الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کو عالمی سطح پر غیر معمولی پزیرائی حاصل ، بھارت کا اے آئی ایکو سسٹم منظم انداز میں ترقی کر رہا ہے: مرکزی وزیر اشونی ویشنو
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل اہم سنگِ میل کا اعلان
الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے اے آئی کے مستقبل پر 60 سرکردہ صنعتی ماہرین کی آرا پر مشتمل مجموعہ جاری کیا
प्रविष्टि तिथि:
30 JAN 2026 7:03PM by PIB Delhi
وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی(ایم ای آئی ٹی وائی)، حکومتِ ہند نے آج انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 سے قبل ایک اعلیٰ سطحی پریس کانفرنس منعقد کی، جس کی صدارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے کی۔
اس موقع پر الیکٹرانکس و آئی ٹی کے وزیرِ مملکت جتن پرسادا، حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر اجے سود اور ایم ای آئی ٹی وائی کے دیگر سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔پریس کانفرنس میں اہم پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، عالمی سطح پر شرکت کی تصدیق کی گئی اور انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے متوقع نتائج کا پیشگی خاکہ پیش کیا گیا۔ یہ سمٹ ایسے وقت میں منعقد ہونے جا رہی ہے جب بھارت گلوبل ساؤتھ میں پہلی مرتبہ ایک عالمی اے آئی سمٹ کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، جو 16 سے 20 فروری 2026 تک بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔

سامعین سے خطاب کرتے ہوئے جناباشونی ویشنو نے کہا کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کو دنیا بھر سے غیر معمولی ردِعمل ملا ہے اور یہ عالمی سطح پر اب تک کا سب سے بڑا اے آئی سمٹ بننے جا رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیا، جو اے آئی ویلیو چین کے مختلف حصوں—بشمول ماڈلز، ایپلی کیشنز اور انفراسٹرکچر—پر کام کرنے والے صنعت کے رہنماؤں، ڈویلپرز اور اختراع کاروں کے ساتھ ہوئیں۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے بھارت کے اے آئی ایکو سسٹم کی منظم پیش رفت اور نفاذ پر مبنی حلوں پر مضبوط توجہ کی عکاسی ہوتی ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ سرکردہ آئی ٹی کمپنیوں نے 200 سے زائد مخصوص، شعبہ جاتی اے آئی ماڈلز تیار کیے ہیں، جنہیں اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران لانچ کیے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی انفراسٹرکچر کی سطح پر تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی آ رہی ہے، جس کے سمٹ کے اختتام تک دوگنا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ ساتھ ہی، اے آئی ٹیلنٹ کی تیاری کو وسعت دی جائے گی، جس کے تحت اے آئی انفراسٹرکچر اور صنعت کے ساتھ حتمی شکل دیے گئے نصاب کو 500 یونیورسٹیوں تک بڑھایا جائے گا، تاکہ اس شعبے کے لیے مضبوط ٹیلنٹ پائپ لائن تیار کی جا سکے۔

جناب اشونی ویشنو نے اے آئی کے مستقبل اور جامع ترقی، اختراع اور سماجی اثرات کو فروغ دینے میں اس کے کردار پر تقریباً 60 سرکردہ صنعتی ماہرین کی آرا پر مشتمل ایک مجموعہ بھی جاری کیا، جس کا عنوان“دی امپیکٹ ایجنڈا: لیڈرشپ ریفلیکشنز” رکھا گیا ہے۔

اس پریس کانفرنس میں سمٹ سے قبل حاصل کیے گئے اہم سنگِ میل پر روشنی ڈالی گئی اور صنعت، حکومت، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے اس تاریخی اجتماع سے متعلق متوقع سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔ جناب ایس۔ کرشنن نے بتایا کہ افراد، کرۂ ارض اور ترقی کے اصولوں کے گرد منظم تمام سات موضوعاتی ورکنگ گروپس کی ہائبرڈ میٹنگز کامیابی سے مکمل ہو چکی ہیں اور ان کے بنیادی نتائج اب حتمی مرحلے میں ہیں۔ اسی کے ساتھ، میگھالیہ، گجرات، اوڈیشہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان اور کیرالہ میں منعقد ہونے والی ساتوں علاقائی اے آئی امپیکٹ کانفرنسیں بھی اختتام کو پہنچ چکی ہیں، جنہوں نے قومی اے آئی ترجیحات کو علاقائی صلاحیتوں، عملی استعمالات اور حکمرانی کے تناظر سے مضبوطی سے جوڑا ہے۔ سمٹ کے انتہائی شراکتی ماڈل کی عکاسی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بھارت اور دنیا بھر میں 480 سے زائد پری سمٹ تقریبات کامیابی سے مکمل ہو چکی ہیں، جن میں 30 ممالک میں 83 بین الاقوامی سرگرمیاں شامل ہیں، جبکہ مزید سرگرمیاں 10 فروری 2026 تک طے ہیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب ایس۔ کرشنن، سیکریٹری (ایم ای آئی ٹی وائی) نے کہا کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کی جمہوری دستیابی کو آگے بڑھانا ہے تاکہ اس کے فوائد معاشرے کے وسیع طبقات تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی جنوبی خطے میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی اے آئی سمٹ کے طور پر، یہ اجلاس اے آئی گورننس اور معیارات میں ہم آہنگی پر زور دیتا ہے تاکہ حقیقی دنیا میں اے آئی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال پر مشترکہ عالمی فہم کو فروغ دیا جا سکے۔
مزید یہ اعلان بھی کیا گیا کہ سمٹ ویک کے دوران بھارت منڈپم اور سشما سوراج بھون میں 500 سے زائد منتخب تقریبات منعقد ہوں گی، جن میں رہنماؤں کی سطح کے متوازی مکالمے، نمائشیں اور نتائج پر مبنی سیشنز شامل ہوں گے۔ اے آئی امپیکٹ ایکسپو میں 840 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہوں گے، جن میں کنٹری پیویلینز، وزارتیں، ریاستی حکومتیں، صنعت، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی ادارے شامل ہیں، جو حقیقی دنیا میں مؤثر اے آئی حل پیش کریں گے۔ انڈیا اے آئی بھارت کے بنیادی اے آئی ماڈلز میں پیش رفت بھی پیش کرے گا۔
کانفرنس میں 15 سربراہانِ مملکت/حکومت، 40 سے زائد وزراء، 100 سے زیادہ سرکردہ سی ای اوز و سی ایکس اوز اور 100 سے زائد ممتاز ماہرینِ تعلیم کی شرکت کی تصدیق کی گئی۔ صنعت کی شمولیت سمٹ کا ایک اہم ستون بن کر ابھری ہے، اور جیو، کوالکوم، اوپن اے آئی، این ویڈیا، گوگل، مائیکروسافٹ، ایڈوب اور گیٹس فاؤنڈیشن سمیت متعدد صنعتی شراکت داروں کی شرکت متوقع ہے۔
پریس کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ ہند انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے ذریعے جدت، معاشی ترقی اور سماجی اثرات کو فروغ دیتے ہوئے اے آئی کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور ہمہ گیر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
************
ش ح ۔ ف ا ۔ م ص
(U :1329 )
(रिलीज़ आईडी: 2221015)
आगंतुक पटल : 11