ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریلو ے کی وزارت نے’’سفر کےلیے بہتر خدمات” اور ’’گتی شکتی کارگو ٹرمینلز اور کارگو سے متعلق سہولیات کے ذریعے ریل پر مبنی لاجسٹکس‘‘کے ساتھ ریفارم ایکسپریس کو آگے بڑھایا ہے


ایک تاریخی قدم کے تحت عام کوچز پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے وزارت  ریل نے ٹرینوں کی مسلسل صفائی کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا

چادروں اور کمبلوں کےبہتر انتظام اور کوچز کی معیاری صفائی کے لیے سروس فراہم کنندہ کی نشاندہی کی جائے گی؛ بہتر صفائی کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی سے لیس نگرانی کا نظام متعارف کرایا جائے گا

علاقائی تجربات اور بہتر عملیاتی کارکردگی کی بنیاد پر اس ماڈل کو پورےہندوستانی ریلوے میں نافذ کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے

ایک اہم اصلاح کے تحت موجودہ 124 ملٹی ماڈل ٹرمینلز کو ’کارگو پلس پروسیسنگ ہبز‘ میں تبدیل کیا جائے گا

لاجسٹکس شعبے کو فروغ دینے کے لیے 500 سے زائد ’’گتی شکتی کارگو ٹرمینلز قائم کرنے کا منصوبہ


پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 FEB 2026 6:52PM by PIB Delhi

ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج اعلان کیا کہ سال 2026 کے دوران’’52 ہفتوں میں 52 اصلاحات‘‘ کے ہندوستانی ریلوے کے عزم کے مطابق، ہندوستانی ریلوے کی جانب سے دو نئی اصلاحات کو منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کوئی ایک وقتی اقدام نہیں، بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔

جناب ویشنو نے کہا کہ آج اس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، کیونکہ ہندوستانی ریلوے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مال بردار نظام بن چکا ہے اور پورے نظام میں نئے دور کی ٹرینیں اور کام کرنے کے جدید طریقے فروغ پا رہے ہیں۔

سفر کے دوران بہتر خدمات کے لیے اصلاحات

پہلی اصلاح کی وضاحت کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ سال 2026 سےہندوستانی ریلوے ٹرینوں، خصوصاً طویل فاصلے کی ٹرینوں کی مکمل اور مربوط صفائی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ نظام کے تحت صفائی زیادہ تر ریزروڈ کوچز تک محدود تھی اور ریلوے کی تاریخ میں پہلی بار جنرل کوچز کی صفائی کو بھی مکمل طور پر نظام میں شامل  کیاگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سابقہ کلین ٹرین اسٹیشن تصور، جس کے تحت چند مخصوص اسٹیشنوں پر گہری اور بہتر صفائی کی جاتی تھی، اب اسے ٹرین کے روانگی کے مقام سے لے کر منزل تک مسلسل صفائی کے ماڈل  میں تبدیل کیا جارہا ہے۔اس کے تحت بیت الخلا، کوڑے دان، کیبن کے اندرونی حصے، پانی کی دستیابی اور سفر کے دوران پیدا ہونے والی چھوٹی برقی یا مکینیکی خرابیوں جیسے لائٹ بند ہونے کے مسائل کا مسلسل حل کیا جائے گا، تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران بہتر ماحول فراہم کیا جاسکے۔

جناب ویشنو نے کہا کہ یہ اصلاح مسافروں کے سفری ماحول کو مکمل طور پر بہتر بنانے کے وژن کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔ زونل ریلوے سے مشاورت کے بعد ہر زون میں تقریباً چار سے پانچ بالخصوص طویل فاصلے اور زیادہ مسافر آمدورفت والی ٹرینیں اگلے چھ ماہ میں نفاذ کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔ پہلے مرحلے میں مختلف زونز میں مجموعی طور پر 80 ٹرینوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور تین برسوں کے اندر یہ اصلاح ہندوستانی ریلوے کی تمام ٹرینوں میں نافذ کر دی جائے گی۔ ٹرینوں کا انتخاب انتظامی سطح پر علاقائی آراء اور آپریشنل معیارات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے تفصیل سے بتایا کہ واضح طور پر متعین سروس لیول ایگریمنٹس کے تحت صفائی کی فریکوئنسی طے کرتے ہوئے ایک مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے لیس پیشہ ور ٹیم تعینات کی جائے گی۔ زیادہ بھیڑ کے اوقات میں صفائی زیادہ بار کی جائے گی جبکہ کم بھیڑ کے دوران نسبتاً کم فریکوئنسی رکھی جائے گی۔ بیت الخلاؤں کی مسلسل صفائی، کچرے کا مناسب  حل، کیبنٹس کی صفائی، چادروں اور کمبلوں کا انتظام اور متعلقہ خدمات کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چادروں اور کمبلوں کی تقسیم، ان کی واپسی اور صفائی سے متعلق کام، جو پہلے مختلف ایجنسیوں کے درمیان تقسیم تھے، اب یکجا کرکے ایک ہی ایجنسی کے سپرد کیے جائیں گے۔ مقررہ اسٹیشنوں پر ریزروڈ کوچز میں تعینات عملہ جنرل کوچز میں بھی جا کر وہی صفائی کے معیارات یقینی بنائے گا جو ریزروڈ کوچز میں نافذ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسے ریلوے کی تاریخ میں ایک بڑا انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار جنرل کوچز کی صفائی پر اتنی جامع اور ٹھوس توجہ دی جا رہی ہے۔

اس اصلاح کے تحت وار روم کنٹرول سینٹرز کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں صفائی کی سرگرمیوں کی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کی نگرانی اور تجزیہ کیا جائے گا۔ اے آئی پر مبنی جانچ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ صفائی مناسب طور پر انجام دی گئی ہے یا نہیں اور اگر کوتاہی پائی گئی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریلوے بورڈ کے افسران کے طویل آپریشنل تجربے کی بنیاد پر تفصیلی مطالعے کے بعد روٹ کے مطابق خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ ان ٹیموں میں کثیر مہارت رکھنے والا عملہ شامل ہوگا، جو صفائی کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے مکینیکل اور برقی مرمتی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، تاکہ مربوط آن بورڈ خدمات فراہم کی جا سکیں۔

مال برداری کے اہداف کے حصول کے لیے بہتر سہولیات کے ساتھ مزید گتی شکتی کارگو ٹرمینلز

دوسری اصلاح پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ یہ اصلاح 2022 میں متعارف کرائی گئی گتی شکتی کارگو ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی پر مبنی ہے، جس نے کارگو ٹرمینلز کی منظوری کے عمل کو نمایاں طور پر آسان بنا دیا۔ وہ کام جو پہلے چھ سال میں مکمل ہوتے تھے، اب تقریباً تین ماہ میں انجام پانے لگے، اور انجینئرنگ ڈرائنگز، سگنلنگ منصوبوں اور برقی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو بھی سادہ اور مربوط بنا یا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 124 ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینلز تیار کیے گئے، جن میں تقریباً 200 ملین ٹن سالانہ مال برداری کی صلاحیت اور لگ بھگ 20,000 کروڑ روپے سالانہ آمدنی کی گنجائش موجود ہے۔

جناب ویشنو نے کہا کہ تین برس کے تجربے کی بنیاد پر چار ماہ تک مختلف اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد ایک نمایاں طور پر مزید مضبوط اصلاح کو منظوری دی گئی ہے۔ اس اصلاح کے تحت موجودہ 124 گتی شکتی کارگو ٹرمینلز کی تعداد اگلے پانچ برسوں میں بڑھ کر 500 سے زائد ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اسے 2022 کی اصلاح سے بھی کہیں زیادہ وسیع اور بنیادی نوعیت کی اصلاح قرار دیا۔

سب سے اہم اضافہ کارگو ٹرمینلز کے اندر پروسیسنگ کی سہولت کو شامل کرنا ہے، جس کے ذریعے انہیں “کارگو پلس پروسیسنگ” ہب میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیمنٹ کلنکر کو گتی شکتی کارگو ٹرمینل تک لا کر وہیں اسے پیس کر سیمنٹ بنایا جا سکتا ہے، اس کے بعد بیگنگ یا ریڈی مکس کنکریٹ گاڑیوں کے ذریعے ترسیل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اناج کی پروسیسنگ، اسٹفنگ اور ڈی اسٹفنگ(سامان کو کنٹنر میں بھرنے اور خالی کرنے کا عمل) اور دیگر ویلیو ایڈیشن سرگرمیاں بھی اب ٹرمینل کے احاطے میں انجام دی جا سکیں گی۔ اس سے مواد کو پہلے کہیں اور پروسیس کر کے ٹرمینل تک لانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی، مصنوعی رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریلوے کی جانب اضافی مال برداری راغب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے کم استعمال ہونے والے مال گودام کو گتی شکتی کارگو ٹرمینلز اور کارگو سہولیات کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ سابقہ پالیسیوں کے تحت قائم لیگیسی سائیڈنگز کو بھی سادہ جی سی ٹی فریم ورک میں منتقل کیا جا سکے گا۔ ٹرمینلز اور مین لائن کے درمیان مختصر رابطہ حصوں میں، جہاں نجی آپریٹرز کو مہنگے آلات کے باعث پٹریوں اور برقی نظام کی دیکھ بھال میں دشواری پیش آتی تھی، اب ریلوے ادائیگی کی بنیاد پر اختیاری طور پر دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گی، جس سے حفاظت میں بہتری آئے گی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری واضح ہوگی۔

اس اصلاح کے تحت مشترکہ استعمال کی سہولیات میں توسیع کی اجازت دی گئی ہے، جن میں وائی کنکشنز اور ریل اوور ریل ڈھانچے شامل ہیں۔ ملٹی جی سی ٹی کنیکٹیویٹی کو باضابطہ شکل دی گئی ہے تاکہ اگر کسی موجودہ راستے پر نیا ٹرمینل قائم کیا جائے تو اسے کنیکٹیویٹی سے محروم نہ رکھا جا سکے، یوں سابقہ تنازعات اور عدالتی مقدمات کی روک تھام ہوگی۔ تنازعات کی روک تھام کے لیے ایک فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت ٹرمینل ڈویلپرز اور ریلوے حکام کے درمیان ماہانہ یا مرحلہ وار مشترکہ اجلاس ہوں گے، جن کے نتیجے میں مشترکہ نوٹس اور “نو ڈسپیوٹ سرٹیفکیٹس” جاری کیے جائیں گے، جس سے ثالثی یا عدالتی کارروائی کی ضرورت کم ہوگی۔

پالیسی میں معیاری لے آؤٹس کو شامل کیا گیا ہے اور جو درخواست گزار معیاری ڈیزائن اپنائیں گے انہیں خودکار منظوری ملے گی، بالکل اسی طرح جیسے ٹیلی کام اصلاحات میں معیار بندی کے ذریعے منظوری کے وقت میں نمایاں کمی آئی تھی۔ جی سی ٹیز اور کارگو سے متعلق سہولیات کے معاہدے کی مدت 35 برس سے بڑھا کر 50 برس کر دی گئی ہے، جس سے طویل مدتی سرمایہ کاری اور مربوط ماحولیاتی نظام کی ترقی ممکن ہوگی۔

وزیر نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق  ان اصلاحات سے تین سال کی مدت میں اضافی مال برداری کے ذریعے تقریباً 30,000 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے نومبر–دسمبر میں شروع کی گئی سیمنٹ نقل و حمل اصلاح کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بلک سیمنٹ کی مقدار دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور جنوری میں یہ تقریباً 95,000 ٹن تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال یہ تقریباً 40,000 ٹن تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کے ذریعے بلک سیمنٹ کی ترسیل سے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے، جن میں جموں و کشمیر میں 30 فیصد تک اور میزورم میں تقریباً نصف تک کمی شامل ہے، جبکہ سائنسی طریقۂ کار کے تحت نقل و حمل کے ذریعے آلودگی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

آئندہ کی دیگر اصلاحات

جناب ویشنو نے مزید کہا کہ سات مزید اصلاحات اس وقت زیر عمل ہیں، جن میں سے دو کااعلان رواں ماہ کیا جائے گا، جبکہ مزید تین اصلاحات کا آغاز مارچ کے اوائل میں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مزید 30 تا 40 اصلاحات پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔مسافر خدمات اور مال برداری لاجسٹکس میں ساختی اصلاحات کے ساتھ ہندوستانی ریلوے ایک پرعزم اور سال بھر جاری رہنے والے جامع تبدیلی کے ایجنڈے کا آغاز کر رہا ہے۔

*********

ش ح۔ م ع ن۔  م ش

U.NO.2572


(ریلیز آئی ڈی: 2229083) وزیٹر کاؤنٹر : 6