صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہندوستان اور جاپان کے درمیان صحت کے شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیسری مشترکہ کمیٹی کا اجلاس


ہندوستان اور جاپان کے درمیان صحت کے شعبہ میں تعاون ایک مشترکہ ویژن پر مبنی ہے، جس کا مقصد صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بہتر صحت کے نتائج کے  لئے جدت و اختراع کو فروغ دینا ہے:  جناب جے پی نڈا

 جناب  جے پی نڈا نے “سب کا ساتھ، سب کا وکاس”کے رہنما اصول کے تحت جامع اور شمولیتی ترقی کے  لئے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا

جاپان کی وزیر برائے ہیلتھ پالیسی محترمہ کیمی اونودا نے صحت کے شعبہ میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لئے جدت، ٹکنالوجی اور تحقیق کے ذریعہ جاپان کے مسلسل عزم کو دہرایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 MAY 2026 1:53PM by PIB Delhi

ہندوستان اور جاپان کے درمیان صحت کے شعبہ پر تیسری مشترکہ کمیٹی کا آج نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں ہوا۔

اس اجلاس کی مشترکہ صدارت مرکزی وزیرِ صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا اور جاپان کی وزیر برائے ہیلتھ پالیسی محترمہ کیمی اونودا نے کی۔

وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی صحت سکریٹری محترمہ پونیہ سلیلہ سریواستو نے کہا کہ ہندوستان اور جاپان کے درمیان شراکت داری باہمی احترام، اعتماد اور مستقبل کے لیے مشترکہ ویژن پر قائم ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ  ہندوستان  اور جاپان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے تحت منعقد ہونے والی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس باقاعدہ مکالمہ اور باہمی فہم و ادراک کو فروغ دے کر اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اجلاس کی مشاورتیں مثبت، تعمیری اورمستقبل بین ثابت ہوں گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  جناب  نڈا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبہ میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور نئی شراکت داریوں کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت و تندرستی کے شعبہ میں  ہندوستان اور جاپان کا تعاون مفاہمت کی یادداشت(ایم او سی) کے تحت جاری ہے اور اس کی بنیاد صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، سہولیات تک رسائی کو بہتر کرنے اور بہتر صحت کے نتائج کے لیے جدت و اختراع کو فروغ دینے کے مشترکہ ویژن پر مبنی ہے۔

 جناب نڈا نے ہندوستان اور جاپان کے درمیان دیرینہ اور ہمہ جہت تعلقات کو اجاگر کیا، جو ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط مختلف شعبوں میں باہمی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے “سب کا ساتھ، سب کا وکاس”کے رہنما اصول کے تحت جامع ترقی کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کمیٹی کا اجلاس صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ اونودا نے صحت کے شعبہ میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے جدت، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے جاپان کے مسلسل عزم کو دہرایا اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

مشترکہ کمیٹی اجلاس کے دوران اہم ترجیحی شعبوں پر تفصیلی پریزنٹیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں شامل ہیں:

 

غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) کی روک تھام، تشخیص، علاج اور بحالی:

ہندوستانی فریق نے بدلتے ہوئے امراض کے بوجھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) میں اضافہ ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے۔ اس کے تدارک کے لیے انہوں نے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی جس میں اسکریننگ، مسلسل نگہداشت اور صحت کے فروغ کی سرگرمیاں شامل ہیں اور اسے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ قرار دیا گیا۔

جاپانی فریق نے جاری تعاون کے اقدامات کا اشتراک کیا، جن میں کینسر اسکریننگ، ابتدائی تشخیص اور علاج کے نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ اقدامات تکنیکی تعاون اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔

سپلائی چین کی مضبوطی اور معیاری طبی مصنوعات و خدمات تک رسائی:

ہندوستانی فریق نے اپنی فارماسیوٹیکل اور طبی آلات کی صنعت کے حجم اور صلاحیت کو اجاگر کیا اور مقامی پیداوار کو مضبوط بنانے، بیرونی انحصار کم کرنے اور ہدفی پالیسی اقدامات کے ذریعے سستی اور مؤثر رسائی یقینی بنانے پر زور دیا۔

جاپانی فریق نے اپنے مربوط سرکاری و نجی تعاون کے ماڈل کی تفصیل بیان کی، جس کا مقصد طبی مصنوعات و خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا، سپلائی چین کو مضبوط اور لچکدار بنانا اور منظم شراکت داریوں کے ذریعے ٹیکنالوجی کی مؤثر ترسیل کو فروغ دینا ہے۔

ڈجیٹل صحت:

ہندوستانی فریق نے آیوشمان بھارت ڈجیٹل مشن کے تحت ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے اپنے ماڈل کو اجاگر کیا، جس کے ذریعے ایک باہم مربو، محفوظ اور شہری مرکوز ڈجیٹل صحت کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ اس میں اپنانے اور انضمام  کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

جاپانی فریق نے ڈجیٹلائزیشن کو آگے بڑھانے کے اپنے تجربات شیئر کیے، جن میں نظامی انضمام، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی طبی ٹیکنالوجیز اور ابھرتے ہوئے ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مشترکہ تحقیق شامل ہے۔

انسانی وسائل کی ترقی اور تبادلہ:

ہندوستانی فریق نے ایک ہنر مند اور عالمی سطح پر مسابقتی صحت افرادی قوت کے لیے اپنی پالیسی اور ریگولیٹری نظام کو اجاگر کیا، ساتھ ہی تبادلہ پروگراموں، مشترکہ تربیت اور صلاحیتوں کی باہمی رضامندی  کے منظم راستوں پر روشنی ڈالی۔

جاپانی فریق نے طبی شعبہ میں مشترکہ تحقیق، افرادی تبادلے اور سائنسی تعاون کے جاری فریم ورک کی تفصیل بیان کی۔

اختتامی کلمات میں جناب  نڈا نے کہا کہ ان مشاورتوں نے  ہندوستان -جاپان صحت شراکت داری کو نئی رفتار بخشی ہے اور کلیدی ترجیحی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کو تقویت دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بات چیت مضبوط اور جامع صحت کے نظاموں کو فروغ دینے کے لیے واضح سمت متعین کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس کے نتائج تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ  ہندوستان  جاپان کے ساتھ قریبی طور پر کام جاری رکھے گا تاکہ مشترکہ ارادوں کو دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے ٹھوس اور مؤثر نتائج میں بدلا جا سکے۔

جاپان کی جانب سے تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کو دہراتے ہوئے محترمہ اونودا نے  ہندوستان -جاپان اسپیشل اسٹریٹجک اینڈ گلوبل پارٹنرشپ کو صحت کے شعبہ میں مزید مضبوط بنانے کے جاپان کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ اجلاس مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوا، جس میں دونوں فریقوں نے اپنے شہریوں کے لیے بہتر صحت کے نتائج حاصل کرنے کی غرض سے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے حوالہ سے امید اور  بہترین عزائم  کا اظہار کیا۔

********

 

ش ح- ظ الف- ن ع

UR-6644     


(ریلیز آئی ڈی: 2258011) وزیٹر کاؤنٹر : 11