وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا راجیہ سبھا سے خطاب
وزیر اعظم نے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر جناب ہری ونش کو تاریخی تیسری مدت کار کے لیے مبارکباد پیش کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 2:05PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا سے خطاب کیا اور راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر مسلسل تیسری بار منتخب ہونے پر جناب ہری ونش کو دلی مبارکباد پیش کی۔ اس تاریخی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے ایوان کا جناب ہری ونش پر گہرے اعتماد اور ان کے اس گراں قدر تجربے کا اظہار ہوتا ہے جو وہ اس ادارے کے لیے لے کر آئے ہیں۔ جناب مودی نے تبصرہ کیا، ’’مسلسل تیسری بار منتخب ہونا ان کے تجربے، ان کے جامع نقطۂ نظر اور ان کے کام کرنے کے باوقار انداز پر ایوان کی طرف سے مہرِ تصدیق ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے 17 اپریل کی خصوصی اہمیت کا ذکر کیا۔ اس دن سابق وزیر اعظم چندر شیکھر جی کا یومِ پیدائش بھی ہوتا ہے۔ جناب ہری ونش کے چندر شیکھر جی کے ساتھ قریبی تعلقات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین نے ان کے سیاسی سفر کے دوران ان کے ساتھی کے طور پر کام کیا اور ان کی زندگی پر کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’آپ کا چندر شیکھر جی کے یومِ پیدائش پر اپنی تیسری مدت کا آغاز کرنا اس موقع کو خاص طور پر بامعنی بناتا ہے۔‘‘
صحافت میں جناب ہری ونش کے شاندار کیریئر کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اعلیٰ معیارات اور مؤثر تحریر کے تئیں ان کی وابستگی کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ گجرات میں اپنی مدت کار کے دوران بھی، وہ باقاعدگی سے جناب ہری ونش کے مضامین پڑھتے تھے، جو گہرے مطالعے اور پختہ یقین کی عکاسی کرتے تھے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ان کی تحریر میں دھار ہوتی تھی، لیکن ان کی گفتگو اور برتاؤ ہمیشہ نرم اور شائستہ رہا۔‘‘
وزیر اعظم نے صحافت کے دنوں میں جناب ہری ونش کے کالم سیریز ’ہمارا سانسد کیسا ہو‘ کے ذریعے کیے گئے ان کے نمایاں کام کو اجاگر کیا۔ اس تجربے کی قدر پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے تجویز پیش کی کہ دونوں ایوانوں کے نئے ارکان پارلیمنٹ، پارلیمانی طرز عمل، وقار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے جناب ہری ونش کی بصیرت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جناب مودی نے کہا، ’’شاید تب وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک دن وہ خود اس کرسی پر فائز ہوں گے، لیکن ان کی تحریروں نے اس موضوع کا انتہائی گہرائی سے احاطہ کیا تھا۔‘‘
وزیر اعظم نے جناب ہری ونش کی مثالی پابندی وقت، نظم و ضبط والی زندگی اور فرائض کے تئیں سنجیدگی کو ان کی ایسی شخصیت کے پیچھے کلیدی عوامل قرار دیا جسے سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن بننے کے بعد سے، جناب ہری ونش نے ایوان میں کل وقتی موجودگی برقرار رکھی ہے، اور صدارت نہ کرنے کے دوران بھی اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ ان کی ذمہ داریوں کے تئیں ان کے گہرے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور ہم سب کے لیے ایک مثال قائم کرتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے پارلیمانی فرائض سے ہٹ کر جناب ہری ونش کی عوامی مصروفیت، خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ ان کے کام کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ متاثر کن اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے، انہوں نے انکشاف کیا کہ 2018 میں بطور ڈپٹی چیئرمین عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب ہری ونش نے ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 350 سے زائد پروگرام منعقد کیے ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’یہ نوجوانوں کے ساتھ جڑنے، موضوعات تیار کرنے اور وکست بھارت کے وژن سے انہیں متاثر کرنے کے لیے ایک غیر معمولی عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے طلبہ میں اعتماد پیدا کرنے پر ڈپٹی چیئرمین کی توجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ جناب ہری ونش تاریخی حوالوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں ہندوستان مطلوبہ رفتار سے ترقی کیوں نہیں کر سکا اور اب ملک کے لیے بڑی پیش رفت کے لیے کیا مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں میں منعقد ہونے والے لٹریچر فیسٹولز میں جناب ہری ونش کی فعال شرکت کا بھی ذکر کیا، جس سے معاشرے کے مختلف طبقات متاثر اور مستفید ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے 1994 میں جناب ہری ونش کے پہلے دورۂ امریکہ سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ بھی شیئر کیا۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس ترقی یافتہ ملک میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں، تو جناب ہری ونش نے یونیورسٹیوں کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ کس قسم کی تعلیم اور ثقافت نے ایسی ترقی کو ممکن بنایا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’انہوں نے اس دورے کے دوران اپنا تمام تر فرصت کا وقت امریکی یونیورسٹیوں کے مطالعے میں صرف کیا، جس سے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے تعلیمی مہارت کے تئیں ان کا گہرا عزم ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے ایم پی لیڈز (ارکان پارلیمنٹ کے اپنے علاقے کی ترقیاتی اسکیم) فنڈ کے جناب ہری ونش کے مثالی استعمال کو دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے ایک ماڈل قرار دیا۔ وزیر اعظم نے ڈپٹی چیئرمین کی جانب سے قائم کردہ مختلف مطالعاتی اور تحقیقی مراکز کی تفصیل بتائی، جن میں آئی آئی ٹی پٹنہ میں معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہندوستانی زبانوں کے لیے ایک مرکز، بہار کے خطوں کی زلزلہ خیزی کے پیش نظر زلزلہ سے متعلق انجینئرنگ کا مرکز اور پٹنہ کی آریہ بھٹ نالج یونیورسٹی میں مٹی کے کٹاؤ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دریاؤں کے مطالعے سےمتعلق مرکز شامل ہیں۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا، ’’انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایم پی لیڈز فنڈز کو طویل مدتی اثرات کے لیے کس طرح ایک خاص مقصد کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے جناب ہری ونش کی طرف سے مالی اعانت فراہم کردہ دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں چندر گپت انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں بزنس انکیوبیشن اینڈ انوویشن سینٹر اور مگدھ یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سینٹر شامل ہیں۔ شہری نقل مکانی کے باوجود اپنے گاؤں سے ڈپٹی چیئرمین کے مسلسل تعلق کو سراہتے ہوئے، جناب مودی نے کہا، ’’ہری ونش جی اپنے گاؤں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور اپنی برادری کے دکھ سکھ میں برابر شریک رہتے ہیں۔‘‘
نئی پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر کے دوران جناب ہری ونش کے ساتھ کام کرنے کے اپنے ذاتی تجربے کو شیئر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ان کا تعاون کتنا قیمتی رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے یاد کیا کہ کس طرح جناب ہری ونش بحث کے دو دنوں کے اندر نام رکھنے کی تقریبات، چیمبرز کی شناخت، آرٹ گیلریوں اور مختلف گیٹس کے لیے آئیڈیاز کو مکمل کر لیتے تھے۔ جناب مودی نے کہا، ’’پارلیمنٹ کی تعمیر کے دوران ایک ساتھ کام کرنا انتہائی خوشگوار اور نتیجہ خیز تجربہ رہا۔‘‘
ریاستی قانون ساز اسمبلیوں، قانون ساز کونسلوں اور ان کے پریزائیڈنگ آفیسرز کی ٹریننگ اور صلاحیت سازی کے ذریعے ان کی مدد کرنے میں جناب ہری ونش کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے عالمی سطح پر ہندوستان کے جمہوری نظام کا مضبوط تاثر قائم کرنے میں کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن میں ان کے فعال کردار کی بھی تعریف کی۔ جناب مودی نے 21ویں صدی کی دوسری سہ ماہی کے دوران ایوان کے اہم کردار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی نمایاں ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا۔
*****
ش ح۔ ک ح-ج
U.No. 5959
(ریلیز آئی ڈی: 2252966)
وزیٹر کاؤنٹر : 8