وزیراعظم کا دفتر
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران لیڈران کے مکمل اجلاس میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا بیان
اے آئی امپیکٹ سمٹ انسان پر مرکوز، حساس عالمی ماحولیاتی نظام تشکیل دے گا: وزیر اعظم
حکمرانی کے مرکز میں عالمی جنوب کی ترجیحات کے ساتھ اے آئی سب ٍکے لیے قابل رسائی ہونا چاہیے: وزیر اعظم
اے آئی میں اخلاقیات لامحدود ہونی چاہیے ؛ منافع کو مقصد کے مطابق ہونا چاہیے: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے تین اہم تجاویز کا خاکہ پیش کیا: قابل اعتماد عالمی ڈیٹا فریم ورک ، شفاف ’گلاس باکس‘ حفاظتی ضوابط اور اے آئی میں بنیادی انسانی اقدار
اے آئی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مشترکہ وسیلہ ہے: وزیر اعظم
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 4:29PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران لیڈران کے مکمل اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ہندوستان میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ایک بار پھر شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ سمٹ انسان پر مرکوز اور حساس عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ انسانیت نے ہمیشہ رکاوٹوں کو مواقع میں تبدیل کیا ہے اور آج کا دورجدت طرازی کو انسانیت کے سب سے بڑے موقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایسا ہی ایک اور لمحہ پیش کرتا ہے۔
جناب مودی نے بھگوان بدھ کی اس تعلیم کو یاد کیا کہ ’’صحیح عمل صحیح تفہیم سے آتا ہے‘‘ ۔ انہوں نے ایک ایسا روڈ میپ بنانے کی اہمیت پر زور دیا جو بروقت ، نیک نیت اور درست فیصلوں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے مثبت اثرات کو یقینی بناتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ عالمی وباء کے دوران دنیا نے دیکھا کہ جب قومیں ایک ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تعاون نے حل فراہم کیے-ویکسین تیار کرنے سے لے کر سپلائی چین تک، ڈیٹا شیئرنگ سے لے کر جانیں بچانے تک۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دیکھا کہ ٹیکنالوجی کس طرح انسانیت کی خدمت کر سکتی ہےاور ڈیجیٹل ٹیکہ کاری پلیٹ فارم کا حوالہ دیا جس نے لاکھوں افراد کو وقت پر ٹیکہ لگانے میں مدد کی ۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ یو پی آئی نے مشکل حالات میں بھی بلا رکاوٹ آن لائن لین دین کو یقینی بنایا اور ڈیجیٹل فرق کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان نے ایک متحرک ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ بنایا ہے اور اسے دنیا کے ساتھ بانٹ رہا ہے، کیونکہ ہندوستان کے لیے ٹیکنالوجی طاقت کا نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے، غلبہ حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ بااختیار بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کو بھی انسانیت کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اس سمت پر عمل کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں ٹیکنالوجی نے تقسیم پیدا کی تھی، لیکن اے آئی کو اب قابل رسائی اور ہر ایک کی پہنچ میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جیسا کہ اے آئی کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے، عالمی جنوب کی امنگوں اور ترجیحات کو اے آئی گورننس کے مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔
جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اخلاقی اصول ہمیشہ انسانی ترقی کے لیے مرکزی اہمیت کے حامل رہے ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کے ساتھ غیر اخلاقی رویے کی گنجائش لامحدود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے لیے اخلاقی معیارات بھی لامحدود ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کمپنیاں نہ صرف منافع پر بلکہ مقصد پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری رکھتی ہیں اور مضبوط اخلاقی وعدوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی سطح پر اے آئی پہلے ہی انسانی تعلیم، ذہانت اور جذبات کو متاثر کر رہا ہے۔
اخلاقی اے آئی کے استعمال کے لیے، وزیر اعظم نے تین تجاویز پیش کیں:
- اے آئی کی تربیت کو ڈیٹا کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور ایک قابل اعتماد عالمی ڈیٹا فریم ورک پر مبنی ہونا چاہیے ۔ انہوں نے ’’گابیج اِن، گاربیج آؤٹ‘‘ کے اصول پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ اگر ڈیٹا محفوظ، متوازن اور قابل اعتماد نہیں ہے تو آؤٹ پٹ قابل اعتماد نہیں ہو سکتا۔
- اے آئی پلیٹ فارمز کو اپنے حفاظتی قوانین کو واضح اور شفاف رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ’’بلیک باکس‘‘ کے بجائے ’’گلاس باکس‘‘ کے نقطۂ نظر پر زور دیا، جہاں حفاظتی اصول نظر آتے ہیں اور قابل تصدیق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جواب دہی کو یقینی بنایا جائے گا اور کاروبار میں اخلاقی رویے کو تقویت ملے گی۔
- اے آئی واضح انسانی اقدار سے رہنمائی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک مثال کے طور پر ’’کاغذی کلپ کا مسئلہ‘‘ کا حوالہ دیا، جہاں ایک واحد مقصد دی گئی مشین اسے حاصل کرنے کے لیے تمام عالمی وسائل کو ختم کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی طاقتور ہے، لیکن سمت کا تعین ہمیشہ انسانوں کو کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے عالمی سفر میں امنگوں والے ہندوستان کا ایک اہم کردار ہے اور اس ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان اہم اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان کے اے آئی مشن کے تحت، 38,000 جی پی یو پہلے ہی دستیاب ہیں اور اگلے چھ مہینوں میں 24,000 مزید شامل کیے جائیں گے۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان اپنے اسٹارٹ اپس کو انتہائی سستی قیمتوں پر عالمی معیار کی کمپیوٹنگ طاقت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اے آئی کوش (نیشنل ڈیٹا سیٹ پلیٹ فارم) بھی بنایا ہے جس کے ذریعے 7500 سے زیادہ ڈیٹا سیٹس اور 270 اے آئی ماڈلز کو قومی وسائل کے طور پر شیئر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے لیے ہندوستان کی سمت اور وژن واضح ہے-اے آئی انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مشترکہ وسیلہ ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اے آئی مستقبل کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا جو اختراع کو آگے بڑھائے، شمولیت کو مضبوط کرے اور انسانی اقدار کو مربوط کرے۔ جناب مودی نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ جب ٹیکنالوجی اور انسانی اعتماد ایک ساتھ آگے بڑھیں گے تو اے آئی کا حقیقی اثر پوری دنیا میں نظر آئے گا۔
****
ش ح۔ ک ح۔ خ م
U.NO.2725
(ریلیز آئی ڈی: 2230273)
وزیٹر کاؤنٹر : 14