الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بھارت اے آئی تیار کرنے والے سرکردہ ممالک کے گروپ میں شامل، توجہ پھیلاؤ اور سرمایہ کاری پر منافع (آر او آئی) پر مرکوز: ورلڈ اکنامک فورم میں جناب اشونی ویشنو
اے آئی کی طاقت ماڈل کے سائز سے نہیں بلکہ معاشیات اور اس کے موثر استعمال سے آتی ہے: جناب ویشنو
حکومت 38,000 جی پی یوز کے ذریعے سستی اے آئی کمپیوٹنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہے: جناب اشونی ویشنو
ہندوستان نے اے آئی گورننس کے لیے تکنیکی-قانونی نقطۂ نظر اپنایا، جانبداری اور ڈیپ فیک کی نشاندہی کو ترجیح دی
معیشت میں اے آئی کا پھیلاؤ ہندوستان کی حکمتِ عملی کا مرکز ہے
प्रविष्टि तिथि:
21 JAN 2026 4:05PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے 20 جنوری 2026 کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) میں "اے آئی پاور پلے، کوئی ریفری نہیں" کے عنوان سے ایک پینل مباحثے کے دوران مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ہندوستان کے نقطۂ نظر کا خاکہ پیش کیا، جس میں بڑے پیمانے پر اے آئی کے پھیلاؤ، اقتصادی عملداری، اور تکنیکی-قانونی حکمرانی پر زور دیا گیا۔

عالمی اے آئی صفبندی اور جغرافیائی سیاست سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان واضح طور پر اے آئی ممالک کے اولین گروپ میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی کی فنِ تعمیر پانچ تہوں پر مشتمل ہے—ایپلی کیشن، ماڈل، چِپ، بنیادی ڈھانچہ اور توانائی—اور ہندوستان ان تمام پانچوں سطحوں پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ایپلی کیشن کی سطح پر، ہندوستان ممکنہ طور پر دنیا کو خدمات فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہوگا۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری پر منافع (آر او آئی) صرف نہایت بڑے ماڈلز تیار کرنے سے نہیں، بلکہ ادارہ جاتی سطح پر تعیناتی اور پیداواری فوائد سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، اے آئی کے استعمال کے تقریباً 95 فیصد معاملات 20 سے 50 بلین پیرامیٹرز کے دائرے میں آنے والے ماڈلز کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، جن میں سے متعدد ماڈلز ہندوستان کے پاس پہلے ہی موجود ہیں اور انہیں مختلف شعبوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
جغرافیائی سیاست میں اے آئی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے جغرافیائی طاقت کو نہایت بڑے اے آئی ماڈلز کی ملکیت کے مترادف سمجھنے کے تصور کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایسے ماڈلز کو محدود یا بند کیا جا سکتا ہے اور ان کے ڈویلپرز کو معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جسے میں پانچواں صنعتی انقلاب قرار دیتا ہوں، اس کی معاشیات آر او آئی سے جڑی ہیں—یعنی زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے کم سے کم لاگت والے حل کا استعمال۔”
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اے آئی کی مؤثر تعیناتی تیز رفتار سی پی یوز، نسبتاً چھوٹے ماڈلز اور ابھرتے ہوئے کسٹم سلکان پر انحصار کرتی ہے، جس سے کسی ایک ملک پر انحصار کم ہوتا ہے اور محض بڑے پیمانے کے ذریعے اے آئی میں غلبہ حاصل کرنے کے تصور کو چیلنج کیا جاتا ہے۔

ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی کامیابی سے مماثلت قائم کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت منظم انداز میں زندگی کے ہر شعبے اور معیشت کے تمام حصوں میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ جی پی یو کی دستیابی کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل اپنایا ہے، جس کے تحت تقریباً 38,000 جی پی یوز کو ایک مشترکہ قومی کمپیوٹ سہولت میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ سہولت حکومتی معاونت اور سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جا رہی ہے، جس سے طلبہ، محققین، اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو عالمی لاگت کے تقریباً ایک تہائی پر سستی رسائی میسر آتی ہے۔
انہوں نے مزید ہندوستان کی مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی کے چار بنیادی ستونوں کا خاکہ پیش کیا:
- پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ایک مشترکہ کمپیوٹ سہولت
- عملی ضروریات کو پورا کرنے والے اے آئی ماڈلز کا ایک مفت مجموعہ
- بڑے پیمانے پر ہنر مندی، جس کے تحت ایک کروڑ افراد کو اے آئی میں تربیت دینے کے لیے پروگرام جاری ہیں
- ہندوستانی آئی ٹی صنعت کو ملکی اور عالمی کاروباری اداروں کے لیے اے آئی پر مبنی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کی سمت منتقل کرنے کے قابل بنانا
ضابطہ کاری اور حکمرانی کے حوالے سے جناب ویشنو نے مصنوعی ذہانت کے لیے تکنیکی-قانونی نقطۂ نظر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ محض قوانین تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی تائید ایسے تکنیکی آلات سے بھی ہونی چاہیے جو تعصب اور ڈیپ فیکس جیسے نقصانات کو کم کر سکیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “ڈیپ فیک کا پتہ لگانے کے نظام میں ایسی درستگی ہونی چاہیے جو عدالتوں میں جانچ کے دوران ثابت کی جا سکے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ہندوستان ڈیپ فیک کی نشاندہی، تعصب میں کمی اور ادارہ جاتی سطح پر تعیناتی سے قبل ماڈلز کی مناسب جانچ کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجیز تیار کر رہا ہے۔
اس پینل مباحثے کی نظامت یوریشیا گروپ کے صدر اور بانی ایان بریمر نے کی، جبکہ دیگر پینلسٹوں میں بریڈ اسمتھ (نائب صدر اور صدر، مائیکروسافٹ)، کرسٹالینا جارجیوا (منیجنگ ڈائریکٹر، آئی ایم ایف) اور خالد الفلیہ (وزیر سرمایہ کاری، سعودی عرب) شامل تھے۔
***
(ش ح۔اس ک )
UR-890
(रिलीज़ आईडी: 2217053)
आगंतुक पटल : 8