وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گجرات کے سانند میں کینس سیمیکون پلانٹ کا افتتاح کیا


کینس سیمیکون سہولت کا افتتاح، ہندوستان کی خود انحصاری کی طرف پیش قدمی کو مضبوط کرتا ہے ۔  یہ ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں ایک تاریخی قدم ہے: وزیر اعظم

ہندوستان ،عالمی مارکیٹ میں ایک قابل اعتماد سیمی کنڈکٹر سپلائر کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیر اعظم

سال 2021 میں ، ہندوستان نے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کا آغاز کیا ۔  یہ مشن صرف ایک صنعتی پالیسی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے اعتماد کا اعلامیہ ہے: وزیر اعظم

اکیسویں صدی کا بھارت محض تبدیلی کا گواہ نہیں بلکہ اس تبدیلی کی قیادت کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے: وزیراعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 MAR 2026 3:31PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے سانند میں کینز ٹیکنالوجی کے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ اس فیکٹری میں پیداوار کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ 28 فروری کو بھی سانند میں مائکرون پلانٹ کی شروعات کے لیے موجود تھے اور ٹھیک ایک ماہ بعد دوبارہ کینز کے اس اہم شروعات کے موقع پر واپس آئے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کینز ٹیکنالوجی کی قیادت، گجرات حکومت اور تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ایک بھارتی کمپنی نے سیمی کنڈکٹر چِپ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینز اب عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا حصہ بن چکی ہے اور آنے والے دنوں میں کئی بھارتی کمپنیاں عالمی اشتراک کے ذریعے دنیا کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد سپلائی چین فراہم کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ آج کا یہ سنگِ میل ‘‘میک اِن انڈیا، میک فار دی ورلڈ’’ کے وژن کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ سانند میں تیار ہونے والے انٹیلیجنٹ پاور ماڈیولز امریکہ کی ایک کیلیفورنیا میں قائم کمپنی کو فراہم کیے جائیں گے اور ان کی بڑی مقدار پہلے ہی برآمد کے لیے مختص ہو چکی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سے سانند اور سلیکون ویلی کے درمیان ایک نیا پل قائم ہوا ہے اور یہاں تیار ہونے والی مصنوعات پوری دنیا کو توانائی فراہم کریں گی۔

وزیرِ اعظم نے انٹیلیجنٹ پاور ماڈیولز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکٹرک وہیکلز اور بھاری صنعتوں کو مضبوط بنائیں گے، نہ صرف بھارت میں بلکہ عالمی سطح پر بھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عالمی اشتراک ہی بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں اور بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں ایک قابلِ اعتماد سپلائر بنا رہے ہیں۔

انہوں نے موجودہ دہائی کے چیلنجز جیسے وبا اور جیو پولیٹیکل تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سپلائی چین، خاص طور پر چِپس، نایاب معدنیات اور توانائی کے شعبے، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان سپلائی چینز میں رکاوٹیں پوری انسانیت کی ترقی کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے بھارت جیسے جمہوری ملک کا اس سمت میں آگے بڑھنا عالمی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ کووڈ کے دوران ہی بھارت کو عالمی سیمی کنڈکٹر مرکز بنانے کا عزم کیا گیا تھا، جس کے تحت 2021 میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر میں خود کفالت، مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، صاف توانائی، دفاع اور الیکٹرانکس میں خود کفالت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔ یہ صرف صنعتی پالیسی نہیں بلکہ بھارت کے اعتماد کا اعلان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت چھ ریاستوں میں 1.6 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے 10 منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں کینز اور مائکرون پروجیکٹس شامل ہیں۔ انہوں نے دیسی ‘‘دھروو 64’’ مائیکرو پروسیسر کا بھی ذکر کیا جوجی 5 انفراسٹرکچر، آٹوموٹو الیکٹرانکس اور صنعتی خودکار نظام کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔وزیراعظم  نے کہاکہ بھارت سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے ہر مرحلے پر ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت تیار کر رہا ہے۔

بھارت کی سیمی کنڈکٹر امنگ کے اگلے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا ذکر کیا، جسے اس سال کے مرکزی بجٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نئے مرحلے میں سیمی کنڈکٹر آلات اور خام مال کی مقامی پیداوار پر خاص توجہ دی جائے گی، تاکہ ایک مکمل بھارتی سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم قائم کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے کہاکہ اب ہماری کوشش یہ ہے کہ ایسا ایکو سسٹم بنایا جائے جس کے ذریعے ہم ملکی اور عالمی سپلائی چینز میں بڑی شراکت داریاں قائم کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت بھی بنا رہا ہے اور جلد ہی 85,000 سے زیادہ ڈیزائن پروفیشنلز کی تربیت کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ "چپس ٹو اسٹارٹ اپ" پروگرام کے تحت تقریباً 400 یونیورسٹیوں اور اسٹارٹ اپس کو جدید ڈیزائن ٹولز فراہم کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 55 سے زیادہ چِپس تیار کی جا چکی ہیں۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ ‘‘ٹیکنالوجی کی ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کا ساتھ ساتھ چلنا بے حد ضروری ہے، اور بھارت دونوں کو یقینی بنا رہا ہے۔’’

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ اس وقت تقریباً 50 ارب ڈالر کی ہے اور دہائی کے آخر تک 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ عالمی سرمایہ کار بھی بھارت کی اس پیش رفت میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ اپنی ضروریات کے لیے زیادہ سے زیادہ چِپس یہیں بھارت میں تیار کریں۔

وزیرِ اعظم نے خام مال کی مضبوط سپلائی چین کو یقینی بنانے کے لیے بھارت کی متوازی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں پیکس سلیکا میں شمولیت اور نیشنل کرٹیکل منرلز مشن کا آغاز شامل ہے۔ انہوں نے 1500 کروڑ روپے کی معدنی ری سائیکلنگ اسکیم اور ایک ‘‘ریئر ارتھ کوریڈور’’ کے قیام پر روشنی ڈالی، جو ساحلی ریاستوں جیسے اوڈیشہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ کو جوڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ کام 30–40 سال پہلے شروع ہو جاتا تو بہتر ہوتا، لیکن اب بھارت اس پر مشن موڈ میں کام کر رہا ہے۔

اس دہائی کو بھارت کا ’ٹیکاڈ’ قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ دور صرف معاشی مقابلے کا نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کی سمت متعین کرنے کا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت  میں بھارت کی قیادت، ڈیجیٹل انڈیا اور فن ٹیک کی کامیابی، اور حالیہ اے آئی  امپیکٹ سمٹ کو اس بات کی مثال قرار دیا کہ بھارتی عوام ٹیکنالوجی کو اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کے سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی ترقی سے ہمارےاے آئی  ایکو سسٹم کو زبردست تقویت ملے گی۔

وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ اکیسویں صدی کا بھارت صرف تبدیلی کا مشاہدہ نہیں کر رہا بلکہ اس کی قیادت کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اہم پالیسی اقدامات کا ذکر کیا، جیسےان۔اپیس کے ذریعے خلائی شعبے کو نجی کمپنیوں  کے لیے کھولنا، جوہری شعبے میں تاریخی شانتی  بل اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں مشن موڈ سرمایہ کاری۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات آنے والی دہائیوں کے لیے ٹیکنالوجی اور توانائی کی سلامتی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔‘‘بھارت ہر اہم ٹیکنالوجی میں بے مثال سرمایہ کاری اور اصلاحات کر رہا ہے، جو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنہرا موقع ہے۔

کینز پلانٹ کی مصنوعات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ بھارت کو دنیا کی فیکٹری بنانے کے سفر کو مزید مضبوط کریں گی۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ کاروبار، مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس میں آسانی کو مسلسل بہتر بنایا جائے گا، اور اس منصوبے سے جڑے تمام افراد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ع ح۔ ن م۔

U-5203                        


(ریلیز آئی ڈی: 2247557) وزیٹر کاؤنٹر : 33