وزیراعظم کا دفتر
مغربی ایشیا میں جاری جنگ پر راجیہ سبھا میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 2:49PM by PIB Delhi
محترم چیئرمین،
مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور اس سے پیدا شدہ صورتحال سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ میں آج پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے سامنے اور ملک کے عوام کے سامنے ان نہایت مشکل حالات پرحکومت کے موقف کو پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ مغربی ایشیا میں جاری اس جنگ کو تین ہفتے سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس جنگ نے پوری دنیا میں شدید توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہندوستان کے لیے بھی یہ صورتحال تشویشناک ہے۔اس جنگ سے ہمارے تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں ۔ اس سے پٹرول، ڈیزل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی معمول کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی مقیم ہیں، وہاں کام کرتےہیں۔ ان کی زندگی اور روزگار کی حفاظت بھی ہندوستان کے لیے ایک بہت بڑی تشویش ہے۔ آبنائے ہرمز میں دنیا کے کئی جہاز پھنسے ہوئے ہیں، ان میں بڑی تعداد میں ہندوستانی عملہ بھی شامل ہے۔ یہ بھی ہندوستان کے لئے ایک بڑی تشویش کی بات ہے۔ ایسی مشکل صورتحال میں ضروری ہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ کے اس ایوان بالا سے امن اور مکالمے کی متحد آواز پوری دنیا میں جائے۔
محترم چیئرمین،
جنگ کے آغاز کے بعد سے میں نے مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان کے ساتھ دو راؤنڈ فون پربات کی ہے۔ ہم خلیجی ممالک کے تمام ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہم ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔ ہمارا مقصد مکالمہ اور سفارتکاری کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی ہے۔ ہم نے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کے موضوع پر بھی ان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔کمرشیل جہازوں پر حملہ اور آبنائے ہرمز جیسی بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹ ناقابل قبول ہے۔ ہندوستان نے شہریوں پر ، شہری ڈھانچے پر اور توانائی اور نقل و حمل سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ ہندوستان سفارتکاری کے ذریعے اس جنگ کے ماحول میں بھی ہندوستانی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اس مسئلے کے حل کے لیے مکالمے اور بات چیت کا ہی راستہ تجویز کیا ہے۔ اس جنگ میں کسی کی بھی زندگی پر بحران انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔لہٰذا ہندوستان کی مسلسل کوشش تمام فریقین کو جلد از جلد پرامن حل کی طرف مائل کرنے کی ہے۔
محترم چیئرمین،
بحران کی صورتحال میں ملک اور بیرونِ ملک میں شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک تین لاکھ 75ہزار سے زائد ہندوستانی بحفاظت ہندوستان واپس آ چکے ہیں۔ ایران سے اب تک ہزار سے زائد ہندوستانی بحفاظت واپس آ چکے ہیں۔ ان میں سات سو سے زائد میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان شامل ہیں۔ ہماری حکومت اس مشکل وقت میں پوری حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ تمام ممالک نے وہاں موجود ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ حالانکہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ حملوں کی وجہ سے کچھ ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے اور کچھ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں ان کے اہل خانہ کو ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے اور زخمیوں کو بہترین علاج یقینی بنایا جا رہا ہے۔
محترم چیئرمین،
آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے بڑے تجارتی روٹس میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر خام تیل، گیس اور کھاد سے متعلق نقل و حمل اس علاقے سے بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے ۔ جنگ کے بعد سے آبنائےہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کافی چیلنجنگ ہو گیا ہے، لیکن نامسائد حالات کے باوجود ہماری حکومت نے مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے راستے بنانے کی کوشش کی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ جہاں سے بھی ممکن ہو، وہاں سے تیل اور گیس کی سپلائی ہندوستان تک پہنچے۔ ایسی ہر کوشش کے نتائج بھی ملک دیکھ رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں دنیا کے کئی ممالک سے خام تیل اور ایل پی جی سے بھرے جہازیں ہندوستان آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری کوششیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔
محترم چیئرمین،
ہندوستان کی کوشش ہے کہ تیل ہو، گیس ہو، کھاد ہو، ایسی ضروری اشیاء سےمتعلق جہازہندوستان تک بحفاظت پہنچیں لیکن اس جنگ سے پیدا شدہ عالمی صورتحال اگر طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو سنگین نتائج طے ہیں۔ اس لیے ہندوستان نے اپنا استحکام بڑھانے کے لیے جو بھی کوشش گزشتہ برسوں میں کی ہیں،ان کو مزید رفتار دے رہا ہے۔
محترم چیئرمین،
کوئی بھی بحران ہو، وہ ہمارے حوصلےاور ہماری کوشش، دونوں کا بھی امتحان لیتا ہے۔ ملک اس طرح کے بحرانوں کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکے، اس کے لیے گزشتہ گیارہ برسوں میں مستقل فیصلے کیے گئے ہیں۔ توانائی کی درآمدات میں تنوع ایسے ہی اقدامات کا حصہ ہے۔ پہلے خام تیل، ایل این جی ، ایل پی جی ، ایسی توانائی کی ضروریات کے لیے 27 ممالک سے درآمدات کی جاتی تھی۔ وہیں،آج ہندوستان 41 ممالک سے توانائی کی درآمد ات کر رہا ہے۔ گزشتہ دہائی میں ہندوستان نے بحران کے ایسے ہی وقت کے لیے خام تیل کے ذخائر کو ترجیح دی ہے۔ ہماری تیل کمپنیاں بحران کے وقت کے لیے کافی مقدار میں پٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ رکھتی ہیں۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں 53 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کا اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو تیار کیا گیا ہے اور 65 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کے ذخائر کی تیاری پر بھی ملک کام کر رہاہے۔ اسی کے ساتھ، گزشتہ دہائی میں ہندوستان کی ریفائننگ صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیاہے۔ میں آپ کے ذریعہ ایوان کو اور ملک کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے پاس خام تیل کے مناسب ذخائر اور مسلسل سپلائی کے انتظامات ہیں۔
محترم چیئرمین،
ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ ایندھن کے کسی ایک ہی ذریعہ پر زیادہ انحصاری نہ رہے ۔ حکومت گھریلو گیس کی سپلائی میں ایل پی جی کے ساتھ ساتھ پی این جی پر بھی زور دے رہی ہے۔ پچھلے دہائی میں ملک میں پی این جی کنیکشن کے لیے غیرمعمولی کام ہوا ہے ۔حالیہ دنوں میں اس کام کو اور تیز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ،ایل پی جی کی گھریلو پیداوار کو بھی بڑے پیمانے پر بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محترم چیئرمین،
گزشتہ برسوں میں حکومت کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ ہر شعبے میں دوسرے ممالک پر انحصار کم سے کم ہو۔ زیادہ سے زیادہ خود انحصار ہوں،یہی ہمارا واحد متبادل ہے۔ جیسے ہندوستان کے 90 فیصد سے زائد تیل کی درآمد غیر ملکی جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے، یہ صورتحال کسی بھی عالمی بحران میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید نازک بنا دیتی ہے۔ لہٰذا حکومت نے میڈ ان انڈیا جہاز بنانے کے لیے تقریباً 70,000 کروڑ روپے کی مہم شروع کی ہے۔ ہندوستان آج جہاز سازی، شپ بریکنگ ،جہازوں کی مرمت اور بحالی اور ایسی ہی سہولیات کے قیام میں تیز رفتار سے کام کر رہاہے۔ہندوستان اپنے دفاعی شعبے کو بھی مزید مضبوط اور مستحکم بنا رہا ہے۔ پچھلے دہائی میں کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان آج اپنی ضرورت کے زیادہ تر ہتھیار ملک کے اندر ہی تیار کر رہا ہے۔ ایک وقت تھا، جب ہندوستان اپنے زندگی بچانے والی دواؤں کے اجزاء (اے پی آئی) کے لیے بھی دوسرے ممالک پر بہت زیادہ منحصر تھا۔ گزشتہ برسوں میں ملک نے اے پی آئی کا مکمل ایکو سسٹم ہندوستان میں بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اسی طرح، نایاب دھاتوں میں غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کے لیے بھی بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محترم چیئرمین،
موجودہ بحران نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب تک مغربی ایشیا میں جو نقصانات ہوئے ہیں، ان سے بحالی میں بھی دنیا کو کافی وقت لگے گا۔ ہندوستان میں اس کے کم سے کم منفی اثرات ہوں، اس کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہماری معیشت کے بنیادی اصول مضبوط ہیں اور حکومت ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومت اس کے قلیل مدتی(شارٹ ٹرم)، درمیانی مدت (میڈیم ٹرم) اور طویل مدتی(لانگ ٹرم)، ایسے ہر اثر کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ حکومت ہند نے ایک بین وزارتی گروپ بھی تشکیل دیا ہے، یہ گروپ باقاعدگی سے ملاقات کرتا ہے اور ہماری درآمدات و برآمدات میں پیدا ہونے والی ہر دشواری کا تجزیہ کرتا ہے اور ضروری حل کے لیے مسلسل کام کرتا رہا ہے۔ جیسے کورونا کے وقت مختلف شعبوں کی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے برآمدکاروں اور افسران کے اختیار والے گروپ تشکیل دیئے گئے گئے تھے، ویسے ہی کل ہی ایسے سات نئے با اختیار گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں۔ یہ گروپس سپلائی چین، پٹرول و ڈیزل، کھاد، گیس، مہنگائی جیسے موضوعات پر فوری اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت کارروائی کرنے کا کام کریں گے۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ اس مشترکہ کوشش سے ہم حالات کا بہتر سامنا کر پائیں گے۔
محترم چیئرمین،
حکومت یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ آنے والے بوائی کے سیزن میں کسانوں کو کافی کھاد میسر رہے۔ حکومت نے کھاد کی مناسب فراہمی کے لیے تمام ضروری تیاریاں کی ہیں۔ حکومت کی مسلسل کوشش ہے کہ کسانوں پر کسی بھی بحران کا بوجھ نہ پڑے۔ میں ملک کے کسانوں کو ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں کہ حکومت ہر چیلنج کے حل کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
محترم چیئرمین،
یہ ریاستوں کا ایوان ہے۔ آنے والے وقت میں یہ بحران ہمارے ملک کے لیےبڑی آزمائش والا ہوگا اور اس آزمائش میں کامیابی کے لیے ریاستوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ اسی لیے میں اس ایوان کے ذریعے ملک کی تمام ریاستوں کی حکومتوں سے بھی کچھ درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ بحران کے وقت غریبوں، مزدوروں اور تارکین وطن کارکنوں پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔ اس لیے پی ایم غریب کلیان انّ یوجنا کا فائدہ بروقت پہنچتا رہے، اس بات کو یقینی بنانا ہوگا۔ جہاں مہاجر کارکن ساتھی کام کرتے ہیں، ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے فعال اقدامات کیے جائیں۔ ایسی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ریاستی حکومتیں خصوصی بندوبست کریں، تو اس سے بہت سہولت ہوگی۔ریاستی حکومتوں کو ایک اور چیلنج پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی، ایسے وقت میں ذخیرہ اندوزی اور منافع خور ی کرنے والے بہت سرگرم ہو جاتے ہیں۔ جہاں سے بھی ایسی شکایات موصول ہوں، وہاں فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی ہوتی رہے ، اس بات کو یقینی بنانا ہر ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے۔
محترم چیئرمین،
میں تمام ریاستی حکومتوں سے ایک اور درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ بحران خواہ کتنا بھی بڑا ہو، ہندوستان کی تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس کے لیے ہر ضروری اقدام، ہر ضروری اصلاحات تیزی سے کرتے رہنے ہوں گے ۔یہ ریاستی حکومتوں کے لیے ایک بہت بڑا موقع بھی ہے۔ یہ ٹیم انڈیا کے لیے بھی بہت بڑا امتحان ہے۔ کورونا کے بڑٖے بحران کے دوران، مرکز اور ریاستوں نے ٹیم انڈیا بن کر کووڈ مینجمنٹ کا بہترین ماڈل پیش کیا تھا۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کی حکومتیں ہونے کے باوجود، ٹیسٹنگ، ویکسینیشن سے لے کر ضروری اشیاء کی فراہمی ٹیم انڈیا کی کوششوں سے ممکن ہو سکی تھی۔ ہمیں اسی جذبے کے ساتھ آگے بھی کام کرنا ہے۔ تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کی کوششوں سے ملک اس سنگین عالمی بحران کا مؤثر مقابلہ کر پائے گا۔
محترم چیئرمین،
یہ بحران الگ طرح کا ہے اور اس کے حل بھی الگ طرح سے ہی طے کئے جا رہے ہیں۔ ہمیں صبرکے ساتھ، تحمل کے ساتھ اور پر سکون ذہن سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔
محترم چیئرمین،
جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، اس جنگ کے سلسلے میں حالات ہر لمحہ بدل رہے ہیں۔ اس لیے میں ملک کے عوام سے بھی کہنا چاہوں گا کہ ہمیں ہر چیلنج کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ اس جنگ کے منفی اثرات طویل عرصے تک رہنے کا قوی امکانات ہیں، لیکن میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت محتاط ہے، متحرک ہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ حکمت عملی بنا رہی ہے اور ہر فیصلہ لے رہی ہے۔ ملک کی عوام کا مفاد ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہی ہماری پہچان ہے ،یہی ہماری طاقت ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ میں اپنا بیان ختم کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ!
****
(ش ح ۔ م ش۔ ت ع)
U. No. : 4775
(ریلیز آئی ڈی: 2244529)
وزیٹر کاؤنٹر : 9