الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
عالمی اقتصادی فورم میں مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بھارت پر عالمی اعتماد کو اجاگر کیا
اہم مذاکرات منعقد، عالمی صنعتی رہنماؤں کی بھارت کے ساتھ شراکت داری میں توسیع میں گہری دلچسپی کا اظہار
وزیر موصوف نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون بھارت کی اہم معدنیات کی ویلیو چین کو محفوظ اور مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے
مصنوعی ذہانت کے عالمی رہنماؤں کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں فعال شرکت کی ترغیب
प्रविष्टि तिथि:
22 JAN 2026 8:59PM by PIB Delhi
الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریلوے اور اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر،جناب اشونی ویشنو نے عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف)، ڈاووس میں اپنی مصروفیات کے دوران بھارت پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد اور ایک قابل بھروسہ ویلیو چین شراکت دار کے طور پر بھارت کے کےابھرتےہوئےکردار کو اجاگر کیا۔
وزیرموصوف نے کہا کہ ڈبلیو ای ایف ، ڈاووس میں ہونے والی میٹنگیں بھارت کی ترقی کی کہانی کو مضبوط کرتی ہیں، جہاں عالمی رہنماؤں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھارت کے ساتھ شراکت داری میں مسلسل دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے۔
گفتگو کے دوران، ٹیمسیک کے چیئرمین جناب تیو چی ہیان نے بھارت میں ٹیمسیک کی موجودگی کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا اور بھارت کے طبعی(فیزیکل) اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کے لیے سنگاپور کے عزم کی توثیق کی۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور سائبر سیکیورٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت نے ایک قابلِ اعتماد ویلیو چین شراکت دار کے طور پر بھارت کے بڑھتے ہوئے مقام کی بھی عکاسی کی۔
وزیر موصوفنے اس بات کی نشاندہی کی کہ مختلف سطحوں پر ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے دوران بھارت پر عالمی اعتماد واضح طور پر نظر آیا۔ مارسک بھارت کے ساتھ جہاز رانی، بندرگاہوں اور ریلوے کے شعبوں میں لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم تعاون کر رہا ہے، اور سیمی کنڈکٹر مواد کے حوالے سے بھی بھارت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ہنی ویل (ریلوے کی جدید کاری میں بھارت کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے اور ملک میں اپنی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا ہے۔
جناب اشونی ویشنو نے ڈبلیو ای ایف، ڈاووس میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے سی ای او اور شریک بانی جناب ڈیمس ہیسبیس اور اوپن اے آئی کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جناب کرس لیہان سے بھی ملاقات کی۔ وزیرموصوف نے عالمی بھلائی کے لیے مصنوعی ذہانت کی تشکیل میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے اے آئی رہنماؤں کو فروری 2026 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والیاے آئی امپیکٹ سمٹ میں فعال شرکت کی ترغیب دی۔
ڈاووس میں اپنی مصروفیات کے دوران بات کرتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ عالمی عدم استحکام کے اس دور میں، جب پرانے قوانین اور اتحاد تبدیلی کے مراحل سے گزر رہے ہیں، بھارت کو بڑھتے ہوئے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، ایک زندہ دل جمہوریت جو نتائج فراہم کرتی ہے اور جامع ترقی پر مرکوز قیادت مہیا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مباحثوں اور ملاقاتوں کے دوران بھارت پر مسلسل اعتماد دیکھا گیا، ایک ایسا ملک جس کے ساتھ عالمی شراکت دار آسانی سے کام کر سکتے ہیں، نئی ٹیکنالوجیز کو مشترکہ طور پر تخلیق اور ترقی دے سکتے ہیں۔
اہم معدنیات کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ ان کی ویلیو چین نہایت پیچیدہ ہے اور اس کے مختلف مراحل میں باہمی ہم آہنگ شراکت درکار ہوتی ہے، بالخصوص ریفائننگ اور پروسیسنگ کے شعبوں میں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط، محفوظ اور پائیدار اہم معدنیات کی ویلیو چین کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ بھارت کے پاس پہلے ہی جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، آسٹریلیا،یورپ اور امریکہ کے ساتھ تعاون موجود ہے، اور یہ شراکت داریاں اہم معدنیات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جناب اشونی ویشنو نے بھارت کے اے آئی اسٹیک کے حوالے سے جامع نقطۂ نظر پیش کیا، جو ایپلیکیشنز اور ماڈلز سے لے کر چپس، انفراسٹرکچر اور توانائی تک محیط ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بھارت کی آئی ٹی صنعت نے اے آئی پر مبنی حل فراہم کرنے کی طرف رخ کیا ہے، جو پیداواریت اور قدر میں اضافہ کرتے ہیں۔
آنے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اس سمٹ کے تین اہم مقاصد ہوں گے:پیداواریت اور منافع میں اضافہ کے لیےاے آئی کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینا؛ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی کو یقینی بنانا، یعنی ڈیموکریٹائزیشن کے ذریعے؛اے آئی کے فوائد حاصل کرنے کے دوران خطرات کو منظم کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات وضع کرنا۔
سیمی کنڈکٹرز کے حوالے سے وزیرموصوف نے کہا کہ کئی منظور شدہ مراکز میں پائلٹ پروڈکشن شروع ہو چکی ہے اور تجارتی پیداوار جلد ہی شروع ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت ایک محتاط اور منظم انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام قائم کیا جا سکے اور اس اہم شعبے میں بھارت کی طویل مدتی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چار سیمی کنڈکٹر پلانٹس میں سے ایک میں پائلٹ پروڈکشن کے بعد تجارتی پیداوار جلد شروع ہونے والی ہے، جس کا پہلے پلانٹ کےفروری میں پیداوار شروع کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے اسے چھ دہائیوں کی کوششوں کے بعد ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا، جو بنیادی ٹیکنالوجیز کی تعمیر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے مضبوط فوکس کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ ملک میں اب ایک مضبوط اور پختہ الیکٹرانکس ماحولیاتی نظام قائم ہونے کے ساتھ، بھارت کے لیے اپنے خود کے مقامی موبائل فون برانڈز تیار کرنے کا درستوقت ہے۔ وزیرموصوفنے ترقی کو نہایت حوصلہ افزا اور تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ اگلے 12 سے 18 ماہ کے اندر بھارت میں اپنے موبائل فون برانڈز ابھر کر سامنے آئیں گے۔
وزیرموصوف نے کہا کہ ڈاووس میں عالمی صنعتی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں بھارت کے بارے میں مضبوط امید اور پرامید رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر بڑی کمپنی جس سے انہوں نے ملاقات کی، بھارت کی ترقی کے راستے پر اعتماد کا اظہار کرتی ہے اور ملک میں اپنی موجودگی کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔
وزیرموصوف نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بھارت کی مسلسل اقتصادی ترقی، مضبوط اصلاحاتی رفتار اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھارت کو بڑھتے ہوئے قابلِ اعتماد اور بھروسہ مند شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے، جو جدید ٹیکنالوجیز کو مشترکہ طور پر تخلیق اور ترقی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
**********
ش ح ۔ ش ت۔ م الف
U. No : 980
(रिलीज़ आईडी: 2217772)
आगंतुक पटल : 4