PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین - بڑھتے ہوئے کردار اور مواقع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 MAR 2026 1:17PM by PIB Delhi

کلیدی نکات

  • خواتین کے بین الاقوامی دن (8 مارچ) کے موقع پر ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت اور آپریشنل کردار ملکی دفاع میں ان کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔
  • خواتین افسران کی تعداد 2014 میں تقریباً 3,000 تھی، جو بڑھ کر 11,000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس اضافے میں تربیت کے وسیع تر مواقع اور ادارہ جاتی سطح پر بڑھتی ہوئی شمولیت کا اہم کردار رہا ہے۔
  • نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) میں خواتین کے داخلے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2025 میں 17 خواتین کیڈٹس نے داخلہ لیا، جبکہ نومبر 2025 میں مزید 15 خواتین کیڈٹس کے گریجویٹ ہونے کی توقع ہے۔
  • خواتین افسران اب اعلیٰ قیادت اور آپریشنل کمانڈ کے اہم عہدوں پر بھی فائز ہیں، جن میں لیفٹیننٹ جنرل کے رینک، فائٹر پائلٹ کے عہدے، اور اہم یونٹس کی کمانڈ شامل ہیں۔

تعارف

خواتین کا بین الاقوامی دن زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار اور قیادت پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہی شعبوں میں ہندوستانی مسلح افواج میں ان کی بڑھتی ہوئی موجودگی ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپریشنل فرائض سے لے کر قائدانہ عہدوں تک، خواتین اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کے ساتھ ملک کے دفاعی منظرنامے کو تیزی سے تشکیل دے رہی ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ان کا انضمام ہندوستان کے دفاعی شعبے میں سب سے بڑی ادارہ جاتی تبدیلیوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔

ابتدا میں خواتین کا کردار زیادہ تر طبی اور نرسنگ خدمات تک محدود تھا، لیکن بعد میں ترقی پسند پالیسی اصلاحات، عدالتی معاونت اور صنفی مساوات کے اصولوں کے تحت ادارہ جاتی کوششوں کے نتیجے میں ان کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوا۔ یہ پیش رفت قومی سطح پر آپریشنل شمولیت اور مساوی مواقع کے اہداف کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔

آج خواتین افسران فوج، بحریہ اور فضائیہ میں تیزی سے کمانڈنگ، اسٹریٹجک اور فیصلہ سازی سے متعلق اہم ذمہ داریاں سنبھال رہی ہیں۔ یہ صورتِ حال ہندوستان کی دفاعی افواج میں شمولیت، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط آپریشنل صلاحیت کے ایک نئے دور کا آغاز ظاہر کرتی ہے۔

ہندوستان کی دفاعی خدمات میں خواتین کا تاریخی سفر

ہندوستان کی دفاعی خدمات میں خواتین کا کردار بتدریج ارتقا پذیر رہا ہے، جو محدود امدادی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر مختلف آپریشنل اور قائدانہ عہدوں تک پھیل چکا ہے۔ ابتدا میں مسلح افواج کی میڈیکل سروسز میں شمولیت کے ساتھ خواتین نے خدمات انجام دینا شروع کیا، جس کے بعد انہوں نے مختصر سروس کمیشن اور مختلف خصوصی شعبوں کے ذریعے دیگر شاخوں میں بھی اپنی موجودگی درج کرائی۔

حالیہ برسوں میں ترقی پسند پالیسی اصلاحات اور قانونی مداخلتوں نے فوج، بحریہ اور فضائیہ میں خواتین کے لیے مواقع کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ تاریخی پیش رفت آج رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین کے کردار میں بتدریج نمایاں وسعت آئی ہے۔ ابتدا میں ان کی خدمات زیادہ تر طبی امداد تک محدود تھیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ افسرانہ سطح پر وسیع شمولیت اور مختلف آپریشنل ذمہ داریوں تک پھیل گئیں۔ یہ پیش رفت صنفی مساوات اور قومی سلامتی کے حوالے سے ہندوستان کے عزم کی عکاس ہے۔

1958 میں پہلی مرتبہ خواتین ڈاکٹروں کو مردوں کے مساوی شرائط پر آرمی میڈیکل کور میں باقاعدہ کمیشن دیا گیا۔ [1]

1992 میں ہندوستانی مسلح افواج نے خواتین کے لیے افسرانہ سطح پر داخلے کے دروازے کھول دیے۔ ہندوستانی فوج نے خواتین کے خصوصی داخلہ اسکیم (ڈبلیو ایس ای ایس) متعارف کرائی، جس کے تحت خواتین کو غیر جنگی شعبوں میں کمیشن حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے ساتھ ایک ہمدردانہ اقدام کے طور پر کارروائی میں شہید ہونے والے فوجی اہلکاروں کی بیواؤں کو بھی اس اسکیم کے تحت اہلیت فراہم کی گئی۔ [2]

اسی سال دیگر خدمات میں بھی متوازی پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ ہندوستانی بحریہ نے پہلی مرتبہ خواتین افسران کو شامل کیا، جبکہ ہندوستانی فضائیہ نے خواتین کو فلائنگ، ٹیکنیکل اور غیر ٹیکنیکل برانچوں میں شارٹ سروس کمیشن افسران کے طور پر کمیشن دینا شروع کیا۔

مجموعی طور پر 1992 کے یہ اقدامات ہندوستان کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں، جنہوں نے مسلح افواج میں خواتین کے کردار کے بتدریج فروغ اور توسیع کی بنیاد رکھی۔ [3]

ہندوستان کی دفاعی خدمات میں صنفی شمولیت کو فروغ دینا [4]

مسلح افواج میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کی مسلسل کوششوں کے تحت خواتین کے لیے کیریئر کے مواقع اور قیادتی کرداروں کو وسعت دینے کے مقصد سے اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ خواتین افسران کو اب کرنل (سلیکٹ گریڈ) کے عہدے پر ترقی کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور انہیں کمانڈ تقرریاں بھی دی جا رہی ہیں۔

کیریئر کی ترقی پر کسی ممکنہ منفی اثر سے بچانے کے لیے اُن افسران کو خصوصی رعایتیں فراہم کی گئی ہیں جو عبوری مرحلے کے دوران لازمی کیریئر کورسز مکمل نہیں کر سکیں۔ [5]

ان وسیع تر اصلاحات کی بنیاد پر ہر مسلح سروس نے خواتین کو قیادتی کرداروں میں زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنے کے لیے مخصوص اور مرکوز اقدامات بھی کیے ہیں۔

بھارتی فوج (انڈین آرمی)

طویل مدتی کیریئر کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے خواتین افسران کو آرمی میڈیکل کور، آرمی ڈینٹل کور اور ملٹری نرسنگ سروس کے علاوہ فوج کی 12 دیگر آرمز اور سروسز میں بھی مستقل کمیشن دیا جا رہا ہے۔ [6]

ہندوستانی بحریہ

  • سمندر میں آپریشنل انضمام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے خواتین افسران کو اب بحری جنگی جہازوں پر بحری تعیناتیوں کے تحت مقرر کیا جا رہا ہے، اور انہیں پائلٹس اور نیول ایئر آپریشنز(این اے او) افسران کے طور پر بھی تعینات کیا جا رہا ہے۔[7]
  • داخلے کے مواقع کو وسعت دیتے ہوئے بحریہ نے آبدوزوں (سب میرینز) کے علاوہ اپنی تمام شاخیں اور تخصصات خواتین کے لیے آفیسرز اور اگنی ویرز کے طور پر شمولیت کے لیے کھول دی ہیں، اور اس طرح خواتین کی بھرتی کے لیے اگنی پتھ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی پہلی سروس بن گئی ہے۔[8]
  • فضائی شعبے میں خواتین افسران اب ریموٹلی پائلٹڈ ایئرکرافٹ (آر پی اے) کے شعبے میں شامل ہونے کی اہل ہیں، اور پہلی افسر نے 2021 میں ایک آر پی اے اسکواڈرن میں شمولیت اختیار کی۔[9]
  • مزید برآں، انڈین نیول اکیڈمی میں خواتین کیڈٹس کو جنوری 2024 سے 10+2 بی ٹیک انٹری اسکیم کے ذریعے شمولیت کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔[10]

بھارتی فضائیہ

  • جبکہ انڈین ایئر فورس (بھارتی فضائیہ، آئی اے ایف) نے 1990 کی دہائی میں خواتین کو کامبیٹ سپورٹ رول (جنگی معاون کردار) میں پائلٹس کے طور پر شامل کرنے میں پہل کی۔ ایک تاریخی اصلاح کے طور پر خواتین افسران کو کامبیٹ رولز میں شامل کرنے کا عمل — جو ابتدائی طور پر 2015 میں تجرباتی بنیادوں پر متعارف کرایا گیا تھا — کو 2022 میں مستقل اسکیم کی حیثیت دے دی گئی، جس کے نتیجے میں فائٹر اور دیگر کامبیٹ شعبے مساوی بنیادوں پر خواتین کے لیے کھول دیے گئے۔[11]
  • اس کے ساتھ ساتھ 2017 سے این سی سی اسپیشل انٹری اسکیم کے تحت شارٹ سروس کمیشن (خواتین) کے لیے فلائنگ برانچ میں آسامیاں بھی فراہم کی گئی ہیں۔[12]
  • مزید برآں، این ڈی اے کے ذریعے خواتین کیڈٹس کی شمولیت کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت 2027 تک ہر کورس میں چھ آسامیاں    ،2  فلائنگ کے لیے، 2 گراؤنڈ ڈیوٹی (ٹیک) کے لیے، اور 2 گراؤنڈ ڈیوٹی (نان ٹیک) کے لیے ایئر فورس کے لیے مختص کی گئی ہیں۔[13]
  • مزید یہ کہ 02 دسمبر 2023 سے اگنی ویر وایو ویمن باوقار طور پر انڈین ایئر فورس کی صفوں میں شامل ہو چکی ہیں، جو خواتین کو بااختیار بنانے اور ایک جامع فوجی ماحول کو فروغ دینے کے لیے اس فورس کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔[14]

یہ تمام سروس مخصوص اقدامات مجموعی طور پر ہندوستان کی مسلح افواج میں آپریشنل، تکنیکی اور قائدانہ کرداروں میں خواتین کی شرکت کے مربوط اور ترقی پسندانہ فروغ کو ظاہر کرتے ہیں۔2025 میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) سے مئی میں 17 خواتین کیڈٹس نے گریجویشن مکمل کی، جبکہ نومبر میں مزید 15 خواتین کیڈٹس نے گریجویشن حاصل کی۔[15] یہ پیش رفت 2022 میں این ڈی اے میں خواتین کی شمولیت کے بعد سے ان کے لیے مواقع کے مسلسل پھیلاؤ کو نمایاں کرتی ہے۔

2026 کے اوائل تک مجموعی طور پر 158 خواتین کیڈٹس اکیڈمی میں شامل ہو چکی ہیں۔ مزید برآں، مارچ 2025 تک این ڈی اے میں خواتین کیڈٹس کی سب سے زیادہ تعداد ہریانہ سے ہے، جہاں 35 کیڈٹس ہیں، اس کے بعد اتر پردیش سے 28 اور راجستھان سے 13 کیڈٹس شامل ہیں۔

اسی طرح فوج نے خواتین کیڈٹس کی سالانہ شمولیت میں بتدریج اضافہ کرتے ہوئے 2024 میں آسامیاں 80 سے بڑھا کر 144 کر دی ہیں، جو 80 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔[16]

خواتین افسران مسلح افواج میں نئی ​​راہیں روشن کر رہی ہیں

ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین نے قیادت، آپریشنل تعیناتیوں اور عالمی نمائندگی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جو تینوں افواج میں صنفی شمولیت کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

2025 میں تینوں افواج پر مشتمل ایک آل ویمن سیلنگ ایکسپیڈیشن کے دوران فوج کی 11 خواتین افسران آرمی سے (لیفٹیننٹ کرنل انوجا، میجر کرم جیت، میجر تانیہ، کیپٹن اومیتا، کیپٹن داؤلی اور کیپٹن پرا جکتا)، نیوی سے (لیفٹیننٹ کمانڈر پریانکا)، اور ایئر فورس سے (اسکواڈرن لیڈر وبھا، اسکواڈرن لیڈر شردھا، اسکواڈرن لیڈر ارووی اور اسکواڈرن لیڈر ویشالی) — نے مقامی طور پر تیار کردہ جہاز تریوینی پر سوار ہو کر سیشلز تک 1,800 ناٹیکل میل کا سفر مکمل کیا، جس سے آپریشنل مہارت اور مشترکہ سروسز کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا مظاہرہ ہوا۔[17]

خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب انڈین ایئر فورس نے 77ویں یومِ جمہوریہ پریڈ کے لیے اپنے بینڈ میں نو خواتین اگنی ویر وایو کو شامل کیا، جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ اکشیتا دھانکر نے صدرِ جمہوریہ کے ہمراہ قومی پرچم لہرایا — جو ہندوستان کی دفاعی افواج میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت کی ایک طاقتور علامت ہے۔

 

 

قیادت کے منصب پر خواتین: یونیفارم میں خواتین کی طرف سے ادا کردہ قائدانہ کردار

 

لیفٹیننٹ جنرل سادھنا سکسینہ نائر ہندوستانی فوج میں اعلیٰ قیادت کے عہدوں تک پہنچنے والی خواتین افسران کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک اہم سنگِ میل کے طور پر سادھنا سکسینہ نائر کو ڈائریکٹر جنرل میڈیکل سروسز (آرمی) مقرر کیا گیا، جو ایک تاریخی کامیابی ہے، کیونکہ وہ فوج کے طبی شعبے میں اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ ان کی تقرری مسلح افواج کے اندر اہم فیصلہ سازی اور اسٹریٹجک قیادت کے عہدوں میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔[18]

کرنل پوننگ ڈومِنگ انڈین آرمی کی کرنل پوننگ ڈومِنگ وہ پہلی خاتون افسر ہیں جنہوں نے شمالی سیکٹر میں 15,000 فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع دنیا کی بلند ترین بارڈر ٹاسک فورس کی کمان سنبھالی۔ اپنی 20 سال سے زیادہ کی خدمات کے دوران ان کے نام کئی اہم اعزازات اور پہلی مرتبہ حاصل کی جانے والی کامیابیاں بھی درج ہیں۔[19]

اسکواڈرن لیڈر بھاونا کانتھ وہ پہلی ہندوستانی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں جنہوں نے دن کے وقت کامبیٹ مشنز(جنگی مشن) انجام دینے کے لیے اہلیت حاصل کی۔[20] وہ 2021 میں یومِ جمہوریہ پریڈ میں حصہ لینے والی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بھی تھیں۔ انہوں نے یومِ جمہوریہ 2024 کے فلائی پاسٹ میں بھی شرکت کی، اس طرح وہ ہندوستان میں باوقار فائٹر پائلٹ کلب کا حصہ بن گئیں۔[21]

لیفٹیننٹ کمانڈر انو پرکاش انڈین نیوی(ہندوستانی بحریہ) کی لیفٹیننٹ کمانڈر انو پرکاش نے سمندری سلامتی اور آپریشنز میں اپنی مہارت کو اجاگر کیا۔ ان کی شمولیت نے اس بات کو نمایاں کیا کہ بھارت کے وسیع ساحلی پٹی کے تحفظ اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے میں خواتین کا اہم کردار ہے۔[22]

کیپٹن ہنسجا شرما کیپٹن ہنسجا شرما نے ہندوستانی فوج میں پہلی خاتون رودرا ہیلی کاپٹر پائلٹ بن کر تاریخ رقم کی۔ انہوں نے 2026 کے یومِ جمہوریہ پر 251 آرمی ایوی ایشن اسکواڈرن کی قیادت کی۔[23]

سب لیفٹیننٹ آستھا پونیا سب لیفٹیننٹ آستھا پونیا نے 2025 میں تاریخ رقم کرتے ہوئے نیول ایوی ایشن کے فائٹر اسٹریم میں شامل ہونے والی پہلی خاتون پائلٹ بن گئیں، جو ایک روایتی طور پر مردوں کے زیرِ تسلط شعبے میں صنفی رکاوٹیں توڑنے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہیں دوسرے بیسک ہاک کنورژن کورس کی گریجویشن کے دوران آئی این ایس ڈیگا، وشاکھاپٹنم میں معزز وِنگز آف گولڈ سے نوازا گیا۔[24]

اسکواڈرن لیڈر آوانی چترویدی آوانی چترویدی ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف )کی وہ پہلی خاتون فائٹر پائلٹ بنیں جنہوں نے بیرونِ ملک فضائی جنگی مشق میں حصہ لیا۔ مسز چترویدی، جو (ایس یو۔30 ایم کے آئی) Su-30MKI پائلٹ ہیں، آئی اے ایف کے اس دستے کا حصہ تھیں جس نے جاپان ایئر سیلف ڈیفنس فورس (جے اے ایس ڈی ایف )کے ساتھ 16 دن کی میگا ایئر کامبیٹ ایکسرسائز میں شمولیت اختیار کی، جو جاپانی ایئر بیسہیاکوری پر منعقد ہوئی۔

اسکواڈرن لیڈر شیوانی سنگھ اسکواڈرن لیڈر شیوانی سنگھ ہندوستان کی پہلی خاتون رافیل پائلٹ بنیں — یہ کامیابی ہندوستانی فضائیہ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی مہارت اور آپریشنل شانداری کو اجاگر کرتی ہے۔[25]

ونگ کمانڈر انجلی سنگھ انڈین ایئر فورس کی ونگ کمانڈر انجلی سنگھ پہلی ہندوستانی خاتون فوجی سفارتکار بنیں جو بیرونِ ملک مشن پر تعینات ہوئیں۔ انہیں روس میں بھارت کے سفارت خانے میں ڈپٹی ایئر اٹیچی کے طور پر مقرر کیا گیا، جو ایک تاریخی سنگِ میل ہے اور مسلح افواج میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت کو ظاہر کرتا ہے۔

لیفٹیننٹ کمانڈر دلنا کے اور لیفٹیننٹ کمانڈر روپا اے لیفٹیننٹ کمانڈر دلنا کے اور روپا اے نے آئی این ایس وی تارینی پر نویکا ساگر پرکرما II ایکسپڈیشن کے تحت 25,600 ناٹیکل میل کا عالمی سفر مکمل کر کے تاریخ رقم کی۔ ان کا 238 دن پر محیط یہ سفر ہندوستانی نیوی میں ناری شکتٰی کی ایک شاندار نمائندگی ہے، جس میں حوصلہ، برداشت اور دنیا کے سمندروں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت کو اجاگر کیا گیا ہے۔[26]

ایوارڈز اور اعزازات

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا جینڈر ایوارڈ – 2025 (صنفی زمرہ):
ہندوستانی فوج کی میجر سواتی شانتھا کمار کو جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن  (یو این ایم آئی ایس ایس)کے ساتھ خدمات انجام دینے کے دوران "برابر شراکت دار، دیرپا امن" پہل پر کام کرنے کے اعتراف میں صنفی زمرے میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ صنفی جوابدہ امن قائم کرنے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں نچلی سطح پر شمولیت کو فروغ دینے میں ان کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ [27]

آرمی ڈے ایوارڈز (جنوری 2025):
جنوری 2025 میں آرمی ڈے ایوارڈز میں، این سی سی گرلز دستے کو پہلی بار آرمی ڈے پریڈ میں مارچ کرنے کے لیے آرمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار اور مسلح افواج میں ان کی بڑھتی ہوئی ادارہ جاتی شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔ [28]

اقوام متحدہ کی پہچان (2023، جاری وراثت میں روشنی ڈالی گئی):
میجر رادھیکا سین کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کی طرف سے "ملٹری جینڈر ایڈوکیٹ آف دی ایئر 2023" کے طور پر نامزد کیا گیا، جس میں اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے کے اقدامات میں ہندوستانی خواتین کی نمایاں شراکت کو تسلیم کیا گیا۔ یہ اعزاز ان کے مثبت کردار اور عالمی سطح پر ہندوستانی خواتین کی شمولیت کی تصدیق کرتا ہے۔ [29]

عالمی خدمات اور امن قائم رکھنے میں نمایاں کامیابیاں

ہندوستان کا عالمی امن قائم رکھنے کے شعبے میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے عزم کا مظہر اس کی بڑھتی ہوئی خواتین عملے کی تعیناتی میں دیکھا جا سکتا ہے جو اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وسط 2025 تک، چھ اقوام متحدہ کے امن قائم رکھنے والے مشنز میں 154 سے زائد ہندوستانی خواتین خدمات انجام دے رہی ہیں، جو شمولیتی حفاظتی ڈھانچوں کو فروغ دینے میں ملک کے فعال کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

 

 

 

 

اقوام متحدہ کی صنفی مساوات کی حکمت عملی کے مطابق – جس کا ہدف 2028 تک فوجی دستوں میں 15 فیصد خواتین اور اسٹاف افسران یا نگرانوں میں 25 فیصد خواتین کی نمائندگی ہے – ہندوستان نے اسٹاف افسران اور نگرانوں کے زمرے میں پہلے ہی 22 فیصد نمائندگی حاصل کر لی ہے، جو امن قائم رکھنے کے مشنز میں عالمی صنفی شمولیت کے اہداف کے حصول کی طرف قابلِ قدر پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ [30]

آئندہ کا راستہ

2014 میں ہندوستانی فوج، بحریہ، اور فضائیہ میں خواتین افسران کی مجموعی تعداد تقریباً 3,000 تھی۔ اس تعداد میں بعد ازاں اضافہ ہو کر 11,000 سے تجاوز کر گیا، جو نہ صرف مقداری ترقی بلکہ ادارہ جاتی نقطہ نظر میں وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ [31]

ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین کے مستقبل کا راستہ زیادہ وسیع شمولیت کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو جاری اصلاحات، ناری شکتی اقدامات، اور صنفی مساوات کے لیے ادارہ جاتی عزم سے تحریک حاصل کر رہا ہے۔ بھرتی میں ترقی پسندانہ توسیع – نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں بڑھتی ہوئی خالی آسامیوں، دیگر رینکس میں خواتین کی تدریجی شمولیت، اور مساوی مواقع کی پالیسیوں کے ذریعے – خواتین افسران کو تمام خدمات میں زیادہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بنائے گی۔

حوالہ جات:
پریس انفارمیشن بیورو

وزارت دفاع

ڈی ڈی نیوز

وزارت خارجہ

اقوام متحدہ

ہندوستانی بحریہ

ہندوستانی مسلح افواج میں خواتین - بڑھتے ہوئے کردار اور مواقع

 

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-3514


(ریلیز آئی ڈی: 2236591) وزیٹر کاؤنٹر : 21