صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرجمہوریہ ہند نے راشٹرپتی بھون میں چکرورتی راجاگوپال چاری کے مجسمے کی نقاب کشائی کی اور راجا جی اتسو میں شرکت کی


جیسا کہ ہم 2047 تک وکست بھارت‘ بنانے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں، راجا جی جیسے ہیروز ہمیں اپنے خیالات اور نظریات سے متاثر کرتے ہیں: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو

راجی اتسو کے حصہ کے طور پر نمائش 24 فروری سے 1 مارچ تک عوام کے لیے کھلی رہے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 FEB 2026 6:16PM by PIB Delhi

صدرجمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نےنائب صدرجمہوریہ کی موجودگی میں آج23 فروری 2026کو راشٹرپتی بھون میں آزادبھارت کے پہلے بھارتیہ گورنر جنرل جناب چکرورتی راجگوپالاچاری کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔  مہاتما گاندھی کے مجسمے کے بالمقابل اشوک منڈپ کے قریب گرینڈ اوپن سیڑھی پر سی راجگوپالاچاری کا مجسمہ ایڈون لوٹینز کے مجسمے کی جگہ لگایا گیا۔ یہ پہل نوآبادیاتی ذہنیت کے آثار کو زائل کرنے اور فخر کے ساتھ بھارت کی ثقافت، ورثے اور لازوال روایات کی دولت کو گلے لگانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا ایک حصہ ہے۔

 

بعد ازاں صدر جمہوریہ نے راشٹرپتی بھون کلچرل سنٹر میں راجا جی اتسو میں شرکت کی جہاں انہوں نے ان کی زندگی اور کام پر تصویر اور کتاب کی نمائش کاجائزہ لیا۔ راجہ جی کی زندگی پر ایک فلم بھی چلائی گئی۔ صدر اور دیگر معززین نے تقریب کے ایک حصے کے طور پر ثقافتی پرفارمنس بھی دیکھی۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب راجا جی گورنمنٹ ہاؤس (جو اب راشٹرپتی بھون کے نام سے جانا جاتا ہے) پہنچے تو انہوں نے اپنے کمرے میں رام کرشن پرمہمس اور مہاتما گاندھی کے پورٹریٹ رکھے۔ راجا جی نے واضح پیغام بھیجا کہ جب بھارت رسمی طور پر ایک ڈومینین تھا، سوراج بھارتیوں کے دلوں میں پوری طرح سے قائم ہوچکا تھا۔ اس طرح راجا جی نےسامراجیت سے ذہنی آزادی  کی ایک متاثر کن مثال قائم کی۔ ان کے نظریات بھارت کے لوگوں کی طرف سےبھارت کی وراثت پر فخر کرنے اور نوآبادیاتی ذہنیت کے آثار کو ختم کرنے کے لیے اپنائی گئی قومی مہم میں جھلکتے ہیں۔ بھارتیہ شعور اور تمامبھارتیوں کے ساتھ تعلق، خاص طور پر کمزور طبقات، راجا جی کے خیالات اور اعمال سے جھلکتا ہے۔

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کا استحصال کرنے والے برطانوی سامراجی اہلکاروں کی تصویریں پہلے راشٹرپتی بھون کی راہداریوں میں لٹکائی گئی تھیں۔ اب پرم ویر درگہ نامی گیلری پرم ویر چکر ایوارڈ یافتہ افراد کے پورٹریٹ سے مزین ہے۔ گرنتھ کتیر کو راشٹرپتی بھون میں قائم کیا گیا ہے تاکہبھارت کی کلاسیکی زبانوں کے مخطوطات اور متن میں جمع علم کی عظیم روایت کو برقرار رکھا جاسکے

 

۔

 

صدرجمہوریہ نے کہا کہ راشٹرپتی بھون ’راشٹر کا بھون‘ ہے۔ اس کا تعلق ملک کے شہریوں سے ہے۔ شملہ، حیدرآباد اور دہرادون میں راشٹرپتی بھون اور صدرجمہوریہ کی دیگر جائیدادیں ان تمام لوگوں کے استقبال کے لیے کھول دی گئی ہیں جو بھارت کی جمہوریت کی روایات اور اس کے بھرپور ثقافتی ورثے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ برطانوی دور حکومت میں بھارت کے لوگوں نے کئی بار قحط اور خشک سالی کی آفت کا سامنا کیا۔ آزادی کے بعد کے دور میں بھی ہمارے شہریوں کو خوراک کی کمی کا سامنا تھا۔ ساتھی شہریوں کے لیے ہمدردی اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے، راجا جی نے راشٹرپتی بھون کمپلیکس کے اندر اناج کی کاشت شروع کی۔ یہاں تک کہ انہوںنے خود کھیتوں میں ہل چلا کر ایک متاثر کن مثال قائم کی۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ راجا جی کو کثیر جہتی تخلیقی صلاحیتوں اور متعدد جہتوں سے نوازا گیا تھا۔ قانونی پیشے، آزادی کی جدوجہد، سماجی اور اقتصادی اصلاحات، قدیم بھارتیہ صحیفے، تامل اور انگریزی تحریروں، شاعری اور موسیقی، سیاست اور حکمرانی میں ان کی خدمات نے ان شعبوں کو بہت زیادہ تقویت بخشی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سودیشی اور آتم  نربھارت پر ہمارے ملک کا زور راجا جی کے بیان کردہ سوراج کے تصور کو آگے بڑھاتا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ جب ہم 2047 تک ’’وکست بھارت‘‘ بنانے کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں، راجا جی جیسے ہیرو ہمیں اپنے خیالات اور نظریات سے متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے سبھی پر زور دیا کہ وہ راجا جی کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے انٹرپرائز کے جذبے کو فروغ دینے کا عزم کریں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت کے لوگ راجا جی کی شخصیت اور کام سے متاثر ہو کر’سب سے پہلے قوم‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔

 

راجا جی اتسو میں موجود معززین میں نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن، وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان، وزیر ثقافت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین جناب ہری ونش، قانون و انصاف کے وزیر مملکت؛ اور پارلیمانی امور جناب ارجن رام میگھوال اور اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مروگنبھی موجود تھے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج راجا جی اتسو منا کر ہم نے نوآبادیاتی وراثت سے الگ ہونے کے اپنے سفر میں ایک اور سنگ میل حاصل کیا ہے۔بھارت نوآبادیاتی اثرات سے دور ہے۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہ گورننس، قانون، تعلیم، ثقافت اور قومی شناخت میں مسلسل تبدیلی ہے۔ راج بھون لوک بھون بن گئے، پی ایم او سیوا تیرتھ بن گئے، مرکزی سیکرٹریٹ کو کرتویہ بھون میں تبدیل کر دیا گیا، نوآبادیاتی دور کے فوجداری قوانین کی جگہ لے لی گئی، انڈیا گیٹ کے قریب نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کی تنصیب، قومی جنگی یادگار کی تعمیر۔ یہ تبدیلیاں محض علامتی نہیں ہیں۔ وہ حکومت کے سیوا بھاؤناکے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ راجا جی اتسوبھارت کے عظیم فرزند کا جشن اور صحیح پہچان ہے۔ راجا جی نے بھارت کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔ وہ ایک غیر معمولی ذہانت کے شخصتھے۔ انہوں نے مسلسل معاشی آزادی کی وکالت کی اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہبھارت کی اقتصادی پالیسی آزاد اور لبرل رہے گی۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی عظمت مقام یا طاقت سے نہیں بلکہ اندرونی تطہیر، اخلاقی طاقت اور اقدار کے ساتھ ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس موقع پر ایک پیغام بھیجا ہے جسے ثقافت کے وزیر نے سامعین کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

اپنے پیغام میں، وزیر اعظم لکھتے ہیں’عزت مآب صدر جمہوریہ کے ذریعہ راشٹرپتی بھون کے تاریخی مرکزی صحن میں جناب چکرورتی راجگوپالاچاری جی کے مجسمے کی نقاب کشائی، جسے بڑے پیمانے پر راجا جی کے نام سے جانا جاتا ہے،بھارت کے لوگوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

راجا جی نے مہاتما گاندھی کے ساتھ جو گہرے باہمی اعتماد اور دوستی کا اظہار کیا، وہ مشہور ہے۔ اس لیے یہ مناسب ہے کہ راجا جی کا مجسمہ مہاتما گاندھی کے مجسمے کے بالکل سامنے نصب کیا جائے۔ اس کے علاوہ، یہ حقیقت کہ راجا جی کا مجسمہ اسی جگہ رکھا جائے گا جہاں ایڈون لیوٹینز کا مجسمہ کھڑا ہوا کرتا تھا، یہ ایک اہم تفصیل ہے، جس سے سامراجیت سے ذہنی آزادی کا عمل ہے۔

آج، راشٹرپتی بھون اقتدار کی کرسی کے طور پر نہیں، بلکہبھارت تہذیب میں جڑے جمہوری خود اعتمادی کے ایک واضح مجسمہ کے طور پر کھڑا ہے۔ ’راجی اتسو‘ اورجناب سی راجگوپالاچاری جی کے مجسمے کی نقاب کشائی جیسے اقدامات اس سمت کو تقویت دیتے ہیں۔ وہ ان لیڈروں کی عزت کرتے ہیں جنہوں نے قوم کے ساتھ سانجھا کیا اور ہمیں یاد دلایا کہ آزادی ان کی یاد منانے سے برقرار رہتی ہے۔

 

وزیر اعظم نے کل اپنےمن کی بات خطاب میں کہا کہ راجا جی کے مجسمے کی نقاب کشائی نوآبادیاتی ذہنیت کے نشانات کو دور کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ راجا جی کی زندگی اور کام پر نمائش کا اہتمام راجی اتسو کے حصے کے طور پر 24 فروری سے 1 مارچ 2026 تک امرت ادیان میں کیا جائے گا۔

*******

(ش ح۔اص)

UR No 2928


(ریلیز آئی ڈی: 2231905) وزیٹر کاؤنٹر : 11