وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

گزشتہ5 برسوں میں مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی) نے 70 ہزار سے زائد فلموں کو سرٹیفائی کیا، صرف ان صورتوں میں مناظر حذف کیے گئےجہاں قانونی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2026 4:25PM by PIB Delhi

مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی)، جو وزارتِ اطلاعات و نشریات کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے، عوامی نمائش کے لیے فلموں کو سینماٹوگراف ایکٹ 1952، سینماٹوگراف سرٹیفیکیشن رولز 2024 اور متعلقہ رہنما اصولوں کے تحت منظوری دیتا ہے۔

مناظرمیں صرف انہی صورتوں میں حذف یا ترمیم کی جاتی ہے جب وہ بھارت کی خودمختاری اور سالمیت، سلامتی، عوامی نظم و ضبط، شرافت، اخلاقیات، تضحیک، عدالت کی بے حرمتی یا جرم کی ترغیب سے متعلق قانونی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔

گزشتہ پانچ سالوں (21-2020سے25- 2024) کے دوران، سی بی ایف سی نے 71,963 فلموں کو سرٹیفائی کیا ہے۔

سینماٹوگراف ایکٹ کے تحت بورڈ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔ ایسے مقدمات میں عدالتی کارروائی کے نتیجے کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔

حکومت تخلیقی آزادی کے تحفظ اور سینماٹوگراف ایکٹ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ایک شفاف اور جوابدہ سرٹیفیکیشن عمل کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور، ڈاکٹر ایل مورگن نے جناب منیش تیوری اور جناب ٹی  آر بلّو کے لوک سبھا میں کیے گئے سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

*********

ش ح۔ ع و۔   ص ج 

U-N-1606   

 


(ریلیز آئی ڈی: 2223292) وزیٹر کاؤنٹر : 6