وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا افتتاح کیا


مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ میں ایک تبدیلی لانے والے باب کی نشاندہی کرتی ہے:  وزیر اعظم

ہمیں مصنوعی ذہانت کو جمہوری بنانا ہوگا؛ یہ بالخصوص عالمی جنوب کے لیے شمولیت اور بااختیاری کا ذریعہ بننا چاہیے: وزیراعظم

وزیر اعظم نے ایم اے این اے وی کا خاکہ پیش کیا ،جس میں اے آئی کے لیے وژن-اقدار اور اخلاقی نظام ، جوابدہ حکمرانی ، قومی خودمختاری ، قابل رسائی اور جامع ، درست اور تصدیق شامل ہیں

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں انسان اور ذہین نظام مل کر تخلیق کریں گے، مل کر کام کریں گے اور مل کر ارتقا کریں گے؛ مصنوعی ذہانت ہمارے کام کو زیادہ بہتر، زیادہ مؤثر اور زیادہ اثر انگیز بنائے گی: وزیراعظم

ہمیں عالمی سطح پر مشترکہ بھلائی کے لیے مصنوعی ذہانت کے عزم کو اجتماعی شکل دینا ہوگی: وزیراعظم

مصنوعی ذہانت میں  ہندوستان کو مواقع بھی نظر آتے ہیں اور کل کے نقشۂ راہ کی جھلک بھی: وزیراعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 11:36AM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا افتتاح کیا ۔  اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی اے آئی امپیکٹ سمٹ ہندوستان میں منعقد ہو رہی ہے ، جو انسانیت کے چھٹے حصے کی نمائندگی کرتا ہے ۔  انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی آبادی ، سب سے بڑا ٹیک ٹیلنٹ پول اور ایک ترقی پذیر ٹیک سے چلنے والا ماحولیاتی نظام کامرکز ہے ۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نہ صرف نئی ٹیکنالوجیز تیار کرتا ہے ،بلکہ انہیں بے مثال رفتار سے اپناتا بھی ہے ۔  وزیر اعظم نے کہا کہ 140 کروڑ ہندوستانی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے پرجوش ہیں اور ان کی جانب سے انہوں نے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان حکومت ، عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے قائدین اور اختراع کاروں کا پرتپاک خیر مقدم کیا ۔  انہوں نے ان کی موجودگی پر اظہار تشکر پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں اس سربراہ اجلاس کی میزبانی نہ صرف ملک بلکہ پورے گلوبل ساؤتھ کے لیے باعث فخر ہے۔

جناب مودی نے اجاگر کیا کہ اس سمٹ میں مصنوعی ذہانت کی دنیا کی نمایاں شخصیات شریک ہیں اور 100 سے زائد ممالک کی نمائندگی کے ساتھ دنیا بھر سے ممتاز شرکاء نے حصہ لیا ہے، جس سے اس کی کامیابی نئی بلندیوں تک پہنچی ہے۔ انہوں نے سمٹ میں نوجوان نسل کی مضبوط موجودگی کو نمایاں کرتے ہوئےنئے اعتماد کا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ نئی ٹیکنالوجیز کو ابتدا میں اکثر شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن جس رفتار اور اعتماد کے ساتھ دنیا بھر کے نوجوان مصنوعی ذہانت کو قبول کر رہے ہیں، اس کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور اسے استعمال کر رہے ہیں، جو بے مثال ہے۔وزیراعظم نے اے آئی سمٹ کی نمائش کے گرد پائے جانے والے جوش و خروش کا بھی ذکر کیا، خاص طور پر نوجوان صلاحیتوں کی بڑی شرکت کو نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، سلامتی، دیویانگ جن (معذور افراد) کی معاونت اور کثیر لسانی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے جیسے شعبوں میں پیش کیے گئے حل ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ کی طاقت کی عکاسی کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہندوستان کی اختراعی صلاحیتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ہر چند صدیوں میں ایک اہم موڑ سامنے آتا ہے جو تہذیب کی سمت کو بدلتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایسے لمحات ترقی کی رفتار کو بدلتے ہیں اور سوچ ، افہام و تفہیم اور کام کرنے کے نمونوں کو تبدیل کرتے ہیں ۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ تبدیلی کے ایسے ادوار کے دوران ، اصل اثر اکثر فوری طور پر نہیں سمجھا جاتا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب پہلی بار پتھروں سے چنگاریاں پیدا ہوئیں تو کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہی چنگاری  انسانی تہذیب کی بنیاد بنے گی ۔ جناب مودی نے کہا کہ جب بولی جانے والی زبان کو پہلی بار رسم الخط میں تبدیل کیا گیا تو کسی کو یہ احساس نہیں تھا کہ تحریری علم مستقبل کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سگنلز کو پہلی بار وائرلیس طریقے سے منتقل کیا گیا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن پوری دنیا حقیقی وقت میں جڑی ہوگی ۔

جناب مودی نے کہا کہ’’مصنوعی ذہانت انسانی تہذیب میں تاریخی موڑ کی طرح ہی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے‘‘ ، اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ آج جو دیکھا اور پیش گوئی کی جا رہی ہے وہ اس کے اثرات کی صرف ابتدائی علامتیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مشینوں کو ذہین بنا رہی ہے ، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ انسانی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ اس بار فرق بے مثال رفتار اور غیر متوقع پیمانے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ٹیکنالوجی کے اثرات کو ظاہر ہونے میں کئی دہائیاں لگتی تھیں ، لیکن آج مشین لرننگ سے لے کر لرننگ مشینوں تک کا سفر تیز ، گہرا اور وسیع ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے لیے ایک بڑے وژن اور اتنی ہی بڑی ذمہ داری کی ضرورت ہے ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نسل کے ساتھ ساتھ اے آئی کی شکل کے بارے میں بھی تشویش ہونی چاہیے جو آنے والی نسلوں کے حوالے کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اے آئی مستقبل میں کیا کر سکتی ہے ، بلکہ یہ ہے کہ انسانیت موجودہ دور میں اے آئی کے ساتھ کیا کرنے کا انتخاب کرتی ہے ۔ جوہری طاقت  کی مثال دیتےہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انسانیت نے اس کی تباہ کن صلاحیت اور اس کے مثبت تعاون دونوں کو دیکھا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اے آئی بھی ایک تبدیلی لانے والی طاقت ہے-اگر بے سمت ہو تو یہ خلل کا باعث بنتی ہے ، لیکن صحیح سمت کے ساتھ ، یہ ایک حل بن جاتا ہے ۔ جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کا بنیادی مقصد اس بات پر غور کرنا ہے کہ کس طرح اے آئی کو مشین پر مرکوز کرنے کے بجائے انسان پر مرکوز بنایا جا سکتا ہے اور اسے کس طرح حساس اور ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے ۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اے آئی کے لیے ہندوستان کا وژن سمٹ کے تھیم-’سروجن ہتائے ، سروجن سکھائے'-سب کی فلاح، سب کی خوشحالی‘ میں واضح طور پر جھلکتا ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے معیار ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انسانوں کو اے آئی کے لیے محض ڈیٹا پوائنٹس یا خام مال نہیں بننا چاہیے اور اس لیے اے آئی کو جمہوری بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اے آئی کو شمولیت اور بااختیار بنانے کے ذریعہ کے طور پر کام کرنا چاہیے ، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اے آئی کو کھلا آسمان دیا جانا چاہیے ، جبکہ کمان انسانی ہاتھوں میں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے اس کا موازنہ جی پی ایس سے کیا ، جو راستہ تجویز کرتا ہے لیکن حتمی فیصلہ صارف پر چھوڑ دیتا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسانیت آج اے آئی کو جس سمت لے جا رہی ہے وہ مستقبل کا تعین کرے گی ۔

نئی دہلی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں وزیرِاعظم نے مصنوعی ذہانت کے لیےہندوستان کا ’’ ایم اے این اے وی‘‘ وژن پیش کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایم اے این اے وی کا مطلب ہے:

  • ایم-اخلاقی اور اصولی نظام: مصنوعی ذہانت کو اخلاقی رہنما اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔
  • اے- جوابدہ طرز حکمرانی: شفاف قواعد اور مضبوط نگرانی ضروری ہے۔
  •  این- قومی خودمختاری: ڈیٹا پر جائز مالک کا حق ہے۔
  •  اے- قابلِ رسائی اور جامع: مصنوعی ذہانت اجارہ داری نہیں بلکہ ترقی کو بڑھانے والا ذریعہ ہونی چاہیے۔
  •  وی-معتبر اور جائز: مصنوعی ذہانت قانونی اور قابلِ تصدیق ہونی چاہیے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کا ایم اے این اے وی ویژن 21 ویں صدی کی اے آئی پر مبنی دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم کڑی بن جائے گا ۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کئی دہائیاں پہلے جب انٹرنیٹ شروع ہوا تھا تو کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس سے کتنی ملازمتیں پیدا ہوں گی ۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج بھی اے آئی کے لیے یہی سچ ہے ، کیونکہ یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ مستقبل میں کس قسم کی ملازمتیں سامنے آئیں گی ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اے آئی میں کام کا مستقبل پہلے سے متعین نہیں ہے ، بلکہ اس کا انحصار اجتماعی فیصلوں اور اقدامات پر ہوگا ۔ جناب مودی نے کہا کہ کام کا مستقبل ایک نیا موقع ہے ، جو ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتا ہے ،جہاں انسان اور ذہین نظام مل کر کام کرتے ہیں اور مل کر ترقی کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کام کوبہتر ، زیادہ موثر اور زیادہ اثر انگیز بنائے گی ، جس سے بہتر ڈیزائن ، تیز تر تعمیر اور بہتر فیصلہ سازی ممکن ہوگی ۔

جناب مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے اعلی ٰقدر ، تخلیقی اور بامعنی کردار بھی واضع کرے گی ، جس سے اختراع ، صنعت کاری اور نئی صنعتوں کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے ہنر مندی ، نئی مہارت اور زندگی بھر سیکھنے کو ایک عوامی تحریک بنانے کی اہمیت پر زور دیا ۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کام کا مستقبل جامع ، قابل اعتماد اور انسان پر مرکوز ہوگا ، وزیر اعظم نے کہا کہ اگر انسانیت ایک ساتھ آگے بڑھتی ہے تو مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ شفافیت سب سے بڑا تحفظ ہے اور اس کہاوت کا حوالہ دیا کہ ’’دھوپ بہترین جراثیم کُش ہے۔‘‘ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ جہاں کچھ ممالک اور کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو ایک اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتے ہوئے خفیہ طور پر ترقی دینے کو ترجیح دیتی ہیں، وہیں ہندوستان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت تب ہی دنیا کے لیے مفید ثابت ہوگی، جب اسے باہمی طور پر شیئر کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اوپن کوڈ اور مشترکہ ترقی کے ذریعے لاکھوں نوجوان ذہن مصنوعی ذہانت کو مزید بہتر اور محفوظ بنا سکیں گے۔ انہوں نے عالمی مشترکہ بھلائی کے طور پر مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اجتماعی عزم کی اپیل کی۔

عالمی معیارات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِاعظم نے نشاندہی کی کہ ڈیپ فیکس اور من گھڑت مواد کھلے معاشروں کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ خوراک پر غذائیتی لیبل کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مواد پر بھی صداقت کے لیبل ہونے چاہییں تاکہ لوگ حقیقی اور اے آئی سے تیار کردہ مواد میں فرق کر سکیں۔ شری مودی نے اس امر پر زور دیا کہ جب مصنوعی ذہانت تیزی سے متن، تصاویر اور ویڈیوز تخلیق کر رہی ہے تو واٹرمارکنگ اور واضح ماخذی معیارات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے، اور اعتماد کو ابتدا ہی سے ٹیکنالوجی میں شامل کرنا ہوگا۔

بچوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح اسکولوں کے نصاب کو باقاعدہ ترتیب دیا جاتا ہے، اسی طرح مصنوعی ذہانت کا میدان بھی بچوں کے لیے محفوظ اور خاندانی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج دو طرح کے لوگ ہیں—ایک وہ جو مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ ہیں اور دوسرے وہ جو اس میں مواقع دیکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت میں مواقع اور مستقبل دونوں دیکھتا ہے اور اس کے پیچھے ملک کی صلاحیت، توانائی کی گنجائش اور پالیسی کی وضاحت موجود ہے۔  جناب مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ سمٹ کے دوران تین  ہندوستانی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ماڈلز اور ایپس لانچ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈلز  ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا مظہر ہیں اور عالمی اے آئی منظرنامے میں  ہندوستان  کی جانب سے پیش کیے جانے والے متنوع اور گہرے حل کی عکاسی کرتے ہیں۔

 

وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ  ہندوستان سیمی کنڈکٹرز اور چِپ سازی سے لے کر کوانٹم کمپیوٹنگ تک ایک مضبوط اور مستحکم ماحولیاتی نظام قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ محفوظ ڈیٹا سینٹرز، مضبوط آئی ٹی ڈھانچہ اور متحرک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم  ہندوستان کو کم لاگت، قابلِ توسیع اور محفوظ اے آئی حل کے لیے ایک فطری مرکز بناتے ہیں۔ جناب مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ  ہندوستان تنوع، آبادی اور جمہوریت کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اے آئی ماڈل  ہندوستان میں کامیاب ہو سکتا ہے، وہ عالمی سطح پر بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے’’ہندوستان میں ڈیزائن اور ترقی،عالمی سطح پر رسائی ، نوع انسانی کورسائی‘ عنوان کے ساتھ دنیا کومدعو کیا۔

اس موقع پر فرانس جمہوریہ کے صدر عزت مآب جناب ایمانوئل میکراں، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت، وزراء، کثیرالجہتی اداروں کے سینئر نمائندگان اور ٹیکنالوجی و اے آئی صنعت کے رہنما سمیت دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

پس منظر

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا تھیم سروجن ہتائے ، سروجن سکھائے،یعینی   سب کی فلاح ، سب کی خوشحالی‘ ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک رہنما کے طور پر کھڑا کرنا ہے اور ایک ایسے مستقبل کا تصور کرنا ہے ،جہاں مصنوعی ذہانت انسانیت کو آگے بڑھائے ، جامع ترقی کو فروغ دے اور ہمارے مشترکہ سیارے کی حفاظت کرے ۔

سمٹ کی بنیاد سات ورکنگ گروپس پر رکھی گئی ہے، جو تین ستونوں — لوگ، سیارہ اور ترقی — کے مطابق ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گروپس مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کو عملی نتائج کی صورت میں پیش کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ان سات موضوعات میں شامل ہیں: اقتصادی ترقی اور سماجی بھلائی کے لیے اے آئی؛ اے آئی وسائل کو جمہوی بنانا؛ سماجی بااختیاری کے لیے شمولیت؛ محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی؛ انسانی سرمایہ؛ سائنس؛ اور لچک، اختراع اور کارکردگی۔

سمٹ میں 500 سے زائد عالمی اے آئی رہنما شرکت کریں گے، جن میں سی ای اوز اور سی ایکس اوز، تقریباً 100 سی ای اوز اور بانیان، 150 ماہرینِ تعلیم اور محققین اور 400 سی ٹی اوز، وائس پریزیڈنٹس اور فلاحی شعبے سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد سرکاری نمائندگان بھی شریک ہوں گے، جن میں 20 سے زیادہ سربراہانِ مملکت و حکومت اور تقریباً 60 وزراء اور نائب وزراء شامل ہیں۔

****

ش ح۔م ع ن۔ ع د

U. No. 2704


(ریلیز آئی ڈی: 2230152) وزیٹر کاؤنٹر : 13