جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جل شکتی کے مرکزی وزیر نے سوجل گاؤں آئی ڈی کا اجراء کیا، جو دیہی پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی نقشہ بندی کے لیے منفرد شناختی نظام ہے


مرکزی وزیر نے جل جیون مشن کے سلسلے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پی ایچ ای ڈی / آر ڈبلیو ایس اور پنچایتی راج محکموں کے وزراء کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی صدارت کی

کابینہ نے جل جیون مشن 2.0 کی مدت میں دسمبر 2028 تک توسیع کی منظوری دے دی ہے، جس کے مجموعی مالی اخراجات کو بڑھا کر 8.69 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پائیداری، خدمات کی مؤثر فراہمی اور شعبہ جاتی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAR 2026 4:18PM by PIB Delhi

 جل شکتی کے مرکزی وزیر، سی آرپاٹل نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی) / دیہی پانی سپلائی (آر ڈبلیو ایس) اور پنچایتی راج محکموں کے وزراء کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی، جس میں جل جیون مشن 2.0 کے نفاذ کے روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں وزیر مملکت برائے جل شکتی، وی۔ سومنا بھی شریک ہوئے۔

کابینہ کی جانب سے جل جیون مشن 2.0 کو بڑھا کر دسمبر 2028 تک جاری رکھنے کی منظوری اور اس کے لیے اضافی مالی وسائل اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے پس منظر میں یہ میٹنگ طلب کی گئی تھی۔

مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی۔ آر۔ پاٹل نے اس موقع پر سوجل گاؤں آئی ڈی جاری کی، جو ایک اسکیم پر مبنی منفرد ڈیجیٹل شناخت ہے اور دیہی پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کے اثاثوں کی مکمل ڈیجیٹل میپنگ کو ممکن بناتی ہے۔ ملک میں پہلی بار ہر دیہی پینے کے پانی کی اسکیم کو ڈیجیٹل شناخت دی جا رہی ہے، جس کے ذریعے دیہی آبی فراہمی کے نظام کو ایک متحدہ قومی پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے۔ اب تک 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 1.64 لاکھ سوجل گاؤں آئی ڈیز بنائی جا چکی ہیں، جو 67 ہزار سوجلم بھارت آئی ڈیز سے منسلک ہیں۔ ہر سوجلم بھارت آئی ڈی میں اسکیم کے بنیادی ڈھانچے کی آئی ڈی اور سروس ایریا آئی ڈی کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے دیہی پانی کی خدمات کی فراہمی کا جامع ڈیجیٹل ریکارڈ تیار ہوتا ہے۔ یہ اقدام ایک اہم ڈیجیٹل اصلاح ہے اور ایسا تبدیلی لانے والا قدم ہے جو شفافیت اور نگرانی کو مضبوط کرتا ہے اور وِکست بھارت @2047 کے تکنیکی طور پر بااختیار ہندوستان کے وژن کو تقویت دیتا ہے۔

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر برائے جل شکتی نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اسکیموں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کو یقینی بنائیں اور زمینی سطح پر نگرانی کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پانی ایک ریاستی معاملہ ہے، اس لیے اس مشن کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ ریاستی حکومتیں دیہی گھروں تک قابلِ اعتماد نل کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بعض ریاستوں میں تاخیر تکنیکی خامیوں کی وجہ سے ہوئی ہے اور واضح کیا کہ غیر ضروری طور پر بڑے یا تکنیکی معیار کے مطابق نہ ہونے والے کاموں سے ہونے والے اخراجات متعلقہ ریاستی حکومتوں کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی فنڈز بھی عوامی پیسہ ہیں، اس لیے انہیں انتہائی احتیاط اور جوابدہی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے منظور شدہ تکنیکی معیارات، اخراجات کی حد اور مناسب آبی ذرائع کے جائزے پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا تاکہ دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے ان علاقوں میں پانی کے تحفظ اور ریچارج کے اقدامات کو بڑھانے کی بھی ترغیب دی جہاں موسمی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کام کے معیار کی اہمیت پانی کے معیار کے برابر ہے۔ اس لیے ریاستوں کو چاہیے کہ وہ کام کے معیار کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دیں، منظور شدہ تمام کاموں کو مکمل کریں اور جلد تکمیل کے لیے مقررہ مدت کے منصوبے تیار کریں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کابینہ سے منظور شدہ مفاہمت نامے (ایم او یو) میں طے شدہ شرائط ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے رہنما اصول ہیں اور ان پر مکمل طور پر عمل کیا جانا چاہیے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے جل شکتی وی۔ سومنا نے کہا کہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے شہری مرکزیت پر مبنی خدمات کی فراہمی کے ماڈل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈل ایسے ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے تقویت پاتا ہے جو آبی ذرائع کی پائیداری کو مضبوط بناتے ہیں، آپریشن اور دیکھ بھال کو بہتر کرتے ہیں اور دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی فعالیت کو یقینی بناتے ہیں۔ انہوں نے اثاثہ جاتی نظم و نسق اور جوابدہی میں پنچایتی راج اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 میں جن بھاگیداری کو جل ارپن اور جل اتسو کے ذریعے مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن سے اہم سماجی و معاشی فوائد حاصل ہوں گے، جن میں خواتین کی مشقت میں کمی، صحت عامہ میں بہتری اور دیہی روزگار کے مواقع شامل ہیں۔ یہ مشن دسمبر 2028 تک ہر گھر کو نل کے پانی کی فراہمی کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا اور وِکست بھارت @2047 کے وسیع وژن سے ہم آہنگ ہے۔

اشوک کے۔ کے۔ مینا، سکریٹری، ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے کہا کہ مرکزی کابینہ کی جانب سے جل جیون مشن کی توسیع اور تنظیمِ نو کی منظوری حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن 2.0 میں غیرمرکزی طرز کی آبی حکمرانی کو ترجیح دی جائے گی، جس کی قیادت گرام پنچایتیں کریں گی اور جسے مضبوط آپریشن اور دیکھ بھال کے نظام اور بہتر جوابدہی سے تقویت دی جائے گی۔ اس پر عمل درآمد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مخصوص مفاہمت ناموں کے ذریعے کیا جائے گا اور مرکزی فنڈنگ کو شرائط اور پیش رفت کے سنگِ میل سے مشروط کیا جائے گا۔

انہوں نے مشن کی ڈیجیٹل اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “سوجلم بھارت” قومی ڈیجیٹل نظام پورے دیہی پانی کی فراہمی کے سلسلے کو منبع سے نل تک نقشہ بند کرے گا۔ ہر گاؤں کے لیے منفرد سوجل گاؤں آئی ڈی اور سروس ایریا آئی ڈی کے ذریعے بروقت  نگرانی، شفافیت اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ جل سیوا آنکلن گاؤں کی سطح پر خدمات کے جائزے کا اہم ذریعہ ہوگا، جبکہ شہری نگرانی کو میری پنچایت ایپلی کیشن کے ذریعے مضبوط بنایا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ گرام پنچایتیں “ہر گھر جل” کی تصدیق اسی وقت کریں گی جب پائیدار آپریشن اور دیکھ بھال کے انتظامات مکمل طور پر قائم ہو جائیں گے، جس سے طویل مدتی فعالیت جل جیون مشن 2.0 کے تحت لازمی شرط بن جائے گی۔ انہوں نے حکومت کے تمام شعبوں کے اشتراک پر مبنی نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ آبی ذرائع کی پائیداری مضبوط ہو، پانی کی دستیابی محفوظ رہے اور دیہی علاقوں میں طویل مدتی آبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمل کشور سوان، اے ایس اینڈ ایم ڈی، این جے جے ایم نے جل جیون مشن 2.0 میں اصلاحات اور فنڈ جاری کرنے کے طریقۂ کار پر پریزنٹیشن پیش کی۔ مشن کے مجموعی مالی اخراجات کو 3.60 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھا کر 8.69 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جو ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی کی خدمات کو مضبوط بنانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اگلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کے معیار اور دیہی پائپ کے ذریعے پانی کی سپلائی اسکیموں کے مؤثر آپریشن اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ “جن بھاگیداری” کو فروغ دیتے ہوئے اس مشن کے تحت کمیونٹی کی شمولیت اور مقامی ملکیت کو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ طویل مدتی فعالیت یقینی بنائی جا سکے۔

 

انہوں نے ریاستوں اور اضلاع سے اپیل کی کہ وہ جل مہوتسو کی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لیں، جن میں جل ارپن کی تقریبات، ڈی ڈبلیو ایس ایم میٹنگز، خدمات میں بہتری کے منصوبوں کی تیاری، ڈی ٹی یوز کی تشکیل، راجیہ جل اتسو کیلنڈر کی تیاری، گرام پنچایت سطح پر لوک جل اتسو کیلنڈر کا انعقاد اور ضلع مجسٹریٹ یا ضلع پریشد کے سی ای او کی جانب سے اپنے ضلع میں کم از کم دو جل ارپن پروگراموں میں شرکت شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جل جیون مشن 2.0 کے تحت مرکزی فنڈز کا اجراء سختی سے چار لازمی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگا، جن میں شامل ہیں:

• کابینہ سے منظور شدہ مفاہمت نامے پر دستخط

• تمام دیہی پانی کی فراہمی کی اسکیموں کی مکمل ڈیجیٹل میپنگ کے لیے سوجل گاؤں آئی ڈی کی تخلیق

• بروقت مالیاتی مفاہمت

• ریاستی آپریشن اور دیکھ بھال پالیسیوں کا نوٹیفکیشن

مشن کے تحت مرکزی امداد کے طریقۂ کار میں ایس وی ایس، معیار سے متاثرہ علاقوں کے ایم وی ایس اور غیر پی ڈبلیو ایس نظاموں کے لیے اپ فرنٹ پیمنٹ موڈ؛ جاری ایم وی ایس اور بی ڈبلیو ایس کے لیے ری ایمبرسمنٹ موڈ اور بی ڈبلیو ایس میں سالانہ ادائیگی پر مبنی پی پی پی ماڈلز کے لیے وی جی ایف (وی ایبلٹی گیپ فنڈنگ) موڈ شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسکیموں کے ریٹروفٹنگ کے لیے کوئی مرکزی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔

مفاہمت نامے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کے اہم شعبوں میں واضح عہد و پیمان طے کیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

• پالیسی، ادارہ جاتی اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات

• اثاثوں کی ملکیت، نظم و نسق اور تکنیکی معاونت

• منصوبہ بندی، مالیات اور پروگرام پر عمل درآمد

• ڈیجیٹل نظام، ڈیٹا گورننس اور نگرانی

• دیہی آبی افرادی قوت کی مہارت اور صلاحیت سازی

• پانی کے معیار کی نگرانی اور نگرانی کا نظام

• مواصلات، کمیونٹی شمولیت اور عوامی اعتماد

 

ان مفاہمت ناموں پر عمل درآمد جل جیون مشن 2.0 کے تحت خدمات کی فراہمی کے معیار، طویل مدتی پائیداری اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے نہایت ضروری قرار دیا گیا ہے۔

 

************

ش ح ۔   م    ع ۔  م  ص

(U : 4008)


(ریلیز آئی ڈی: 2239846) وزیٹر کاؤنٹر : 6