نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے راشٹرپتی بھون میں 'راجاجی اتسو' کے انعقاد کے موقع پر کہا کہ راجاجی کے مجسمے کی نقاب کشائی نوآبادیاتی دور کے اثر و رسوخ کی باقیات کو ختم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے
نائب صدر جمہوریہ نے راجاجی اتسو کے انعقاد کو ہندوستان کے عظیم سپوت جناب سی راجگوپالاچاری کے خدمات کا صحیح اعتراف قرار دیا
نوآبادیاتی دور کے اثر و رسوخ سے پرے ہندوستان کی تحریک ایک واحد واقعہ نہیں ہے،بلکہ ایک جاری تبدیلی ہے: نائب صدر
‘غلامی کی مان سیکتا سے مکتی’ کے وژن کے تحت کی گئی تبدیلیاں محض علامتی نہیں ہیں بلکہ وہ حکومت کے سیوا کی بھاوناکے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 FEB 2026 2:08PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج راشٹرپتی بھون میں ‘راجاجی اتسو’تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے ایڈون لیوٹینز کی جگہ نصب کئے گئے سی راجگوپالاچاری کے مجسمے کی نقاب کشائی کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ راجا جی کے مجسمے کی نقاب کشائی نوآبادیاتی دور کےاثر و رسوخ کی باقیات کو ختم کرنے کی سمت میں ایک اور اہم قدم کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ نوآبادیاتی دور کے اثر و رسوخ سے پرے ہندوستان کی تحریک ایک واحد واقعہ نہیں ہے،بلکہ حکمرانی،قانون،تعلیم،ثقافت اور قومی شناخت میں جاری تبدیلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے مرکز میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا وژن ہے،جنہوں نے برطانوی حکومت کے دورمیں ان اداروں اور رویوں کو تشکیل دینے والی نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی کے لیے مسلسل زور دیا ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ راج بھونوں کو لوک بھونوں میں تبدیل کرنا ؛ پی ایم او کا سیوا تیرتھ میں ترقی کرنا ،مرکزی سیکرٹریٹ کا نام بدل کر کرتوویہ بھون رکھنا، نوآبادیاتی دور کے فوجداری قوانین کی تبدیلی، انڈیا گیٹ کے قریب نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کی تنصیب ؛ اور نیشنل وار میموریل کی تعمیر سمیت کئی اقدامات کے ذریعے ‘غلامی کی مان سیکتا سے مکتی’ کے وژن کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں محض علامتی نہیں ہیں بلکہ یہ حکومت کے سیوا بھاؤنا کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرموکی قیادت میں راشٹر پتی بھون میں کئے گئے کئی اقدامات پر روشنی ڈالی۔جس میں باغات کو امرت ادیان کے طور پر کھولنا، دربار ہال کا نام بدل کر گنتنتر منڈپ رکھنا ؛ برطانوی اے ڈی سی کی تصاویر کو پرم ویر چکر ایوارڈ یافتگان کی تصاویر سے تبدیل کرنا اور ہندوستانی کلاسیکی زبانوں کے لیے ایک وقف لائبریری اور ذخیرہ ‘گرنتھ کٹیر’ کا افتتاح کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے عوامی شعور سے نوآبادیاتی دور کے نشانات کو مٹانے اور ہندوستان کے تہذیبی اعتماد کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
راجاجی اتسو کے انعقادکو ہندوستان کے ایک عظیم سپوت کا صحیح اعتراف قرار دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ سی راجگوپالاچاری نے ملک کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔
ایک وکیل،آزادی پسند،سیاست دان اور مصنف کے طور پر راجاجی کی کثیر جہتی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ان شخصیت غیر معمولی صلاحیت کی حامل تھی ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ راجاجی نے مسلسل معاشی آزادی کی وکالت کی اور اس بات کی یقین رکھتے تھے کہ ہندوستان کی معاشی پالیسی کو آزاد اور لبرل رہنا چاہیے۔
اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے،نائب صدر جمہوریہ نے امید ظاہر کی کہ راجاجی کی زندگی شہریوں کو اپنے کردار کو بلند کرنے کی ترغیب دیتی رہے گی کیونکہ وہ زیادہ ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں اور وہ مضبوط عزم رکھتے ہیں جیسے جیسے ان کے کردار بڑھتے ہیں اور وہ قوم کو ہمیشہ خود سے بالاتر رکھتے ہیں۔



*********************
UR- 2900
(ش ح۔ م م ع۔ت ا)
(ریلیز آئی ڈی: 2231724)
وزیٹر کاؤنٹر : 12