وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بھارت اور ویتنام کے درمیان بہتر جامع اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مشترکہ اعلامیہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 MAY 2026 5:24PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دعوت پر، کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور سوشلسٹ جمہوریہ ویتنام کے صدر، جناب ٹو لام نے 05 مئی سے 07 مئی 2026 تک بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ جنرل سکریٹری اور صدر جناب ٹو لام کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ معزز مہمان کے ساتھ ایک مضبوط کاروباری وفد بھی موجود تھا۔

06 مئی 2026 کو، جنرل سکریٹری اور صدر ٹو لام کا راشٹرپتی بھون میں باضابطہ استقبال کیا گیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے لیے راج گھاٹ کا دورہ کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی اور جنرل سکریٹری و صدر ٹو لام کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ بعد ازاں، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ دستاویزات کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے معزز مہمان کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا ۔ جنرل سکریٹری اور صدر ٹو لام نے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی، جنہوں نے ان کے لیے عشائیے  کی میزبانی بھی کی۔ جنرل سکریٹری اور صدر ٹو لام نے انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز میں پالیسی تقریر کی اور ویتنام-بھارت انوویشن فورم سے خطاب کیا۔ جنرل سکریٹری اور صدر ٹو لام کا ریاستی حکومت اور کاروباری شخصیات کے ساتھ بات چیت اور تبادلہ خیال کے لیے ممبئی کا دورہ اور ویتنام-بھارت بزنس فورم سے خطاب کا بھی  پروگرام طے ہے۔

سیاسی

وزیر اعظم مودی اور جنرل سکریٹری و صدر ٹو لام کے درمیان دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں وسیع جہتی مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے جنرل سکریٹری ٹو لام کو ویتنام کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں ویتنام اپنےترقیاتی عزائم کی جانب مستقل پیش رفت جاری رکھے گا۔ جنرل سکریٹری و صدر ٹو لام نے وزیر اعظم مودی کو قومی ترقی میں نمایاں کامیابیوں، بلند معاشی شرح نمو اور کثیر جہتی نظام کو مضبوط کرنے اور عالمی  خطہ جنوب کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھارت کے اقدامات پر مبارکباد دی۔  دونوںرہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت اور ویتنام کے تعلقات کو مزید وسعت دینا دونوں ممالک کے عوام کے لیے باہمی فائدے کا باعث بنے گا اور ان کے متعلقہ قومی اہداف، یعنی بھارت کے 'وِکست بھارت 2047' اور ویتنام کے 'ویژن 2045' کے حصول میں کا فی مددگار ثابت ہوگا۔

عالمی اور علاقائی منظر نامے میں آنے والی تبدیلیوں پر یکساں نقطہ نظر کا اشتراک کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے باہمی اعتماد، احترام، افہام و تفہیم، مشترکہ نقطہ نظر اور متعدد شعبوں میں مؤثر تعاون پر مبنی تعلقات کی مضبوط بنیاد کو تسلیم کیا۔ چنانچہ، انہوں نے 'مشترکہ وژن، اسٹریٹجک ہم آہنگی اور ٹھوس تعاون' کے جذبے کے تحت دوطرفہ تعلقات کو 'بہتر جامع اسٹریٹجک شراکت داری' تک لے جانے پر اتفاق کیا، تاکہ اس عظیم خیر سگالی کو مزید نمایاں نتائج میں بدلا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر غور کیا کہ 2026 بھارت-ویتنام جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی 10ویں سالگرہ ہے اور اس موقع کو شایانِ شان طریقے سے منانے پر اتفاق کیا گیا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دوطرفہ تعاون میں حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے حالیہ برسوں میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات اور دوروں کے نتائج پر مؤثر عمل درآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جن میں اگست 2024 میں بھارت اور ویتنام کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ، 2020 میں امن، خوشحالی اور عوام کے لیے بھارت-ویتنام مشترکہ وژن اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان میٹنگوں کے نتائج شامل ہیں۔ رہنماؤں نے قیادت کی سطح سمیت تمام سطحوں پر باقاعدہ روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

بھارت کی پارلیمنٹ میں بھارت-ویتنام پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کی تشکیل کا نوٹس لیتے ہوئے، رہنماؤں نے دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھانے اور بین پارلیمانی یونین اور آسیان بین پارلیمانی اسمبلی سمیت کثیر جہتی فورمز پر دونوں طرف کے پارلیمانی وفود کے درمیان قریبی تال میل جاری رکھنے کا خیرمقدم کیا۔

رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ تعاون کے متعدد شعبوں میں موجودہ ادارہ جاتی میکانزم کے تحت باقاعدہ بات چیت اور تبادلوں نے اعتماد کو گہرا کیا ہے اور باہمی افہام و تفہیم کو بڑھایا ہے۔ اس سلسلے میں، انہوں نے اتفاق کیا کہ سیاسی مشاورت اور اسٹریٹجک مذاکرات؛ اور اقتصادی، تجارتی، سائنسی تعاون پر مشترکہ کمیشن کا اجلاس بھارت-ویتنام تعلقات کو سہارا دینے والے کلیدی ستون رہیں گے۔ رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ان طریقہ کار کے تحت اجلاس، خاص طور پر دفاع، سیکورٹی، بحری امور، تجارت اور سرمایہ کاری، زراعت، صحت، آئی سی ٹی ، سائبر، سائنس اور ٹیکنالوجی، خلائی اور جوہری توانائی کے شعبوں میں باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔ دونوں فریق اسٹریٹجک سفارت کاری – دفاعی مذاکرات (2+2) کے قیام کے منتظر ہیں۔

رہنماؤں نے 2024 سے 2028 کی مدت کے لیے بھارت اور ویتنام کے درمیان ایکشن پلان اور اس مشترکہ اعلامیہ پر مؤثر عمل درآمد کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

اقتصادی، تجارت اور سرمایہ کاری

دونوں فریقوں نے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دونوں معیشتوں کے درمیان حکومت اور کاروباری سطح پر تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری کو بڑھایا جا سکے۔ گزشتہ 10 سال میں دوطرفہ تجارت میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے، رہنماؤں نے اسے متوازن اور باہمی طور پر فائدہ مند طریقے سے مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، اور 2030 تک 25 بلین امریکی ڈالر کی تجارت کا نیا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے یہاں زرعی مصنوعات سمیت دیگر اشیاء کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں سہولت فراہم کریں گے۔ انہوں نے بھارتی انگور اور ویتنامی ڈورین کے لیے مارکیٹ تک رسائی دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بھارتی انار اور ویتنامی پومیلو کے لیے بھی مارکیٹ تک رسائی کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا، جس کے لیے تیز رفتار دوطرفہ مشاورت کے ذریعے تکنیکی مسائل کو جلد حل کیا جائے گا۔

دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں سپلائی کے نظام کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ ویتنام نے اپنے سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور اپنی گھریلو پیداوار و برآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے مزید مصنوعات درآمد کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر، بشمول معیارات کے ضابطوں کی تعمیل کی تصدیق، زیادہ سازگار ریگولیٹری ماحول تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دوطرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے تحت باہمی خدشات کو حل کرنے کے لیے تعمیری بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ آسیان-بھارت تجارتی سامان کے معاہدے (اےا ٓئی  ٹی آئی جی اے) کے جاری جائزے کو جلد از جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والا معاہدہ باہمی طور پر فائدہ مند، تجارت میں سہولت فراہم کرنے والا اور موجودہ عالمی تجارتی  طورطریقوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے  خاص طور پر ہائی ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی، اسمارٹ زراعت، الیکٹرک گاڑیاں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، زراعت اور زرعی پروسیسنگ، ایکوا کلچر، سیاحت اور مہمان نوازی جیسے شعبوں میں بھارت اور ویتنام کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو طرفہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا ۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹمز کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور اختراعی مراکز کے درمیان ٹھوس تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں بھارت اور ویتنام کے درمیان دہائیوں پرانے ادارہ جاتی روابط کی تعریف کرتے ہوئے اور اس شعبے میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو تسلیم کرتے ہوئے، رہنماؤں نے تلاش اور پیداواری سرگرمیوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں نئے کنوؤں کی تیاری بھی شامل ہے جہاں بھارتی کمپنیاں شرکت میں دلچسپی رکھتی ہوں؛ یہ تمام سرگرمیاں ویتنام کے قانون اور بین الاقوامی قانون، خاص طور پر 1982 کے یو این سی ایل او ایس کے مطابق ہوں گی۔

ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، رہنماؤں نے ان شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس کے لیے ان کی ترقی میں معاون ریگولیٹری قواعد و ضوابط اور پالیسیاں تیار کرنے کے تجربات کا تبادلہ کیا جائے گا تاکہ کاروباروں، خاص طور پر ایم ایس ایم ایز کو ای کامرس میں حصہ لینے اور علاقائی و عالمی ویلیو چینز میں گہرائی اور پائیداری کے ساتھ شامل ہونے میں مدد مل سکے۔

صحت

دونوں رہنماؤں نے صحت کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ بھارتی دواسازی کی صنعت کی جانب سے کی گئی ترقی کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے باہمی اتفاق کے مطابق 2027 سے ویتنام کی سرکاری صحت کی سہولیات کے لیے ادویات کی فراہمی میں بھارتی کمپنیوں کی ممکنہ شرکت کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، انہوں نے صحت کی دیکھ بھال کی ڈیجیٹل تبدیلی بشمول صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔

دونوں ممالک میں روایتی ادویات (طبِ یونانی و آیورویدک) کی طویل تاریخ اور مالا مال ورثے کے پیشِ نظر، دونوں رہنماؤں نے علم، تحقیق اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ ادارہ جاتی روابط کو مزید قریب لانے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے روایتی ادویات پر مفاہمت نامے کی تکمیل کی جانب پیش رفت اور ویتنام میں آیوروید کے لیے ایک اکیڈمک چیئر کے قیام کے لیے مجوزہ مفاہمت نامے کا خیرمقدم کیا۔

دفاع اور سلامتی

دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دفاعی اور سلامتی تعاون بھارت-ویتنام جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک کلیدی ستون ہے۔ انہوں نے 2030 کی جانب بھارت-ویتنام دفاعی شراکت داری کے مشترکہ وژن بیان پر مؤثر عمل درآمد کی تعریف کی، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی مسلسل رہنمائی کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کے روایتی اور ابھرتے ہوئے دونوں شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور روابط بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں دفاعی پالیسی ڈائیلاگ، مشترکہ مشقیں، اسٹاف ٹاکس، مشترکہ تحقیق اور نئی دفاعی ٹیکنالوجیز کی مشترکہ تیاری، بحری جہازوں اور فضائیہ کے طیاروں کی بندرگاہوں پر آمد و رفت میں اضافہ، امن مشن کی سرگرمیاں، معلومات کا تبادلہ، ہائیڈروگرافی، دفاعی نمائشیں، استعداد کار میں اضافہ، دفاعی صنعتی تعاون، بحری سلامتی، بحری تحفظ، اور باہمی دلچسپی و ترجیحات پر مبنی تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ اقدامات وسیع تر بھارت بحرالکاہل خطے میں مزید استحکام لانے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی نظام کی خریداری کو بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔

رہنماؤں نے بھارت کی جانب سے ویتنام کے لیے فراہم کردہ 'ڈیفنس لائنز آف کریڈٹ' پر عمل درآمد میں مستقل پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس نے ویتنام کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

رہنماؤں نے دوطرفہ دفاعی معاہدوں پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کیا، جن میں 'باہمی لاجسٹکس سپورٹ معاہدہ'؛ 'آبدوزوں کی تلاش اور بچاؤ کی معاونت و تعاون' سے متعلق مفاہمت نامے؛ اور 'دفاعی صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے' سے متعلق اظہارِ نیت شامل ہیں۔

رہنماؤں نے مئی 2025 میں ویتنام کے ساحل کے قریب دونوں بحریہ کے درمیان افتتاحی مشترکہ 'ہائیڈرو گرافک سروے' کا خیرمقدم کیا اور مستقبل میں اس طرح کی مشقیں باقاعدگی سے انجام دینے پر اتفاق کیا۔

ویتنام نے 'انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن' (آئی ٹی ای سی) پروگرام کے تحت بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کی تربیتی ٹیموں کے ذریعے 'ٹیلی کمیونیکیشن یونیورسٹی' (ٹی سی یو)، نیول اکیڈمی، ایئر فورس کالج، نا ترانگ میں ویتنامی دفاعی اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے دی جانے والی تربیت اور 'ٹی سی یو'، نا ترانگ میں 'آرمی سافٹ ویئر پارک' کے قیام کے لیے بھارتی تعاون کو سراہا۔ رہنماؤں نے اس بات کا بھی خیرمقدم کیا کہ دونوں ممالک 2027 سے 2030 کے دورانیے کے لیے سائبر سیکیورٹی پر 'آسیان ڈیفنس منسٹرز میٹنگ-پلس ایکسپرٹس ورکنگ گروپ' کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

رہنماؤں نے بھارت کی وزارتِ قانون و انصاف اور ویتنام کی وزارتِ انصاف کے درمیان مفاہمت نامے پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور عدالتی شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

دونوں فریقوں نے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے ویتنام کی وزارتِ عوامی سیکیورٹی اور بھارت کے نیشنل سیکیورٹی کونسل سکریٹریٹ کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے معلومات کے تبادلے، سائبر سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور ہائی ٹیک جرائم، بین الاقوامی جرائم، منی لانڈرنگ اور آن لائن دھوکہ دہی کے خلاف لڑائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ مزید برآں، دونوں فریقوں نے بھارت-ویتنام سلامتی مذاکرات سمیت موجودہ تعاون کے میکانزم کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

رہنماؤں نے پہلے بھارت-ویتنام سائبر پالیسی ڈائیلاگ کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کیا، جس کے دوران دونوں فریقوں نے سائبر پالیسیوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، سائبر خطرات کے منظر نامے کا جائزہ لیا، دوطرفہ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی، اور آئی سی ٹی کے مسائل پر کثیر جہتی فورمز پر تعاون اور مشترکہ استعداد کار بڑھانے کی سرگرمیوں پر بات چیت کی۔

دونوں فریقوں نے تجربات کے تبادلے کو بڑھانے اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا، جس میں قانون نافذ کرنے والے افسران کے لیے تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے تعاون کو فروغ دینا، پیشہ ورانہ تربیت کے لیے تعاون، غیر ملکی زبان کی تربیت، سائبر سیکیورٹی کے واقعات پر ردعمل کی مہارت، اقوام متحدہ کے امن مشن، اور باہمی اتفاق سے دیگر تعاون کی سرگرمیاں شامل ہیں۔

بحری امور

اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ بھارت اور ویتنام بحری ممالک ہیں جن کی باہمی تبادلوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، رہنماؤں نے بحری شعبے کو اپنے تعاون کے کلیدی ستونوں میں سے ایک قرار دیا اور دونوں فریقوں کے درمیان بحری تعاون کو بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ دوطرفہ 'بحری سلامتی مذاکرات ' نے باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کے خدشات کی بہتر تفہیم کو فروغ دیا ہے اور اس کے باقاعدگی سے انعقاد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ویتنام نے بھارت کے شہر گروگرام میں واقع 'انفارمیشن فیوژن سینٹر – انڈین اوشین ریجن' (آئی ایف سی-آئی او آر) میں بحری شعبے کی آگاہی میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک انٹرنیشنل لائزن آفیسر تعینات کرنے کی دعوت پر بھارت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم مودی نے ویتنام کی 'بھارت بحرالکاہل سمندری پہل(آئی پی او آئی) میں شمولیت کا خیرمقدم کیا اور اس فریم ورک کے تحت بہتر تعاون کی توقع ظاہر کی۔ ویتنام آئی پی او آئی کے فریم ورک کے اندر بھارت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھے گا، جبکہ آئی پی او آئی اور ’ بھارت بحرالکاہل سے تعلق آسیان کے نظریے‘ ( اے او آئی پی) کے درمیان مزید مطابقت پیدا کرنے اور 'آسیان-بھارت بحری تعاون کے سال 2026' میں ٹھوس تعاون کو فروغ دے گا۔

دونوں رہنماؤں نے بحری علوم میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں سمندری مشاہداتی پلیٹ فارمز، ڈیٹا مینجمنٹ، سمندری پیش گوئی اور خدمات، استعداد کار میں اضافہ اور بحری سائنسی تحقیق جیسے شعبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے بھارت میں پانگاسیس کی افزائش اور فارمنگ کی سہولیات کے قیام، اور مسلز  کی افزائش اور حصول کو ممکن بنانے میں ویتنام کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کیا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی، بشمول اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز

دونوںرہنماؤں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی اہمیت پر زور دیا اور ریزرو بینک آف انڈیا اور اسٹیٹ بینک آف ویتنام کے درمیان مالیاتی جدت طرازی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 'کیو آر کوڈز' کے ذریعے ریٹیل ادائیگی کے پلیٹ فارمز کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس سے دونوں اطراف کی سیاحت اور کاروبار میں آسانی ہوگی۔

دونوںرہنماؤں نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) 6جی، مصنوعی ذہانت، خلائی اور جوہری ٹیکنالوجی، سمندری علوم، بائیو ٹیکنالوجی، دواسازی، جدید مواد اور اہم معدنیات جیسے اہم اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسیع تر تعاون اور شراکت داری کی سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ تعاون کی توجہ باہمی فائدے کے لیے عملی اقدامات جیسے مشترکہ تحقیق، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے مراکز اور مصنوعات کی تیاری پر مرکوز رہے گی۔

رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی کے اہداف اور توانائی کی منتقلی سے متعلق اپنی اپنی ترجیحات کا اعتراف کیا اور صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی اور قدرتی آفات کے خلاف مزاحم ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں 'مشن لائف'  اور انٹرنیشنل سولر الائنس (آئی ایس اے) جیسے اداروں کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ بھارت نے ویتنام کی جانب سے 'گلوبل بائیو فیولز الائنس' (جی بی اے) میں شامل ہونے کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے آفات سے بچاؤ اور لچکدار بنیادی ڈھانچے کے لیے اتحاد (سی ڈی آر آئی) کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جو آفات کے خطرے میں کمی اور لچک پیدا کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے اسمارٹ زراعت، پانی کے پائیدار انتظام اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹل اور جدید ٹیکنالوجیز کے اطلاق میں مزید تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔

دونوں رہنماؤں نے ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال کے شعبے میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور ایٹمی توانائی پر بھارت-ویتنام مشترکہ کمیٹی کے چوتھے اجلاس سے سامنے آنے والے تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بھرپور فالو اپ کرنے پر اتفاق کیا۔ بھارت نے اپنے جوہری توانائی کے شعبے میں شرکت کی ویتنامی دعوت کو سراہا۔ ویتنام نے 'کوبالٹ-60' کی فراہمی پر بھارت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں فریقوں نے ویتنام کو اس کی مسلسل فراہمی کے طریقہ کار تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے ویتنام میں 'آسیان-بھارت ٹریکنگ، ڈیٹا ریسیپشن اسٹیشن اور ڈیٹا پروسیسنگ سہولت' کے قیام کی جانب پیش رفت کو نوٹ کیا۔ ویتنام نے اس منصوبے کی جلد تکمیل کی خاطر اپنی جانب سے بقیہ مراحل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

رہنماؤں نے بھارت کی ’آئی آر ای ایل‘ لمیٹڈ اور ویتنام کی حکومت کے 'انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی آف ریڈیو ایکٹو اینڈ ریئر ایلیمنٹس'  کے درمیان نادر معدنیات  کے شعبے میں باہمی تعاون کی مفاہمت نامےپر دستخط کا خیرمقدم کیا، اور اس پر جلد اور مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔

ترقیاتی شراکت داری

دونوںرہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع اور مؤثر ترقیاتی شراکت داری کی تعریف کی، جسے 'میکونگ-گنگا تعاون' کے فریم ورک کے تحت فوری اثر ڈالنے والے منصوبوں، آئی ٹی ای سی  پروگراموں اور تعلیمی وظائف کے ذریعے تقویت ملی ہے۔ انہوں نے اطمینان کے ساتھ نوٹ کیا کہ بھارت کے تعاون سے ویتنام کے 34 میں سے 32 صوبوں میں 66 'کیو آئی پیز' پر عمل درآمد کیا گیا ہے، جنہیں نچلی سطح پر سماجی و اقتصادی اثرات کی وجہ سے مقامی حکومتوں اور برادریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔

دونوںرہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا 'آئی ٹی ای سی' پروگرام دوطرفہ ترقیاتی تعاون کا ایک کلیدی ستون ہے۔ ویتنام نے 'آئی ٹی ای سی' پروگرام کے ذریعے ویتنامی حکام کی استعداد کار بڑھانے میں بھارت کے مضبوط اور مسلسل تعاون کی تعریف کی، جس میں ان کی ضروریات کے مطابق خصوصی تربیتی کورسز کے ساتھ ساتھ طلبہ اور محققین کے لیے 'آئی سی سی آر'  اسکالرشپس بھی شامل ہیں۔

دونوںرہنماؤں نے دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس اور دیگر اداروں کے درمیان طلبہ، فیکلٹی اور تحقیقی تبادلوں کو مزید بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے بھارت کی نالندہ یونیورسٹی اور ہو چی منہ نیشنل اکیڈمی آف پولیٹکس کے درمیان مفاہمت  نامے کا خیرمقدم کیا۔

ثقافت  و سیاحت کے شعبے میں تعاون اور عوام سے عوام کے روابط

ویتنام نے مئی-جون 2025 کے دوران بھگوان بدھ کے مقدس آثار کو نمائش کے لیے ویتنام بھیجنے کے ہندوستان کے اقدام کی پرزور ستائش کی۔ لیڈروں نے اعتراف کیا کہ مقدس آچار کے تئیں ویتنامی عوام کا گہرا ردعمل دونوں ممالک کے درمیان گہرے تہذیبی روابط، مشترکہ روحانی ورثے اور پائیدار دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔

رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ سیاحت عوام سے عوام کے تعلقات اور اقتصادی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ انہوں نے سیاحت کے شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور ثقافتی اور ورثے، طبی اور تندرستی سے متعلق آمد و رفت  سمیت پائیدار اور جامع انداز میں دو طرفہ سیاحت کی ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے ویتنام کے سیاحوں اور  عقیدت مندوں کو ہندوستان میں بدھسٹ سرکٹ کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے شہری ہوا بازی کے حکام کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہوائی رابطے کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کریں۔

رہنماؤں نے 2030-2026 کے لیے ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور ثقافتی تبادلے اور عوام سے عوام کے روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک کے درمیان گہرے تہذیبی رشتوں کو اُجاگر کرتے ہوئے، رہنماؤں نے بدھ مت کے علما، راہبوں، زائرین اور طلباء کے زیادہ سے زیادہ رابطے کی حوصلہ افزائی کی۔ ویتنام نے مائی سن یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے عزم اور اے، ایچ اور کے بلاکس میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعے کیے گئے بحالی اور تحفظ کے کام کے ساتھ ساتھ ویتنام کے ڈاک لاک صوبے میں ای اینڈ ایف بلاکس اور نن ٹاور پروجیکٹ میں جاری کام کی تعریف کی۔

ہندوستان نے ویتنام کے شہروں اور صوبوں کی ایک بڑی تعداد میں یوگا کے بین الاقوامی دن کے سالانہ انعقاد کے لیے ویتنام کی حمایت کو سراہا۔ رہنماؤں نے دونوں ممالک کے یوگا اداروں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے اور دا ننگ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز میں آئی سی سی آر چیئرز آف انڈیا اسٹڈیز کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔

لیڈروں نے ممبئی اور ہو چی منہ شہر کے درمیان دوستی اور تعاون کے قیام سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کا خیر مقدم کیا اور اس طرح کے تعاون اور رابطے کی حوصلہ افزائی کی۔

دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی نقل و حمل کے شعبے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے لیبر مارکیٹ کی نقل و حرکت کو آسان بنانے سمیت باہمی مفاد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قونصلر  سطح  کےڈائیلاگ کا خیرمقدم کیا۔

علاقائی اور بین الاقوامی تعاون

ابھرتے ہوئے عالمی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی منظر نامے کو تسلیم کرتے ہوئے، رہنماؤں نے خطے اور اس سے باہر امن، استحکام، تعاون اور خوشحالی پر مبنی بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان اور ویتنام کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک ہم آہنگی پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی حکمرانی میں گلوبل ساؤتھ کی آواز اور کردار کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔

رہنماؤں نے اقوام متحدہ سمیت کثیرجہتی فورموں میں تعاون کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ کثیرجہتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، رہنماؤں نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل سمیت بین الاقوامی تنظیموں میں اصلاحات کے لیے مضبوط حمایت کا اظہار کیا، تاکہ انہیں زیادہ نمائندہ اور موجودہ حقائق کی عکاسی کرنے والا بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے لیے ویتنام کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

ویتنام نے ہندوستان کی 2026 برکس صدارت کا خیرمقدم کیا، جبکہ ہندوستان نے برکس شراکت دار ملک کے طور پر ویتنام کے کردار کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ ویتنام ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی، ویژن مہاساگر اور ہند-بحرالکاہل کے وژن میں ایک کلیدی ستون ہے، جو میکانگ ذیلی خطے، آسیان اور ہند-بحرالکاہل کے ساتھ ہندوستان کی وابستگی کو آگے بڑھاتا ہے۔ رہنماؤں نے آزاد ، کھلے اور قوانین پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے اپنے مشترکہ وژن کا اعادہ کیا۔ ویتنام نے علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ابھرتے ہوئے علاقائی ڈھانچے میں آسیان اتحاد اور آسیان مرکزیت کے لیے ہندوستان کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ دونوں فریقوں نے آسیان-بھارت جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی حمایت کی، جو متعلقہ رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو پورا کرتی ہے۔

خوشحالی اور سلامتی کے درمیان تعلق کو اُجاگر کرتے ہوئے، رہنماؤں نے بحیرہ جنوبی چین میں امن، استحکام، سلامتی اور جہاز رانی اور اوور پروازوں کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت کا اعادہ کیا، جبکہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر 1982 کے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندر کے قانون (یو این سی ایل او ایس) کے مطابق تنازعات کے پرامن حل پر عمل پیرا ہیں ۔ رہنماؤں نے دعویداروں اور دیگر تمام حکومتوں کی طرف سے تمام سرگرمیوں کی انجام دہی میں غیر عسکری اور تحمل کی اہمیت پر زور دیا، اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں یا امن و استحکام کو متاثر کرنے والے تنازعات کو بڑھا سکتے ہیں۔  رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یو این سی ایل او ایس سمندروں اور سمندروں میں تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے والا جامع قانونی فریم ورک ہے۔ رہنماؤں نے بحیرہ جنوبی چین میں فریقین کے طرز عمل سے متعلق اعلامیہ (ڈی او سی) کے مکمل اور موثر نفاذ اور بحیرہ جنوبی چین میں ایک ٹھوس اور موثر ضابطہ اخلاق (سی او سی) کے لیے مذاکرات کے جلد اختتام پر زور دیا جو کہ یو این سی ایل او ایس سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو اور جو ان مذاکرات میں حصہ نہ لینے والوں سمیت تمام ممالک کے جائز حقوق اور مفادات سے نہ ٹکراتا ہو۔

رہنماؤں نے سرحد پار دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی یک زبان ہو کر مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری اور اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف سمیت جامع اور پائیدار طریقے سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی کوششوں پر زور دیا۔ رہنماؤں نے دہشت گردی کی مالی اعانت کے نیٹ ورک اور محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور دہشت گردی  میں ملوث افراد کو تیزی سے انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔

جنرل سکریٹری، صدرتو لم نے گرمجوشی سے مہمان نواز اور ان کے اور ان کے وفد کے لیے کیے گئے بہترین انتظامات کے لیے وزیر اعظم مودی کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو ویتنام کے دورے کی دعوت دی۔

 

***************

ش ح۔ م ع۔ع و۔ ن ع۔ص ج

U.NO. 6717


(ریلیز آئی ڈی: 2258482) وزیٹر کاؤنٹر : 12