محنت اور روزگار کی وزارت
ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) نے 75ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کا آغاز کیا
صحت ہمارا مشن ہے اور خدمت ہماری روایت: مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ
لیبر کوڈز مزدوروں کی فلاح کے لیے صحت سے متعلق سہولیات کو مضبوط بناتے ہیں، ڈاکٹر مانڈویہ، 40 سال اور اس سے زائد عمر کے کارکنان کے لیے ای ایس آئی سی کے ذریعے مفت سالانہ صحت معائنہ کی سہولت کو اجاگر کیا
ای ایس آئی سی کو صحت کے تحفظ کی عالمی مثال بننا چاہیے: ڈاکٹر مانڈویہ
ای ایس آئی سی کے 75 سال مکمل ہونے پر یادگاری سکہ اور کافی ٹیبل بک جاری
صحت سے متعلق خدمات اور معیاری معیار کو مضبوط بنانے کے لیے ای ایس آئی سی–این ایچ اے اور ای ایس آئی سی–این اے بی ایل کے درمیان مفاہمت ناموں پر دستخط
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 6:55PM by PIB Delhi
ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں اپنی خدمات کے 75ویں سال کی تقریبات کا آغاز کیا، جو ملک بھر کے کارکنان اور ان کے اہلِ خانہ کو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے فراہم کی جانے والی مخلصانہ خدمات کی علامت ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے محنت و روزگار اور امورِ نوجوانان و کھیل، ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے تقریب سے کلیدی خطاب کیا۔
اس موقع پر لوک سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جناب این کے پریم چندرن، وزارتِ محنت و روزگار کی سکریٹری محترمہ وندنا گرنانی، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے سینٹرل پروویڈنٹ فنڈ کمشنر جناب رمیش کرشن مورتی، جنوبی ایشیا کے لیے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ڈیسنٹ ورک ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم اور بھارت کے کنٹری آفس کی ڈائریکٹر محترمہ میچیکو میاموتو، نیز وزارتِ محنت و روزگار، ای ایس آئی سی اور ای پی ایف او کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے ادارے کے سفر کو ترقی، اصلاحات اور قوم کی خدمت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ای ایس آئی سی نے 1952 میں تقریباً 1.2 لاکھ مستفیدین اور ایک واحد ڈسپنسری کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج یہ ادارہ 166 اسپتالوں، 17 میڈیکل کالجوں اور تقریباً 1,600 ڈسپنسریوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے 15 کروڑ سے زائد مستفیدین کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔
مرکزی وزیر نے ای ایس آئی سی کی ترقی کو ایک بچے کے معاشرے کے باوقار اور ذمہ دار رکن بننے کے سفر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ادارے نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو مسلسل مضبوط اور اصلاح پذیر بنایا ہے اور آج یہ ملک میں سماجی تحفظ کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
کامیابی کے حصول میں عزم اور پختہ ارادے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے زور دیا کہ ای ایس آئی سی کو اپنے 75ویں سال میں بھی اصلاح اور کارکردگی کے اصول پر عمل جاری رکھنا چاہیے اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اجتماعی ’’سنکلپ‘‘ (عہد) لینے چاہییں۔
انہوں نے تمام اسپتالوں میں ادویات، آلات اور ڈاکٹروں کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اندرونی سہولیات کو مضبوط بنا کر ریفرل کے معاملات کو کم سے کم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عملہ پوری مستعدی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ’’سواستھ ہی سیوا ہے اور سیوا ہی ہمارا سنسکار ہے‘‘۔ انہوں نے تمام طبی ماہرین اور افسران سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط کو برقرار رکھیں اور عوام کے اعتماد کا احترام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای ایس آئی سی کے معیارات کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) جیسے ممتاز اداروں کے برابر لانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
مرکزی وزیر نے لیبر کوڈز میں 40 سال سے زائد عمر کے تمام کارکنان کے لیے لازمی صحت معائنے کی سہولت کی فراہمی کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ اس سے مزدوروں کی فلاح و بہبود کو تقویت ملے گی اور ایک محفوظ افرادی قوت کی تشکیل میں مدد ملے گی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر مانڈویہ نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی کاوش، لگن اور ٹیم ورک کے ذریعے ای ایس آئی سی کو صحت کے تحفظ کی عالمی مثال بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کریں اور اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی ’’نیا بھارت‘‘ تعمیر ہو رہا ہے۔
اپنے خطاب میں سکریٹری (محنت و روزگار) محترمہ وندنا گرنانی نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں ای ایس آئی سی مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا ہوا بھارت کے سماجی تحفظ کے نظام کا ایک اہم ستون بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک صحت مند، محفوظ اور مطمئن افرادی قوت فطری طور پر زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتی ہے اور ملک کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بیمہ شدہ فرد (آئی پی) کا علاج کرتے وقت ای ایس آئی سی محض بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ غربت کی روک تھام، خاندان کے کفیل افراد کا تحفظ اور یوں قوم کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر بیمہ شدہ فرد کو وقار اور احترام کے ساتھ صحت کی خدمات فراہم کی جانی چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبر کوڈز کے نفاذ کے بعد ای ایس آئی سی کی ذمہ داریاں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں، جن میں ملک گیر کوریج، غیر منظم شعبے اور گِگ ورکرس تک سماجی تحفظ کے فوائد کی توسیع اور 40 سال سے زائد عمر کے کارکنان کے لیے ای ایس آئی سی سہولیات کے ذریعے سالانہ صحت معائنے کی سہولت شامل ہے۔ انہوں نے ملیشیا میں بھارت کو سماجی تحفظ کے انتظام میں عمدگی پر ملنے والے باوقار آئی ایس ایس اے اعتراف کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کامیابی میں ای ایس آئی سی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پلاٹینم جوبلی کے موقع پر ای ایس آئی سی@75 کی یاد میں ایک یادگاری سکہ باضابطہ طور پر جاری کیا گیا، جو قوم کی خدمت کے 75 سالہ شاندار سفر کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ای ایس آئی سی@75 کافی ٹیبل بک کا اجرا بھی کیا گیا، جس میں ادارے کی وراثت، سنگِ میل اور تبدیلی پر مبنی اقدامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
صحت خدمات کو مستفیدین کے مزید قریب لانے اور رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے ’’سواستھ رتھ‘‘ اقدام کا بھی آغاز کیا گیا۔ علاوہ ازیں، لیبر کوڈز کی دفعات کے مطابق 40 سال اور اس سے زائد عمر کے کارکنان کے لیے سالانہ صحت معائنہ کیمپوں کا انعقاد شروع کیا گیا تاکہ احتیاطی صحت کو فروغ دیا جا سکے اور پیشہ ورانہ بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
نیشنل ہیلتھ اتھارٹی اور ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) کے درمیان ای ایس آئی اسکیم کو آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد مربوط صحت خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانا اور معیاری سہولیات تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔ اس مفاہمتی نامہ پر جناب سنجے مہریشی، جوائنٹ سکریٹری، این ایچ اے اور جناب اشوک کمار، ڈائریکٹر جنرل، ای ایس آئی سی نے دستخط کیے۔
اسی طرح ایک اور مفاہمت نامہ ای ایس آئی سی اور نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) کے درمیان ہوا، جس کا مقصد ای ایس آئی سی کی صحت سہولیات میں معیار کی یقین دہانی اور منظوری کے نظام کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے پر ڈاکٹر رامانند این شُکلا، سی ای او، این اے بی ایل اور ڈاکٹر آر سری نواسن، میڈیکل کمشنر (ایم ایس)، ای ایس آئی سی نے دستخط کیے۔ اس کا مقصد لیبارٹری خدمات کو مستحکم بنانا اور قومی معیار کے تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔
ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن کی نمایاں فیلڈ اکائیوں اور طبی اداروں کو بہترین کارکردگی کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزازات ملک بھر میں خدمات کی فراہمی اور صحت کے انتظام میں عمدگی کے لیے ای ایس آئی سی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
تقریب کے دوران ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں ای ایس آئی سی کے قیام اور ارتقا کو پیش کیا گیا اور مزدوروں کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کے میدان میں اس کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ نمائش میں لیبر کوڈز کے تحت ای ایس آئی سی کے مستقبل سے ہم آہنگ کردار کو بھی نمایاں کیا گیا، جس میں توسیع شدہ کوریج، خدمات کی بہتر فراہمی اور ٹیکنالوجی پر مبنی تبدیلیوں کے ذریعے ایک مضبوط سماجی تحفظ کے نظام کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
اس پروگرام میں دو پینل مباحثوں کا انعقاد بھی کیا گیا جن کے موضوعات تھے: ’’سماجی تحفظ ضابطہ کے تحت نئی جہتیں — محروم طبقات تک رسائی‘‘ اور ’’طبی خدمات کی توسیع اور رسائی کے لیے نئے ماڈلز‘‘۔ پہلے سیشن میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، وی وی گیری نیشنل لیبر انسٹی ٹیوٹ اور ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے ماہرین نے شرکت کی اور سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور اسے مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ دوسرے سیشن میں وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن اور عالمی ادارۂ صحت سے وابستہ ممتاز ماہرین نے شرکت کی اور صحت خدمات کی رسائی، دستیابی اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اختراعی اور قابلِ توسیع ماڈلز پر گفتگو کی۔
ایمپلائیز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن 24 فروری سے 10 مارچ 2026 تک ملک بھر کے اپنے تمام فیلڈ دفاتر، اسپتالوں اور طبی اداروں میں ’’خصوصی خدمات پندرہ روزہ مہم‘‘ منائے گی۔ اس اقدام کا مقصد بیمہ شدہ کارکنان تک صحت، سماجی تحفظ اور فلاحی خدمات کی رسائی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس دوران سیمینار، بیداری اور صفائی کیمپ، بیسک لائف سپورٹ (بی ایل ایس) ٹریننگ، صفائی مہمات اور 40 سال اور اس سے زائد عمر کے بیمہ شدہ افراد کے لیے یومیہ صحت معائنہ کیمپ منعقد کیے جائیں گے تاکہ لیبر کوڈ کی دفعات کے مطابق پیشہ ورانہ بیماریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ احتیاطی اسکریننگ، یوگا اور آیوش کیمپ، شکایات کے ازالے کے اجلاس اور زیر التوا دعوؤں اور بلوں کے جلد از جلد نپٹارے کے لیے خصوصی مہمات بھی چلائی جائیں گی، تاکہ خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور مستفیدین کے اطمینان میں اضافہ ہو۔
ہر سال 24 فروری کو منایا جانے والا ای ایس آئی سی یومِ تاسیس، ایمپلائیز اسیٹیٹ انشورنس کارپوریشن کے ایمپلائیز اسیٹیٹ انشورنس ایکٹ 1952کے تحت قیام کی یاد دلاتا ہے، جو کارکنان کے لیے بھارت کی ابتدائی سماجی تحفظ کی قانون سازیوں میں سے ایک تھا۔ کانپور اور دہلی سے شروع کی گئی ای ایس آئی اسکیم اب وسعت اختیار کرتے ہوئے 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 713 اضلاع تک پھیل چکی ہے اور لاکھوں مستفیدین کو صحت کی سہولیات اور مالی تحفظ فراہم کرتے ہوئے سماجی تحفظ کے نظام کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے۔ 75ویں یومِ تاسیس کی تقریبات ای ایس آئی سی کے کارکنان کی فلاح و بہبود کے لیے غیر متزلزل عزم اور ایک جدید، ہمدرد اور ذمہ دار سماجی تحفظ کے ادارے کے طور پر اس کے مسلسل ارتقا کی توثیق کرتی ہیں۔ گزشتہ 75 برسوں کے دوران ای ایس آئی سی نے جامع طبی نگہداشت، نقد فوائد، پنشن اور بیماری، زچگی، معذوری، پیشہ ورانہ حادثات اور بے روزگاری کی صورت میں معاونت فراہم کر کے بھارت کے سماجی تحفظ کے منظرنامے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے اور یوں ایک صحت مند، محفوظ اور بااختیار افرادی قوت پر مبنی وِکست بھارت کے ویژن کو تقویت دی ہے۔
******
ش ح۔ م م۔ ول
Uno-2999
(ریلیز آئی ڈی: 2232426)
وزیٹر کاؤنٹر : 7