نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

’’قومی اسپورٹس فیڈریشن کانکلیو آئندہ ایشیائی، دولتِ مشترکہ اور اولمپک کھیلوں کے لیے بھارت کی تیاریوں کی جانب ایک مربوط قدم ہے‘‘:  نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ


“بھارتی کھیلوں کے نظام سے ڈوپنگ کے خاتمے کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے”: قومی اسپورٹس فیڈریشنز کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ

’’کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور کھلاڑیوں پر مرکوز نظم و نسق ہر فیڈریشن کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے‘‘:   نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر ، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ

’’بھارت کی آئندہ بین الاقوامی کھیل مقابلوں کی جانب پیش قدمی کارکردگی، سائنسی  مدد  اور مضبوط فیڈریشنز کی بنیاد پر ہوگی‘‘: وزیر مملکت رکشا کھڈسے

’’بھارت کے کھیلوں کا مستقبل کھلاڑیوں، فیڈریشنز اور حکومتوں کے درمیان مضبوط تال میل پر منحصر ہے‘‘: ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAY 2026 5:24PM by PIB Delhi

‘‘:  نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر  منسکھ مانڈویہ نے  قومی  اسپورٹس فیڈریشن کانکلیو 2026 میں شرکت کی، جس میں انڈین اولمپک ایسوسی ایشن سمیت 37 قومی اسپورٹس فیڈریشنز (این ایس ایف)کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں بھارت کے مستقبل کے کھیلوں کے لائحۂ عمل اور دولتِ مشترکہ کھیل 2026، ایشیائی کھیل 2026 اور سمر اولمپکس 2028 سمیت اہم بین الاقوامی مقابلوں کی تیاریوں پر غور و خوض کیا گیا۔

 

کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ’’ قومی  اسپورٹس فیڈریشن کانکلیو آئندہ عالمی کھیل مقابلوں کی تیاری کے لیے بھارت کی جانب سے ایک مربوط قدم ہے۔‘‘

 کھیلوں کے وزیر  نے حکومت کے وسیع تر وژن کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد بھارت کو کھیلوں کی  ایک نمایاں طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، سائنسی تربیت، کھیلوں کے مستحکم بنیادی ڈھانچے  اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کرنے والے کھلاڑیوں کو مسلسل  مدد  فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔

 

ادارہ جاتی اصلاحات اور اچھی حکمرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ’’بھارت کے کھیلوں کا مستقبل کھلاڑیوں، فیڈریشنز اور حکومتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پر منحصر ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فیڈریشنز میں نظم و نسق کھلاڑیوں پر  مرکوز ہونا چاہیے اور اس کے لیے شفافیت، بروقت انتخابات، جوابدہی اور مضبوط ادارہ جاتی نظام ناگزیر ہے تاکہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کھیلوں کے نظام کا مرکزی محور بنی رہے۔

مرکزی وزیر نے بھارتی کھیلوں کے نظام سے ڈوپنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کو بھی دہراتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے آگاہی، تعلیم اور سخت قانونی اقدامات ضروری ہیں۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ ’’بھارتی کھیلوں کے نظام سے ڈوپنگ کے خاتمے کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور سخت کارروائی ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے فیڈریشنز، کوچز اور معاون عملے پر زور دیا کہ وہ ملک میں صاف اور شفاف کھیلوں کے کلچر کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں۔

ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے حکومت کے وسیع تر وژن کو مزید اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس ایکوسسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے کھیلو انڈیا، فِٹ انڈیا موومنٹ اور آئندہ کھیلو بھارت مشن جیسے اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے سائنسی تربیت، باقاعدہ مقابلوں میں شرکت، نجی شعبے کی شمولیت، اسپورٹس لیگز، اکیڈمیوں اور گورننس اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ایشیائی کھیلوں، دولتِ مشترکہ کھیلوں اور لاس اینجلس اولمپکس 2028 میں بھارت کے تمغوں کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔

کانکلیو کے دوران نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ 2025 کے قواعد و ضوابط اور اصلاحاتی رہنما کتابچہ کو بھی  نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے مرکزی وزیر نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔

مرکزی وزیر کھیل نے مزید کہا کہ شفافیت، کھلاڑیوں کے انتخاب کے واضح اور منصفانہ نظام، فیڈریشنز کے لیے بہتر بین الاقوامی روابط اور کوچز، کھلاڑیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

  نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی  مرکزی وزیر   مملکت  محترمہ رکشا کھڈسے نے طویل مدتی منصوبہ بندی، کھلاڑیوں کے معاون نظام اور سائنسی تربیتی طریقوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملک کے مستقبل کے کھیلوں کے نظام کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’’بھارت کی ایشیائی کھیلوں، دولتِ مشترکہ کھیلوں اور اولمپکس 2028 کی جانب پیش رفت کارکردگی، سائنسی مدد اور مضبوط فیڈریشنز پر مبنی ہوگی۔‘‘

 کھیلوں کے سیکریٹری جناب ہری رنجن راؤ نے بھارت کے کھیلوں کے اہداف کے حصول کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی اہمیت  کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ جو قوم بڑے خواب دیکھتی ہے وہ اس سے بھی بڑی تیاری کرتی ہے؛ آج کی بحثیں بھارت کے کھیلوں کے مستقبل 2036 کی سمت متعین کریں گی۔

انہوں نے مقابلوں میں زیادہ شرکت کے مواقع، اسپورٹس لیگز اور جدید تربیتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو عالمی سطح پر کھیلوں کی  ایک بڑی طاقت بنانے کے لیے فیڈریشنز اور تمام متعلقہ فریقوں  کے درمیان مربوط ٹیم ورک ناگزیر ہے۔

کانکلیو میں بھارت کے بدلتے ہوئے کھیلوں کے لائحۂ عمل پر تفصیلی اور مرکوز مباحثے بھی ہوئے، جن میں کھیلو انڈیا مشن کی تمغہ حکمتِ عملی، کھیل کود سے متعلق سازوسامان کی تیاری  کے فروغ، سائنسی فٹنس پروٹوکولز اور کھلاڑیوں کی جانچ، اینٹی ڈوپنگ قوانین کو مضبوط بنانے، قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے لیے تکنیکی اصلاحات، نیشنل اسپورٹس گورننس ایکٹ 2025 کے تحت گورننس اور  ضابطوں کی تعمیل، اہم بین الاقوامی مقابلوں کی  بھارت کی میزبانی کی خواہش اور عالمی اسپورٹس فیڈریشنز میں نمائندگی بڑھانے اور آئندہ بین الاقوامی کھیلوں کی تیاری جیسے امور شامل تھے۔

کانکلیو کے تمام سیشنز میں مختلف فیڈریشنز کے نمائندوں نے سرگرم طور پر  شرکت کی اور تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

*****

(ش ح ۔ م ع۔ م ذ)

U.No: 6774


(ریلیز آئی ڈی: 2258824) وزیٹر کاؤنٹر : 9