ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آبی خطوں کے عالمی دن 2026 سے قبل مرکزی وزیرِ ماحولیات جناب بھوپیندر یادو کا اعلان: بھارت کی رمسار فہرست میں دو نئے آبی خطوں کا اضافہ


اتر پردیش میں پٹنہ برڈ سینکچری اور گجرات میں چھری۔ڈھانڈ کو بین الاقوامی سطح پر منظوری حاصل

प्रविष्टि तिथि: 31 JAN 2026 10:11AM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے 2 فروری 2026  کو منائے جانے والے عالمی دن برائے آبی خطے سے قبل بھارت کے رمسار نیٹ ورک میں دو نئے آبی خطوں کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر موصوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ اتر پردیش کے ضلع ایٹہ میں واقع پٹنہ برڈ سینکچری اور گجرات کے ضلع کچھ میں واقع چھری۔ڈھانڈ کو رمسار مقامات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

جناب یادو نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے رمسار نیٹ ورک میں 276 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2014 میں 26 مقامات سے بڑھ کر اس وقت 98 مقامات تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی اعتراف ماحول کے تحفظ اور آبی خطوں کے تحفظ کے تئیں بھارت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ یہ دونوں آبی خطے سینکڑوں مہاجر اور مقامی پرندوں کی اقسام کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں نایاب جنگلی حیات بھی پائی جاتی ہے، جن میں چنکارا، بھیڑیے، کاراکل، صحرائی بلیاں اور صحرائی لومڑیاں شامل ہیں، نیز خطرے سے دوچار پرندوں کی مختلف اقسام بھی یہاں موجود ہیں۔

بھارت ’’کنونشن آن ویٹ لینڈز‘‘ کا ایک فریق ملک ہے، جسے رمسار کنونشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کنونشن پر 1971 میں ایران کے شہر رمسار میں دستخط کیے گئے تھے۔ بھارت یکم فروری 1982 کو اس کنونشن کا دستخط کنندہ بنا۔

خصوصی تحفظی اہمیت کے حامل آبی خطوں کو ’’بین الاقوامی اہمیت کے حامل آبی خطے‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ مقامات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فریم ورک کے تحت تحفظ اور انتظام کے سلسلے میں ملک کے عزم کی بے جوڑ مثال بن سکتے ہیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-1340


(रिलीज़ आईडी: 2221127) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Telugu , English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Malayalam