PIB Headquarters
مردم شماری 2027: ہندوستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری، ڈیجیٹل انڈیا کی نئی شناخت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 APR 2026 10:33AM by PIB Delhi
کلیدی معلومات
- مردم شماری 2027 ہندوستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جس میں موبائل کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا، جس سے ملک بھر میں ڈیٹا زیادہ تیزی اور مؤثر طریقے سے دستیاب ہوگا۔
- سیاسی امور کی کابینہ کمیٹی نے 30 اپریل 2025 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں 2027 کی مردم شماری میں ذات پات کی گنتی کوشامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
- حکومت نے مردم شماری 2027 کے لیے 11,718.24 کروڑ روپے کا ایک اہم بجٹ مختص کیا ہے۔ ایک مضبوط ادارہ جاتی فریم ورک کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر تربیت اور پری ٹیسٹنگ جیسی وسیع انتظامی تیاریوں کے ذریعے ملک بھر میں اس ڈیجیٹل مہم کی ہموار عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔
- محفوظ کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر (سی آئی آئی) ڈیٹا سینٹرز اور ایک بڑی افرادی قوت کے ساتھ، مردم شماری 2027 ٹارگٹڈ اور جامع پالیسی سازی کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کرے گی۔
تعارف
مردم شماری کسی ملک یا کسی مخصوص علاقے کے تمام افراد سے متعلق آبادیاتی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی اعداد و شمار کو جمع کرنے، مرتب کرنے، تجزیہ کرنے اور پھیلانے کا عمل ہے۔ مردم شماری کے ذریعے جمع کی گئی معلومات کا وسیع ذخیرہ اسے منصوبہ سازوں، منتظمین، محققین اور دیگر ڈیٹا استعمال کرنے والوں کے لیے ایک بھرپور ذریعہ بناتا ہے۔ مردم شماری حکمرانی کے لیے ایک اہم بنیاد کے طور پر کام کرتی ہے اور سیاسی، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو ممکن بناتی ہے۔ مردم شماری کا ڈیٹا پالیسی سازی میں سہولت فراہم کرتا ہے، جو آبادی کی متنوع ضروریات کے لیے جامع، ہدفی اور جوابدہ ہوتی ہے۔
ہندوستان میں مردم شماری کے ابتدائی حوالہ جات کوٹیلیہ کے "ارتھ شاستر" (321-296 قبل مسیح) میں اور بعد میں شہنشاہ اکبر کے دور میں ابوالفضل کی تصنیف "عینِ اکبری" میں ملتے ہیں۔ ہندوستان میں پہلی جدید مردم شماری 1865 اور 1872 کے درمیان کی گئی تھی، اگرچہ یہ تمام خطوں میں بیک وقت نہیں تھی۔ ہندوستان نے اپنی پہلی بیک وقت مردم شماری 1881 میں کی۔ تب سے، ہندوستانی مردم شماری ہر 10 سال بعد کی جانے والی جامع مشقوں کے ذریعے آبادی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں قابلِ اعتماد اور بروقت ڈیٹا فراہم کر رہی ہے۔ ہر بعد کی مردم شماری نے اپنے طریقۂ کار کو بہتر کیا، کوریج کو بڑھایا اور آبادی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سوالناموں میں ضروری تبدیلیاں کیں۔
مردم شماری 2027 ہندوستانی مردم شماری کے سلسلے میں 16ویں اور آزادی کے بعد سے 8ویں مردم شماری ہوگی۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری مہم ہوگی، جو ڈیجیٹل شمولیت، مضبوط ڈیٹا سیکیورٹی اور عمل کو مزید آسان بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگی۔ یہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مزید مضبوط کرے گی۔ اس میں متعدد اہم خصوصیات شامل ہیں، جیسے موبائل پر مبنی ڈیٹا جمع کرنا، مردم شماری کے انتظام و نگرانی کے نظام (سی ایم ایم ایس) پورٹل کے ذریعے حقیقی وقت میں نگرانی، اختیاری خود شماری کی سہولت، اور درست جغرافیائی نقشہ سازی کا وسیع استعمال۔ آبادی کی گنتی کے مرحلے کے دوران ایک جامع ذات پات کی گنتی بھی کی جائے گی۔
جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے، اس مہم کا مقصد ڈیٹا کی حفاظت اور عوامی شرکت کے اعلیٰ ترین معیارات کو یقینی بناتے ہوئے تیز، زیادہ درست اور جامع ڈیٹا فراہم کرنا ہے۔
ہندوستانی مردم شماری کا تاریخی پس منظر
ہندوستانی مردم شماری دنیا کی سب سے بڑی انتظامی اور شماریاتی مشق میں تبدیل ہو چکی ہے۔ پہلی مردم شماری 1865-1872 کے دوران کی گئی، جس کے بعد 1881 میں پہلی بار ملک گیر مردم شماری انجام دی گئی۔ تب سے، ہندوستانی مردم شماری ہر دس سال بعد کی جاتی ہے۔ تاہم، کووڈ-19 وبا کی وجہ سے 2021 کی مردم شماری وقت پر نہیں ہو سکی۔ لہٰذا، 2027 کی مردم شماری اس سلسلے کی اگلی کڑی ہوگی، جو مجموعی طور پر 16ویں اور آزادی کے بعد سے 8ویں مردم شماری شمار ہوگی۔
مردم شماری 2027 کے لیے ادارہ جاتی اور قانونی فریم ورک

مردم شماری 2027 ایک مضبوط ادارہ جاتی اور انتظامی فریم ورک پر مبنی ہے جو ڈیٹا اکٹھا کرنے میں تسلسل، وشوسنییتا (قابل اعتمادیت ) اور ملک گیر یکسانیت کو یقینی بناتا ہے۔ آزادی کے بعد سے، مردم شماری ایکٹ، 1948 اور مردم شماری قواعد، 1990 کے تحت کی جاتی رہی ہے، جو اسے ایک مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ مردم شماری ہندوستانی آئین کے ساتویں شیڈول کے تحت مرکزی مضمون ہے (سیریل نمبر 69 پر درج ہے)۔ یونین (مرکزی ) کےموضوع کے طور پر، اس عمل کو مرکزی سطح پر مربوط کیا جاتا ہے، جبکہ اس کا نفاذ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کیا جاتا ہے، جس سے مختلف شعبوں میں بلا رکاوٹ عمل درآمد یقینی بنتا ہے۔
یہ فریم ورک ذاتی ڈیٹا کی سخت رازداری کی ضمانت دیتا ہے اور عوامی اعتماد و شرکت کو مضبوط کرتا ہے۔ مردم شماری ایکٹ میں ایک اہم شق—سیکشن 15—شامل ہے، جو یقینی بناتی ہے کہ افراد کی فراہم کردہ ذاتی معلومات کو سختی سے رازدارانہ رکھا جائے۔ اس معلومات کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت عام نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اسے کسی عدالت میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔
2027 کی مردم شماری کے انعقاد کے حکومت کے ارادے کو 16 جون 2025 کو گزٹ آف انڈیا میں مطلع کیا گیا تھا۔ مرکزی کابینہ نے اس کے نفاذ کے لیے 11,718.24 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات کی منظوری دی ہے۔
دو مرحلوں پر مشتمل گنتی کا منصوبہ اور شیڈول (نظام الاوقات)
2027 کی مردم شماری ایک منظم دو مرحلوں کے فریم ورک کے تحت کی جائے گی تاکہ ملک بھر میں ڈیٹا کے جامع اور منظم انداز میں جمع کو یقینی بنایا جا سکے۔
مرحلہ اوّل: ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری (ایچ ایل او) :
اپریل سے ستمبر 2026 کے درمیان شیڈول ہے۔ یہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں کی سہولت کے مطابق ہر ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں 30 دن کی مدت میں منعقد کیا جائے گا۔ گھر گھر جا کر کیے جانے والے ہاؤس لسٹنگ (ایچ ایل او) کے کام کی 30 دن کی مدت سے ٹھیک پہلے 15 دن کے دوران خود شماری کا اختیار بھی دستیاب ہوگا۔ اس مرحلے میں گھروں کی حالت، دستیاب سہولیات اور گھرانوں کے پاس موجود اثاثوں کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کی جائیں گی، جبکہ یہ اگلے مرحلے کے لیے ضروری بنیاد بھی فراہم کرے گا۔
مرحلہ دوم: آبادی کی گنتی (پی ای) :
فروری 2027 کے لیے شیڈول ہے اور اس کی بنیادی توجہ گھرانوں کے تمام افراد کی تفصیلی آبادیاتی، سماجی و اقتصادی، ثقافتی، نقل مکانی اور زرخیزی سے متعلق معلومات جمع کرنے پر ہوگی۔ جیسا کہ سی سی پی اے نے فیصلہ کیا ہے، مردم شماری کے اسی دوسرے مرحلے کے دوران ذاتوں کی گنتی بھی کی جائے گی۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ اور جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ریاستوں اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے غیر برف پوش علاقوں کے لیے دوسرا مرحلہ ستمبر 2026 کے دوران منعقد کیا جائے گا۔ آبادی کی گنتی اور سوالنامے کی درست تاریخوں کو مقررہ وقت پر مطلع کیا جائے گا۔
ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری سے متعلق سوالات
حکومت نے جنوری 2026 میں پہلے مرحلے یعنی ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری کے لیے سوالات کے ایک جامع سیٹ کو نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔

مردم شماری 2027 کے لیے ریاست وار پروگرام
مردم شماری 2027 کے لیے حوالہ تاریخ یکم مارچ 2027 کی آدھی رات (00:00 بجے) مقرر کی گئی ہے۔ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ اور جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ریاستوں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے برف سے ڈھکے علاقوں کے لیے حوالہ تاریخ یکم اکتوبر 2026 کی آدھی رات ہوگی۔ وقت کے اس مقررہ نقطے کو "مردم شماری کا معیاری لمحہ" کہا جاتا ہے۔

مردم شماری 2027 کی اہم خصوصیات
مردم شماری 2027 کے عمل کو زیادہ درست، مؤثر، شفاف اور تیز تر بنانے کے لیے کئی اہم انتظامی اور تکنیکی اختراعات کی جا رہی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف مردم شماری کے انعقاد کو جدید بنائیں گے بلکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے زیادہ جامع اور بروقت آبادیاتی اعداد و شمار کا باعث بھی بنیں گے۔
ذات پات کی گنتی
ذات پات کی گنتی ہندوستانی مردم شماری 2027 کی ایک اہم خصوصیت کے طور پر ابھری ہے۔ یاد رہے کہ 2011 کی مردم شماری تک اس عمل میں صرف درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی منظم طریقے سے گنتی کی گئی تھی۔ تاہم، 30 اپریل 2025 کو سیاسی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی پی اے) کے فیصلے کے بعد اب مردم شماری 2027 کے تحت بھی ذات پات کی گنتی کی جائے گی۔
پہلی ڈیجیٹل مردم شماری
مردم شماری 2027 ہندوستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جس کے کامیاب نفاذ کے لیے حکومت نے پہلے ہی وسیع تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
مردم شماری کے انتظام اور نگرانی کا نظام (سی ایم ایم ایس) پورٹل
ان کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، مردم شماری کے پورے عمل کے حقیقی وقت کے انتظام اور نگرانی کے لیے "مردم شماری کے انتظام اور نگرانی کا نظام" (سی ایم ایم ایس) کے نام سے ایک مخصوص پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ مربوط ڈیش بورڈ کے ذریعے سب ڈویژن، ضلع، ریاست اور قومی سطح کے افسران گنتی ، فیلڈ کی کارکردگی اور آپریشنل تیاریوں کی پیش رفت کی نگرانی کر سکیں گے۔
ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری (ایچ ایل او) موبائل ایپلی کیشن
یہ گنتی کرنے والوں کے لیے ہاؤس لسٹنگ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اپ لوڈ کرنے کے لیے ایک محفوظ آف لائن ایپ ہے، جسے صرف سی ایم ایم ایس پورٹل پر رجسٹرڈ افراد ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ فیلڈ ٹو سرور سے براہِ راست ڈیٹا بھیجنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے کاغذی کارروائی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ یہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پلیٹ فارم پر 16 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگی۔
ہاؤس لسٹنگ بلاک کریئیٹر (ایچ ایل بی سی) ویب میپنگ ایپلی کیشن
مردم شماری 2027 کی ایک اور اختراع ایچ ایل بی سی کریئیٹر ویب میپنگ ایپلی کیشن ہے، جسے چارج افسران استعمال کریں گے۔ یہ سیٹلائٹ امیجری کی مدد سے ہاؤس لسٹنگ بلاکس (ایچ ایل بی) کی ڈیجیٹل تخلیق میں سہولت فراہم کرے گا، اس طرح پورے ملک کی درست جغرافیائی کوریج کو یقینی بنائے گا۔
سیلف اینیومریشن پورٹل
گھر گھر گنتی (فیلڈ وزٹ) سے پہلے 15 دن کی اختیاری "خود شماری" کی مدت دی جائے گی۔ خود شماری پورٹل ایک محفوظ ویب پر مبنی سہولت ہے، جو خاندان کے اہل جواب دہندگان کو فیلڈ آپریشن شروع ہونے سے پہلے اپنی خاندانی معلومات آن لائن جمع کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اعداد و شمار کامیابی سے جمع کرانے پر ایک منفرد سیلف اینیومریشن آئیڈینٹیفیکیشن نمبر (ایس ای آئی ڈی) تیار کیا جائے گا۔ اس ایس ای آئی ڈی کو گنتی کرنے والے کے ساتھ شیئر کرنا ہوگا، جس کی بنیاد پر گنتی کرنے والا معلومات کی تصدیق کر سکے گا۔
خود شماری کی سہولت
مردم شماری 2027 میں شہریوں کی سہولت کے لیے کی گئی ایک بڑی اختراع "خود شماری" کی سہولت کا تعارف ہے، جس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
یہ سہولت ایک خصوصی آن لائن پورٹل https://se.census.gov.in/ کے ذریعے دستیاب ہوگی۔
یہ پورٹل 16 زبانوں (آسامی، بنگالی، انگریزی، گجراتی، ہندی، کنڑ، کونکنی، ملیالم، منی پوری، مراٹھی، نیپالی، اوڈیا، پنجابی، تامل، تیلگو اور اردو) میں دستیاب ہوگا۔
جواب دہندگان اپنی معلومات آزادانہ طور پر بھر سکتے ہیں، جس کے بعد ایک منفرد سیلف اینیومریشن (ایس ای) آئی ڈی تیار کی جائے گی۔
اعداد و شمار کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے، پورٹل میں صارف رہنما، فلو چارٹس، اکثر پوچھے جانے والے سوالات (ایف اے کیو)، ضروری "ٹول ٹپس"، ٹیوٹوریل ویڈیوز اور جوابات کی جانچ کے اختیارات موجود ہوں گے۔
گنتی کرنے والے گھر گھر دوروں کے دوران اس ڈیٹا کی تصدیق کریں گے اور اسے مردم شماری کے مرکزی ڈیٹا کے ساتھ مربوط کریں گے۔
کم سے کم وقت میں تکمیل
اعداد و شمار جمع کرنے سے لے کر پروسیسنگ تک ہر مرحلے پر جدید ترین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کوشش کی جائے گی کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کم سے کم وقت میں ملک بھر میں دستیاب ہوں۔ مزید برآں، زیادہ حسبِ ضرورت بصری ٹولز کے ذریعے مردم شماری کے نتائج کو عام کرنے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔
ہموار نفاذ کے لیے تفصیلی تیاری
مردم شماری کی سرگرمیوں کے لیے ایک مستحکم فریم ورک فراہم کرنے کے لیے انتظامی اکائیوں کی حدود یکم جنوری 2026 تک منجمد کر دی گئی ہیں۔ مزید برآں، طریقۂ کار، ڈیجیٹل ٹولز اور تربیتی نظام کی توثیق کے لیے نومبر 2025 میں تقریباً 5000 مردم شماری بلاکس پر مشتمل فیز اوّل کا ملک گیر پری ٹیسٹ کیا گیا۔
ہم آہنگی اور نگرانی کو مستحکم کرنے کے لیے جنوری 2026 میں چیف سکریٹریوں، ریاستی نوڈل افسران اور مردم شماری افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگیں کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلع اور چارج کی سطح پر مردم شماری کے اہلکاروں کی تقرری کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، علاقائی سطح پر نفاذ میں یکسانیت کو یقینی بنانے کے لیے 19 زبانوں میں تفصیلی انسٹرکشن مینوئلز (رہنما کتابچے ) تیار کیے گئے ہیں، جو جامع رہنما خطوط اور سرکلرز پر مبنی ہیں۔
مزید برآں، مسلسل نگرانی اور بروقت عمل درآمد کو ممکن بنانے کے لیے سرگرمیوں کا ایک مقررہ ٹائم لائن کیلنڈر نافذ کیا گیا ہے، جس سے مردم شماری کے عمل کی مجموعی تیاری اور انتظامی کارکردگی کو مزید تقویت ملی ہے۔

مضبوط ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی فریم ورک
مردم شماری 2027 کے لیے ایک جامع اور کثیر سطحی ڈیٹا سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے تاکہ ہر مرحلے پر معلومات کی سالمیت اور رازداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں درج ذیل خصوصیات شامل ہیں:
ڈیٹا جمع کرنے، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے دوران اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، غیر مجاز رسائی کو روکنے کے لیے محفوظ ترسیلی پروٹوکول نافذ کیے گئے ہیں۔
ڈیٹا کو تصدیق شدہ اور محفوظ ڈیٹا سینٹرز میں ہوسٹ کیا جاتا ہے، جنہیں اہم انفارمیشن انفراسٹرکچر (سی آئی آئی) کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے۔ یہ حفاظتی معیارات کے اعلیٰ ترین درجے کو یقینی بناتا ہے۔
یہ نظام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آئی ایس او/آئی ای سی 27001:2022 معیار کے مطابق ہیں۔ اس کے علاوہ، ان کا باقاعدگی سے معروف ایجنسیوں کے ذریعے سیکیورٹی آڈٹ کیا جاتا ہے۔
یہ تمام اقدامات مل کر مردم شماری کے عمل کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ ڈیٹا ماحولیاتی نظام کو یقینی بناتے ہیں۔
صلاحیت سازی اور انسانی وسائل کی تیاری
انسانی وسائل کی تیاری مردم شماری 2027 کا ایک اہم ستون ہے، جس کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی پر بھرپور زور دیا جا رہا ہے۔ اس مشق کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ مردم شماری افسران کے ساتھ تقریباً 31 لاکھ گنتی (مردم شماری) کرنے والوں اور نگرانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ انہیں ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے ہر مرحلے کے لیے خصوصی تربیتی ماڈیول تیار کیے گئے ہیں، جن کے تحت 80,000 سے زیادہ تربیتی سیشن منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس منظم نقطۂ نظر کا مقصد مردم شماری کے پورے عمل میں اعداد و شمار کے معیار، درستگی اور آپریشنل کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا ہے۔
مردم شماری 2027 کے کامیاب انعقاد کے لیے مختلف کاموں کو مکمل کرنے کے لیے تقریباً 18,600 تکنیکی اہلکار مقامی سطح پر تقریباً 550 دنوں تک مصروفِ عمل رہیں گے۔ دوسرے الفاظ میں، اس پورے عمل کے ذریعے تقریباً 1.02 کروڑ افرادی دنوں کے برابر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
نتیجہ: مردم شماری مستقبل کی اچھی حکمرانی کی بنیاد ہے
مردم شماری اچھی حکمرانی کی بنیاد ہے، جو حقائق پر مبنی پالیسی سازی اور جامع ترقی کے لیے قابلِ اعتماد اور جامع ڈیٹا فراہم کرتی ہے۔ یہ آبادیاتی رجحانات کی درست تشخیص کو ممکن بناتی ہے اور خوراک، پانی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے مختلف شعبوں میں مؤثر منصوبہ بندی کو یقینی بناتی ہے۔ مقامی سطح پر باریک معلومات فراہم کر کے، یہ سرکاری اسکیموں کے ہدفی نفاذ اور وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال میں مدد دیتی ہے۔
توقع ہے کہ آئندہ مردم شماری 2027 تازہ ترین اور تفصیلی اعداد و شمار فراہم کر کے نظام کو مزید مضبوط کرے گی۔ یہ پہل زیادہ درست اور حقائق پر مبنی منصوبہ بندی کی بنیاد فراہم کرے گی اور تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی و اقتصادی منظرنامے کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
حوالہ جات کی فہرست:
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پی آئی بی ریسرچ
See PDF
***
UR- 6298
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2255533)
وزیٹر کاؤنٹر : 11