محنت اور روزگار کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے لیبر کوڈز کے تحت مزدوروں کے لیے ملک گیر سالانہ ہیلتھ چیک اپ اقدام کا آغاز کیا

ملک بھر میں 40 سال سے زیادہ عمر کے کارکنوں کیلئے مفت سالانہ ہیلتھ چیک اپ کا انعقاد کیا جائے گا

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا ‘‘ہندوستان لیبر کوڈز کے تحت گگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک بن گیا ہے

مرکزی وزیر نے ہندوستان میں سوشل سیکورٹی کوریج کو 19 فیصد سے بڑھا کر 64 فیصد کئے جانے کے عمل کو اجاگر کیا، جس سے تقریباً 94 کروڑ لوگ مستفید ہوئے

ای ایس آئی سی کوریج ایک دہائی پہلے تقریباً 7 کروڑ مستفیدین سے بڑھ کر آج تقریباً 15 کروڑ مستفیدین تک پہنچ گئی ہے: ڈاکٹر مانڈویہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAY 2026 1:54PM by PIB Delhi

محنت اور روزگار اور نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کے مرکزی وزیر، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے آج دہلی کےای ایس آئی میڈیکل کالج و اسپتال، بسئی دارا پور سے 40 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام کارکنوں کے لیے ملک گیر سالانہ طبی جانچ کے اقدام کا آغاز کیا۔ اس اقدام  کوہندوستان کی افرادی قوت کے لیے پیشہ ورانہ صحت کی دیکھ بھال اور سماجی تحفظ کی کوریج کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ چاروں لیبرکوڈز  کا نفاذ وزیراعظم نریندر مودی کی اس گارنٹی کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک بھر کے کارکنوں کو عزت، فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

مرکزی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں حکومت نے پچھلے 12 سالوں میں روزگار پیدا کرنے اور فلاحی اقدامات کے ذریعے "شرم شکتی" اور "یووا شکتی" کو بااختیار بنانے کے لیے کام کیا ہے۔

 

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک میں سماجی تحفظ کی کوریج ایک دہائی قبل تقریباً 30 کروڑ لوگوں سے بڑھ کر آج تقریباً 94 کروڑ مستفیدین تک پہنچ گئی ہے، جو 19 فیصد سے بڑھ کر 64 فیصد ہو گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای ایس آئی سی کے تحت مستفید افراد کی تعداد بھی تقریباً 7 کروڑ سے بڑھ کر 15 کروڑ ہو گئی ہے۔

 

 

ڈاکٹر مانڈویہ نے کارکنوں کی فلاح کے لیے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 40 سال سے زائد عمر کے تمام کارکنان کے لیے سالانہ مفت صحت معائنے پورے ملک میں کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کی تشخیص سے سنگین امراض سے بچاؤ ممکن ہے اور صحت معائنے کے دوران جن مریضوں کی بیماریوں کی نشاندہی ہوگی ان کا علاج اور ادویات ای ایس آئی سی کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے چاروں لیبر قوانین کے تحت اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرد اور خواتین کارکنوں کے لیے مساوی اجرت کو یقینی بنایا گیا ہے، زچگی کی چھٹی 12 ہفتوں سے بڑھا کر 26 ہفتے کر دی گئی ہےاور خواتین کے لیے گھر سے کام کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک گگ اور پلیٹ فارم ورکرز کو سماجی تحفظ میں شامل کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، جبکہ ہندوستان نے انہیں پہلے ہی اس نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے کہا کہ خطرناک شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں اور 10 سے کم ملازمین والی تنظیموں کے کارکنوں کو بھی اب ای ایس آئی سی کے دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کارکنان پہلے نظر انداز کیے جاتے تھے اور ان کو سنا نہیں جاتا تھا، موجودہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے خدشات کو عزم اور حساسیت کے ساتھ دور کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں ہیلتھ چیک اپ کا اقدام ایک اور اہم کوشش ہے جس کا مقصد ملک کی افرادی قوت کے لیے وقار، تحفظ اور صحت کی دیکھ بھال کے بہتر نتائج کو یقینی بنانا ہے۔

افتتاحی تقریب کا بیک وقت ملک بھر میں ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کے اسپتالوں کے 11 دیگر مقامات پر ریاستی لیبر منسٹرز، ممبران پارلیمنٹ، ممبران قانون ساز اسمبلی، سینئر حکام، آجروں کے نمائندوں، کارکنوں اور دیگر معززین کی موجودگی میں مشاہدہ کیا گیا۔

اس موقع پر دہلی حکومت کے وزیر قانون و انصاف، محنت، روزگار، ترقی، فن و ثقافت و سیاحت جناب کپل مشرا اور ای ایس آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل جناب اشوک کمار سنگھ بھی موجود تھے۔

 

 

 

*****

 

ش ح۔م م۔ ف ر

U-6753

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2258698) وزیٹر کاؤنٹر : 11