وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سکّم کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کی اختتامی تقریب میں سکّم کے گنگٹوک میں شرکت کی


پُرسکون ماحول اور کاروباری جذبے کے لیے معروف سکّم تیزی سے ترقی کر رہا ہے:وزیرِ اعظم

راستے بھر میں جو بہترین چیز میں نے دیکھی، وہ سکّم کی سڑکوں کی صفائی تھی:وزیرِ اعظم

جہاں تک نظر گئی کہیں کچرا دکھائی نہیں دیا، فضا میں بھی صفائی ہے، سڑکوں پر بھی صفائی ہے، سکّم کے لوگ فطرت کے سچے محافظ اور اس کے سفیر ہیں:وزیرِ اعظم

ہم سکّم میں رابطہ اور بنیادی ڈھانچے پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں؛ حالیہ برسوں میں یہاں سینکڑوں کلومیٹر طویل شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں اور ہر گاؤں کو سڑک سے جوڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے:وزیرِ اعظم

کھیلوں کے میدان میں بھی سکّم کے لیے امکانات کی ایک وسیع دنیا موجود ہے؛ یہاں کے نوجوانوں نے بڑے پلیٹ فارموں پر اپنی صلاحیت اور ہنر کا مظاہرہ کیا ہے:وزیرِ اعظم

ہماری حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ مضبوط طبی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ عوام کو سستی اور معیاری علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے: وزیرِ اعظم

پہلے ہم نے غریبوں کو مفت علاج کی سہولت دینے کے لیے آیوشمان کارڈ فراہم کیے؛ اب یہ سہولت 70 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں تک بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ جن اوشدھی مراکز پر ادویات انتہائی مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں:وزیرِ اعظم

سکّم میں نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری کا ماڈل پورے ملک کے لیے ایک مثال ہے:وزیرِ اعظم

سکّم کا طرزِ زندگی اور اس کا عزم آج قوم کے وژن کا لازمی حصہ بن چکا ہے:وزیرِ اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 APR 2026 3:00PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج سکّم کے ریاست بننے کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کی اختتامی تقریب کے موقع پر سکّم کے گنگٹوک میں ایک شاندار تقریب کے دوران ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے 30 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔

پالجور اسٹیڈیم میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ریاست کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا اظہار کیا۔ آرکڈ باغات کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فطرت کے دلکش رنگوں اور اس کی شادابی سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سکّم کا مشرقی جنت کہلانے والا آرکڈ گارڈن بے مثال خوبصورتی، سکون اور روحانی مسرت فراہم کرتا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا’’یہ تجربہ بڑی خوش بختی سے نصیب ہوتا ہے، میرا ذہن اب تک ان رنگوں اور ان کی خوشیوں میں ڈوبا ہوا ہے‘‘۔

وزیرِ اعظم نے سکّم کے 50 سالہ سفر کو ایک روحانی فضا میں منانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی موقع اتنا تاریخی ہو اور ایسے مقدس ماحول میں منعقد ہو تو اس کی شان کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی پروگرام، فنکاروں کی دلکش پیشکشیں، عوام کا جوش و خروش اور پہاڑوں اور آسمان کا حسین منظر پالجور اسٹیڈیم میں ایک جادوئی ماحول پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے فطرت اور ثقافت ایک ساتھ زندہ ہو گئی ہوں، یہ یادیں ہمیشہ میرے دل میں رہیں گی‘‘۔

سکّم پہنچنے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اپنے گزشتہ دورے کو یاد کیا جب خراب موسم کی وجہ سے وہ گنگٹوک نہیں پہنچ سکے تھے اور انہیں باگڈوگرا سے آن لائن خطاب کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے بالمشافہ نہ مل پانے کا افسوس ان کے دل میں تھا اور وہ اس موقع کے منتظر تھے۔انہوں نے کہا’’آج وہ انتظار اس موقع کے ذریعے پورا ہو گیا ہے‘‘۔

وزیرِ اعظم نے سکّم کے عوام سے ملاقات کے منفرد تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی نرمی، سادگی اور مسکراتے چہرے انہیں ہمیشہ سکون دیتے ہیں۔ مرکزی تقریب سے قبل انہوں نے سکّم کے کئی باصلاحیت افراد، ممتاز شخصیات، پدم ایوارڈ یافتگان، فنکاروں اور فٹبال کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا’’سکّم کے لوگوں سے ملنا مجھے ایک خاص طرح کا اطمینان بخشتا ہے‘‘۔

گزشتہ شام کے روڈ شو کو یاد کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اسے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ قرار دیا۔ گنجو لاما دُوار سے لوک بھون تک سکّم کے عوام نے بڑی تعداد میں اپنی محبت کا اظہار کیا، جہاں 21 نسلی برادریوں نے اپنی روایتی پوشاک، موسیقی اور ثقافت کے ساتھ شرکت کی۔ پورا ماحول ایک عظیم تہوار کا منظر پیش کر رہا تھا۔وزیرِ اعظم نے کہا’’یہ منظر ایسا تھا جیسے فطرت کی گود میں رنگ بکھر رہے ہوں، لوگوں کے ہاتھوں میں ترنگا لہرا رہا تھا اور ‘بھارت ماتا کی جے’ اور ‘وندے ماترم’ کے نعرے گونج رہے تھے؛ پورا ماحول ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے جذبے کی عکاسی کر رہا تھا‘‘۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس بات کا ذکر کیا کہ اس موقع پر خواتین، بچے اور بزرگ شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ جس چیز نے انہیں متاثر کیا وہ سکّم کی سڑکوں کی غیر معمولی صفائی تھی۔کہیں بھی گندگی کا نام و نشان نہیں تھا، فضا بھی پاکیزہ تھی اور سڑکیں بھی صاف ستھری۔ انہوں نے کہا’’آپ فطرت کے ثابت قدم محافظ اور اس کے حقیقی سفیر ہیں‘‘۔

روڈ شو اور موجودہ تقریب کے لیے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے تمام شہریوں اور فنکاروں کا شکریہ ادا کیا اور سکّم کے عوام سمیت پورے ملک کے لوگوں کو اس خوشی کے موقع پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی محبت، خلوص اور دعاؤں کا قرض اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا‘‘۔

وزیرِ اعظم نے سکّم کے سفر کو انسانی اقدار، ثقافت اور ترقی کے حسین امتزاج کا سفر قرار دیا اور کہا کہ اس ترقی میں کئی نسلوں کی محنت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت پوری ایمانداری کے ساتھ سکّم کے ورثے کے تحفظ اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کے لیے سکّم اور پورا شمال مشرقی خطہ محض جغرافیائی حصے نہیں بلکہ بھارت کی ’’اشٹ لکشمی‘‘ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’اسی لیے ہم نے ’ایکٹ ایسٹ‘ پالیسی کے ساتھ ساتھ شمال مشرق کے لیے ’ایکٹ فاسٹ‘ کا عزم بھی اختیار کیا ہے‘‘۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ آج ہزاروں کروڑ روپے مالیت کے 30 سے زائد منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا، جن میں سڑک، بجلی، سیاحت، صحت اور تعلیم کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر 2023 کے بعد شمالی سکّم میں پیش آنے والے مسائل، خصوصاً رابطہ سڑکوں کی بحالی پر توجہ دینے کا ذکر کیا اور کہا، ’’جہاں کہیں رابطہ متاثر ہوا تھا، وہاں اسے مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے‘‘۔

سیاحت کو سکّم کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگرچہ یہ ریاست بھارت کے کل رقبے کا ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن یہاں ملک کا 25  فیصد سے زائد نباتاتی تنوع پایا جاتا ہے، تقریباً 500 اقسام کے پرندے، قریب 700 اقسام کی تتلیاں، گھنے جنگلات اور عظیم الشان کنچن جنگا جیسے قدرتی نظارے موجود ہیں۔انہوں نے کہا’’اتنی خوبصورتی کے باعث ہر کوئی بار بار سکّم آنا چاہتا ہے‘‘۔

انہوں نے زور دیا کہ سکّم میں سیاحت لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے اور سیاحت اسی وقت فروغ پاتی ہے جب بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو۔ حالیہ برسوں میں سینکڑوں کلومیٹر شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں اور ہر گاؤں کو سڑک سے جوڑنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید انفرااسٹرکچر، جو کبھی تصور میں بھی نہیں تھا، اب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا’’اسی لیے ہم سکّم میں رابطہ اور بنیادی ڈھانچے پر سب سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں‘‘۔

بڑے رابطہ جاتی منصوبوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ باگڈوگرا–گنگٹوک ایکسپریس وے اور سیووک–رنگپو ریلوے لائن سکّم کو پورے ملک سے جوڑنے کے لیے نہایت اہم کڑیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئی قومی شاہراہیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور مستقبل کے اہم منصوبے، جیسے گنگٹوک سمیت مختلف شہروں میں رنگ روڈز کی تعمیر بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا’’اس سمت میں کام مسلسل جاری ہے‘‘۔

سیووک–رنگپو ریلوے لائن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے09-2008 میں منظوری ملی تھی، لیکن طویل عرصے تک فائلوں میں ہی پھنسی رہی اور زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ترقی نے رفتار پکڑی۔وزیرِ اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا’’پہلی بار ریلوے سکّم تک پہنچ رہی ہے‘‘۔

سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نئی سوچ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بھالے ڈھنگا، یین-ینگ اور پیلنگ میں روپ ویز کی تعمیر، بھالے ڈھنگا میں اسکائی واک اور سنگ شور پل پر گلاس ڈیک اسکائی واک کی تیاری کو اختراعی اقدامات کی مثال قرار دیا۔ اس کے علاوہ ناتھولا اور ناملی جیسے مقامات پر سرحدی سیاحت کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ’’یہ اقدامات آپ کی زندگی کو آسان بنائیں گے، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کریں گے، آمدنی بڑھائیں گے اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں گے‘‘۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ سکّم میں ایکو-ویلنس ٹورزم کے وسیع امکانات موجود ہیں، جنہیں حکومت فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے 1,000 ہوم اسٹیز تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ایڈونچر ٹورزم کے لیے بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم مقامی برادریوں کو براہِ راست سیاحت سے فائدہ پہنچانے کے مواقع پیدا کر رہے ہیں‘‘۔

کھیلوں کے شعبے کو بھی سکّم کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے نوجوانوں کی تعریف کی جنہوں نے فٹبال، باکسنگ اور تیر اندازی جیسے کھیلوں میں بڑے پلیٹ فارموں پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا اور ریاست و ملک کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا’’آپ کے نوجوانوں نے سکّم اور بھارت کو فخر کا موقع دیا ہے‘‘۔

انہوں نے سکّم کے باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ’کھیلو انڈیا‘ اور ’فٹ انڈیا‘ جیسے اقدامات کے ذریعے کثیر جہتی حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے۔ ریاستی اسپورٹس اکیڈمی کی بحالی، سکّم پریمیئر لیگ جیسے ایونٹس کے فروغ، جس لال پردھان کے نام سے جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام اور مربوط کھیل و ثقافتی دیہات جیسے منصوبوں کے ذریعے سکّم میں عالمی معیار کا اسپورٹس انفرااسٹرکچر تیار کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا’’یہ اقدامات سکّم کے نوجوانوں کو بہتر سہولیات فراہم کریں گے اور انہیں کھیلوں میں مزید نمایاں ہونے کا موقع دیں گے‘‘۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج جن منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ہے ان میں صحت کے شعبے سے متعلق کئی اہم اقدامات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس وقت کو یاد کیا جب سکّم میں طبی سہولیات نہایت محدود تھیں، حتیٰ کہ اس وجہ سے سیاح بھی یہاں آنے سے ہچکچاتے تھے۔ انہوں نے کہا،’’آج یہ چیلنج بھی ختم ہو رہا ہے‘‘۔

صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا کہ سکّم میں اس وقت تقریباً 200 آیوشمان آروگیہ مندر فعال ہیں، اس کے علاوہ چار ضلعی اسپتال، ٹرشری کیئر اسپتال اور ویلنیس مراکز موجود ہیں جہاں ہزاروں افراد آیوش (روایتی طب) کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ڈریجونگ نامگیال سووا  رِگپا اسپتال کے افتتاح سے سکّم کے صحت کے نظام کو مزید تقویت ملے گی‘‘۔

وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مضبوط طبی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ سستا علاج فراہم کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں آیوشمان کارڈ کے ذریعے غریبوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا اور اب یہ سہولت 70 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں تک بڑھا دی گئی ہے، جبکہ جن اوشدھی مراکز پر ادویات انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا’’ان اقدامات نے نہ صرف آپ کی زندگی آسان بنائی ہیں بلکہ طبی اخراجات بھی کم کیے ہیں‘‘۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ دنیا میں معاشی ترقی اور وسائل کے حوالے سے سوچ تیزی سے بدل رہی ہے اور اب عالمی توجہ پائیدار طرزِ زندگی، صاف توانائی اور نامیاتی خوراک پر مرکوز ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ شمال مشرقی خطہ اور سکّم اس مستقبل کی ترقی کے اہم مراکز بن رہے ہیں، اور سکّم نے پورے ملک کو نئی سمت دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا’’سکّم نے 2016 میں خود کو مکمل طور پر نامیاتی ریاست قرار دے کر ایک مثال قائم کی‘‘۔

نامیاتی کاشتکاری میں سکّم کی پیش قدمی کی تعریف کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دیماجونگ اب صرف چاول کی پیداوار کے لیے نہیں بلکہ نامیاتی چاول کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ بڑی الائچی، ادرک، ہلدی، ایواکاڈو اور کیوی جیسی پیداوار قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے، جبکہ دواؤں میں استعمال ہونے والے سینکڑوں پودے مقامی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے ایک نامیاتی پروسیسنگ پلانٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جس سے کسانوں کو براہِ راست منڈی تک رسائی حاصل ہو رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا’’سکّم کا نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری کا ماڈل پورے ملک کے لیے ایک تحریک ہے اور آپ کا طرزِ زندگی اور عزم اب قومی وژن کا حصہ بن چکا ہے‘‘۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سکّم کی معاشی ترقی میں خود امدادی گروپوں اور خواتین کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل انڈیا مہم ان کی مصنوعات کو وسیع منڈیوں تک پہنچانے میں بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا،’’سویم سکّم‘ جیسے پلیٹ فارم آج ان خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں‘‘۔

وزیرِ اعظم نے سکّم میں صاف توانائی کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ان وسائل کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کی حفاظت سکّم کے لوگوں کی فطرت میں شامل ہے اور ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم میں ان کی شرکت اور مقامی سطح پر چلائی جانے والی ’میرو  رُکھ  میرو  سنتتی‘ پہل قابلِ ستائش ہے، جس کے تحت ہر بچے کی پیدائش پر 108 درخت لگائے جاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ یہ پہل پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے‘‘۔

انہوں نے سب سے اپیل کی کہ اسی جذبے کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کی کوششیں جاری رکھی جائیں اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک ورثے کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا’’یہ ہماری میراث ہے جسے ہمیں مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے‘‘۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرِ اعظم نے سکّم کی ترقی کو مزید تیز کرنے اور ’’وکست بھارت‘‘ کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس جذبے کے ساتھ سکّم کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا اور اس موقع پر ایک بار پھر سب کو مبارکباد دی۔ وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا’’میں آپ سب کے روشن مستقبل اور مسلسل خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔

سکّم کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کی تقریبات کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پُرسکون ماحول اور کاروباری جذبے کے لیے معروف یہ ریاست تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔https://t.co/hFUftLcfk7

— Narendra Modi (@narendramodi) April 28, 2026