سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم نے بعد از بجٹ وبینار میں دیویانگ سہارا یوجنا کو اجاگرکرتے ہوئے جامع اختراع اور جن بھاگیداری پر زور  دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 MAR 2026 9:10AM by PIB Delhi

 

 

 

بعد از بجٹ وبینار میں بڑھتی ہوئی شرکت کو جن بھاگیداری کی ایک طاقتور مثال قرار دیتے ہوئے، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دیہات، قصبوں اور شہروں سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے نوجوانوں کی امنگیں ملک کی سب سے بڑی طاقت اور مستقبل کے لیے اس کا قیمتی سرمایہ ہیں۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران قومی سوچ میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے اور ہندوستانی نوجوان تیزی سے اختراع کرنے اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے زیادہ پُرجوش ہو رہے ہیں۔جیسے جیسے بھارت ایک اختراع  پر مبنی معیشت کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نظام کو مسلسل جدید بنایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مشاورتی اجلاسوں سے سامنے آنے والے خیالات سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے، جہاں لاکھوں  متعلقہ شراکت دار، ماہرین اور مستفیدین ی مرکزی  بجٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے عملی تجاویز پیش کر رہے ہیں۔

 سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے مرکزی وزیرِ مملکت بی ایل ورما نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے معذور افراد کی شمولیت کے حوالے سے ایک تبدیلی لانے والا نقطۂ نظر اختیار کیا ہے، جس میں محض فلاحی اقدامات سے آگے بڑھ کر انہیں قوم کی تعمیر میں شراکت دار بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس’’ کے اصول کی رہنمائی میں حکومت معذور افراد کے لیے رسائی، مواقع اور شمولیت کو مسلسل وسعت دے رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ دیویانگ سہارا یوجنا کا مقصد معاون ٹیکنالوجی کی تیاری، اختراع اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ معیاری آلات بروقت دستیاب ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اس اقدام کے ذریعے بھارت کو کم لاگت والی معاون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک ممکنہ عالمی مرکز کے طور پر بھی سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بریک آؤٹ سیشن کی نظامت مصنوعی اعضاء مینوفیکچرنگ کارپوریشن آف انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پروین کمار نے کی۔ ماہرین نے تکنیکی مدد کی رسائی کو وسعت دینے کے لیے چار ستونوں پر مشتمل ایک فریم ورک  توقعات، دستیابی ،استطاعت اور آگاہی  کو اجاگر کیا۔ جس کا مقصد حکومت، اسارٹ اپس، تعلیمی اداروں اور سرمایہ کاروں کے تعاون سے  معاون ٹیکنالوجی کی رسائی کی توسیع کرنی ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اختراعات اب تیزی سے ٹیئر–3 اور ٹیئر–4 شہروں سے بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاون آلات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ قابلِ رسائی بنیادی ڈھانچے، جیسے ریمپس، واضح نشانات اور رکاوٹ سے پاک عوامی مقامات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ عالمی سطح پر تقریباً نوّے فیصد معذور افراد کو معاون ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہیں ہے، اور کم لاگت والی اختراعات ان کی معاشی شمولیت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔شرکاء نے متعدد تجاویز پیش کیں، جن میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) اور فلاحی معاونت سے فائدہ اٹھانا، ٹیکس مراعات اور ڈیٹا نظام کو مضبوط بنانا، اور مستفیدین کو پیشہ ورانہ رہنمائی کے ساتھ اپنی انفرادی ضروریات کے مطابق معاون آلات کے انتخاب کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔

 مورخہ9  مارچ 2026 کو منعقد ہونے والا دیویانگ سہارا یوجنا پر بعد از بجٹ وبینار معذور افراد کی ٹیکنالوجی پر مبنی شمولیت اور معاشی بااختیاری کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوا۔ اس اقدام کا مقصد جدید معاون ٹیکنالوجیز تک رسائی کو وسیع کرنا اور صنعت سے منسلک مہارتوں کی ترقی کے ایک مضبوط نظام کو فروغ دینا ہے، تاکہ دیویانگ جن بھارت کی ترقی کی داستان میں زیادہ بامعنی انداز میں حصہ لے سکیں۔یہ مجوزہ پروگرام اے ڈی آئی پی اسکیم  کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے معاون سہولیات کے نظام کو جدید بنانے کا ہدف ہے۔ اس کے تحت موٹرائزڈ وہیل چیئرز، ای اسکوٹرز، مائیو الیکٹرک ہاتھ اور جدید آرتھوٹک نظام جیسے آلات فراہم کیے جائیں گے، جو نقل و حرکت، خود مختاری اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مجوزہ فریم ورک کے تحت، پردھان منتری دیویاشا-وایوشری کیندروں کو معاون ٹیکنالوجی سروس ہب کے طور پر بڑھایا جائے گا جو تشخیص،  حسب ضرورت تخصیص ، فیبریکیشن اور دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس اقدام میں معاون ٹیکنالوجی مارٹس کا بھی تصور کیا گیا ہے جہاں فائدہ اٹھانے والے اپنی انفرادی ضروریات کے مطابق آلات دیکھ سکتے ہیں، آزما سکتے ہیں اور منتخب کر سکتے ہیں۔ یہ اے ایل آئی ایم سی او کے ذریعے وشاکھاپٹنم میں آندھرا پردیش میڈ ٹیک زون میں ایک  تحقیق و ترقی مرکز کے قیام سمیت گھریلو مینوفیکچرنگ اور تحقیق کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش  ہے۔ بات چیت کا خلاصہ کرتے ہوئے، نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے دیویانگ سہارا یوجنا کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ستونوں کے طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق اور ترقی، مصنوعی ذہانت انضمام اور  پی ایم ڈی وی کیز کی توسیع کے لیے تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یہ کوششیں معذور افراد کے حقوق کے قانون کے ساتھ منسلک ایک جامع وژن کی عکاسی کرتی ہیں اور ایک جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے حکومت کے عزم کی توثیق کرتی ہیں جہاں ہر دیویانگجن وقار، آزادی اور مساوی مواقع کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

********

 

ش ح۔ع ح ۔ رض

3617U-

 


(ریلیز آئی ڈی: 2237339) وزیٹر کاؤنٹر : 12