کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے ایم ایس ایم ای برآمدات کو فروغ دینے اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے ایکسپورٹ پروموشن مشن کا آغاز کیا


شمولیتی ترقی سماجی انصاف کی کنجی ہے؛ہندوستان کے مستقبل کی ترقی کو اے آئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز آگے بڑھائیں گی: جناب پیوش گوئل

ایم ایس ایم ایز کے لیے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ پرموشن مشن؛ ہندوستان نے فروری میں دو ہندسوں کی شرح سے برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا: جناب گوئل

نریات پروتساہن نے ایم ایس ایم ایز کے لیے ایکسپورٹ فیکٹرنگ ، ای کامرس کریڈٹ اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ سپورٹ کے ساتھ سود کی رعایت اور کریڈٹ گارنٹی متعارف کرائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 FEB 2026 1:36PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج ایکسپورٹ پروموشن مشن(ای پی ایم) کے تحت سات اضافی اقدامات کا آغاز کیا، جو محکمہ تجارت کی ایک نمایاں پہل ہے اور چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں ( ایم ایس ایم ایز) کو عالمی مارکیٹ میں بااختیار بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ یہ اقدامات  ہندوستانی برآمدکنندگان کو درپیش اہم چیلنجز کو حل کرنے، وسیع اور شمولیتی برآمدی نمو کو فروغ دینے اور ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک مسابقتی برآمدی طاقت کے طور پر مضبوط کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اس موقع پرکامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال بھی موجود تھے۔

سماجی انصاف  کے عالمی دن کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ سماجی انصاف کا مطلب ہے ،ہر پیرامڈ(ہرم) کے سب سے نچلے شخص تک رسائی حاصل کرنا۔ انہوں نے زور دیا کہ شمولیتی ترقی، پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا اور ہندوستان کی تیز رفتار تبدیلی میں پیچھے رہ جانے والوں کو مواقع فراہم کرنا ،حقیقی سماجی انصاف کے حصول کے لیے لازمی ہیں۔

وزیر موصوف نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور عالمی شراکت داری میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت پر روشنی ڈالی ۔  حال ہی میں اختتام پذیر اے آئی سمٹ کا حوالہ دیتے ہوئے  انہوں نے مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر عالمی بات چیت کے مرکز میں ہندوستان کو رکھنے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور متعلقہ وزراء کی تعریف کی ۔  انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ، مشین لرننگ ، کوانٹم کمپیوٹنگ ، ڈیٹا سینٹرز اور ملک کی بڑی زبان کے ماڈلز میں پیش رفت ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے اہم مواقع بنائے گی اور تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کو متحرک کرے گی ۔

جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک نے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ کیا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 70 فیصد اور عالمی تجارت کا دو تہائی حصہ اب امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کی پہلی قسط سمیت نو طے شدہ ایف ٹی اے کے ذریعے ہندوستان کے لیے قابل رسائی ہے ۔  یہ معاہدے 38 ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے شعبوں میں ترجیحی رسائی فراہم کرتے ہیں ۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان آج ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ پراعتمادانداز میں جڑا ہے۔ مسابقتی طاقت کے شعبوں میں فوائد حاصل کرتے ہوئے حساس شعبوں کا تحفظ کر رہا ہے ۔  2022 کے بعد سے ہندوستان نے تجارتی مصروفیات کو تیز کیا ہے ، اشیا ، خدمات اور سرمایہ کاری میں شراکت داری کو بڑھایا ہے ، تعمیل کے بوجھ کو کم کیا ہے ، کئی قوانین کو غیر مجرمانہ قرار دیا ہے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنایا ہے ۔  انہوں نے ملک کے تنوع اور اقتصادی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہوئے متعدد شہروں میں جی 20 سربراہ اجلاس کی ہندوستان کی کامیاب میزبانی کا بھی حوالہ دیا ۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عالمی تجارت کے فوائد ہر ایم ایس ایم ای ، اسٹارٹ اپ اور کاروباری شخص تک پہنچنا چاہیے ، جناب گوئل نے کہا کہ ایکسپورٹ پروموشن مشن کا مقصد نئی مصنوعات ، خدمات اور برآمد کنندگان کو فروغ دینا ہے ، جبکہ ہندوستانی کاروبار کو نئی منڈیوں تک رسائی کے قابل بنانا ہے ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے فروری کی پہلی ششماہی میں تجارتی برآمدات میں دوہرے ہندسے کی ترقی ریکارڈ کی ہے ، جو مارکیٹ کے مضبوط اعتماد اور صنعت کی فعال شرکت کی عکاسی کرتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مشن ایم ایس ایم ای کے لیے عمل کو آسان بنانا ، قرض تک رسائی کو مضبوط کرنا ، معیار کے معیار کو بہتر کرنا ، بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی تعمیل میں مدد کرنا اور عالمی سطح پر لاجسٹک اور گودام کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا چاہتا ہے ۔  دوبئی میں  بھارت مارٹ سمیت بیرون ملک گودام جیسے اقدامات کا مقصد ہندوستانی برآمد کنندگان کو جی سی سی ، افریقہ ، وسطی ایشیا اور یورپ کی منڈیوں تک اسٹریٹجک رسائی فراہم کرنا ہے ۔

ایکسپورٹ پروموشن مشن ایک متحد اور ڈیجیٹل نگرانی کے فریم ورک کے ذریعے فراہم کردہ ’نریات پروتساہن' کے تحت مالیاتی اہل کاروں اور 'نریات  دیشا' کے تحت تجارتی ماحولیاتی نظام کی حمایت کو یکجا کرکے ایک جامع ماحولیاتی نظام کا نقطہ نظر اپناتا ہے ۔

اس مشن کو وزارت ایم ایس ایم ای ، وزارت خزانہ ، ایگزم بینک ، کریڈٹ گارنٹی فنڈ ٹرسٹ فار مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز (سی جی ٹی ایم ایس ای) نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی لمیٹڈ (این سی جی ٹی سی) ریگولیٹڈ قرض دینے والے اداروں ، بیرون ملک ہندوستانی مشنوں ، ای پی سی اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے محکمہ تجارت کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے ۔

نئے اقدامات کا مقصد ایم ایس ایم ایز کو درپیش ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے ، جن میں سرمایہ کی زیادہ لاگت ، متنوع تجارتی مالیاتی آلات تک محدود رسائی ، بین الاقوامی منڈیوں میں تعمیل کا بوجھ ، لاجسٹک نقصانات اور مارکیٹ میں داخلے میں رکاوٹیں شامل ہیں ۔

نریات پروتساہن کے تحت شروع کیے گئے اقدامات میں شامل ہیں:

1. متبادل تجارتی آلات کے لیے معاونت (ایکسپورٹ فیکٹرنگ) – یہ اقدام ایم ایس ایم ایز کے لیے برآمدی فیکٹرنگ کو ایک سستی ورکنگ کیپیٹل حل کے طور پر فروغ دیتا ہے۔ اہل لین دین پر آر بی آئی ؍ آئی ایف ایس سی اے تسلیم شدہ اداروں کے ذریعے کی جانے والی فیکٹرنگ کی لاگت پرسود میں 2.75فیصد تک چھوٹ فراہم کی جائے گی۔ ہر ایم ایس ایم ای کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی اور یہ شفافیت اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل کلیم میکانزم کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔

2. ای کامرس برآمدکنندگان کے لیےقرض کی سہولت – ڈیجیٹل چینلز استعمال کرنے والے برآمدکنندگان کی حمایت کے لیے ڈھانچے شدہ قرض کی سہولیات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جس میں سود میں چھوٹ اور جزوی قرض کی گارنٹیز شامل ہیں۔ڈائریکٹ ای کامرس کریڈٹ سہولت – زیادہ سے زیادہ 50؍لاکھ روپے تک مدد فراہم کرے گی، جس میں 90؍فیصدگارنٹی کوریج ہوگی۔ بیرون ملک انوینٹری قرض کی سہولت – زیادہ سے زیادہ5؍ کروڑ تک مدد فراہم کرے گی، جس میں 75؍فیصد گارنٹی کوریج ہوگی۔   سود میں  2.75؍فیصد کی چھوٹ دستیاب ہوگی، جس پر ہر درخواست دہندہ کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ 15 لاکھ روپے کی حد مقر ر کی گئی ہے۔

3. ابھرتے ہوئے برآمدی مواقع کے لیے معاونت – یہ اقدام برآمدکنندگان کو نئے یا زیادہ خطرے والے بازار تک رسائی کے لیے مختلف شیئرڈ رسک اور کریڈٹ آلات فراہم کرتا ہے۔ یہ ڈھانچے شدہ میکانزم برآمدکنندگان کے اعتماد اور  نقد کے بہاؤ کو مضبوط کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ نریات دیشا کے تحت درج ذیل اقدامات شروع کیے گئے:

1. ٹریڈ ریگولیشنز، ایکریڈیشن اور کمپلائنس اینیبلمنٹ(ٹی آر اے سی ای)- ٹی آر اے سی ای برآمدکنندگان کو بین الاقوامی ٹیسٹنگ، جائزہ، سرٹیفیکیشن اور دیگر ہم آہنگی کی ضروریات پوری کرنے میں مددفراہم کرتا ہے۔ اہل ٹیسٹنگ، نگرانی اور سرٹیفیکیشن اخراجات کے لیے مثبت فہرست کے تحت 60؍فیصد اور پریورٹی مثبت فہرست کے تحت 75؍فیصد جزوی ادائیگی فراہم کی جائے گی، جس کی سالانہ زیادہ سے زیادہ حد 25 لاکھ روپے فی آئی سی سی ہوگی۔

2. لاجسٹکس، بیرون ملک مال گودام اور اور سپلائی اور مانگ کی تکمیل کے لیے دھانچہ جاتی سہولت(ایف ایل او ڈبلیو)-برآمدکنندگان کو بیرو ن ملک گودام اور سپلائی اور طلب کی تکمیل کے لیے ڈھانچہ جاتی سہولت تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس میں ای کامرس ایکسپورٹ ہبز  شامل ہے جو عالمی تقسیم کاری نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط ہیں۔ منظور شدہ پروجیکٹ کی لاگت کے 30؍فیصد تک مدد فراہم کی جائے گی۔ جو زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے اور مقررہ حدود اور ایم ایس ایم ای شرکت کے معیار کے مطابق ہے۔

3. مال برداری اور نقل و حمل کے لیے انتظامی اقدامات (ایل آئی ایف ٹی)- ایل آئی ایف ٹی ان اضلاع میں برآمدکنندگان کے لیے جغرافیائی نقصانات کو کم کرتا ہے ،جہاں برآمدات کی شرح کم ہے۔ اہل مال برداری کے اخراجات پر 30؍فصد تک جزوی ادائیگی فراہم کی جائے گی، ہر آئی ای سی  کے لیے سالانہ زیادہ سے زیادہ حد 20؍روپے مقرر ہے۔

4. تجارتی معلومات اور سہولت کاری کے لیے یکجا معاونت (آئی این ایس آئی جی ایچ ٹی)برآمدکنندگان کی صلاحیت سازی، ضلع اور کلسٹر سطح پر سہولت کاری اور ڈسٹرکٹس از ایکسپورٹ ہبز اقدام کے تحت تجارتی معلومات کے نظام کی ترقی کو مضبوط کرتا ہے۔ پروجیکٹ کی لاگت کا 50؍فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ مرکزی و ریاستی سرکاری اداروں اورہندوستان کے مشنز کی تجاویز کے لیےمقررہ حدود کے مطابق  100؍فیصدتک معاونت فراہم کی جائے گی۔

ان مربوط مالیاتی اور ماحولیاتی نظام کے اقدامات کے ذریعے  حکومت کا مقصد سرمایہ کی لاگت کو کم کرنا ، تجارتی مالیاتی آلات کو متنوع بنانا ، تعمیل کی تیاری کو بڑھانا ، لاجسٹک رکاوٹوں کو دور کرنا اور ایم ایس ایم ایز کے لیے بیرون ملک مارکیٹ کے انضمام کو مضبوط کرنا ہے ۔

3 اقدامات- بازار تک رسائی کی حمایت، پیشگی اور شپمنٹ کے بعد برآمدی قرض کے لیے سود میں رعایت اور برآمدی قرض کے لیے ضمانتی معاونت پہلے ہی عمل میں ہیں۔ اس آغاز کے ساتھ ای پی ایم کے تحت تجویز کردہ 11 اقدامات میں سے 10 اب فعال ہو چکے ہیں۔

ریاستی حکومتوں ، ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں اور صنعتی اداروں بشمول ایف آئی ای او ، ای ای پی سی ، جی جے ای پی سی ، سی آئی آئی ،ایف آئی سی سی آئی ، پی ایچ ڈی سی سی آئی ،  اے ایس ایس او سی ایچ اے ایم  اور این اے ایس ایس سی او ایم کے نمائندوں نے اس پہل کا خیر مقدم کیا اور اس کے موثر نفاذ کے لیے حمایت کا اظہار کیا ۔

****

ش ح۔م ع ن۔ خ م

U. No. 2775


(ریلیز آئی ڈی: 2230725) وزیٹر کاؤنٹر : 15