شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
’’ہندوستان میں خواتین اور مرد 2025: منتخب اشاریے اور اعداد و شمار” کی اشاعت کا اجرا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 APR 2026 3:22PM by PIB Delhi
اعدادوشمار اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) حکومت ہندنے اپنی 27ویں اشاعت بعنوان “ ہندوستان میں خواتین اور مرد 2025: منتخب اشاریے اوراعدادو شمار” کا اجرا 29 اپریل 2026 کو اڈیشہ کے شہر بھوبنیشور میں منعقدہ “ڈیٹا فار ڈیولپمنٹ” کے قومی مباحثی اجلاس کے موقع پر کیا۔

یہ اشاعت بھارت میں خواتین اور مردوں کی صورتحال کا ایک جامع جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں مختلف اہم شعبوں جیسے آبادی، تعلیم، صحت، معاشی شمولیت، فیصلہ سازی، خواتین کے خلاف تشدد اور دیگر صنفی امور سے متعلق منتخب اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ معلومات مختلف وزارتوں، محکموں اور اداروں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔مزید برآں، اس اشاعت میں 50 اہم اشاریوں کے لیے میٹا ڈیٹا بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ وضاحت میں اضافہ ہو اور قارئین کو اعداد و شمار سے متعلق تصورات، تعریفات، ذرائع اور طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے میں سہولت حاصل ہو۔
سرکاری اعدادوشمار کی بنیاد پر ، اشاعت کا مقصد دیہی-شہری درجہ بندی ، ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے ، اور جہاں کہیں بھی دستیاب ہو ، وقت کے ساتھ پیش کردہ متعدد اشارے کے ساتھ ، موضوعات کی ایک وسیع رینج میں صنفی طور پر الگ الگ ڈیٹا فراہم کرنا ہے ۔ اس سے ملک بھر میں صنفی عدم مساوات اور ترقی کے رجحانات میں تبدیلیوں کو بہتر اور گہری سطح پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اہم سماجی و اقتصادی اشاریوں کے تجزیے اور ابھرتے ہوئے رجحانات کو اجاگر کرتے ہوئے یہ اشاعت پالیسی سازوں، محققین اور دیگر متعلقہ فریقین کو قیمتی شواہد فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ صنفی حساس پالیسیوں اور پروگراموں کی تشکیل میں رہنمائی حاصل کر سکیں، جن کا مقصد جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بھارت میں خواتین اور مرد 2025: منتخب اشاریے اور اعدادوشمار وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے (https://mospi.gov.in/)
اشاعت کی کچھ جھلکیاں مندرجہ ذیل ہیں:
- ملکی سطح پر پیدائش کے وقت جنسی ِتناسب میں اضافہ ہوا ہے، جو خواتین کی بقا میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ شرح 2017-19 میں 904 سے بڑھ کر 2021-23 میں 917 تک پہنچ گئی ہے۔

1. 2008 سے 2023 کے درمیان نوزائیدہ اموات کی شرح میں لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے واضح اور مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

3.پرائمری سے لے کر ہائر سیکنڈری سطح تک اسکولی تعلیم کی تمام سطحوں پر صنفی برابری حاصل کر لی گئی ہے ۔

4.اعلیٰ تعلیم میں مجموعی داخلہ شرح میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ 2021-22 سے 2022-23 کے دوران یہ شرح خواتین کے لیے 28.5 سے بڑھ کر 30.2 اور مردوں کے لیے 28.3 سے بڑھ کر 28.9 ہو گئی ہے۔

5.پندرہ سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے ایل ایف پی آر میں مردوں اور خواتین دونوں کے لیے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر دیہی خواتین میں ایل ایف پی آر میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2022 سے 2025 کے دوران 37.5 فیصد سے بڑھ کر 45.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

6. سال 2017اور 2025 کے درمیان انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے مردوں میں 73.80 فیصد اضافہ ہوا ہے ، جبکہ اسی عرصے کے دوران انتظامی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین میں 102.54 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

یہ اشاعت ایم او ایس پی آئی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور نیچے دیے گئے کیو آر کوڈ کے ذریعے بھی اس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔

********
) ش ح ۔ ش آ۔م ذ)
U.No. 6454
(ریلیز آئی ڈی: 2256618)
وزیٹر کاؤنٹر : 10