوں کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ مالی سال 25-2024 میں ریلوے نے مسافر ٹکٹوں پر 60,239 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی، جو اوسطاً ہر مسافر کو 43 فیصد رعایت کے برابر ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر سروس کی لاگت 100 روپے ہو تو ٹکٹ کی قیمت صرف 57 روپے ہوتی ہے۔
*****
(ش ح ۔ م ع۔ م ذ)
U.No: 7779
(ریلیز آئی ڈی: 2258830)
وزیٹر کاؤنٹر : 11