جل شکتی وزارت
جل سنچے جن بھاگیداری: کس طرح کوریا کے ’5 فیصدی ماڈل‘ نے آبی قلت کو آبی تحفظ میں بدل دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 MAR 2026 1:08PM by PIB Delhi
ایک ایسے وقت میں جب پانی کی قلت آب و ہوا کے سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک بن کر ابھر رہی ہے، چھتیس گڑھ کے ضلع کوریا نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقتور ترین حل بڑے ڈیموں یا بھاری مشینری سے شروع نہیں ہوتے، بلکہ ان کا آغاز عوام سے ہوتا ہے۔
جل سنچے جن بھاگیداری کے جذبے کے تحت، اس ضلع نے ایک سادہ مگر انقلابی سوال پوچھ کر ایک کمزور جغرافیائی خطے کو استقامت کی مثال میں بدل دیا، اور وہ سوال یہ ہے کہ
کیا ہوگا اگر ہر کسان اپنی زمین کا صرف 5 فیصد حصہ رضاکارانہ طور پر پانی کے لیے وقف کر دے؟
5 فیصد ماڈل: مختصر حصہ، انقلابی اثرات
’آوا پانی جھوکی‘ تحریک کے تحت، کسانوں نے اپنی زرعی زمین کا 5 فیصد حصہ چھوٹے ریچارج تالاب اور سیڑھی دار گڑھے بنانے کے لیے رضاکارانہ طور پر الگ کر دیا۔ یہ ڈھانچے براہِ راست کھیتوں کے اندر بارش کا پانی جمع کرتے ہیں، جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ مانسون کے دوران گرنے والا ہر قطرہ محفوظ ہو، زمین میں جذب ہو اور دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔
اس کے نتائج غیر معمولی رہے ہیں:
- بارش کا پانی جو پہلے ضائع ہو جاتا تھا، اب مٹی اور زیر زمین آبی ذخائر کو سیراب کرتا ہے
- مٹی کے کٹاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے
- خشک سالی کے دوران فصلوں میں نمی کی سطح بہتر ہوئی ہے
- زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ مستقل اور پائیدار ہو گیا ہے
یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ پانی کے پائیدار بندوبست کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی یا زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے اجتماعی عزم درکار ہوتا ہے۔
عوامی شرکت تحریک کا محرک
اس مہم نے وسیع پیمانے پر عوامی شراکت داری سے طاقت حاصل کی۔ خواتین ’نیر نائیکاؤں‘ کے طور پر ابھریں، جنہوں نے گھروں کی رہنمائی کی اور لوک گیتوں کے ذریعے شعور بیدار کرتے ہوئے پانی جذب کرنے والے گڑھے کی تعمیر کی قیادت کی۔ نوجوان رضاکاروں، جنہیں ’جل دوت‘ کہا جاتا ہے، نے خندقوں کی نقشہ سازی، نہروں کی صفائی اور نکڑ ناٹکوں و دیواری فن کے ذریعے پانی کے تحفظ کو فروغ دے کر اس تحریک میں نئی روح پھونک دی۔اجتماعی ’شرم دان‘ کے ذریعے 440 سے زائد روایتی تالابوں کو بحال کیا گیا، جس سے وہ دوبارہ پانی کے قدرتی ذخیرے بن گئے۔ اس تحریک سے متاثر ہو کر، وزیر اعظم آواس یوجنا کے 500 سے زائد مستفیدین نے بھی اپنے گھروں کے ساتھ سوک پِٹس تعمیر کیے، جس سے پانی کے تحفظ کی مہم ایک حکومتی اقدام سے بدل کر معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری بن گئی۔
شرکت سے ملکیت تک
’5 فیصد ماڈل‘ کی کامیابی کا راز محض بنیادی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس کی ملکیت کے احساس میں پنہاں ہے۔ گرام سبھا کی قراردادوں کے ذریعے اپنائے گئے اور سائنسی منصوبہ بندی کے تعاون سے چلنے والے اس اقدام نے ایک حقیقی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔
1,260 سے زائد کسانوں نے اپنی زمینوں پر 5 فیصد ریچارج سسٹم کو اپنایا۔پورے ضلع میں 2,000 سے زیادہ سوک پٹس بنائے گئے۔دیہی ہاؤسنگ اسکیموں کے مستفیدین نے رضاکارانہ طور پر اپنے گھروں کے پاس سوک پٹس تعمیر کیے، جس سے پانی کو دوبارہ زمین میں پہنچانے کا عمل روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گیا۔
اجتماعی کارروائی کے ایک تاریخی مظاہرے میں، مقامی لوگوں نے محض تین گھنٹے میں 660 سوک پٹس تعمیر کیے، جو منظم عوامی شراکت داری کی طاقت کی علامت ہے۔
قابل ذکرماحولیاتی اور سماجی فوائد
جل سنچے جن بھاگیداری کے اثرات واضح اور پیمائش کے قابل رہے ہیں:
- کئی گاؤوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں 3 سے 4 میٹر تک اضافہ ہوا
- 17 دور افتادہ قبائلی بستیوں میں پانی کے چشمے دوبارہ بحال کئےگئے
- مٹی میں نمی برقرار رہنے کی بہتر صلاحیت کی وجہ سے زرعی پیداواریت میں بہتری آئی
- ذریعۂ معاش کے مستحکم ہونے سے موسمی ہجرت میں تخمیناً 25 فیصد کمی واقع ہوئی
پانی کی یقینی فراہمی نے اقتصادی تحفظ کو مزید تقویت بخشی ہے۔
سائنس اور عوامی جذبے کا سنگم
ضلع انتظامیہ نے مائیکرو واٹر شیڈ میپنگ، ہائیڈرو جیولوجیکل اسیسمنٹس اور تکنیکی رہنمائی کے ذریعے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ پانی کو دوبارہ زمین میں پہنچانے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے لیے ہر ڈھانچہ اسٹریٹجک مقام پر تعمیر کیا جائے۔ اس کے باوجود، اصل محرک قوت عوامی قیادت ہی رہی۔ سائنسی منصوبہ بندی اور عوامی شراکت داری کے اس ملاپ نے گورننس کا ایک پائیدار ماڈل تخلیق کیا۔
ضلع کوریا کے کلکٹر نے اس حوالے سے کہا، ’’یہ اقدام صرف تعمیرات کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے کسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے، نقل مکانی کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے کہ ہر گاؤں کے پاس ضرورت بھر پانی موجود ہو۔ کوریا اس رفتار کو برقرار رکھے گا اور پائیدار ترقی کے نئے معیارات قائم کرے گا۔‘‘
بھارت کے لیے ایک مثالی خاکہ
کوریا کا یہ ’5 فیصد ماڈل‘ ثابت کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے کا عمل غیر مرکزی، سستا اور عوامی شراکت داری پر مبنی ہو سکتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح جل سنچے جن بھاگیداری پانی کے تحفظ کو ایک محکمہ جاتی حکم نامے سے بدل کر ایک مشترکہ شہری ذمہ داری میں تبدیل کر سکتی ہے۔
اپنی زمین کا صرف 5 فیصد دے کر، ان برادریوں نے اپنے پانی کے مستقبل کو 100 فیصد محفوظ کر لیا۔
ضلع کوریا نے قلت کے ہاتھوں اپنی تقدیر لکھے جانے کا انتظار نہیں کیا، بلکہ اتحاد، اختراع اور اجتماعی عمل پر یقین کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ کوریا کا یہ ’5 فیصد ماڈل‘ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جب برادریاں پانی کے تحفظ کے لیے متحد ہو جاتی ہیں، تو اس وسیلے کو مستقبل کے لیے پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔
*******
ش ح۔ک ح۔ ن ع
U. No. 3384
(ریلیز آئی ڈی: 2235525)
وزیٹر کاؤنٹر : 36