وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

اتر پردیش کے وارانسی میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم  جناب نریندر مودی کے خطاب کا اصل متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 APR 2026 7:34PM by PIB Delhi

نمہ پاروتی پتے، ہر ہر مہادیو!

اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، یہاں کے مقبول وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی اور بی جے پی کے قومی صدر شریمان نتن نبین جی، اتر پردیش سے رکن پارلیمنٹ اور یوپی بی جے پی کے صدر شریمان پنکج چودھری جی، ضلع پنچایت صدر بہن پونم موریہ جی، اسٹیج پر موجود کاشی کی خواتین کونسلرز اور گرام پردھان، دیگر عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں یہاں تشریف لانے والی میری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں! آپ سب کو میرا نمسکار۔

ساتھیو

! ہماری کاشی ماتا شرنگار گوری، ماتا انا پورنا، ماتا وشالاکشی، ماتا سنکٹھا اور ماں گنگا جیسی الہی طاقتوں کی سرزمین ہے۔ ایسے میں آپ تمام بہنوں اور بیٹیوں کے اس اجتماع نے اس موقع کو بہت ہی مقدس بنا دیا ہے۔ ہم کاشی کی اس سرزمین پر آپ تمام ماؤں، بہنوں اور کاشی کی بیٹیوں کو پرنام کرتے ہیں!

ساتھیو!

آج کا یہ موقع ناری شکتی (خواتین کی طاقت) کے احترام اور ترقی کا جشن تو ہے ہی، تھوڑی دیر پہلے ہی یہاں ہزاروں کروڑ روپے کے منصوبوں کا سنگِ بنیاد اور افتتاح ہوا ہے۔ اس میں کاشی کی ہر قسم کی ترقی سے متعلق پروجیکٹس شامل ہیں۔ ساتھ ہی کاشی اور ایودھیا کے درمیان رابطے (کنیکٹیوٹی) کو بڑھانے والے کام بھی ہیں۔ کچھ دیر پہلے دو 'امرت بھارت' ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے۔ کاشی سے پونے اور ایودھیا سے ممبئی، یہ دونوں امرت بھارت ٹرینیں یوپی اور مہاراشٹر کے رابطے کو مزید بہتر بنائیں گی۔ اب ممبئی اور پونے سمیت پورے مہاراشٹر کے لوگوں کو ایودھیا دھام اور کاشی وشوناتھ دھام پہنچنے کا ایک اور جدید متبادل مل گیا ہے۔ میں اس آغاز کے لیے اہل وطن کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو

!ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کا مشن مسلسل جاری ہے، اور جب میں 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ ہندوستان) کی بات کرتا ہوں تو اس کا سب سے مضبوط ستون ہندوستان کی خواتین کی طاقت ہے۔ آج اس پروگرام میں، میں آپ تمام بہنوں اور بیٹیوں سے ایک 'مہا یگیہ' (بڑے مقصد) کے آغاز کے لیے دعائیں لینے آیا ہوں۔ کاشی کے رکن پارلیمنٹ کے طور پر اور ملک کے وزیر اعظم کے طور پر مجھے ملکی مفاد کے ایک بڑے ہدف کے حصول کے لیے آپ سب کا تعاون اور آشیرواد چاہیے، اور یہ بڑا ہدف ہے— لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کا نفاذ۔ ابھی کچھ دن پہلے سپا (سماج وادی پارٹی) اور کانگریس جیسی جماعتوں کی وجہ سے ہماری یہ کوشش پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ لیکن میں آپ تمام بہنوں کو پھر سے یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ریزرویشن کا حق نافذ ہو، اس میں میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑوں گا۔

ساتھیو

 گھر میں خاتون کے بااختیار ہونے سے پورے خاندان کو طاقت ملتی ہے، اس سے معاشرہ مضبوط ہوتا ہے اور ملک مضبوط ہوتا ہے۔ ماضی میں بہنوں اور بیٹیوں کو بہت جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ کاشی کی آپ بہنوں نے بھی کئی طرح کی مشکلات دیکھی ہیں اور کئی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ بیٹیوں کو اکثر طرح طرح کے سوالات سے گزرنا پڑتا تھا، "تم یہ کر کے کیا کروگی؟"، "تمہیں اس کی کیا ضرورت ہے؟"، "تو کیا کرے گی، تجھے کیا ضرورت ہے، تو چپ رہ، یہ کام تجھ سے نہیں ہو پائے گا۔" اور کئی بار تو سوال بھی نہیں پوچھے جاتے تھے، بلکہ براہِ راست فرمان سنا دیا جاتا تھا کہ "یہ تمہارے بس کا کام نہیں ہے۔"

ساتھیو!

ایسی صورتحال صرف کاشی کی بہنوں کے لیے ہی رہی ہو ایسا نہیں ہے، ملک کی زیادہ تر بہنوں اور بیٹیوں کے ایسے ہی تجربات رہے ہیں اور اسے معمول کی بات سمجھ لیا جاتا تھا۔ اسی لیے میں جب 25 سال پہلے گجرات میں وزیر اعلیٰ بنا تھا تو سب سے پہلے میں نے ایسے تصورات کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس دوران بیٹیوں کے لیے مخصوص دو بڑی اسکیمیں شروع کی گئی تھیں۔ ایک تھی 'شالا پرویش اتسو' (اسکول میں داخلے کا جشن) تاکہ بیٹیاں زیادہ تعداد میں اسکول پہنچیں اور ان کی پڑھائی بیچ میں نہ چھٹے۔ دوسری تھی 'وزیر اعلیٰ کنیا کیلوانی ندھی' تاکہ بیٹیوں کی فیس میں ان کی مدد کی جا سکے۔

ساتھیو!

 تب سے لے کر آج تک ہماری حکومت کی پالیسیوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ 2014 میں جب آپ نے ہمیں خدمت کا موقع دیا تو ملک میں 12 کروڑ سے زیادہ بیت الخلا بنے، 'عزت گھر' بنے۔ 30 کروڑ سے زیادہ بہنوں کے بینک کھاتے کھولے گئے۔ ڈھائی کروڑ سے زیادہ گھروں میں بجلی کا کنکشن دیا گیا۔ 12 کروڑ سے زیادہ گھروں میں نل سے پانی پہنچایا گیا۔ یعنی بہت سی بڑی اسکیموں کے مرکز میں بہنوں اور بیٹیوں کو رکھا گیا۔

ساتھیو!

 دو سال پہلے یہاں بنارس میں 'سکنیا سمردھی یوجنا' سے متعلق ایک بہت بڑی مہم چلائی گئی تھی۔ اس وقت ایک ہی مہینے میں یہاں کاشی میں 27 ہزار بیٹیوں کے سکنیا سمردھی کھاتے کھلوائے گئے تھے اور ہر بیٹی کے بینک کھاتے میں 300 روپے بھی ٹرانسفر کیے گئے تھے۔ بیٹیوں کی تعلیم اور بہتر مستقبل میں سکنیا سمردھی یوجنا بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس اسکیم سے بیٹیوں کی پڑھائی کو تقویت ملی ہے اور 'مدرا یوجنا' سے بیٹیوں کی کمائی یقینی ہوئی ہے۔ وہیں 'ماترو وندن یوجنا' اور 'آیوشمان بھارت یوجنا' سے بہنوں اور بیٹیوں کی دوا (علاج) کا انتظام کیا گیا ہے۔

ساتھیو!

 پڑھائی، کمائی اور دوا کے ساتھ ہی کروڑوں بہنوں کے نام پر پہلی بار کوئی پراپرٹی رجسٹر ہوئی ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کے زیادہ تر گھر بھی بہنوں کے نام پر ہوتے ہیں۔ آج ہماری مائیں اور بہنیں صحیح معنوں میں اپنے گھر کی مالکن بن رہی ہیں۔

ساتھیو! ہماری حکومت کا پورا زور بہنوں کی سہولت اور تحفظ پر رہا ہے۔ یہی دو چیزیں ہیں جو بااختیار بنانے کی بنیاد کو مضبوط کرتی ہیں۔ آپ نے یہاں یوپی میں اپنی آنکھوں کے سامنے حالات بدلتے دیکھے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک جب یہاں سماج وادی پارٹی کی حکومت تھی تو یوپی میں بیٹیوں کا گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ لیکن اب بی جے پی حکومت میں بیٹیوں کے خلاف غلط سوچ رکھنے والا اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔

ساتھیو! 'بھارتیہ نیائے سنہتا'  نے بھی بہنوں اور بیٹیوں کو تحفظ کا نیا بھروسہ دیا ہے۔ اس کے تحت خواتین کے خلاف سنگین جرائم میں فیصلے تیزی سے آنے لگے ہیں۔ اسی طرح خواتین کے تھانوں اور مشاورتی مراکز کا نیٹ ورک بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آج یہاں بھی ایک خاتون پولیس چوکی اور مشاورتی مرکز کی عمارت پر کام شروع ہوا ہے۔ ایسے اقدامات بیٹیوں کو تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

ساتھیو!

جب خواتین کی معاشی طاقت بڑھتی ہے تو گھر میں ان کی آواز بھی اتنی ہی بلند ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے سہولت اور تحفظ کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ ہم نے بہنوں کی معاشی شرکت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ گزشتہ 11 سالوں میں ملک کی تقریباً 10 کروڑ بہنیں 'اپنی مدد آپ گروپس' سے جوڑی گئی ہیں۔ کاشی کی بھی سوا لاکھ بہنیں ایسے گروپوں سے وابستہ ہیں۔ ان گروپوں کو لاکھوں روپے کی امداد مل رہی ہے جس سے بہنیں اپنا کاروبار کر رہی ہیں۔ ایسی ہی کوششوں سے اب تک 3 کروڑ بہنیں 'لکھ پتی دیدی' بن چکی ہیں، اور ان میں بنارس کی بھی ہزاروں بہنیں شامل ہیں۔

ساتھیو! '

لکھ پتی دیدی' مہم کو تیز کرنے میں ہمارے ڈیری شعبے کا بھی بڑا کردار ہے۔ یہاں 'بناس ڈیری' سے وابستہ لاکھوں بہنیں بہت شاندار کام کر رہی ہیں۔ آج ان بہنوں کو بونس کے طور پر 106 کروڑ روپے براہِ راست ملے ہیں۔ میں ان تمام بہنوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میں کاشی میں ڈیری شعبے سے وابستہ خواتین سے کہوں گا— ابھی تو شروعات ہوئی ہے، بنارس بڑھے گا، بناس ڈیری بڑھے گی اور یہ بونس بھی بڑھتا جائے گا۔

ساتھیو!

بی جے پی-این ڈی اے حکومت بہنوں کو خود کفیل بھی بنا رہی ہے اور ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کی مہم کی قیادت بھی دے رہی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آگے بڑھانے میں ہزاروں 'بینک سکھیوں' کا بڑا کردار ہے۔ انشورنس سے متعلق کام کو 'بیما سکھیوں' کی قیادت مل رہی ہے۔ قدرتی کھیتی کو آگے بڑھانے میں 'کرشی سکھیاں' اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور کھیتی میں جو ڈرون انقلاب آ رہا ہے اس کی قیادت بھی ہماری 'نمو ڈرون دیدیاں' ہی کر رہی ہیں۔ گزشتہ دہائی میں بیٹیوں کے لیے بری فوج، بحریہ اور فضائیہ میں نئے مواقع ملے ہیں۔ پہلی بار فوجی اسکولوں اور ڈیفنس اکیڈمی کے دروازے بھی بیٹیوں کے لیے کھولے گئے ہیں۔ یعنی بی جے پی-این ڈی اے حکومت کا مطلب ہی ہے— خواتین کو بااختیار بنانا، ان کی ترقی اور ان کی زندگی کو آسان بنانا۔

ساتھیو!

آج ہر شعبے میں، ہر محاذ پر ہندوستان کی بیٹیاں اتنا شاندار کام کر رہی ہیں، تو فطری بات ہے کہ پالیسی سازی اور قوم کے مستقبل سے جڑے فیصلوں میں بھی بہنوں اور بیٹیوں کا کردار مزید بڑھنا ہی چاہیے۔ ملک کو آج اس کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے لیے بھی ایمانداری سے کام کیا جا رہا ہے۔ ملک کی نئی پارلیمنٹ بنانے کے پیچھے بھی بہنوں کی شرکت کا خیال ایک بڑی وجہ تھی۔ نئی پارلیمنٹ بنی تو پہلا کام ہم نے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا ہی کیا۔ 40 سال سے بہنوں کا یہ حق اٹکا اور لٹکا ہوا تھا۔ اس لیے ہم نے سال 2023 میں پارلیمنٹ میں 'ناری شکتی وندن ادھینیم' پاس کروایا۔

ساتھیو!  

قانون بننے کے بعد اسے نافذ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اب یہ ضروری ہے کہ یہ قانون جلد سے جلد نافذ ہو۔ اس لیے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں اس پر بحث رکھی گئی تھی۔ ہم آئین میں ترمیم کے لیے قانون لائے تھے تاکہ زیادہ تعداد میں بہنیں اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں پہنچ سکیں۔

لیکن ساتھیو!

کانگریس، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی اور ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں نے ایک بار پھر ملک کی خواتین کو دھوکہ دیا۔ ایسی جماعتوں نے 40 سال سے خواتین کے ریزرویشن پر بریک لگایا ہوا تھا۔ اب سماج وادی پارٹی نے پھر سے اسے لال جھنڈی دکھا دی ہے۔

ساتھیو!

اصل بات یہ ہے کہ یہ تمام خاندان پرستی (پریوار واد) اور خوشامد کی سیاست میں ڈوبی ہوئی جماعتیں خواتین کی طاقت سے ڈری ہوئی ہیں، آپ سب سے ڈری ہوئی ہیں۔ یہ خاندان پرست جماعتیں ملک کی ان بیٹیوں کو اسمبلی اور پارلیمنٹ نہیں آنے دینا چاہتیں جو کالج کیمپس سے لے کر پنچایتوں اور مقامی اداروں تک ہر جگہ اپنے دم پر قیادت کر رہی ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ اگر زمین پر کام کرنے والی بیٹیاں اوپر آگئیں تو ان کا کنٹرول ختم ہو جائے گا اور ان کے اقتدار پر سوال کھڑے ہو جائیں گے۔ اسی لیے یہ خاندان پرست جماعتیں پارلیمنٹ میں ہونے والی مخالفت میں سب سے آگے رہی ہیں۔

ساتھیو!

مجھے اطمینان ہے کہ ملک کی بہنیں اور بیٹیاں ان کے اس برے ارادے کو پہچان گئی ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں، آسام، کیرالہ، پڈوچیری، بنگال اور تمل ناڈو میں بہنوں نے ریکارڈ ووٹنگ کی ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی مخالف جماعتوں کو اندازہ نہیں ہے کہ بہنوں کا یہ ووٹ ان خواتین مخالف جماعتوں کو سزا دینے کے لیے ہوا ہے۔

ساتھیو!

بی جے پی-این ڈی اے حکومت کا ایک ہی منتر ہے— 'ناگرک دیو بھو' (شہری دیوتا کے مانند ہے)۔ ملک کے شہریوں کی پڑھائی، کمائی، دوا، آبپاشی اور ان کی سنوائی ہماری ترجیح ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ آج یہاں کاشی کی ترقی کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ گنگا جی پر 'سگنیچر برج' بننے سے پوروانچل کا رابطہ اور زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔

ساتھیو!

گزشتہ ایک دہائی میں کاشی شمالی اور مشرقی ہندوستان کا ایک بڑا طبی مرکز (ہیلتھ ہب) بن کر ابھرا ہے۔ 500 بیڈ کا ملٹی سپر اسپیشلٹی اسپتال کاشی کے طبی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس کے علاوہ 100 بیڈ کے 'کریٹیکل کیئر بلاک' کا بھی سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے، جس سے سنگین بیماریوں کے علاج کی ایک بہت بڑی سہولت کاشی سے جڑ جائے گی۔

ساتھیو!

گنگا جی کی صاف صفائی ہو، گھاٹوں کی ترقی ہو، انتظامی عمارتوں کی تعمیر ہو، کسانوں کے لیے گودام ہوں، اولڈ ایج ہومز ہوں یا خواتین کے ہاسٹلز، یہ سب کاشی کی حساس ترقی کا ثبوت ہیں۔ ان کاموں سے بنارس کے لوگوں کو ہی سب سے زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔

 

ساتھیو!

کاشی کی وراثت اور یہاں کے ورثے کو مضبوط کرنے کی مہم بھی مسلسل چل رہی ہے۔ سنت کبیر استھلی کی ترقی اور نگوا میں واقع سنت روی داس پارک کی تزئین و آرائش اسی مہم کا حصہ ہے۔

ساتھیو!

ہماری کاشی 'اویناشی' (لازوال) ہے، یہ مسلسل چلنے والا شہر ہے۔ اسی طرح ترقی کی یہ مہم بھی مسلسل رواں دواں ہے۔ میں خواتین کی طاقت کو سلام پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر ہمیں دعائیں دینے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ترقیاتی کاموں کے لیے مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے ساتھ بولیں—

بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے!

وندے ماترم! وندے ماترم! وندے ماترم!

ہر ہر مہادیو!

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :6427  )


(ریلیز آئی ڈی: 2256388) وزیٹر کاؤنٹر : 7