پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
انڈیا انرجی ویک 2026 کا اختتام، عالمی توانائی کے شعبے میں ہندوستان کا کردار مزید مستحکم
ہندوستا جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں کے لیے پوری طرح تیار ہے، جبکہ وہ عالمی توانائی کے مکالمے کے مرکز میں بدستور موجودہے: مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی گیس
ملکی سطح پر توانائی کی تلاش، صاف توانائی کے پھیلاؤ اور مستحکم قیمتیں ہندوستان کی توانائی خود کفالت کو مضبوط بناتی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
30 JAN 2026 2:33PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائےپیٹرولیم و قدرتی گیس جناب ہردیپ سنگھ پوری نے انڈیا انرجی ویک (آئی ای ڈبلیو) 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے عالمی توانائی منڈیوں میں مسلسل جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ بین الاقوامی توانائی کے مکالمے میں آئندہ بھی مرکزی حیثیت برقرار رکھے گا۔ یہ تقریب 27 جنوری سے 30 جنوری 2026 تک گوا میں منعقد ہوئی ۔
اختتام کے موقع پر غیر رسمی ) فائر سائیڈ چیٹ( بات چیت کے دوران جناب پوری نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی توانائی کی حکمت عملی تنوع ، لچک اور مستقبل کی منتقلی پر مبنی ہے ۔ ہم نے جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کا مسلسل اور اچھی طرح سے مقابلہ کیا ہے۔ سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور صاف ستھرے ایندھن کی طرف تیزی سے منتقلی کے ذریعے ہر چیلنج کو ایک موقع میں تبدیل کیا ہے ۔

ہندوستان کی عالمی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پوری نے کہا کہ ملک آج توانائی کا تیسرا سب سے بڑا صارف ، چوتھا سب سے بڑا ریفائنر اور پیٹرولیم مصنوعات کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور’’ہندوستان عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھی توانائی کی دستیابی ، استطاعت اور پائیداری کو یقینی بنانا جاری رکھے گا‘‘ ۔
مرکزی وزیر نے روایتی ایندھن میں مسلسل سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) گرین ہائیڈروجن اور ملک کی کلین انرجی ٹیکنالوجیز پر حکومت کے زور پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ روایتی توانائی ضروری رہے گی ، لیکن ایتھنول کی آمیزش سے لے کر سی بی جی ، ہائیڈروجن اور بائیو فیول تک جو پیش رفت ہم کر رہے ہیں ، اس سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ گرین ایندھن توسیع کا کردار ادا کریں گے۔
عالمی قیمتوں کے جھٹکوں کے دوران صارفین پر پڑنے والے اثرات سے متعلق خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئےوزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کو اتار چڑھاؤ سے کامیابی کے ساتھ محفوظ رکھاہے ۔ ’عالمی اتار چڑھا کا اثر کبھی بھی صارفین پر نہیں پڑا ۔ آج ہندوستان میں دنیا کے مقابلے میں توانائی کی سب سے کم قیمتیں ہیں اور اور بحران کے دوران بھی بلاتعطل سپلائی برقرار رکھی گئی ہے ۔انہوں نے ایل پی جی سمیت ایندھن کی قیمتوں کو یقینی بنانے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی بروقت مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صارفین کے لیے سستی ہے ۔

وزیر موصوف کے بعد پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل نے ہندوستان کی ترقی کی رفتار کو سہارا دینے کے لیے حکومت کا خاکہ پیش کیا ۔ ’’ 7؍فیصد سے زیادہ کی متوقع اقتصادی ترقی کے ساتھ ، توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوگا ۔ ہماری توجہ دو ستونوں پر مرکوز ہے: گھریلو تلاش اور پیداوار کو مضبوط کرنا اور ہندوستان کو دنیا کے لیے بہتر مصنوعات کے قابل اعتماد سپلائر کے طور پر قائم کرنا ۔
ڈاکٹر متل نے اپ اسٹریم سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے پرعزم منصوبے پیش کیے، جن میں خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے لیے ڈرلنگ اور تلاش میں اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے ریفائننگ اور پیٹرو کیمیکلز کے انضمام پر بھی زور دیا تاکہ قدر میں اضافہ کیا جا سکے اور درآمدات کم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم گھریلو سطح پر حجم بڑھا رہے ہیں ،جبکہ عالمی سطح پر مسابقتی رہنے کو یقینی بنا رہے ہیں۔
ڈاکٹر متل نے توانائی کی منتقلی پر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ لاجسٹکس کو بہتر بنانے سے لے کر مصنوعی ذہانت سے چلنے والی استعداد تک ، لاگت کو کم کرنے اور آپریشنل لچک کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی مرکزی بن رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان سی بی جی پر اپنے اہداف کو پورا کرنے کی راہ پر گامزن ہے ، جس میں 2030 تک 5 فیصد مرکب حاصل کرنے کا ہدف ہے ، جسے ریاستی شراکت داری اور کسانوں کی قیادت میں بائیو ماس سپلائی چین کی حمایت حاصل ہے ۔
اختتامی سیشن نے انڈیا انرجی ویک 2026 کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر مستحکم کیا، جو توانائی کے تحفظ، دستیابی اور پائیداری کو مربوط کرتاہے اور ساتھ ہی ہندوستان کو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی توانائی کے شعبے میں ایک مستحکم، قابل اعتماد اور عملی رہنما کے طور پر قائم کرتا ہے۔
انڈیا انرجی ویک کے بارے میں:
انڈیا انرجی ویک ملک کا اہم عالمی توانائی پلیٹ فارم ہے، جو محفوظ، پائیدار اور قابلِ برداشت توانائی کے مستقبل کی جانب پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے سرکاری قائدین، صنعت کے عہدیداران اور اختراع کاروں کو یکجا کرتا ہے۔ ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورم کے طور پر آئی ای ڈبلیو سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ عالمی توانائی کے منظرنامے کو تشکیل دیتا ہے۔
**********
UR-1290
(ش ح۔ م ع ن-ش ب ن)
(रिलीज़ आईडी: 2220824)
आगंतुक पटल : 8