ارضیاتی سائنس کی وزارت
انڈمان و نکوبار جزائر کی حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی اور اقتصادی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے: ڈاکٹر جیتندر سنگھ
مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے سری وجیا پورم میں زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈ ایس آئی)کے دورے کے دوران انڈمان و نکوبار کو‘حیاتیاتی تنوع کی زندہ تجربہ گاہ’ قرار دیا
ڈاکٹر جیتندر سنگھ کے مطابق جزیرہ جاتی حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی لچک کے لیے نہایت اہم ہے، اور زیڈ ایس آئی کی پانچ دہائیوں کی تحقیقی کاوشیں بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے علم کو مضبوط کرتی ہیں
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ زیڈ ایس آئی جیسے سائنسی اداروں کو مضبوط بنانا بھارت کے بلو اکانومی وژن اور ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
19 JAN 2026 12:15PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیات، اور پی ایم او، عملے، عوامی شکایات، پنشنز، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ انڈمان و نکوبار جزائر کا حیاتیاتی تنوع ماحولیاتی اور اقتصادی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔
وزیر موصوف نے یہ بات سری وجیا پورم میں زولوجیکل سروے آف انڈیا(زیڈ ایس آئی) کے انڈمان و نکوبار ریجنل سینٹر کے دورے کے دوران جزیرہ جاتی حیاتیاتی تنوع کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہی۔
سائنسدانوں اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ انڈمان و نکوبار جزائر “حیاتیاتی تنوع کی زندہ تجربہ گاہ” کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں جدید سائنس کو تحفظ اور پائیدار روزگار کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیڈ ایس آئی جیسے ادارے مستند سائنسی ڈیٹا فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی لچک اور سمندری بنیاد پر اقتصادی ترقی کی قومی پالیسیوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
دورے کے دوران ڈاکٹر جیتندر سنگھ کا استقبال ڈاکٹر سی۔ سیواپرومن، سائنسدان-ایف اور آفیسر انچارج نے کیا، جنہوں نے انہیں ریجنل سینٹر کے دائرۂ کار، جاری تحقیقی پروگرامز اور جزائر کی منفرد حیاتیاتی تنوع کی دستاویزی، حفاظتی اور نگرانی میں اس کے اہم کردار کے بارے میں خلاصہ کیا۔ خلاصے میں زیڈ ایس آئی کے شعبہ جات جیسے ٹیکسانومی، مالیکیولر سسٹیمیٹکس، ڈی این اے بارکوڈنگ، حیاتیاتی تنوع کے جائزے اور صلاحیت سازی پر کام کو اجاگر کیا گیا۔
1977 میں قائم ہونے والا انڈمان و نکوبار ریجنل سینٹر آف زیڈ ایس آئی نے پانچ دہائیوں پر محیط مستند سائنسی خدمات فراہم کی ہیں۔ یہ استوائی جزیرہ حیاتیاتی تنوع پر تحقیق کے لیے ایک مرکزی ادارہ کے طور پر ابھرا ہے، جس نے تقریباً 90 تحقیقی پروگرامز مختلف حیوانی گروپس پر مکمل کیے ہیں۔ سینٹر کے سائنسدانوں نے 85 کتابیں اور 850 سے زائد تحقیقی مقالے معتبر قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع کیے، جس سے بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے علم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے زیڈ ایس آئی میوزیم کا بھی دورہ کیا، جو جزائر میں ایک نمایاں سیاحتی اور تعلیمی مقام ہے اور اس میں تقریباً 3,500 نمونے موجود ہیں جو 22 حیوانی گروپس کی نمائندگی کرتے ہیں۔وزیر موصوف کو میوزیم کے، پبلک آؤٹ ریچ، تعلیم اور شعور اجاگر کرنے میں مددگار کردار کے بارے میں آگاہ کیا گیا، جس میں سالانہ تقریباً 75,000 سے 1,00,000 وزیٹرز شامل ہوتے ہیں، جن میں طلباء، محققین اور سیاح شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے جزیرہ نما کے مقامی، خطرے سے دوچار اور معدوم ہوتی ہوئی حیوانات کی نمائندگی کرنے والے ریفرنس کلیکشن، ٹائپ نمونے اور نمائشوں میں خاص دلچسپی ظاہر کی۔
وزیر موصوف کو آگاہ کیا گیا کہ سینٹر کے سائنسدانوں نے سائنس کے لیے 20 سے زائد نئی انواع کی نشاندہی کی ہے، جن میں نارکونڈم ٹری شو بھی شامل ہے، اور انڈمان و نکوبار جزائر، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا سے تقریباً 900 نئے حیوانی ریکارڈز دستاویزی شکل میں مرتب کیے ہیں، جو اس خطے کی حیاتیاتی تنوع کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ کو یہ بھی بریف کیا گیا کہ زیڈ ایس آئی، پورٹ بلیئر بھارت کے پہلے نیشنل کورل ریف ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (این سی آر آر آئی) کے لیے نوڈل سینٹر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد بھارتی پانیوں میں کورل ریف پر تحقیق اور نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ایسے مرکوز ادارے نازک سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور شواہد پر مبنی سمندری حکمرانی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
سائنسدانوں اور عملے سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے سائنسی تحقیق کو عوامی پالیسی، تحفظاتی منصوبہ بندی اور کمیونٹی آگاہی کے ساتھ زیادہ مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط سائنسی ادارے بھارت کے ماحولیاتی اہداف کے حصول اور بلو اکانومی کی مکمل صلاحیت کو پائیدار انداز میں بروئے کار لانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
سینٹر میں جاری کام کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے ڈاکٹر سیواپرومن اور زیڈ ایس آئیI کی ٹیم کا تفصیلی بریفنگ اور میوزیم کے دورے کے لیے شکریہ ادا کیا اور اسے “انتہائی معلوماتی اور تعلیمی تجربہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منظم زولوجیکل کلیکشنز نہ صرف سائنسی فہم کو فروغ دیتے ہیں بلکہ بھارت کی بھرپور اور ناقابلِ متبادل حیاتیاتی تنوع کے حصول میں عوامی شعور کو بھی تحریک دیتے ہیں۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ش ت۔ع ن)
U. No. 761
(रिलीज़ आईडी: 2216035)
आगंतुक पटल : 18