امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومتِ ہند نے پردھان منتری غریب کلیان اَنّا یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کے تحت پڈوچیری میں فوائد کی راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے لیے سی بی ڈی سی پر مبنی ڈیجیٹل فوڈ کرنسی آزمائشی پروجیکٹ کا آغاز کیا


پڈوچیری، جہاں اس وقت عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) کو ڈی بی ٹی ماڈل کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، وہاں روایتی بینک کھاتوں کے بجائے مستفیدین کے سی بی ڈی سی والٹس میں غذائی سبسڈی براہِ راست منتقل کی جائے گی

عوامی تقسیم نظام میں سی بی ڈی سی کا انضمام شفاف اور بااختیار غذائی تقسیم کے نظام کی جانب ایک بڑا قدم ہے: مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی

’’ہر دانہ، ہر روپیہ، ہر حق‘‘ — جناب پرہلاد جوشی نے سی بی ڈی سی پر مبنی ڈیجیٹل فوڈ کوپن کو عوامی تقسیم نظام میں ایک تاریخی اصلاح قرار دیا

’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ — ہر ایک کو اپنی کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں: مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 FEB 2026 6:28PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے پردھان منتری غریب کلیان اَنّا یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) کے تحت پڈوچیری میں فوائد کی  راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے لیے مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) پر مبنی ڈیجیٹل فوڈ کرنسی آزمائشی پروجیکٹ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کا افتتاح 26 فروری2026 کو پڈوچیری میں مرکزی وزیر برائے امورِ صارفین، خوراک و عوامی نظامِ تقسیم جناب پرہلاد جوشی نے پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر جناب کے۔ کیلاش ناتھن اور وزیرِ اعلیٰ جناب این۔ رنگاسامی کی موجودگی میں کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/L3P2(5)1OME.jpeg

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے امورِ صارفین، خوراک و عوامی نظامِ تقسیم جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ عوامی نظام تقسیم میں سی بی ڈی سی کا نفاذ بھارت کے غذائی تحفظ کے ڈھانچے میں ایک انقلابی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) کو پی ڈی ایس میں ضم کرنے سے شفافیت، کارکردگی اور مستفیدین کی بااختیاری میں اضافہ ہوگا اور 80 کروڑ سے زائد مستفیدین کو ان کے حقوق زیادہ وضاحت اور جوابدہی کے ساتھ حاصل ہوں گے۔’’ہر دانہ، ہر روپیہ، ہر حق‘‘ کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اصلاح مستحقین میں ان کے حقوق سے متعلق بیداری کو مضبوط کرے گی، محفوظ اور حقیقی وقت میں لین دین کو ممکن بنائے گی اور فلاحی نظام کی ترسیل میں ڈیجیٹل انڈیا مہم کو مزید گہرائی بخشے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-02-26at6.37.07PMYZ4O.jpeg

جناب پرہلاد جوشی نے بتایا کہ سی بی ڈی سی فریم ورک کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے تیار کردہ ڈیجیٹل کوپن مستفیدین کو پروگرام کے قابل ڈیجیٹل کرنسی (ای-روپیہ) کی صورت میں براہِ راست منتقل کیے جائیں گے۔ مستفیدین راشن کی دکانوں (ایف پی ایس) یا مجاز تجارتی مراکز پر سی بی ڈی سی کوپن یا واؤچر کوڈ کے ذریعے اپنی مستحق مقدار میں غذائی اجناس حاصل کر سکیں گے۔ یہ نظام بایومیٹرک تصدیق اور ای-پی او ایس سے متعلق عملی مسائل کو حل کرے گا اور محفوظ، قابلِ سراغ اور حقیقی وقت میں لین دین کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم جی کے اے وائی دنیا کا سب سے بڑا خوراک کو یقینی بنانے والا پروگرام ہے، جو نہ صرف گیہوں اور چاول فراہم کر رہا ہے بلکہ مستفیدین کو باجرہ (ملیٹس) بھی مہیا کر رہا ہے، جس سے غذائی تحفظ مزید مضبوط ہوتا ہے۔

جناب جوشی نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی اداروں نے ریکارڈ پر درج کیا ہے کہ گزشتہ 11 برسوں میں 25 کروڑ افراد کو کثیر جہتی غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق مفت غذائی اجناس کی فراہمی اور پڈوچیری کی جانب سے اضافی اجناس فراہم کیے جانے کے باعث بھارتی گھرانوں کے اخراجات میں خوراک کا حصہ 50 فیصد تک کم ہوا ہے۔ لوگ مفت غذائی اجناس سے ہونے والی بچت کو دودھ، سبزیوں اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیا کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف غذائی بلکہ غذائیتی تحفظ بھی حاصل ہو رہا ہے اور صحت مند و مضبوط نوجوان نسل کے ساتھ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آزمائشی منصوبے کو جلد ہی 3-4 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں تک توسیع دی جائے گی اور نتائج کے تفصیلی جائزے کے بعد سی بی ڈی سی اقدام کے مزید نفاذ پر فیصلہ کیا جائے گا۔

جناب جوشی نے یہ بھی بتایا کہ ہر ماہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تقریباً 20 لاکھ کالز مستفیدین کو کی جا رہی ہیں تاکہ مستحق مقدار اور غذائی اجناس کے معیار سے متعلق ان کی رائے حاصل کی جا سکے۔ ’’سب کا ساتھ، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کے جذبے کے تحت انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لائیں، جیسا کہ معزز وزیرِ اعظم نے تصور پیش کیا ہے۔

اس موقع پر پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر جناب کے۔ کیلاش ناتھن نے کہا کہ آج کا دن پڈوچیری کے محنت کش اور محروم طبقات کے لیے ایک یادگار دن ہے۔ یہ ہمارے خاندانوں کے لیے باعثِ فخر اور ہمارے مرکزکے زیرِ انتظام علاقہ کی غذائی تحفظ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ خوراک محض ایک شے نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور ہمارا واضح مقصد یہ ہے کہ ’’اس ملک کا کوئی بھی شہری بھوکا نہ رہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں خوراک کو یقینی بنانے، صحت، رہائش اور تعلیم سے متعلق مختلف فلاحی اسکیموں کے نفاذ کے لیے باہم مل کر کام کر رہی ہیں۔ ان اسکیموں کی اصل کامیابی ان کی بلا رکاوٹ ترسیل میں مضمر ہے۔ ہمارا ہدف درمیانی عناصر اور بدعنوانی کا خاتمہ کرتے ہوئے فوائد کو حقیقی مستحقین تک پہنچانا اور نااہل اندراجات کو خارج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدھار سے منسلک فائیدوں کی براہِ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام پڈوچیری میں مؤثر طور پر نافذ ہے اور اب سی بی ڈی سی کے نفاذ سے شہریوں کی بااختیاری اور عوامی تقسیم نظام میں شفافیت کو مزید تقویت ملے گی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/L3P4(2)FNWC.jpeg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پڈوچیری کے وزیرِ اعلیٰ جناب این۔ رنگاسامی نے سی بی ڈی سی کے نئے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے غذائی اجناس کی ترسیل کے نظام میں مثبت تبدیلی آئے گی اور پڈوچیری کے شہری بااختیار بنینگے۔ انہوں نے بتایا کہ پڈوچیری کی مرکزکے زیرِ انتظام حکومت عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) کے تحت اپنے مستفیدین کو اضافی غذائی اجناس فراہم کر رہی ہے۔ حکومتِ ہند کی جانب سے ڈی بی ٹی کے ذریعے رقم کی منتقلی اور پڈوچیری حکومت کی اسکیم کے تحت معیاری چاول کی فراہمی غریب طبقات کی غذائی تحفظ کی بنیادی ضرورت پوری کر رہی ہے اور انہیں بھوک سے محفوظ رکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی بی ٹی کے ذریعے بینک کھاتوں میں منتقل ہونے والی رقم اور اب سی بی ڈی سی کے ذریعے والٹ میں آنے والی رقم مستفیدین کی حوصلہ افزائی کرے گی، ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے گی اور دستیاب وسائل کے ساتھ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنائے گی۔ یہ ایک اہم قدم ہے جس کے تحت سی بی ڈی سی والٹ کے ذریعے کسی درمیانی ادارے یا فرد کے بغیر براہِ راست مستفیدین کو رقم منتقل کی جا رہی ہے۔ پڈوچیری کی حکومت اس آزمائشی منصوبے اور سی بی ڈی سی کے نفاذ کے نیک ارادوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے سی بی ڈی سی کے ذریعے مستحق رقم کی شفاف، مؤثر اور آسان منتقلی پر خوشی کا اظہار کیا۔

عوامی تقسیم نظام میں سی بی ڈی سی کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے محکمۂ خوراک و عوامی تقسیم کے سکریٹری نے کہا کہ پی ایم جی کے اے وائی کے تحت سبسڈی کی تقسیم کے لیے پڈوچیری میں سی بی ڈی سی کا نفاذ مستفیدین تک فوری، شفاف اور مؤثر انداز میں فوائد کی براہِ راست منتقلی کو یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جن دھن–آدھار–موبائل (جے اے ایم) سہ رخی ماڈل پر مبنی ہے اور ڈیجیٹل بااختیاری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ اس کی وسیع رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فیچر فون استعمال کرنے والوں کی شمولیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ یہ نظام مستفیدین کو ایپلی کیشن کے ذریعے قریبی مجاز تجارتی مراکز کی نشاندہی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی بی ڈی سی پر مبنی پی ڈی ایس ماڈل کو پڈوچیری میں وسعت دی جائے گی اور بعد ازاں چنڈی گڑھ اور دادرا و نگر حویلی میں نافذ کیا جائے گا، جس کے بعد مرحلہ وار پورے ملک میں توسیع کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے سی بی ڈی سی کے آزمائشی آغاز میں ریزرو بینک آف انڈیا، کینرا بینک اور پڈوچیری حکومت کے تعاون اور کوششوں کو سراہا۔

یہ اقدام عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس) کے ذریعے غذائی سبسڈی کی فراہمی میں ایک اہم اصلاح کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ ڈیجیٹل روپیہ کو براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) فریم ورک میں ضم کیا گیا ہے۔ آزمائشی منصوبے کے تحت شناخت شدہ مستفیدین کو غذائی سبسڈی پروگرام کے قابل سی بی ڈی سی ٹوکنز کی صورت میں براہِ راست ان کے سی بی ڈی سی والٹس میں منتقل کی جائے گی۔ یہ ٹوکن صرف مجاز تاجروں اور راشن کی دکانوں (ایف پی ایس) سے مستحق غذائی اجناس کی خریداری کے لیے قابلِ استعمال ہوں گے، جس سے سبسڈی کے مقصدی استعمال اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/L3P3(4)ZUPN.jpeg

گزشتہ کئی برسوں کے دوران محکمۂ خوراک و عوامی تقسیم نے بھارت کے غذائی تحفظ کے نظام میں وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ اہم اقدامات میں راشن کارڈز کی ابتدا سے انتہا تک ڈیجیٹلائزیشن اور ’’ون نیشن ون راشن کارڈ‘‘ (او این او آر سی) فریم ورک کے تحت ملک گیر پورٹیبلٹی، آدھار سے منسلک تصدیق اور حقیقی وقت میں لین دین کے اندراج کے لیے ای-پی او ایس آلات کی تعیناتی، اور رائٹ فل ٹارگٹنگ ڈیش بورڈ کے ذریعے ڈیٹا پر مبنی توثیق کا نفاذ شامل ہے۔ ’’اَنّ چکر‘‘ کے ذریعے ڈیجیٹل سپلائی چین کی بہتری اور ’’اَنّ سہایتا‘‘ جیسے مضبوط شکایات کے ازالے کے نظام نے شفافیت، کارکردگی اور شہری مرکز خدمات کی فراہمی کو مزید تقویت دی ہے۔ سی بی ڈی سی پر مبنی ڈیجیٹل فوڈ کرنسی آزمائشی پروجیکٹ اس اصلاحاتی سفر کا اگلا مرحلہ ہے، جو عوامی تقسیم نظام کے ڈھانچے میں پروگرام ایبل خود مختار ڈیجیٹل ادائیگی کی تہہ کو ضم کرتا ہے۔

یہ آزمائشی پروجیکٹ، جس کا آغاز محدود تعداد میں مستفیدین کے ساتھ کیا گیا، ٹیکنالوجی کو فلاحی نظام کی ترسیل سے جوڑنے، شفافیت کو مضبوط بنانے اور آخری فرد تک خدمات کی فراہمی کے لیے زیادہ مؤثر اور جوابدہ حکمرانی کا فریم ورک قائم کرنے کی جانب ایک انقلابی قدم ثابت ہونے کی توقع ہے۔

سی بی ڈی سی پر مبنی ڈیجیٹل فوڈ کرنسی آزمائشی پروجیکٹ کا افتتاح مرکزی وزیر برائے امورِ صارفین، خوراک و عوامی نظامِ تقسیم جناب پرہلاد جوشی نے پڈوچیری کے لیفٹیننٹ گورنر جناب کے۔ کیلاش ناتھن، وزیرِ اعلیٰ جناب این۔ رنگاسامی، پڈوچیری حکومت کے اسپیکر جناب آر۔ سیلوم، وزیر برائے شہری رسد و امورِ صارفین جناب پی۔ آر۔ این۔ تھروموروگن، وزیر برائے تعمیراتِ عامہ جناب کے۔ لکشمی نارائن، اور حکومتِ ہند، حکومتِ پڈوچیری، ریزرو بینک آف انڈیا اور کینرا بینک کے سینئر عہدیداران کی موجودگی میں کیا۔

************

 ش ح ۔ م د۔  م  ص

(U :3165  )


(ریلیز آئی ڈی: 2233590) وزیٹر کاؤنٹر : 8