صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے ملک بھر میں فائر سیفٹی ویک (4 تا 10 مئی 2026) کا آغاز کیا


مرکزی سیکریٹری برائے صحت محترمہ  پُنیا سلیلہ سریواستو نے “صحت کے اداروں میں آگ سے تحفظ” کے موضوع پر ملک گیر عہد کی قیادت کی

وزارتِ صحت نے “صحت کے اداروں میں آگ اور جان کے تحفظ سے متعلق قومی رہنما خطوط (2026)” جاری کیے، جس سے صحت کے اداروں میں جامع حفاظتی نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

نئے رہنما خطوط میں آئی سی یوز ، این آئی سی یوز، پی آئی سی یوز اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبوں کے لیے مزید سخت اور بہتر حفاظتی طریقۂ کار متعارف کرائے گئے ہیں

فائر سیفٹی ویک کے دوران ملک بھر میں آڈٹس، فرضی مشقیں (موک ڈرلز)، انخلا کی مشقیں، عملی مظاہرے اور ویبینارز منعقد کیے جائیں گے، تاکہ تیاری اور آگاہی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 MAY 2026 12:56PM by PIB Delhi

محفوظ طبی ماحول کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہوئے، مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے اشتراک سے، اور متعلقہ مرکزی وزارتوں و محکموں کے تعاون سے، 4 مئی سے 10 مئی 2026 تک ملک بھر میں فائر سیفٹی ویک کے انعقاد کا آغاز کیا۔

 

اس ہفتہ بھر کی سرگرمیوں کا افتتاح “صحت کے اداروں میں آگ سے تحفظ” کے موضوع پر ایک ملک گیر عہد برداری تقریب سے کیا گیا، جس کی قیادت مرکزی سیکریٹری برائےصحت محترمہ  پُنیا سلیلہ سریواستو نے کی۔ اس موقع پر صحت کے اداروں اور متعلقہ فریقین کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آگ سے بچاؤ، تیاری اور مؤثر ردِعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکریٹری برائے صحت، محترمہ پُنیا سلیلہ سریواستو نے کہا کہ اس سال کے فائر سیفٹی ویک کا موضوع۔“محفوظ اسکول، محفوظ اسپتال، اور آگ سے تحفظ سے آگاہ معاشرہ: آگ سے بچاؤ کے لیے سب کی مشترکہ کوشش” اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہمارے اداروں میں حفاظت کو یقینی بنانا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی ویک ہمیں یہ اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم موجودہ انفراسٹرکچر کا ازسرِ نو جائزہ لیں، یہ دیکھیں کہ آیا سہولیات کا مناسب آڈٹ کیا گیا ہے یا نہیں، اور ان خامیوں اور کمیوں کی نشاندہی کریں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ استعداد کار ی میں اضافے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طبی عملے کو آگ لگنے کی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مناسب تربیت اور آگاہی دینا ضروری ہے۔

 

انہوں نے مزید تمام ریاستوں اور صحت کے اداروں پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے فائر سیفٹی آڈٹ کی تفصیلات آئی ایچ آئی پی پورٹل پر اپ لوڈ کریں، تاکہ ضابطوں کی پاسداری کو ادارہ جاتی شکل دی جا سکے اور حفاظتی معیارات کو برقرار رکھنے کی مسلسل یاد دہانی ہوتی رہے۔

مرکزی سیکریٹری برائے صحت نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ 50,000 سے زائد افراد، جن میں متعدد سرکاری ادارے بھی شامل ہیں، iGOT کے فائر سیفٹی کورس کو مکمل کر چکے ہیں، اور اس طرح کی کوششوں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ جن بھاگیداری (عوامی شمولیت) کے ذریعے ملک بھر میں فائر سیفٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بامعنی اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے رکن اور سربراہ جناب کرشنا ایس وتسا نے صحت کے اداروں میں آگ سے تحفظ کے لیے پیشگی اور منظم نظام پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں فائر سیفٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک گیر مہم چلائی جانی چاہیے، اور آگاہ کیا کہ این ڈی ایم اے اس مقصد کے تحت پانچ علاقائی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جبکہ ریاستی اور ضلعی سطح پر بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی تاکہ استعداد کار میں اضافہ ہو اور تیاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ باقاعدہ آڈٹس کے لیے سیلف سرٹیفکیشن کا نظام متعارف کرایا جائے، اور ساتھ ہی فائر سیفٹی سے متعلق مسلسل آگاہی مہمات جاری رکھی جائیں۔

ادارہ جاتی سطح پر تیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر اسپتال میں ایسے تربیت یافتہ طبی عملے کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے جو آگ لگنے کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اس کے ساتھ واضح اور باقاعدہ مشق شدہ انخلا (ایویکویشن) کے طریقۂ کار بھی موجود ہوں۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (فائر سروسز) جناب سنیل کمار جھا نے صحت کے اداروں میں آگ سے تحفظ کے لیے پیشگی اور منظم نظام پر مبنی حکمتِ عملی کی انتہائی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال نہایت حساس اور پیچیدہ ماحول ہوتے ہیں، جہاں معمولی سی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ حفاظتی اصولوں کی سختی سے پابندی، باقاعدہ آڈٹس اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مؤثر تیاری، باہمی ہم آہنگی اور مسلسل نگرانی ہی آگ کے واقعات کی روک تھام اور ہنگامی صورتحال میں مؤثر ردِعمل کو یقینی بنا سکتی ہے۔

اس موقع پر وزارت نے باضابطہ طور پر “صحت کے اداروں میں آگ اور جان کے تحفظ سے متعلق قومی رہنما خطوط (2026)” کا اجرا بھی کیا۔ یہ رہنما خطوط مختلف ممتاز اداروں اور اسپتالوں کے ماہرین کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد تیار کیے گئے ہیں، تاکہ صحت کے اداروں میں فائر سیفٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع اور مؤثر فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔

یہ رہنما خطوط مختلف اہم پہلوؤں کا جامع احاطہ کرتے ہیں، جن میں گورننس فریم ورک، خطرات کی جانچ اور ان کی روک تھام، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، ہنگامی ردِعمل کے نظام، طبی عملے کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ، ضابطہ جاتی نظام، اور آگاہی پیدا کرنا شامل ہیں۔ ان میں حساس اور زیادہ خطرے والے شعبوں جیسے انتہائی نگہداشت یونٹس(آئی سی یوز) ، نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹس(این آئی سی یوز)،  بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس(پی آئی سی یوز) اور آپریشن تھیٹرز (اوٹیز) کے لیے بھی جدید اور سخت حفاظتی ضوابط شامل کیے گئے ہیں، جہاں اعلیٰ سطح کی حفاظت ناگزیر ہے۔

فائر سیفٹی ویک کے دوران ملک بھر میں مختلف سرگرمیوں کا جامع منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ صحت کے اداروں میں آگ سے بچاؤ اور اس کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے آگاہی اور ادارہ جاتی تیاری کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ ملک گیر عہد برداری تقریب کے علاوہ، ان سرگرمیوں میں باقاعدہ فائر سیفٹی آڈٹس، آگ کی نشاندہی اور اس پر قابو پانے کے نظام کی عملی مشقیں اور مظاہرے، مریضوں کے انخلا کی مشقیں، اور بہترین طریقۂ کار اور تکنیکی معلومات کی فراہمی کے لیے تکنیکی ویبینارز کا انعقاد شامل ہے۔

 

مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، مرکزی وزارتِ صحت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ایک مفصل اور تازہ چیک لسٹ جاری کی ہے، جس میں ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری و نجی تمام صحت کے ادارے سخت فائر اور برقی حفاظتی آڈٹس انجام دیں۔ ریاستوں اور یوٹیز کو یہ بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ خاص طور پر میڈیکل کالجوں اور بڑے ترتیبی (ٹرشیری) نگہداشت کے اداروں میں ہدفی آگاہی مہمات کا انعقاد کریں۔ ان اقدامات میں پوسٹر سازی اور کوئز مقابلے، نیز آگ کی نشاندہی اور اس پر قابو پانے والے آلات و نظام کے مؤثر استعمال پر عملی مظاہرے شامل ہیں، تاکہ طبی عملے اور طلبہ میں حفاظتی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارت نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ہفتہ بھر کی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لیں اور جاری کردہ رہنما خطوط پر پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ملک بھر میں مریضوں، تیمارداروں اور طبی عملے کے لیے ایک محفوظ، مضبوط اور مؤثر صحت کا نظام قائم کیا جا سکے۔

“صحت کے اداروں میں آگ اور جان کے تحفظ سے متعلق قومی رہنما خطوط (2026)” درج ذیل لنک پر دستیاب ہیں:

https://www.mohfw-dohfw.gov.in/static/uploads/2026/05/62dc36c7ac9aeedefb0e969de50686d1.pdf

********

ش ح۔ش ت ۔ رض

U-6607


(ریلیز آئی ڈی: 2257826) وزیٹر کاؤنٹر : 8