ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارتی ریلوے کی وادیٔ کشمیر تک ہمہ موسمی رابطے (آل ویدر کنیکٹیویٹی )نے غذائی اجناس کی قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنایا اور خراب موسمی حالات کے باوجود لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی کی


بیالیس (42) ویگنوں پر مشتمل پہلی مکمل ریک، جس میں 2,768 میٹرک ٹن چاول لدا ہوا تھا، اننت ناگ پہنچ گئی

प्रविष्टि तिथि: 24 JAN 2026 5:56PM by PIB Delhi

اناج (چاول) کا پہلا مکمل ریک 22 جنوری 2026 کو اننت ناگ پہنچا، جو وادیٔ کشمیر میں مال بردار ریل نقل و حمل کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور خطے میں ہر موسم میں ریل رابطے کی مضبوط صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اپنی نوعیت کی اس پہلی کامیابی میں، فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ساتھ مسلسل تال میل کے بعد لاجسٹک لاگت میں کمی کے مقصد سے 42 ویگنوں پر مشتمل ایک مکمل ریک، جس میں 2,768 میٹرک ٹن چاول لدا ہوا تھا، ریل کے ذریعے اننت ناگ کے گڈز شیڈ تک کامیابی سے پہنچایا گیا۔

اس سے قبل ریل کے ذریعے صرف منی ریک منتقل کیے جاتے تھے، جن میں 21 ویگنوں کے ذریعے 1,384 میٹرک ٹن اناج کی ترسیل ہوتی تھی۔ تاہم اس مرتبہ مکمل ریک کو 21 جنوری کو پنجاب کے سنگرور ریل ٹرمینل سے کامیابی کے ساتھ لوڈ کیا گیا اور یہ محض 24 گھنٹوں کے اندر اننت ناگ پہنچ گیا۔ خراب موسمی حالات کے باوجود، جن کی وجہ سے ایک دن قبل ان لوڈنگ کی سرگرمیوں میں خلل پیدا ہوا تھا، ریک کو مؤثر انداز میں سنبھالا گیا، جس کے نتیجے میں وادیٔ کشمیر میں غذائی اجناس کی سپلائی چین اور تقسیم کے نظام کو نمایاں تقویت ملی۔

یہ سنگِ میل وادیٔ کشمیر میں اناج کی تقسیم کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ منی ریک اور سڑک پر مبنی نقل و حمل سے مکمل صلاحیت کے حامل ریلوے ویگنوں کی طرف منتقلی سے نہ صرف مجموعی لاجسٹکس اور مال برداری کے اخراجات میں نمایاں کمی متوقع ہے، بلکہ ضروری اشیاء کی تیز تر اور زیادہ قابلِ اعتماد ترسیل بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے بالخصوص خراب موسمی حالات کے دوران وادی میں مناسب بفر اسٹاک برقرار رکھنے اور مقامی گھرانوں کے لیے غذائی اجناس کی دستیابی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

قومی شاہراہوں پر بھاری ٹرک ٹریفک پر انحصار میں کمی ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ آپریشنل کارکردگی میں اضافے کا بھی باعث بنے گی۔ سیب، سیمنٹ، کھاد اور اب غذائی اجناس کی کامیاب نقل و حرکت کے تجربے کی بنیاد پر ریل پر مبنی لاجسٹکس خطے میں پائیدار اقتصادی سرگرمی، لچک اور طویل مدتی سپلائی چین کے استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔

یہ پیش رفت آزاد ہندوستان کے سب سے زیادہ مہتواکانکشی ریلوے انجینئرنگ منصوبوں میں سے ایک، ادھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) کے انقلابی اثرات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ وادی میں برف باری اور سخت سردیوں کے حالات کے باوجود بہتر ریل رابطہ تجارت اور رسد کے نظام کو مضبوط بنا رہا ہے، جس سے کسانوں، تاجروں اور عام گھرانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے اور ضروری اشیاء تک زیادہ قابلِ اعتماد رسائی یقینی ہو رہی ہے۔

 

***

UR-1038

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2218245) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Kannada , Malayalam