نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ نے رام جنم بھومی تحریک کے موضوع پر ایک کتاب کا اجراء کیا


ایودھیا میں شری رام مندر کی تعمیر ہندوستان کے تہذیبی سفر میں ایک اہم لمحے کی نمائندگی کرتی ہے: نائب صدر جمہوریہ

2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے لاکھوں لوگوں کی امنگوں کو پورا کیا اور رام جنم بھومی فیصلے سے ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی ثابت ہوئی : نائب صدر جمہوریہ

بھگوان رام قوم اور ہندوستان کے دھرم  کی روح ہیں؛ رام مندر نے دنیا بھر میں ہندوستانیوں کی عزت نفس کو بحال کیا: نائب صدر جمہوریہ

عوامی شرکت اور کراؤڈ فنڈنگ  نے رام مندر کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا: نائب صدر جمہوریہ

رام راجیہ سبھی کے لیے انصاف اور مساوات  کی نمائندگی کرتا ہے: نائب صدر جمہوریہ

کتاب میں تہذیبی اقدار کے تحفظ کے لیے تاریخی جدوجہد  کو دستاویزبند کیا گیا ہے: نائب صدر جمہوریہ

प्रविष्टि तिथि: 20 JAN 2026 6:59PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھاکرشنن نے آج  نئی دہلی میں وائس پریزیڈنٹس انکلیو میں ’’امرت کا پیالہ: رام جنم بھومی – چنوتی اور ردعمل‘‘ نامی کتاب کا اجراء کیا جس کے مصنف حکومت ہند کے سابق سکریٹری جناب سریندر کمار پچوری ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ کتاب بھگوان شری رام کی جائے پیدائش پر دوبارہ دعویٰ کرنے کی صدیوں پرانی جدوجہد کو بیان کرتی ہے اور تاریخی داستان کو توازن، ہمدردی اور علمی تحمل کے ساتھ پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں شری رام مندر کی تعمیر ہندوستان کے تہذیبی سفر کے ایک اہم لمحے کی نمائندگی کرتی ہے، جہاں عقیدہ، تاریخ، قانون اور جمہوریت وقار کے ساتھ ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہزاروں مندر کہیں اور بنائے جائیں تب بھی بھگوان رام کی جائے پیدائش پر مندر کی اہمیت کی برابر نہیں ہو سکتی۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ بھگوان رام قوم کا جذبہ اور ہندوستان کے دھرم کی روح ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دھرم کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی اور یہ سچ ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ رام راجیہ کے مہاتما گاندھی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ سب کے لیے انصاف، مساوات اور وقار کی علامت ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھگوان رام کی جائے پیدائش کے قیام کے لئے درکار طویل عمل کا مشاہدہ کرنا تکلیف دہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی صورتحال دیگر ممالک میں ناقابل تصور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی کا مظاہرہ کرتا ہے، کیونکہ پوری قوم کے اعتماد کے باوجود، قانونی عمل اور ثبوت کے بعد ہی زمین الاٹ کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو بجا طور پر جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔

2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اس فیصلے نے لاکھوں ہندوستانیوں کے دیرینہ خوابوں اور امنگوں کو پورا کیا اور ہندوستانی تاریخ میں ایک اہم موڑ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر سے ہندوستانیوں کی عزت نفس بحال ہوئی۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تاریخ نویسی ادبی تخلیق کی سب سے زیادہ متقاضی شکلوں میں سے ایک ہے، کیونکہ اس کے لیے جذباتی توازن اور سچائی کے ساتھ وفاداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنف کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جناب پچوری نے چیزوں کو سنسنی خیز بنائے بغیر یا تحریف  کیے بغیر کامیابی کے ساتھ رام جنم بھومی تحریک کے جوہر سامنے لے کر آئے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ تاریخی دستاویزات میں خلاء نے انصاف کے لیے طویل جدوجہد میں تعاون دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کتاب اس تاریخی تحریک کے جدید دور کی دستاویز کرتی ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ آنے والی نسلیں قومی عزت نفس کی بحالی کے لیے کی جانے والی قربانیوں اور جدوجہد سے آگاہ رہیں۔ کتاب میں درج اے ایس آئی کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے، نائب صدر نے پہلے سے موجود ڈھانچے کے شواہد کی جانب اشارہ کیا، اور آثار قدیمہ کی بنیاد پر زور دیا جس نے عدالتی فیصلے سے آگاہ کیا۔

نائب صدر جمہوریہ نے اس فیصلے کے بعد عوامی ردعمل کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے زیر قیادت ملک گیر کراؤڈ فنڈیڈ مہم کو یاد کیا، جس کے تحت رام مندر کی تعمیر کے لیے دنیا بھر کے عقیدت مندوں سے 3,000 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کیے گئےتھے۔ انہوں نے 1990 کی دہائی میں شیلا پوجا میں اپنی والدہ کی شرکت کی ذاتی یادیں  بھی ساجھا کیں۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کو اس بات کو یقینی بنانے کا سہرا دیا کہ مقدس مقام کا احیاء ہندوستان کی پختہ جمہوریت اور ثقافتی اعتماد کے اظہار کے طور پر ابھرا۔ نائب صدر جمہوریہ نے 25 نومبر 2025 کو شری رام جنم بھومی مندر پر تاریخ دھوَج روہن تقریب کو یاد۔ انہوں نے اس تقریب کو ایک ایسا مضبوط جذباتی لمحہ قرار دیا جسے پورے ملک ملاحظہ کیا۔

بھگوان شری رام کی آفاقی اپیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جناب سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ شری رام کے تئیں عقیدت جغرافیہ سے ماورا ہے، اور اس کا ظہار نہ صرف ایودھیا اور رامیشورم میں بلکہ فجی اور کمبوڈیا میں انکور واٹ جیسے مقامات پر بھی نظرآتا ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھگوان شری رام کی زندگی اور نظریات انسانیت کو سکھاتے ہیں کہ حقیقی عظمت سلطنتوں پر حکمرانی کے بجائے خوبی اور دل جیتنے میں ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی میں ان لازوال نظریات پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر، جناب سی پی رادھا کرشنن نے جناب سریندر کمار پچوری کو ان کی تخلیق کے لیے مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ کتاب وسیع قارئین تک پہنچے گی۔

اس تقریب میں شری نرپیندر مشرا، شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے میوزیم اور کتب خانے کی اگزیکیوٹیو کونسل کے چیئرمین؛ جناب ونود رائے، کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل آف انڈیا؛ جناب دیپک گپتا، یو پی ایس سی کے سابق چیئرپرسن؛ جناب امت کھرے، نائب صدر جمہوریہ ہند کے سکریٹری؛ شری شری آشیش گوسائن، ہر آنند پبلی کیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ؛ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔

*********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:831


(रिलीज़ आईडी: 2216592) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Malayalam