وزیراعظم کا دفتر
راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر وزیر اعظم کے جواب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 FEB 2026 9:19PM by PIB Delhi
عزت مآب چیئرمین،
میں یہاں صدرجمہوریہ کے خطاب پرشکریہ کااظہار کرنے کے لئے آیا ہوں۔
عزت مآب چیئرمین،
میں شکریہ کی اس تحریک کی حمایت کے لیے اس ایوان میں اپنے جذبات کا اظہار کرنا ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔
عزت مآب چیئرمین،
گزرے ہوئے سال ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف ملک کے سفر میں تیز رفتار ترقی اور ترقی کے سال رہے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر شعبے میں، معاشرے کے ہر طبقے کے لیے تبدیلی کا دور رہا ہے۔ ملک درست سمت میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ عزت مآب محترمہ صدرجمہوریہ نے اس موضوع کو بہت فصاحت اور انتہائی حساسیت کے ساتھ ہم سب کے سامنے پیش کیا ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
میری ایک گزارش ہے، محترم کھڑگے جی کی عمر کو دیکھتے ہوئے، اگر وہ بیٹھ کرنعرے لگا سکتے ہیں، تو اچھا ہو گا، تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، پیچھے بہت سے نوجوان لوگ ہیں، اس لیے کھرگے جی کووہاں بیٹھے بیٹھےہی نعرے لگانے کی اجازت دے دیں۔
عزت مآب چیئرمین،
صدر جمہوریہ نے پارلیمنٹ میں ہندوستان کی ترقی کی آواز کو بلندکرتے ہوئے ہندوستان کے متوسط طبقے، نچلے متوسط طبقے،اس ملک کے غریبوں،اس ملک کے گاؤوں،اس ملک کے کسانوں، خواتین، سائنس و ٹیکنالوجی اور زراعت کے موضوعات کو بہت ہی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تفصیل سے بات کی ہے کہ کس طرح ملک کے نوجوان ہندوستان کی صلاحیت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے ہر شعبے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے، اور یہی نہیں،عزت مآب محترمہ صدرجمہوریہ نے ہندوستان کے روشن مستقبل پر اعتماد کابھی اظہار کیا ہے۔ یہ، اپنے آپ میں، ہم سب کے لیے متاثر کن ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
21ویں صدی کی پہلی سہ ماہی ختم ہو چکی ہے، لیکن یہ دوسری سہ ماہی، جس طرح پچھلی صدی کی دوسری سہ ماہی ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں اہم تھی، میں واضح طور پر دیکھ رہا ہوں کہ یہ دوسری سہ ماہی بھی اتنی ہی مستحکم ہوگی اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی سمت اتنی ہی تیز رفتاری سے آگے بڑھے گی۔
اور اس لئے، عزت مآب چیئرمین،
ملک کا ہر فرد محسوس کر رہا ہے کہ ہم ایک اہم مرحلے پر پہنچ چکے ہیں، اب ہمیں نہ رکنا ہے اور نہ ہی پیچھے مڑ کر دیکھنا ہے، اب ہمیں آگے ہی آگے دیکھنا ہے اور تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ہے اور ہدف کے حصول کے بعد ہی سانس لینا ہے، ہم اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
اگر ہم حال پر نظر ڈالیں تو ہندوستان کی خوش قسمتی کے لیے ہمیں بہت سے اچھے مواقع نصیب ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اپنے آپ میں ایک بہت اچھا اتفاق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے خوشحال ترین ممالک کے لوگ بھی اب عمررسیدہ ہوتے جارہے ہیں، وہاں کی آبادی عمرکی اس دہلیز تک پہنچ گئی ہےہم جنہیں بزرگ کہہ سکتے تھے۔ ہمارا ملک ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا ملک دن بہ دن جوان ہوتا جا رہا ہے،کیونکہ یہ ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے اور یہ اپنے آپ میں ایک بہت اچھا موقع ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
دوسری طرف، میں دنیا کی ہندوستان کی جانب بڑھتی کشش کودیکھ رہا ہوں اور اس کشش کے اندر دنیا ہندوستان کے ہنر کی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہے۔ ہمارے پاس آج دنیاکا ایک بہت اہم ٹیلنٹ پول ہے:اورایسانوجوان ٹیلنٹ پول ہے جس میں خواب، عزم اور طاقت بھی ہے۔ لہذا، یہ ایک اور مبارک موقع ہے؛کیونکہ قدرت کی طاقت ہمارے ساتھ ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
ہندوستان دنیابھر میں پیداہونے والے چیلجز کے لئے امید کی کرن بنا ہوا ہے اور آج وہ دنیا کو درپیش چیلنجوں کا حل پیش کر رہا ہے اور ہم وہ حل فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ایک اہم اتفاق ہے کہ ہندوستان کی ترقی آج بڑی معیشتوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اعلی نمو اور کم افراط زر کا یہ امتزاج ایک منفرد امتزاج ہے، جو ہماری معیشت کی مضبوطی کا عکاس ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
ہم جس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، ہمیں ملک کے عوام نے خدمت کا موقع دیا، حالانکہ یہ ملک ’فریجائل فائیو‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جب ہمیں موقع ملا، جب ملک آزاد ہوا تو ہم دنیا کی نمبر 6 معیشت تھے لیکن ان لوگوں نے ایسی صورتحال پیدا کی کہ یہ 11 تک پہنچ گئی، آج ہم تیسرے نمبر پر پہنچنے کی سمت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
آج کسی بھی شعبے کو دیکھیں لیں،چاہے وہ سائنس ہو، خلا ہو یا کھیل۔ ہندوستان ہر میدان میں اعتماد اور خود اعتمادی سے بھرا ہوا ہے۔ دنیا کووڈ کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے نبردآزما ہونے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور جو نئی پیش رفت مسلسل سامنے آ رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی سمت بڑھ رہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک عالمی نظام قائم ہوا۔ اب دنیا تیزی سے ایک نئے ورلڈ آرڈر کی طرف بڑھ رہی ہے اور سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ اگر ہم تمام واقعات کا غیر جانبدارانہ اور غیر سیاسی طور پر تجزیہ کریں تو رجحان ہندوستان کی طرف ہے۔ ایک عالمی دوست کے طور پر، ایک عالمی بھائی کے طور پر، ہندوستان بہت سے ممالک کا قابل اعتماد شراکت دار بن گیا ہے۔ ہم کندھے سے کندھا ملا کر، عالمی بہبود کے لیے اپنا مناسب کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی تمام تر طاقتوں کے ساتھ مدد بھی کر رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
آج پوری دنیا گلوبل ساؤتھ پر بحث کرتی ہے، لیکن اس بحث کے سہولت کار کے طور پر، ہندوستان عالمی پلیٹ فارمز پر گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک مضبوط آواز بن گیا ہے۔ ہندوستان اس وقت متعدد ممالک کے ساتھ ’’مستقبل کے لیے تیار تجارتی معاہدوں‘‘پر بات چیت کر رہا ہے۔ ماضی قریب میں، ہم نے9 بڑے، اہم ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،جس میں بیک وقت’’مدر آف آل ڈیلز‘‘، 27 ممالک کے ساتھ:یورپی یونین کے ساتھ شامل ہے۔ جو تھک گئے وہ بیچارے چلے گئے، لیکن ایک نہ ایک دن انہیں جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے ہمارے ملک کو اس حال میں کیسے رکھا کیونکہ دنیا کا کوئی ملک ہم سے معاہدے کرنے کے لئے آگے نہیں آتاتھا۔ آپ نے کوشش کی ہو گی اور آپ نے ان کے اردگرد چکر بھی لگائے ہوں گے، لیکن کسی نے آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ ایسی صورت حال کیوں پیداہوئی؟ آج دنیا بھر کے ممالک بھارت کے ساتھ ایسے ہی معاہدے نہیں کررہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
اس کے پس پردہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں معیشت کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے اور میرے لیے یہ نیا نہیں ہے۔ جب مجھے گجرات میں خدمت انجام دینے کا موقع ملا، میں نے درخشاں گجرات سمٹ کا انعقاد کیا اور یہ میرے لیے فخر کی بات تھی کہ ایک ریاست اور ہندوستان کی ایک ریاست،میرے اس وائبرینٹ سمٹ کا پارٹنر ملک، ایک ترقی یافتہ ملک جاپان ہواکرتا تھا۔ ایک ریاست نے اس صلاحیت کا مظاہرہ کرکے دکھایا اور آج میرا ملک اس صلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب آپ کے پاس معاشی طاقت ہو، آپ کے شہریوں کے اندر توانائی ہو اور خاص طور پر ایک مضبوط مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام ہو، تب ہی دنیا آپ سے ڈیل کرنے کے لیے پیش قدمی کرتی ہے۔یہی نتیجہ ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست میں ڈوبے ہوئے لوگوں نے ملک کے بہت سے پہلوؤں کو مضبوط بنانے کو کبھی ترجیح نہیں دی اور جہاں تک کانگریس پارٹی کا تعلق ہے تو میں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں اور اگر آپ کو میری باتوں پر بھروسہ نہیں ہے تو میں ملک کے عوام سے کہتا ہوں کہ کچھ نہ کریں، صرف لال قلعہ سے کانگریسی وزرائے اعظم کی تقریروں کا تجزیہ کریں، آپ کو واضح نظر آئے گا کہ ان کے پاس نہ تو کوئی سوچ تھی، نہ کوئی وژن، نہ کوئی قوت ارادی اور نتیجہ یہ ہے کہ ملک کو اتنا نقصان اٹھانا پڑا۔
عزت مآب چیئرمین،
میں کروڑوں ہم وطنوں کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے خدمت کا موقع دیا۔ ہماری توانائی کا ایک اہم حصہ ان کی غلطیوں کو درست کرنے میں جا رہا ہے۔ دنیا میں اس وقت کی جو تصویر لوگوں کے ذہن میں ہے، میری توانائی اس وقت کی تصویر کو مٹانے میں صرف ہو رہی ہے۔ انہوں نے ملک کو برباد کرکے رکھا ہوا تھا اور اس مقصد کے تحت ہم نے مستقبل کے لیے تیار پالیسیوں پر زور دیا ہے۔ آج، جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، ملک پالیسی پر چل رہا ہے اور پالیسی سے چل رہا ہے۔ ہم نے ایڈہاک ازم کو ترک کر دیا ہے اور اس ک وجہ سے دنیا کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ ہم اصلاحات، کارکردگی، تبدیلی کے منتر کے ساتھ آگے بڑھے اور آج ملک اصلاحات ایکسپریس پر سوار ہو گیا ہے۔ ہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کئے ہیں، عمل میں اصلاحات کئے ہیں اور پالیسی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ ہم نے اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر اور اپنے کاروباریوں کو بااختیار بنانے کی کوششیں کی ہیں، تاکہ ہندوستان میں ہر چیز کی قدر میں اضافہ ہو اور میں اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان پوری طرح دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ جب میں ورلڈ سی ای او فورم سمٹ کو دیکھتا ہوں تو دنیا ہمارے کاروباریوں کو برابری کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور جب حال ہی میں تمام جماعتوں کے وفود نے دنیا کا سفر کیا تو انہوں نے بھی انہی جذبات کا تجربہ کیا۔ تمام پارٹیوں کے معزز ممبران پارلیمنٹ آئے اور میرے ساتھ اپنے تجربات مشترک کیے، فخر سے کہاکہ’’جی ہاں، ہمارے ساتھ برابری کی سطح پر بات ہو رہی ہے، یہ ہمارے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔‘‘
عزت مآب چیئرمین،
ایک بڑاایم ایس ایم ای نیٹ ورک جتنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اتنا ہی طویل عرصہ تک یہ معیشت کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ ہم نے اس پر توجہ مرکوز کی ہے اور بہت سی اصلاحات نافذ کی ہیں۔ آج، ہمارے ایم ایس ایم ای نیٹ ورک پر دنیا کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ ہم بڑے ہوائی جہاز نہیں بنا سکتے، لیکن بہت سے ہوائی جہاز ہیں، جن میں سے بہت سے حصے میرے ملک کے سب سے چھوٹے ایم ایس ایم ایز کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
ملک میں ان کوششوں کے نتائج سب کو نظر آرہے ہیں۔ بڑے ممالک بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ چاہے وہ یوروپی یونین کا تجارتی معاہدہ ہو یا وہ جو کہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ ہوا تھا اور کل ہمارے پیوش گوئل جی نے ایوان میں تفصیلی جانکاری دی تھی اور پوری دنیا کھل کر اس تجارتی معاہدے کی تعریف کر رہی ہے۔ جب یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط ہوئے تو دنیا کواس اعتمادکا احساس ہوا کہ عالمی استحکام کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بعد دنیا مزید پراعتماد ہوگئی کہ جو استحکام محسوس کیا جارہا تھا، اب اس میں بھی تیزی کا احساس ہے اور یہ دنیا کے لیے ایک اچھی علامت ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کو ہوگا۔ جب میں ’’نوجوان‘‘ کہتا ہوں تو اس میں متوسط طبقے کے نوجوان، شہری نوجوان اور دیہی نوجوان شامل ہوتے ہیں۔ وہ بیٹا بھی ہوتا ہے اور بیٹیاں بھی ہوتی ہیں اور اس لیے انہیں بانٹنے والی نظروں سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت پر فخر ہونا چاہیے اور پوری عالمی منڈی اب ان کے لیے کھل گئی ہے۔ اب مواقع بہت زیادہ ہیں اور میں ان سے کہتا ہوں، ’’آؤ دوستو! میں آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں، حوصلہ رکھیں! آگے بڑھیں! ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے، اور دنیا آپ کے استقبال کے لیے منتظر ہے۔‘‘
عزت مآب چیئرمین،
جیسا کہ دنیا میں ہمارے نوجوان پیشہ ور افراد کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے، اسی طرح دیکھ بھال کرنے والوں کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ اہل ہنر کو بھرتی کرنے اور تلاش کرنے کے لیے کچھ خصوصی دفاتر بھی قائم کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد کے لیے عالمی سطح پر بھی بڑے مواقع ابھر رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
پارلیمنٹ کا یہ ایوان بالا ایک طرح سے ریاستوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اب، بحث کی باریکیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد، میرے دل میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کتنے سالوں سے حکومت میں رہے ہیں، اس پر غور کرتے ہوئے، سطح کو قدرے بلند ہونا چاہیے تھا اور درحقیقت، اونچا ہونا چاہیے۔ بحث کا لیول تھوڑا اونچا ہونا چاہیے تھا لیکن وہ موقع بھی گنوا بیٹھے۔ ملک ان پر کیسے اعتبار کرے؟
عزت مآب چیئرمین،
میں کل ایک معزز ممبر کی بات سن رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بادشاہ کہنے میں بڑا فخر محسوس کرتے ہیں لیکن وہ معاشی عدم مساوات پر بات کر رہے تھے۔ بتاؤ! جب کوئی اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہے اور معاشی عدم مساوات کے بارے میں بات کرتا ہے، تو اس سے حیرت ہوتی ہے کہ کیا یہ وہ ہی دن ہیں جودیکھنے باقی رہ گئے تھے۔
عزت مآب چیئرمین،
ہمارے ٹی ایم سی کے ساتھیوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ ذرا اپنے اندر جھانکیں۔ یہ بے رحم حکومت زوال کے ہر پیمانہ پر نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے اور پھر بھی یہاں نصیحت کر رہی ہے۔ کیا حل نکالا گیا؟ ایسی بے رحم حکومت کے ہاتھوں وہاں کے لوگوں کا مستقبل تاریکیوں میں ڈوبا جا رہا ہے پھر بھی وہ بے فکر نظر آتے ہیں۔ انہیں اقتدار کی لذتوں کے علاوہ کوئی خواہش نہیں، پھر بھی وہ یہاں نصیحت کرتے ہیں۔ دراندازی: دنیا کے خوشحال ترین ممالک بھی غیر قانونی شہریوں کو نکال رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں دراندازوں کی حفاظت کے لیے عدالتوں پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ میرے ملک کے نوجوان، ان لوگوں کو کیسے معاف کر سکتے ہیں جو دراندازوں کی وکالت کرنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں؟ یہ درانداز میرے ملک کے نوجوانوں کے حقوق، ان کی روزی روٹی، قبائلیوں کی سرزمین چھین رہے ہیں اور ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، پھر بھی ان کی خاطر خواتین پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے پاس سیاسی مقاصد کے حصول کے سوا کوئی کام نہیں، پھر بھی وہ ان تمام تشویشناک مسائل سے آنکھیں چراتے ہوئے ہمیں نصیحت کرنے آتے ہیں۔ ہمارے ایک معزز رکن کافی کچھ بول رہے تھے، جن کی پوری حکومت شراب میں ڈوبی ہوئی ہے، جس کے شیشے کے محل گھر گھر میں نفرت کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ اب، شاید، وہ لفظ ’’بلیک‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ماضی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ’’بلیک‘‘کے ساتھ ان کیاپرانا رشتہ ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
آج میں ایسے تمام دوستوں سے یہ ضرور کہوں گا کہ تم دنیا کو کتنا دھوکہ دو گے،تم دنیا کو کتنا دھوکہ دو گے، جب آئینہ دیکھ چکے ہو تو اپنا سچ کہاں چھپاؤ گے۔ کانگریس ہو، ٹی ایم سی، ڈی ایم کے یا بائیں بازو، وہ کئی دہائیوں سے مرکز میں برسراقتدار ہیں، اقتدار میں شراکت دار رہے ہیں۔ انہیں ریاستوں میں حکومتیں چلانے کا موقع بھی ملا ہے، لیکن ان کی شناخت کیا بن گئی ہے؟ آج جب ڈیل کی بات ہوتی ہے تو فخر سے کہتے ہیں،تب ڈیل کی بات ہوتی تھی تو بوفورس سودہ یاد آتا تھا، یہ سودے ہوتے تھے۔ وہ صرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے کام کرتے تھے۔ شہریوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ان کی ترجیح نہیں تھی۔
عزت مآب چیئرمین،
میں اس نکتے کو کچھ مثالوں سے واضح کرنا چاہوں گا، کیونکہ یہ موضوعات یہاں بحث کے لیے لائے گئے ہیں اور اس لیے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا اشتراک کرنا بہت ضروری ہے۔ اب، میں آپ کو بینکنگ سیکٹر کی ایک مثال دیتا ہوں، جو بنیادی طور پر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2014 سے پہلے، یہ فون کا دور تھا۔ لیڈروں کی کالیں آتی تھیں اور اس کی بنیاد پر کروڑوں روپے بٹورے جاتے تھے، جبکہ بینکوں میں غریبوں کو حقارت اور گری ہوئی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ ملک کی 50فیصد سے زیادہ آبادی نے بینک کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا۔ کانگریس لیڈروں کی کالوں کی بنیاد پر لوگوں کو اربوں روپے تقسیم کیے گئے اور جو لوگ انہیں لے گئے وہ اس رقم کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر غبن کرتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ کانگریس اور یو پی اے کے دور حکومت میں اور ہندوستانی اتحاد کی ریاستوں میں جو اب اقتدار میں ہیں، بینکنگ نظام تباہی کے دہانے پر تھا۔ میں نے ابھی وزیراعظم کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔ میں صرف ایک ملک کے سربراہ سے بات کر رہا تھا، ایسے ہی۔ میں نے مشورہ دیا کہ ہم بینکنگ میں آگے بڑھیں۔ اس نے کہا،کہ جناب، آپ ابھی نئے ہیں، اس لیے پہلے اپنے بینکنگ نظام کا مطالعہ کریں۔‘‘ ہم ہمت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ ایک ملک کے لیڈر کو یہ معلومات تھیں، اس نے مجھے بتایا۔ یہاں، وہ پرواہ نہیں کرتے، دوسرے لفظوں میں، جس طرح سے انہوں نے بینکنگ سسٹم کی تشکیل کی اس سے این پی ایز کا ایک پہاڑ کھڑا ہو گیا۔ ہر طرف آپ نے دیکھا، یہ بحث تھی کہ ’’این پی اے کا کیا ہوگا؟ این پی اے کا کیا ہوگا؟ ہم کیسے بچیں گے؟‘‘
عزت مآب چیئرمین،
چیلنج بہت بڑا تھا، لیکن ہم نے سمجھداری سے کام کیا۔ ہم نے بینکنگ نظام کے تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا۔ اصلاحات کی ضرورت تھی اور ہم نے انہیں ہمت کے ساتھ انجام دیا۔ ہم نے ایک شفاف نظام بنایا، متعدد بینکنگ اصلاحات نافذ کیں اور ایک ایسے سرکاری بینک کو ملایا جو کمزور ہو چکا تھا اور ایک بڑے بینک کے ساتھ ٹھیک سے کام نہیں کر رہا تھا۔ مجھے ایک خود ساختہ اسکالر یاد آیا جس نے لکھا تھا کہ اگر مودی سرکار نے بینکوں کے ساتھ ایسا کیا تو یہ ہندوستان میں ایک بڑی اصلاح ہوگی۔ میں نے آتے ہی وہ کام کیا۔
عزت مآب چیئرمین،
اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ بینکوں کو اس بدحالی سے نجات مل گئی جس نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ان کی صحت میں بہتری آئی اوریہ مسلسل بہتر ہو رہی ہے اور وہ اب بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے بینکنگ میں بہتری آئی، ان کے لین دین میں بھی اضافہ ہوا۔ لوگوں کو پیسے ملنے لگے اور عام لوگوں کو پیسے مل گئے۔ان غریب لوگوں کو قرضے دیے گئے، جن کے لیے کبھی بینکوں کے دروازے بند تھے۔ انہیں دور سے ان کے پاس جانا پڑا۔ آج، مدرا یوجنا (مدرا یوجنا) ملک کے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے بااختیار بناتی ہے۔ مدرا یوجنا (مدرا یوجنا) خود روزگار کی ترغیب دیتی ہے، لیکن خود روزگار کے بارے میں تقریریں ناکافی ہیں۔ ان کی حمایت اور مدد کی ضرورت ہے،مدرا یوجنا کے ذریعے، ہم نے ملک کے نوجوانوں کو بغیر کسی گارنٹی کے 30 لاکھ کروڑ روپے یعنی 30 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض دیا ہے اور انہوں نے اپنے کاروبار کو آگے بڑھایا ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ بڑی تعداد میں مائیں اور بہنیں بھی اس اسکیم سے مستفید ہوئی ہیں۔ اپنی مددآپ گروپوں: دیہی خواتین ان دنوں بڑے خواب دیکھتی ہیں۔ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہتے تھے۔ ہم نے نہ صرف خواتین کے اپنی مددآپ گروپوں کو بڑھایا بلکہ 10 کروڑ خواتین کو براہ راست مالی امداد بھی فراہم کی۔ ہم نے اپنے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو فراخدلی سے قرضے فراہم کیے، اور آج، بڑے اطمینان اور ذمہ داری کے ساتھ، میں اس ایوان میں یہ کہنا چاہتا ہوں:کہ ہم نے این پی ایز جو 2014 سے پہلے پہاڑ تھے، کو انتہائی نچلی سطح پر لے آئے ہیں۔ آج این پی اے ایک فیصد سے بھی کم ہے جو کہ اپنے آپ میں بینکوں کی صحت کے لیے بہت بڑا کام ہے۔ یہی نہیں، ہمارے بینکوں کا منافع آج ریکارڈ بلندی پر ہے۔ یہ اپنے آپ میں ملک کی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ جب بینکنگ نظام مضبوط ہوتا ہے تو باقی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ ہم نے وہ کام کیا ہے۔
محترم چیئرمین،
میں ایک اور مثال دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے پی ایس یوز عام طور پر پی ایس یوز کے بارے میں یہ تاثر بن چکا تھا کہ وہ بنتے ہی بیمار ہونے کے لیے ہیں، وہ بنتے ہی برباد ہونے کے لیے ہیں، وہ بنتے ہی بند ہونے کے لیے ہیں۔ ہم نے اس پوری ذہنیت کو حقیقتوں کی بنیاد پر بدلنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور یہ لوگ پی ایس یوز کے بارے میں کتنی غلط باتیں پھیلاتے تھے۔ ’اربن نکسل‘ کی طرح، ایسے پی ایس یوز کے دروازے کے باہر مزدوروں کی میٹنگیں کر کے بھڑکانے کا گناہ کرتے تھے، گمراہ کرنے کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے ایل آئی سی (ایل آئی سی)، اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور ایچ اے ایل (ایچ اے ایل) جیسی ہر ایک تنظیم کے بارے میں بہت برا بھلا کہا اور اتنے بھدے طریقے سے بات کی؛ جب ان کی حکومت تھی تب تو یہ ان چیزوں کو سنبھال نہیں پاتے تھے، اس کے لیے کچھ کر بھی نہیں پاتے تھے۔
عزت مآب چیئرمین،
ہم نے اس میں بھی ہمت دکھائی۔ ہم نے پی ایس یوز کے حوالے سے بھی اصلاحات کیں۔ اصلاحات کی ایک مسلسل روایت چلائی۔ آج ایل آئی سی بہترین طریقے سے کام کر رہی ہے، جب سے ایل آئی سی بنی ہے تب سے لے کر اب تک یہ ان کی بہترین کارکردگی کا دور گزرا ہے۔ جن پی ایس یوز کو کانگریس کے لیڈر تالے لگوانے کے دہانے پر پہنچا چکے تھے اور اسی پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کی کوشش بھی کی گئی تھی، آج ہمارے وہ پی ایس یوز ریکارڈ منافع پر ہیں۔ اتنا ہی نہیں، وہ اپنی کارکردگی سے’میک ان انڈیا‘کو بھی رفتار دے رہے ہیں۔ میک ان انڈیا کا جو خواب ہے، اسے پورا کرنے میں وہ بھی آج ایک بہت بڑے ’کیٹلیٹک ایجنٹ‘کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریکارڈ تعداد میں روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، ہمارے کچھ پی ایس یوز آج عالمی سطح پر جا رہے ہیں، دنیا میں بھی اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، دنیا کے ساتھ جڑ رہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک کے ترقیاتی سفر میں وہ شراکت دار بن رہے ہیں۔ آج ہمارے پی ایس یوز کو ملک سے بھی اور ملک کے باہر سے بھی بڑے بڑے آرڈر ملنے لگے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں، جو میں کہتا ہوں نہ، کہ یہ ملک ایک بہت اہم سنگ میل پر ہے، یہ جو 25 سال ہیں، اس کا اشارہ یہاں نظر آتا ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
کانگریس نے دھوکہ دہی کے معاملے میں ہمارے ملک کے ان داتا (کسان) کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس ملک میں 10 کروڑ کسان ایسے ہیں جن کے پاس 2 ہیکٹر سے بھی کم زمین ہے، چھوٹے کسان ہیں۔ ان کی کبھی پرواہ نہیں کی گئی، ان کی طرف کبھی دیکھا نہیں گیا، نہ ہی ان کے دماغ میں ان چھوٹے کسانوں کی کوئی اہمیت تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ کچھ بڑے لوگوں کو سنبھال لیا تو گاڑی چل جائے گی اور یہی سیاست کرتے رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
ہمارے دل میں چھوٹے کسان کے لیے ایک درد تھا۔ ہم زمینی حقیقتوں سے واقف تھے اور اسی وجہ سے ہم 'پی ایم کسان سمان ندھی یوجنا' لے کر آئے ہیں اور آپ دیکھیے اتنے کم وقت میں ہمارے چھوٹے کسانوں کے کھاتوں میں 4 لاکھ کروڑ روپے ہم نے دیے ہیں۔ 4 لاکھ کروڑ روپے کا عدد چھوٹا نہیں ہوتا، عزت مآب چیئرمین، اور اس نے ہمارے چھوٹے کسانوں کو ایک نئی طاقت دی ہے، نئے خواب دیکھنے کی سکت دی ہے اور مجھے یہ پکا یقین ہے کہ ہمارا کسان اس سمت میں ضرور بھارت کی امیدوں اور توقعات کے مطابق نتائج دے گا۔
عزت مآب چیئرمین، یہاں کچھ ساتھیوں نے نفاذکے حوالے سے شکایات پر مبنی کافی تقریریں کی ہیں۔ شاید وہ یہ طے کر کے آئے تھے کہ ایسا ایسا بولنا ہے، تو اس میں تو ان کا اتحاد نظر آتا تھا، باقی چیزوں میں تو نہیں دکھتا ہے۔
جب یہ امپلیمنٹیشن کو لے کر کے کتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ میں ایک ذرا قصہ سناتا ہوں۔ میں کسی کا بھلا برا کہنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں، میں صرف حقیقت رکھ رہا ہوں۔ پریشانی جن کو ہوگی، ان کو ہوگی، لیکن حقائق توحقائق ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے دیش کے ایک نیتا ہماچل پردیش کے دورے پر گئے تھے اور وہاں سے آنے کے بعد انہوں نے خود یہ واقعہ سنایا، ریکارڈ پر دستیاب ہے۔ اس میں انہوں نے کہا، اس لیڈر نے کیا کہا، میں انہی کے الفاظ پڑھ رہا ہوں۔ ’’کافی لمبے وقت تک مجھے یوجنا آیوگ (پلاننگ کمیشن) سے جدوجہد کرنا پڑا کیونکہ وہ پہاڑی علاقوں کے لیے الگ یوجنائیں بنانے کو تیار ہی نہیں تھے، میں ہماچل پردیش گئی تھی۔ جب میں واپس آئی، تو میں نے یوجنا آیوگ میں کہا کہ ہمارے کامداروں کو، ورکرز کو جیپ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کھچروں کی ضرورت ہے، تاکہ کم سے کم ان پر سامان وغیرہ لادا جا سکے۔‘‘ آگے انہوں نے کہا، لیکن مجھے بتایا گیا،’’ہم پیسہ تو جیپ کے لیے ہی دیں گے کیونکہ کھچروں کے لیے پیسے دینے کی پالیسی نہیں ہے۔‘‘ اسی تقریر میں آگے وہ کہتی ہیں،’’اب وہاں سڑکیں ہی نہیں تھیں‘‘، ان کے کہنے کی وجہ یہ تھی کہ ہماچل میں جہاں وہ گئیں، وہاں سڑکیں ہی نہیں تھیں۔ اب وہاں سڑکیں ہی نہیں تھیں، تو پھر اس پر جیپ کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ جیپ لے کر کے کون جائے گا، جہاں روڈ نہیں ہے۔ لیکن اس وقت یوجنا آیوگ کا زور تھا یا تو جیپ یا تو کچھ بھی نہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
یہ تقریر کسی اور کی نہیں، یہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی تقریر ہے۔ کانگریس کے طویل دورِ اقتدار میں یہی طریقۂ کار رہا اور جسے اندرا جی خود بھی جانتی تھیں کہ یہ گناہ چل رہا ہے، لیکن اس کام کے کلچر کو سدھارنے کے لیے انہوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اندرا گاندھی جس پلاننگ کمیشن کی دھجیاں اڑا رہی تھیں، اس کے بانی ان کے اپنے والد صاحب تھے۔ یہ پلاننگ کمیشن جب بنا اور جب اندرا جی نے یہ بات کہی، اس کے درمیان دو دہائیاں بیت چکی تھیں، لیکن حال یہی تھا اور 2014 تک سب دکھی تھے، سب پریشان تھے، سب غلطی دیکھ رہے تھے، لیکن سدھار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ 2014 کے بعد، جب آپ نے ہمیں موقع دیا اور کانگریس نے جس طرح سے پلاننگ کمیشن کو اٹکانے، لٹکانے اور بھٹکانے والا ادارہ بنا دیا تھا، 2014 میں جب ہمیں موقع ملا تو ہم نے آکر کام کیا۔ پلاننگ کمیشن کو ختم کر دیا اور نیتی آیوگ کو بنایا۔ آج نیتی آیوگ بہت تیز رفتار سے کام کر رہا ہے۔ آپ دیکھیے ایسپریشنل ڈسٹرکٹ، وہ بھی ایک بڑی متاثر کن مثال ہے اور میں تو دیکھ رہا ہوں کہ ترقی پذیر ممالک کی ترقی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر عالمی ادارے اسے تسلیم کر رہے ہیں۔ یہ ایسپریشنل ڈسٹرکٹ کی کامیابی ہے۔ ملک کے کئی اضلاع ایسے ہیں جنہیں پسماندہ سمجھ کر چھوڑ دیا گیا تھا اور وہاں کروڑوں لوگوں کی جو بنیادی ضرورتیں تھیں، انہیں بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔ انہیں تو ایسے ہی جینے کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا اور جو پسماندہ علاقے تھے، وہ مزید پسماندہ ہوتے گئے اور بربادی آتی گئی۔ حکومت میں تو حالت یہ تھی کہ جب کسی کا سزا کے طور پر تبادلہ کرنا ہوتا تھا، تو ایسے ہی اضلاع میں بھیجا جاتا تھا تاکہ وہ وہاں جا کر مزید خرابی کریں، یہ حال بن گیا تھا، یہ ورک کلچر بن گیا تھا۔ ہم نے اس صورتحال کو بدلا، سب سے پہلے آکر نوجوان اور ہونہار افسروں کو لگایا گیا اور انہیں کام کرنے کا پورا تین سال کا موقع دیا گیا۔ ایک کے بعد ایک فیصلے کیے اور آج دیکھیے کہ چھتیس گڑھ کا ہمارا بسترجو ایسپریشنل ڈسٹرکٹ میں تھا، آج وہ بستر پورے ملک میں بستر اولمپک کے نام سے چرچا میں ہے۔ آج ترقی کی لہر بستر کے گاؤں گاؤں پہنچ رہی ہے۔ ابھی کچھ گاؤں میں پہلی بار بس دیکھی گئی، پورے گاؤں نے بستر میں جشن منایا۔ یہ حالات چھوڑ کر گئے ہوئے ہیں لوگ اور یہاں پتہ نہیں کس طریقے سے ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں لوگ!
عزت مآب چیئرمین،
امپلیمنٹیشن کیا ہوتا ہے، یہ ایسپریشنل ڈسٹرکٹ اس کی ایک بہت بڑی اور شاندار مثال ہے۔ ایسی تو سینکڑوں مثالیں ہیں، لیکن میں صرف ذکر کرنے کے لیے اس کا حوالہ دے رہا ہوں۔ کانگریس کے ہمارے ساتھیوں کو یہ جو تبدیلی آ رہی ہے، اس میں امپلیمنٹیشن نظر نہیں آ رہا ہے اور ان کا تو صرف ایک ہی پلاننگ کمیشن والا ماڈل ہے— جیپ اور خچر والا ماڈل، یہی وہ لوگ جانتے ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں جانتے۔ اور یہ امپلیمنٹیشن کیسے کرتے ہیں؟ میری پیدائش نہیں ہوئی تھی، اس سے پہلے سردار ولبھ بھائی پٹیل نے دریائے نرمدا پر ڈیم بنانے کا تصور کیا، موضوع تو پکا ہو گیا، سردار صاحب نہیں رہے۔ خیر، نہرو جی نے سنگ بنیاد رکھا۔ اب ان کی امپلیمنٹیشن دیکھیے، میری پیدائش نہیں ہوئی تھی جب اس کا تصور کیا گیا تھا اور وزیر اعظم بننے کے بعد میں نے اس کا افتتاح کیا، یہ حال ہے! اور ان کی امپلیمنٹیشن دیکھیے، مجھے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے تین دن بھوک ہڑتال پر بیٹھنا پڑا تھا، نرمدا سردار سروور ڈیم کے لیے، اپنے ملک اور اپنی ریاست کے کسانوں کے لیے میں نے خود کو داؤ پر لگا دیا تھا، تب جا کر بھارت سرکار کو جھکنا پڑا اور تب جا کر سردار سروور ڈیم کی تعمیر کو رفتار ملی۔ اور جب میں یہاں پہنچا، تب مجھے اس کا افتتاح کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اور آج کچھ تک، کھاوڑا میں جہاں بی ایس ایف کے لوگ بیٹھتے ہیں، وہاں تک نرمدا کا صاف پانی پینے کے لیے پہنچ رہا ہے۔ امپلیمنٹیشن کیا ہوتی ہے؟ اور یہاں پر امپلیمنٹیشن کا لفظ کس نے پکڑا دیا، ہر ایک کے منہ سے وہی نکل رہا تھا۔ ہم نے کانگریس کے کام کرنے کے انداز کو بدلنے کے لیے جب دیکھا، کئی ایسے کام تھے جو لٹکے پڑے تھے، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، فائلوں میں اور سیاسی فائدے کے لیے اعلانات کر دیے، چراغ جلا دیے، پتھر لگا دیے، کرنا کچھ نہیں۔ آخر کار میں نے یہاں آکر ٹیکنالوجی پر مبنی ایک پلیٹ فارم بنایا 'پرگتی‘کے نام سے۔ اس پروگتی پلیٹ فارم کی میں مثال دیتا ہوں، آپ حیران ہو جائیں گے، مجھے درست یاد نہیں ہے، لیکن شاید ہماچل میں ایک ٹرین انہوں نے پارلیمنٹ میں اعلان کی تھی، شاید اونا یا کوئی اور، میرے آنے تک کاغذ پر اس کا نقشہ بھی نہیں بنا تھا، بتائیے! اور الیکشن جیتنے کے لیے وہ اعلان کر دیا۔ پرگتی کے اندر میرے سامنے یہ موضوع آیا۔ ایسے کئی موضوعات میرے سامنے آئے اور اس پروگتی کے اندر ہم نے ایک ایک پروجیکٹ کا جائزہ لیا کہ کیوں لٹکا ہوا ہے، کس محکمے کے کام میں کیا رکاوٹ آئی ہے، کس نے غلط طریقے سے اسے آگے بڑھایا اور بجٹ تو بڑھتا ہی گیا تھا۔ جو منصوبہ 900 کروڑ میں ہونا تھا، وہ 90 ہزار کروڑ تک پہنچ گیا، یہ حال کر کے رکھ دیا تھا انہوں نے۔ ہم نے ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بنایا، ہر ماہ اجلاس کیا، ابھی میں نے اس میٹنگ کی 50ویں قسط مکمل کی ہے اور مسلسل کام کرتے کرتے متعلقہ ریاستوں کو بھی بٹھایا، ان کی مشکلات کو بھی سمجھا۔ اس کے نفاذ میں کس وزارت کو کیا پریشانی ہو رہی ہے، کس ریاست کو پریشانی ہو رہی ہے، کس قانون کی وجہ سے مشکل ہے، ہر چیز کو باریکی سے دیکھا۔ اور آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس پرگتی کے نفاذ کو باریکی سے وزیر اعظم کی سطح پر دیکھے جانے کی وجہ سے 85 لاکھ کروڑ روپے کے کام کو رفتار ملی۔ 85 لاکھ کروڑ روپے کا کام، آپ تصور کیجیے۔ ملک کی کتنی بڑی طاقت کو ہم نے ان لاک کیا، امپلیمنٹیشن کیسا ہوتا ہے، یہ ہم نے کر کے دکھایا ہے۔ ریل ہو، سڑک ہو، آبپاشی ہو، دیہی نظام کا کام ہو، تمام چیزوں کو ہم نے اس میں شامل کیا۔ اب جیسے جموں-ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لائن، آج یہ پروجیکٹ مکمل ہوا ہے اور برف باری میں ان دنوں آپ نے دیکھا ایک ویڈیو بہت مقبول ہوئی ہے۔ برف کے درمیان سے، چاروں طرف برف کی چادر بچھی ہوئی ہے اور وندے بھارت ٹرین گزر رہی ہے اور لوگ کہتے ہیں، غلطی مت کرنا، یہ بیرون ملک نہیں، یہ ہندوستان ہے۔ یہ ویڈیو بازار میں چل رہی ہے، لیکن تین دہائیوں سے یہی پروجیکٹ لٹکا ہوا تھا۔ تین دہائیاں، 30 سال! آپ تصور کر سکتے ہیں، دو نسلیں آگے بڑھ جائیں، یہ یہیں اٹکے پڑے تھے۔ ہماری حکومت نے اسے پورا کیا۔
عزت مآب چیئرمین،
میں آسام کی بات کرتا ہوں اور کوئی یہ نہ سوچے کہ الیکشن ہے، اس لیے میں بول رہا ہوں۔ ان کے گناہ ہیں، اس لیے مجھے کہنا پڑ رہا ہے۔ کانگریس صرف تصور کرتی ہے اور نفاذ کرنے سے ان کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہوتا۔ اب آسام کا بوگی بیل برج، یہ پل اروناچل اور آسام کو جوڑنے والا بہت اہم پل ہے۔ کتنے ہی سالوں تک یہ پروجیکٹ لٹکا رہا، ہم نے پروگتی کے ذریعے اس کا جائزہ لیا اور آسام سمیت پورے نارتھ ایسٹ کو بہت بڑی سہولت والا یہ کام ہم نے پورا کیا۔
عزت مآب چیئرمین،
نفاذ کی باتیں جب کرتے ہیں، تو ایک بار ہمارا اور ہمارے پاس تو حقائق کے ساتھ چیزیں ہیں کہ ہم ان چیزوں کو وقت پر پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ان دنوں تو جو کام کر رہے ہیں، وقت سے پہلے ہو رہا ہے۔ ہم نے پوری دنیا سے کہا تھا کہ ہم 2030 تک یہاں پہنچیں گے، سولر میں ہم نے وہ کام 2025 میں کر دیا۔ ہم نے ایتھنول کا وقت طے کیا تھا، ہم نے اس میں بھی دو تین سال پہلے ہی کام پورا کر لیا، تو ایڈوانس میں کام پورا کرنے کی، امپلیمنٹیشن کی ہماری طاقت تو اس سے بھی زیادہ ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
بی جے پی ہو، این ڈی اے ہو، ہمارا رویہ، چیزوں کی طرف دیکھنے کا ہمارا نقطۂ نظر، مسائل کے حل کے لیے ہماری سوچ اور کانگریس کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ بہت فرق ہے۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ ہماری سوچ یہ ہے کہ 140 کروڑ ہم وطن اتنے باصلاحیت ہیں کہ وہ چیلنجوں کا حل نکال سکتے ہیں۔ یہ ہماری سوچ ہے۔ ہمارا بھروسہ ہے ہم وطنوں پر، ان کی صلاحیت پر ہمارا بھروسہ ہے اور یہی جمہوریت کی بھی اصل طاقت ہوتی ہے۔ لیکن کانگریس ہم وطنوں کو ہی مسئلہ مانتی ہے۔ اب میں ان کا اتنا بول کر چھوڑ دوں گا، تو آج پتہ نہیں رات کو انہیں نیند نہیں آئے گی اور کل کیسی گالیاں دیں، اس کی منصوبہ بندی چلے گی۔ لیکن میں مثال کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں۔ کس طرح سے یہ لوگ سوچتے تھے ہم وطنوں کے لیے، ملک کے لوگوں کے بارے میں نہرو جی اور اندرا جی کی سوچ کیا تھی؟ میں اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ اندرا جی ایک بار ایران گئی تھیں اور ایران میں وہ تقریر کر رہی تھیں اور اس تقریر میں انہوں نے نہرو جی کے ساتھ جو بات چیت ہوئی تھی، اس کا ذکر کیا۔ خود انہوں نے کہا، اور میں وہ کوٹ کر رہا ہوں جو اندرا جی نے کہا تھا، ’’جب کسی نے میرے والد سے پوچھا یعنی نہرو جی سے پوچھا کہ ان کے سامنے کتنے مسائل ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا - 35 کروڑ۔‘‘ نہرو جی نے جواب دیا تھا کہ ان کے سامنے کتنے مسائل ہیں؟ بولے 35 کروڑ، اس وقت ہمارے ملک کی آبادی 35 کروڑ تھی۔ اب آگے دیکھیے، 35 کروڑ ہم وطن نہرو جی کو مسئلہ لگتے تھے۔ ایسا کوئی سربراہ ہو سکتا ہے کیا جی؟ اور اس بات کی مثال دیتے ہوئے اندرا جی نے آگے کہا کہ آج ملک کی آبادی 57 کروڑ ہے، اس لیے میرے مسائل کی تعداد بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ یعنی والد صاحب کو 35 کروڑ لوگ مسئلے لگتے تھے، اب انہیں 57 کروڑ لوگ مسئلے لگتے ہیں۔ کوئی ایسا ہو سکتا ہے جو اپنے ہی ہم وطنوں کو مسئلہ مانے؟ یہ فرق ہے ان کی سوچ اور ہماری سوچ میں، یہ فرق ہے ان کی اپروچ اور ہمارےاپروچ میں۔ نہرو جی ہوں یا اندرا جی ہوں یا پوری کانگریسی برادری ہو، یہ لوگ بھارت کے لوگوں کو مسئلہ مانتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
میرے کئی اقوال ملیں گے۔ میں نے دنیا کے سامنے کہا ہے، ملک کے سامنے کہا ہے اور اس لیے نہیں کہا کہ بس کہنا تھا، یہ میرا کنوکشن ہے۔ ارے چیلنجز کتنے ہی کیوں نہ ہوں، 140 کروڑ حل ہمارے پاس ہیں۔ ہمارے لیے ہم وطن ایک سرمایہ ہیں۔ ہمارے لیے ہر شہری بھارت کے روشن مستقبل کا معمار ہے، کرتا دھرتا ہے۔ ہم اسے مسئلہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ایسی سوچ والے لوگ اپنے خاندان کا ہی بھلا کریں گے اور کس کا کریں گے؟
عزت مآب چیئرمین،
ملک کے لوگوں کی توہین کرتے رہنا کانگریس کی فطرت میں شامل ہے۔ ان کی تربیت میں شامل ہے۔ کانگریس نے گزشتہ دنوں صدر جمہوریہ کی توہین کی۔ انتخاب کے بعد جس طرح سے ہماری صدر جمہوریہ کے لیے الفاظ کہے گئے، شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟ بھارت کے صدر کے لیے کیا بول رہے ہیں یہ لوگ؟
عزت مآب چیئرمین،
کل لوک سبھا میں بھی صدرجمہوریہ کے خطاب پر بحث نہیں ہو سکی۔ یہ صدارتی عہدے کی سخت توہین کی ہے، انہیں آئین کا لفظ زبان پر لانے کا حق نہیں رہتا۔ جو لوگ غربت سے نکلی ہوئی ایک خاتون، قبائلی خاندان سے آئی ہوئی ایک خاتون کے ساتھ لوک سبھا میں جو سلوک کر رہے تھے، آپ نے قبائلی معاشرے کی توہین کی ہے، آپ نے خاتون کی توہین کی ہے، بھارت کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخصیت کی توہین کی ہے، آپ نے آئین کی توہین کی ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
انہیں کچھ بھی لگتا ہو، کانگریس کو یہ گناہ...
عزت مآب چیئرمین،
وقت بڑھانے کے لیے میں آپ کا اور ایوان کا بہت شکر گزارہوں۔
عزت مآب چیئرمین،
لوک سبھا کا واقعہ بہت تکلیف دہ ہے اور شاید مایوسی تو ہم سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ملک کی جمہوریت کے پوتر مندر کو ہی اس حال میں پہنچا دینا... اور اس وقت چیئر پر آسام کے ہی ہمارے ایک معزز رکن پارلیمنٹ بیٹھے تھے اور اس وقت کاغذ پھینکے گئے، میز پر چڑھ گئے لوگ۔ کیا یہ نارتھ ایسٹ کی توہین نہیں ہے؟ کیا آسام کے شہریوں کی توہین نہیں ہے؟ کل پھر دوبارہ انہوں نے یہی کیا اور اس وقت آندھرا کے دلت خاندان کا بیٹا کرسی پر بیٹھا تھا، انہوں نے اسے بھی ذلیل کیا۔ یعنی آپ نارتھ ایسٹ کے شخص کی توہین کرو جو کرسی پر بیٹھا ہے، آندھرا کے ایک دلت خاندان کے بیٹے کی توہین کرو۔ ایوان نے انہیں کام دیا ہوا ہے، سب نے مل کر کام دیا ہے، لیکن وہ دلت معاشرے سے آتے ہیں، اس لیے آپ توہین کرتے ہو اور ایسا لگتا ہے کانگریس کے لوگوں کو آسام کے عوام سے سخت نفرت ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہاں کی عوام نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو وہ ان کے دشمن ہو گئے۔ کیا کبھی جمہوریت میں ایسے سوچتے ہیں کیا؟ مجھے تو تب بہت دکھ ہوا تھا جب بھارت رتن بھوپین ہزاریکا جی، جو اس ملک کی بہت ہی محترم شخصیت ہیں، آج بھی گھر گھر میں لوگ انہیں یاد کرتے ہیں، ان کے لیے جو عقیدت کا جذبہ ہے آپ تصور نہیں کر سکتے، لیکن انہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اور جس طرح سے... اور ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم نے بھوپین ہزاریکا جی کا جو ملک کے لیے تعاون تھا، نارتھ ایسٹ جیسے علاقے سے پورے ملک کو اپنی آواز، اپنے خیالات اور اپنی اظہار سے جوڑ کر رکھا تھا، ہم نے انہیں بھارت رتن دینے کا فیصلہ کیا۔ اس پر بھی انہیں اعتراض! اور میں تو حیران ہوں، کھڑگے جی اگر ہوتے تو میں ان کی موجودگی میں کہتا، انہوں نے جس طرح سے بھارت رتن کی بات کی، وہ ویڈیو پر ان کا چہرہ دیکھیں گے نا، تو آپ کو لگے گا کہ یہ ایسے لوگ ہیں، ایسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو صرف ایک سنگر تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی کی بھی توہین کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ انہوں نے بھوپین ہزاریکا جی کو بھارت رتن دیے جانے کی بھی مخالفت کی۔ یہ پورے آسام کی مخالفت ہے، پورے ملک کے فن پاروں سے محبت کرنے والوں کی مخالفت ہے، اور مجھے پکا یقین ہے کہ آسام کبھی بھی اس توہین کو بھولنے والا نہیں ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
کل جو واقعہ پیش آیا، اسی ایوان کے ایک معزز رکن پارلیمنٹ، کانگریس کے شاطر دماغ رکھنے والے ایک یوراج نے انہیں غدار کہہ دیا۔ ان کا غرور ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے۔ کانگریس چھوڑ کر کتنے ہی لوگ نکلے ہیں، کانگریس کے کتنے ٹکڑے ہوئے ہیں، کئی لوگ دوسری پارٹیوں میں گئے ہیں، لیکن اوروں کو تو کسی نے غدار نہیں کہا۔ لیکن کل رکن پارلیمنٹ کو غدار اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ سکھ تھے۔ یہ سکھوں کی توہین تھی۔ یہ گروؤں کی توہین تھی اور کانگریس کے اندر جو سکھوں کے خلاف کوٹ کوٹ کر نفرت بھری پڑی ہے نا، یہ اس کا اظہار تھا۔ وہ اسی ایوان کے معزز رکن ہیں اور انہیں ذرا بھی درد نہیں، ورنہ آج کھڑے ہو کر کہہ سکتے تھے کہ کل جو ہوا وہ پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق نہیں تھا، ہمیں افسوس ہے۔ ایک لفظ تو بول لیتے! لیکن سکھوں کے تئیں ان کے دل میں جو نفرت بھری ہے، اسی کی وجہ سے انہوں نے کل یہ کہا۔ اور وہ جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے ملک کے لیے شہادتیں دیں، انہوں نے اپنے سیاسی نظریات بدلے تو وہ غدار ہو گئے؟ غدار لفظ چھوٹا نہیں ہے۔ میرے کسی ہم وطن کو کوئی غدار کہے، یہ ملک کیسے برداشت کرے گا؟ اور وہ بھی ایک سکھ کو غدار کہنا، بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ ایسے لوگ کانگریس کو نہیں ڈبوئیں گے تو کیا کریں گے؟
عزت مآب چیئرمین،
ایک طرف یہ منظر ہے اور دوسری طرف ہمارے سدانند جی ماسٹر کا منظر ہے۔ سیاسی دشمنی کی وجہ سے ان کے دونوں پاؤں کاٹ دیے گئے۔ بھری جوانی میں دونوں پاؤں کاٹ دیے۔ کٹے ہوئے پاؤں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن تربیت اتنی اعلیٰ ہے کہ زبان سے بھی نازیبا کلمات نہیں نکلتے، رویے میں بھی تلخی نظر نہیں آتی۔ فخر ہوتا ہے۔ اور کل جب ملک نے دیکھا، جب ایوان میں ان کی پہلی تقریر ہو رہی تھی اور انہوں نے جب اپنی بنچ پر آپ سے اجازت لے کر اپنے کٹے ہوئے پاؤں کے لیے جو وہ مصنوعی پاؤں آرٹیفیشیل لِمب استعمال کرتے ہیں، وہ جب رکھا، وہ منظر ملک کے لیے تکلیف دہ تھا کہ اس ملک میں آئین کی باتیں کرنے والے انڈی الائنس کے لوگ... اور یہ انڈیا الائنس پورا ذمہ دار ہے اس کے لیے کہ نظریاتی اختلاف کی وجہ سے ایک نوجوان اور وہ بھی ایک استاد، جسے فخر اور احترام سے دیکھا جاتا ہے، اس کے پاؤں کاٹتے ہیں۔ لیکن انہیں کوئی افسوس نہیں، کوئی درد نہیں۔ لیکن میں ماسٹر سدانند جی کو دل سے مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اتنے ہولناک حملے کے بعد بھی ملک کی خدمت کا اپنا عہد جاری رکھا اور آج ملک کی پالیسی سازی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے اور ایسے لوگوں کے سہارے ہم سیاست میں جیتے ہیں، کام کرتے ہیں۔ ملک کے لیے جینے مرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ یہ تربیت ہمیں ملی ہے، ایسے لاکھوں کارکنوں کی تپسیا سے ملی ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
ان دنوں کانگریس کے ہمارے ساتھیوں کا مجھ پر ذرا خاص پیار ہے، وہ اسپیشل پیار ہے۔ اور جو ذمہ داری ملی ہے اس کے تحت اور ذمہ داری نہ بھی ملتی تو بھی ہم نے ملک کے لیے جینا سیکھا ہے۔ ہم وکست بھارت کی زمین مضبوط کر رہے ہیں، اسے ایک طاقت دے رہے ہیں۔ ایک طرف میں ملک کے نوجوانوں کے لیے مضبوط زمین تیار کر رہا ہوں، تو دوسری طرف کانگریس مودی کی قبر کھودنے کے پروگرام کروا رہی ہے۔ اور محبت کی دکان کھولنے والے ’’مودی تیری قبر کھودے گی‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ کون سی محبت کی دکان ہے جو ملک کے ہی ایک شہری کی قبر کھودنے کے خواب دیکھتی ہو؟ یہ انہوں نے کون سے آئین سے سیکھا ہے جو ملک کے ہی کسی شہری کی قبر کھودنے کی بات کرتے ہوں؟ کیا یہ آئین کی توہین نہیں ہے؟ کیا یہ انسانیت کی توہین نہیں ہے؟ کیا یہ عوامی زندگی کے آداب کی توہین نہیں ہے؟ اور انہیں اس کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ اس کے بعد کیا بیان دیں گے؟ بیان دیکھو: ’’وزیر اعظم راجیہ سبھا میں بھی رو رہا تھا۔‘‘ کس طرح کی تربیت اور ذہنیت کے پلے بڑھے لوگ ہیں یہ...
عزت مآب چیئرمین،
میرا تجربہ بہت پرانا ہے۔ 2002 سے جب وہ اپوزیشن میں تھے تب سے اور 2004 سے جب وہ اقتدار میں آئے تب سے اور 2014 سے جب میں یہاں آیا تب سے، گزشتہ 25 سال میں پارلیمنٹ کا ایک بھی سیشن ایسا نہیں گیا جب مودی پارلیمنٹ کا رکن نہیں تھا۔ ایک بھی سیشن ایسا نہیں گیا جس میں اس ایوان کے اندر ان لوگوں نے مودی کو گالی دینے کا کام نہ کیا ہو، 25 سال! اور مجھ سے کسی نے پوچھا تھا کہ مودی جی، آپ کی صحت کا راز کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں روزانہ دو کلو گالیاں کھاتا ہوں۔
عزت مآب چیئرمین،
یہ مودی کی قبر کیوں کھودنا چاہتے ہیں؟ یہ صرف نعرہ نہیں ہے، یہ ان کے اندر چھپی ہوئی نفرت کا عکس ہے۔ اس کا اظہار ہے۔ اور وہ اس لیے ہے کہ ہم نے 370 کی دیوار گرا دی، اس لیے وہ مودی کی قبر کھودنا چاہتے ہیں۔ ہم نے نارتھ ایسٹ میں بم، بندوق اور دہشت کا جو سایہ رہتا تھا، وہاں امن اور ترقی کی راہ اپنائی، اس لیے وہ مودی کی قبر کھودنے کی سوچ رہے ہیں۔ پاکستانی دہشت گردوں کو گھر میں گھس کر جواب دیتے ہیں، اس لیے مودی کی قبر کھودنے کی بات کرتے ہیں۔ آپریشن سندور کرتے ہیں، اس سے انہیں پریشانی ہوتی ہے، اس لیے وہ مودی کی قبر کھودتے ہیں۔ ماؤ نواز دہشت گردی سے ملک کو نجات دلانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کر رہے ہیں، اس لیے آپ کو مودی کی قبر کھودنی ہے۔ نہرو جی نے ملک کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی تھی سندھ طاس معاہدہ کر کے، اس معاہدے کو ہم نے التوا میں ڈال دیا، کیا اس لیے... اس لیے آپ مودی کی قبر کھودنے کے نعرے لگا رہے ہو؟
عزت مآب چیئرمین،
کانگریس کی پریشانی کچھ اور ہے۔ وہ یہ ہضم نہیں کر پا رہے کہ مودی یہاں تک پہنچا کیسے؟ اور ان کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے کہ بھائی پہنچ تو گیا، لیکن اب تک ٹکا کیوں ہے؟ اور اس لیے انہیں اب ایک ہی راستہ بچا ہوا لگ رہا ہے کہ ’’مودی تیری قبر کھدے گی‘‘۔
عزت مآب چیئرمین،
انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ ان کا جمہوریت یا آئین سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وزارت عظمیٰ ان کے خاندان کی جاگیر ہے۔ اس پر کوئی اور قبضہ نہیں کر سکتا۔ یہ ان کے اندر چھپی نفرت کا نتیجہ ہے، محبت کی دکان میں جو آگ بھڑک رہی ہے۔ اس لیے اس پر کوئی کیوں قبضہ کرے؟ یہ ہمارا آبائی حق تھا۔ اس لیے وہ مودی کی قبر کھودنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
ملک نے کئی دہائیوں سے کانگریس کے شاہی خاندان کو مواقع فراہم کیے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ملک نے اپنا مستقبل بھی آپ پر داؤ پر لگا دیا، لیکن آپ نے غریب ہٹاؤ (غربت ہٹاؤ) جیسے نعرے لگا کر انہیں گمراہ کیا۔ یہ درست نہیں ہے کہ لال قلعہ سے کانگریس کے کسی بھی وزیر اعظم کی تقریر میں غربت کے خاتمے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن غربت کے خاتمے کے لیے کسی بھی وزیر اعظم نے کیا کیا، ایک بار بھی نہیں ہوا، ان کا نعروں سے زیادہ کچھ نہیں تھا اور مودی نے غریبوں کو بااختیار بنانے، انہیں بااختیار بنانے کا راستہ اپنایا ہے۔ میں اپنے ملک کے غریبوں کو سلام کرتا ہوں۔ انہوں نے ملک کے منصوبوں کو سمجھا اور قبول کیا، اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کی۔ میں اپنے ملک کے غریبوں کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے ہماری پالیسیوں اور اپنے ارادوں پر بھروسہ کیا، اور انہوں نے اپنے آپ کو اس کے لئے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میرے 25 کروڑ غریب بھائیوں نے غربت کو شکست دی ہے اور اس سے باہر نکلے ہیں۔ میں ان کو سلام کرتا ہوں، اپنے 25 کروڑ ہم وطنوں، جو مایوسی میں تھے، لیکن جب انہوں نے امید کی کرن دیکھی تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور آج ہمارے ساتھ چل رہے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
سال 2014 سے پہلے وہ عمل درآمد کی بات کرتے تھے۔ ہمارے علاقے میں ریلوے کراسنگ پر سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ 20-25 اسکولی بچوں کے اس وقت ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جب ایک اسکول بس ریلوے کراسنگ کراس کر رہی تھی۔ بغیر پائلٹ کے ریلوے کراسنگ اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ انہیں ٹھیک نہ کر سکے۔ مجھے بھی ایسا کرنا پڑا، اور ہم نے بغیر پائلٹ کے تمام کراسنگ بند کر دیے۔ ہم نے لاکھوں جانیں بچائیں۔ اس لیے وہ مودی کی قبر کھودنا چاہتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
سال 2014 سے پہلے اس ملک میں 18 ہزار گاؤں ایسے تھے جو بجلی کا مطلب نہیں جانتے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کوئی بجلی کا تار ہے، کوئی بلب ہے، ایک جلتا ہوا لٹو اوپر ہے، اس میں سے روشنی نکل رہی ہے۔ 2014 کے بعد جب آپ نے، ہم وطنوں نے ہمیں ان 18,000 گاؤں کی ذمہ داری سونپی تو ہم نے ان 18,000 گاؤں کو روشن کر دیا جنہوں نے کبھی بجلی نہیں دیکھی تھی۔ بجلی کا ایک لفظ بھی نہیں سنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں مودی کی قبر کھودنے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
عزت مآب چیئرمین،
ایک وقت تھا جب ملک میں خبریں کثرت سے آتی تھیں۔ میڈیا میں سرخیاں بنتی تھیں۔ سرحد کی صورتحال پر بیانات آتے تھے۔ کوئی گولہ بارود نہیں، بلٹ پروف جیکٹ نہیں، وہ برف میں کھڑے ہیں ، اس کے پاس برف میں کھڑے ہونے کے لیے جوتے بھی نہیں ہیں۔ یہ خبریں آ تی تھیں ۔ ہم نے ملک کے فوجیوں کے لیے خزانہ کھول دیا۔ ہم نے ملک کے سپاہیوں کو جو کچھ بھی درکار ہوگا وہ دینے کا عہد کیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ اب کوئی راستہ نہیں بچا۔ صرف مودی کی قبر کھودی جائے گی۔ ان کے لیے یہی ایک راستہ بچا ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ ایک بار ایوان میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے۔ دماغی بخار سے لاتعداد بچے مر رہے تھے۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس دماغی بخار کا علاج ہو سکتا ہے اور اس سے ان کی جان بچ سکتی ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
لوگ آنکھوں کی بیماری ٹریکوما سے پریشان رہتے تھے۔ وہ اپنی بینائی کھو دیتے تھے اور سائنس نے ترقی کی تھی، یہ ممکن تھا، وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے لوگوں کو دماغی بخار سے بھی نجات دلائی اور ہم نے ملک کے عوام کی آنکھوں کو ٹریکوما سے بچایا۔ یہی کامیابیاں ہیں، یہی حساسیت ہے، یہ ہے سماج کے لیے جینے اور مرنے کا عزم، یہ ہے ہر لمحہ بہ لمحہ، سماج کے لیے گزارنا، محنت، دکھ، یہ انہیں پریشان کر رہا ہے۔ تبھی وہ اس منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ مودی تمہاری قبر کھودیں گے، وہ ان خوابوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور جمہوریت کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے محبت کی دکان کے سائن بورڈ لگائے۔ کیا ایسی نفرت عوامی زندگی میں موجود ہے؟
عزت مآب چیئرمین،
ان کی حکومت ریموٹ کنٹرول سے چلتی تھی۔ میری حکومت بھی ریموٹ کنٹرول سے چلتی ہے۔ 1.40 کروڑ شہری میرا ریموٹ کنٹرول ہیں۔0 1.4 کروڑ شہریوں کے خواب، 1.40 کروڑ شہریوں کی امنگیں، قوم کے نوجوانوں کا عزم- ہم ان کے لیے جیتے ہیں، ہم ان کے لیے اپنی حکومت چلاتے ہیں۔ طاقت ہمارے لیے خوشی کا راستہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے لیے خدمت کا ایک ذریعہ ہے۔ مدرا اسکیم نے لاکھوں اور اربوں کی مدد کی، خود روزگار کو فروغ دیا۔ کانگریس نے کبھی بھی اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ نہیں دیا۔ وہ سینکڑوں اسٹارٹ اپس کے وجود سے بھی واقف نہیں تھے، اور ان کی حالت زار اتنی سنگین ہے، جناب چیئرمین، کہ وہ اپنے گھر کے اسٹارٹ اپس کی حمایت بھی نہیں کر سکتے۔ اور آج ہماری حکومت کے پاس 200,000 سے زیادہ اسٹارٹ اپ ہیں، اور جب کامیابی کے بعد کامیابی عوام کے دل جیت لیتی ہے، تب ہی ان کے لیے ایک آپشن رہ جاتا ہے: ‘‘مودی، تمہاری قبر کھودی جائے گی’’۔ لیکن یاد ہے ان دنوں بی ایس این ایل کے بارے میں لطیفے اور کارٹون بنائے جاتے تھے۔ آج، ہم نے ایک مقامی 4جی اسٹیک قائم کیا ہے۔ ہم نے دنیا میں سب سے تیز رفتاری سے 5جی متعارف کرایا ہے۔ ہم نے مواصلات، نئی ٹیکنالوجی اور نئی سوچ کی نئی نسل کا علمبردار کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ درد ان الفاظ میں عیاں ہے کہ ‘‘مودی تیری قبر کھودی ہے’’۔
عزت مآب چیئرمین،
غریبوں کی خدمت کرنا میری خوش قسمتی ہے۔ 4 کروڑ غریب لوگوں کو مستقل گھر فراہم کرنا مجھے زندگی میں سکون بخشتا ہے۔ بجلی، پانی، گیس سلنڈر، اور بیت الخلا کی سہولیات ،میں محسوس کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے صحیح سمت میں کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ پہلی بار ایک گاؤں کی عورت بڑے فخر سے اعلان کر رہی ہے کہ ہاں میں کروڑ پتی بہن بن گئی ہوں۔ ایک اور کہتی ہیں، ‘‘اس سال تک، میں کروڑ پتی بہن بن جاؤں گی۔’’ میں کروڑ پتی بننے والوں سے پوچھتا ہوں تو کہتے ہیں جناب اب تو کروڑ پتی بننے کا سوچ رہے ہیں۔ مزاج میں یہ تبدیلی، یہ خود اعتمادی میں اضافہ، اور یہ شخص جس کے پاس اس ملک کے کروڑوں شہریوں کا احسان ہے، جس کے پاس لاکھوں ماؤں بہنوں کی حفاظتی ڈھال ہے، آپ جتنے بھی نعرے لگا لیں، آپ ان کی قبر نہیں کھود سکیں گے۔ ملک کی یہ طاقت، یہ نعمتوں کی ڈھال، ماؤں اور بہنوں کے میرے لیے جو جذبات ہیں، جس عقیدت کے ساتھ میں نے ماؤں اور بہنوں کی خدمت کی ہے، جن کی کسی کو پرواہ نہیں تھی، مودی اس کو پوجتا ہے۔ یہی وجہ اور یہ دعائیں ان کو چبھتی ہیں اور اسی لیے وہ قبر کھودنا چاہتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
چوری جن کا آبائی پیشہ ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ایک گجراتی کنیت کو بھی چرا لیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کی کنیت چرا لی۔ یہ لوگ اور اس ملک کے لوگ اتنے سمجھدار ہیں کہ آپ کو ایسی پٹائی، ایسی پٹائی دے سکتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
ہم ایک وکست بھارت کا خواب لے کر نکلے ہیں اور آج اس ملک کے لوگوں کی توانائی کی بدولت وہ خواب ایک عزم میں بدل گیا ہے۔ آج کہیں بھی جائیں، ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور میں حیران ہوں کہ اس ایوان میں ہمارے کچھ ساتھی کیسے اتنے مایوس ہیں، وہ زمین سے اتنے منقطع ہیں، بدلتی ہوئی دنیا سے اتنے لاعلم ہیں، وہ حیران ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ مودی 2047 کی کیا بات کر رہے ہیں؟ 2047 کس نے دیکھا ہے؟ ہمارے ملک کی آزادی کے لیے لڑنے والے، جو لوگ پھانسی پر چڑھ گئے، وہ لوگ جنہوں نے لاٹھی چارج اور گولیوں کا سامنا کیا، وہ لوگ جنہوں نے انڈمان اور نکوبار جزائر کی سیلولر جیل میں "کالا پانی" کی سزا کے طور پر اپنی زندگیاں گزار دی تھیں ، اس نسل کے نوجوان، اپنے مستقبل کے بارے میں سوچے بغیر، اپنی پڑھائی کےمستقبل کے بارے میں سوچے بغیر، کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر، ملک کے لئے نکل پڑےتھے۔ کیا انہوں نے کبھی سوچا تھا کہ ہم اپنے دور میں آزادی حاصل نہیں کریں گے تو ہم کیوں کریں؟ کیا ملک کبھی آزاد ہوتا؟ یہ لوگ اتنے مایوس ہیں کہ جب میں ڈیجیٹل انڈیا، فنٹیک، اور یو پی آئی کے بارے میں بات کرتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اس ملک میں غریب آدمی موبائل فون پر پیسے کیسے لین دین کرے گا؟ تین سالوں میں ملک نے دکھا دیا کہ یہ ممکن ہے۔ اور مجھے حیرت ہوئی جب جس دن پارلیمنٹ میں ایسی تقریر ہوئی، ملک کا میڈیا اور ان کا ایکو سسٹم بھی یہ کہہ کر ناچ رہا تھا کہ دیکھو مودی کو سخت جواب دیا گیا ہے۔ مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب آپ کا موبائل فون جب یو پی ائی سے چلتا ہے، یہ کام کرتا ہے، تو جواب خود بخود مل جاتا ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
کانگریس پارٹی کے دور میں، ایک طنز گردش کرتا تھا، جو اکثر سنجیدہ مباحثوں اور یہاں تک کہ مذاق میں بھی استعمال ہوتا تھا۔ " انڈیا مس دی بس۔ بھارت کی بس چھوٹ گئی۔’’ یہ ایک عام جملہ بن گیا ہے۔ ‘‘بھائی، میں نے موقع گنوا دیا۔ بازی ہاتھ سے چلی گئی۔ انڈیا کی بس چھوٹ گئی۔’’ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔
عزت مآب چیئرمین،
آج بھارت کی کوئی بس نہیں چھوٹ رہی۔ آج بھارت اس قافلے کی قیادت کر رہا ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
ملک کا مستقبل روشن کرنا ہے۔ حال کو بھی روشن بنانے کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑتی ہے۔ وکست بھارت کے خواب کی پرواز میں ہم 5 سال کا منصوبہ بناتے ہیں اور ہر سال کا بجٹ تیار کرتے ہیں اور سمت طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے اگلا ہدف انتخابی ہدف نہیں ہے۔ ہمارا ہدف 2047 ہے، وکست بھارت ۔ الیکشن آئیں گے اور جائیں گے، میرا ملک امر رہنے والا ہے اور ہم، ملک کی نوجوان نسل کو ایک خوشحال ہندوستان سونپنے کا خواب لے کر آئے ہیں۔ آج گھر میں جو بچے ہیں ان کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ مجھے ایسا ہندوستان ان کے ہاتھ میں سونپنا چاہیے تاکہ ہم اپنے کام سے مطمئن رہیں۔ 2047 کیوں، ہم 2047 کی بات کیوں کرتے رہتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
آج جس طرح سے ہم نے پہل کی ہے، چاہے وہ خلا ہو، سائنس ہو، ٹیکنالوجی ہو، سمندر کی گہرائی ہو، پانی ہو، زمین ہو، آسمان ہو، خلا ہو، ملک ہر میدان میں نئے عزم، نئی توانائی، نئے قدم اور نئی کامیابیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم گرین ہائیڈروجن پر کام کر رہے ہیں۔ ہم آنے والے دور کو سمجھنے کے قابل ہیں۔ ہم کوانٹم کمپیوٹنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم اے آئی مشن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور آج دنیا یہ ماننے لگی ہے کہ ہندوستان اے آئی مشن کے ذریعے دنیا کو بہت کچھ دے سکتا ہے، یہ یقین آج دنیا میں بن چکا ہے۔ آج اہم معدنی نایاب زمین دنیا میں ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے، ہم اس پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، تاکہ بھارت کو کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آجائے۔
عزت مآب چیئرمین،
ایسے لاتعداد پروجیکٹس ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری ضرور آنی ہے کیونکہ اب ہر کوئی اپنا مستقبل ہندوستان کی سرزمین پر دیکھتا ہے، ہر کوئی اپنا مستقبل ہندوستان کے ٹیلنٹ پر بھروسہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے، ہر کوئی اپنے روشن مستقبل کو ہندوستان کے روشن مستقبل سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا، یہی وجہ ہے کہ دنیا آج ہم ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کیوں کر رہے ہیں، جو نہیں سمجھتے، وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہندوستان صحیح سمت پر چل رہا ہے، اب دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہندوستان کی سمت چل رہی ہے۔ بس مت چھوڑیں. کل تک بحث ہوتی تھی، بھارت کی بس یاد آتی ہے، اب دنیا کو لگتا ہے، دیر نہ کریں، ہمہاں تک پہنچنےآی گئ بغیر، اپنے یں وہاں تک پہنچنا ہے، وہاں تک پہنچنے کا مقابلہ ہے۔
عزت مآب چیئرمین،
آنے والا وقت ہندوستان کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے مواقع سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں ہندوستان کے روشن مستقبل کی پوری صلاحیت کا خاکہ پیش کرسکتا ہوں۔ میں انہیں دیکھ سکتا ہوں، اور ہم اس سمت میں پالیسیاں بنا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ میں اپنے ہم وطنوں کو اس کے لیے مدعو کرتا ہوں، اور میں انہیں آج ایوان میں بھی بتانا چاہوں گا۔ میں نے من کی بات میں اس کا تذکرہ کیا تھا، اور میں یہاں کے تمام معزز ممبران پارلیمنٹ سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو بتائیں کہ جب دنیا بھر میں بہت سے مواقع پیدا ہوئے ہیں، پائیداری تب ہی حاصل ہوتی ہے جب ہم بہترین مصنوعات لائیں اور معیار پر مجھوتہ نہ کریں۔ منافع کم ہونے کے باوجود ہم معیار کو بہتر بناتے رہیں گے۔ ہمیں جدت لانی ہوگی، ہم تحقیق کریں گے، اور اگر ہمیں اپنی مصنوعات میں مواد کو تبدیل کرنا ہے تو ہم کریں گے۔ لیکن صرف اس صورت میں جب ہم معیار کے لحاظ سے دنیا میں سب سے بہتر بن جائیں، ہمیں آج کے سیاسی فیصلوں سے فائدہ اٹھانے میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ آج میں اپنے ہم وطنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ معیار کے معاملے پر میرا ساتھ دیں۔ معیار پر سمجھوتہ نہ کریں۔ آپ دنیا کو صرف "میڈ اِن انڈیا، میڈ اِن انڈیا، میڈ اِن انڈیا،’’ کے گانے گاتے ہوئے دیکھیں گے۔
عزت مآب چیئرمین،
میں آج کانگریس پارٹی میں اپنے دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، کم از کم یہ جانتے ہوئے کہ میں ایک اچھا امیدوار ہوں، اس سے پہلے تجربہ کر چکا ہوں۔ پچھلے 10 سالوں میں، مجھے پانچ یا چھ بار اس انداز میں بولنے سے روکا گیا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایک بار شروع ہوتا ہوں تو رکتا نہیں ۔اور میں نے اسے صرف ایک بار کہا، تو اب انہوں نے تجربے سے سیکھا ہے کہ اس میں کوئی دال گلنے والی نہیں ہے۔ لہذا، انہوں نے دانشمندی سے کام لیا ہے، اور میں دعا کرتا رہوں گا کہ وہ اس طرح کی سمجھ حاصل کرتے رہیں۔
عزت مآب چیئرمین،
میں ان تمام اراکین پارلیمنٹ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے صدر کے خطاب میں تعاون کیا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں موصول ہونے والے بہترین خیالات یقیناً ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔ میں اس خطاب کے لیے عزت مآب صدر جمہوریہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی تقریر کا اختتام کرتا ہوں۔
آپ کا بہت بہت شکریہ!
******
( ش ح ۔ ش م ۔ ک ح ۔ ن م ۔ م ا ۔ م م ع ۔ ر ض )
Urdu.No-1802
(ریلیز آئی ڈی: 2224421)
وزیٹر کاؤنٹر : 9