وزارت دفاع
ملک نے 10 ویں دفاعی افواج سابق فوجیوں کے دن پر سابق فوجیوں کی بہادری ، قربانیوں اور متعلقہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا
اس موقع پر پورے ملک میں سابق فوجیوں کی ریلیاں، گلہائے عقیدت نذرکرنے کی تقریبات، شکایات کے ازالے کے کاؤنٹر اور سہولت ہیلپ ڈیسک کااہتمام کیاگیا
آزمودہ کار فوجی قومی شعور کے زندہ ستون ہیں، اجتماعی ہمت اور آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کی علامت ہیں:وزیردفاع
’’سابق فوجیوں کاتجربہ، قیادت اور اقدار انمول اثاثے ہیں جو ہندوستان کو ایک مضبوط، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک بننے کے لیے درکار ہیں‘‘
آر ایم نے بہادر سابق فوجیوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا جو 40 سال قبل سری لنکا میں آپریشن پون کے دوران آئی پی کے ایف کا حصہ تھے
’’وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت سابق فوجیوں کو وہ احترام دے رہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں‘‘
प्रविष्टि तिथि:
14 JAN 2026 3:35PM by PIB Delhi
سابق فوجیوں کی ریلیاں، گلہائے عقیدت نذرکرنے کی تقریبات، شکایات کے ازالے کے کاؤنٹر اور سہولت ہیلپ ڈیسک 14 جنوری 2026 کو 10 ویں ڈیفنس فورسز ویٹرنز ڈے کے موقع پر ملک بھر میں منعقد ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں شامل ہیں۔ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے دِلّی کینٹ کے مانیکشا سنٹر میں اصل تقریبات میں شرکت کی جس میں دلی-این سی آر کے تقریبا 2500 سابق فوجیوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے سابق فوجیوں کی بہادری ، قربانیوں اور متعلقہ خدمات کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں قومی شعور کے زندہ ستون، اجتماعی ہمت کی علامت اور آنے والی نسلوں کے لیے تحریک قرار دیا۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنے تجربات کے ذریعے نوجوانوں کی رہنمائی کریں؛ اگنی ویوروں اور نوجوان فوجیوں کو صحیح سمت فراہم کریں؛ ہنگامی حالات میں سول انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہوں؛ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں اور زمینی سطح پر حب الوطنی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں، اس طرح مستقبل کے لیے ایک مضبوط ہندوستان کی بنیاد رکھیں۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے تقریب میں موجودآزمودہ کار فوجیوں سے کہا کہ’’آج ہندوستان تیزی سے ایک مضبوط، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک بننے کی جانب گامزن ہے۔ ایسے وقت میں سابق فوجیوں کا تجربہ، قیادت اور اقدار ملک کے لیے انمول اثاثے ہیں۔ ہمارے معاشرے کو ، خاص طور پر نوجوانوں کو آپ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ تعلیم ہو، ہنر مندی کافروغ ہو، آفات کا بندوبست ہو، کمیونٹی کی قیادت ہو یا اختراع کا راستہ ہو، آپ کی شرکت آنے والی نسلوں پر مثبت اور دیرپا اثر چھوڑ سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے ان بہادر سابق فوجیوں کو یاد کیا جو تقریبا 40 سال قبل انڈین پیس کیپنگ فورس (آئی پی کے ایف) کے حصے کے طور پر امن قائم کرنے کے مقاصد کے لیے سری لنکا میں شروع کیے گئے آپریشن پون کا حصہ تھے۔ ’’آپریشن کے دوران ، ہندوستانی افواج نے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ بہت سے سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کو وہ عزت نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ آج، پی ایم مودی کی قیادت میں، ہماری حکومت نہ صرف آپریشن پون میں حصہ لینے والے امن فوجیوں کے تعاون کو کھلے عام تسلیم کر رہی ہے ، بلکہ ہر سطح پر ان کے تعاون کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں کام بھی کررہی ہے۔ جب وزیر اعظم مودی نے 2015 میں سری لنکا کا دورہ کیا تو انہوں نے آئی پی کے ایف میموریل میں ہندوستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اب ہم نئی دلی میں نیشنل وار میموریل میں آئی پی کے ایف فوجیوں کے تعاون کو بھی تسلیم کر رہے ہیں اور انہیں وہ احترام دے رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے سابق فوجیوں کی قومی سلامتی کے تئیں ان کی بے لوث خدمات ، مختلف شعبوں میں نوجوان نسل کی نشو ونما کرتے ہوئے نظم و ضبط، قیادت اور ہمت کی خصوصیات کے ساتھ معاشرے کی رہنمائی کرکے ملک کی تعمیر میں ان کے تعاون کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ’’آپ اپنی زندگی کے سنہرے سال پہاڑی چوٹیوں، گرم ریت اور مرطوب جنگلات میں گزارتے ہیں۔ آپ کسی بھی دوسرے شعبے کا انتخاب کر سکتے تھے؛ شاید اتنے چیلنجوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور اپنے کنبوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے تھے ۔ لیکن اس سب کے باوجود آپ ملک کی حفاظت کے فرض کو نبھاتے ہوئے ہر صورت حال میں ثابت قدم رہتے ہیں ۔ حقیقت میں، ایک سپاہی کبھی حقیقی طور پر ریٹائر نہیں ہوتا۔ وردی کا رنگ بدل سکتا ہے، کام کی جگہ بدل سکتی ہے، آس پاس کے لوگ بدل سکتے ہیں، لیکن حب الوطنی اور خدمت کا جذبہ وہی رہتا ہے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہماری اخلاقی اور جذباتی ذمہ داری ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کے سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا، اس سمت میں کئے گئے ٹھوس اقدامات کا ذکر کیا ، جس میں ون رینک ون پنشن (او آر او پی) کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنا اور سابق فوجیوں کی شراکت دار صحت اسکیم (ای سی ایچ ایس) کو مضبوط کرنا شامل ہے۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ او آر او پی کے نفاذ سے نہ صرف سابق فوجیوں کی زندگیوں میں مالی استحکام آیا بلکہ ان کے اس یقین کو بھی تقویت ملی کہ ملک ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتا ہے۔ ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صحت کی سہولیات شہروں تک محدود نہ ہوں بلکہ دیہاتوں اور دور دراز علاقوں تک پہنچیں۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دور سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کی سہولت کو بڑھایا جا رہا ہے، تاکہ عمر یا فاصلہ ضرورت مندوں کے علاج میں رکاوٹ نہ بنے۔

وزیر دفاع نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوشش کا اظہار کیا کہ سابق فوجیوں کی زندگی کا نیا باب جو ریٹائرمنٹ کے بعد شروع ہوتا ہے وقار اور خود انحصاری سے بھرا ہو۔ سابق فوجیوں کی بازآبادکاری اور روزگار پر خصوصی توجہ دینے کواجاگرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فوجیوں کو نئی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں اور سرکاری اداروں میں انہیں ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے نظم و ضبط، قیادت اور دیانتداری کو نجی شعبے میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہم سابق فوجیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ ہاؤسنگ اسکیمیں ہوں ، قرض کی سہولیات ہوں ، یا دیگر فلاحی اسکیمیں ہوں، ان سب کو سابق فوجیوں کی ضروریات کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت ان فوجیوں کو مناسب احترام دیتی ہے جنہوں نے ملک کے لیے سب سے بڑی قربانی دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی جنگی یادگار جیسی مشہور یادگاریں ہر شہری کو ان بہادروں کی یاد دلانے کے لیے بنائی گئی ہیں جنہوں نے مادر وطن کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اس طرح کی یادگاروں کو مقامی سطح پر فروغ دیا جا رہا ہے ، تاکہ آنے والی نسلوں کے دلوں اور ذہنوں میں احترام اور شکر گزاری کا احساس رہے۔
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت کو صرف اسکیموں سے نہیں ماپا جاتا ہے، بلکہ اس کی عکاسی اس سماجی شعور سے ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ اپنے فوجیوں اور سابق فوجیوں کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سماج سابق فوجیوں کو جو احترام دیتا ہے وہ ہمارے لیے ایک عظیم سماجی سرمایہ ہے جو نسلوں کو مربوط ہے اور ملک کی روح کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہندوستان میں فوجیوں کا احترام کسی ہدایت سے نہیں ہوتا بلکہ یہ ہماری اقدار کی فطری توسیع ہے۔ فوجیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ مشترکہ مستقبل کی خاطرایک دل، اعتماد، احترام اور خوابوں پرمبنی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، سابق فوجیوں کی بہبودسےمتعلق سکریٹری محترمہ سکریتی لیکھی نے سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کے ناقابل تسخیر جذبے کو سلام پیش کیا اور ویٹرنز ڈے کو محض ایک رسمی تقریب نہیں، بلکہ ملک کے اجتماعی شعور کو دوبارہ زندہ کرنے کا دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدمت کی تکمیل کے بعد بھی ملک اور اس کے فوجیوں کے درمیان ایک رشتہ رہتا ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے‘‘۔
سابق فوجیوں کی بہبودسےمتعلق سکریٹری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ہر سال تقریباً 60 ہزار فوجی ریٹائر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریبا 3.5 ملین سابق فوجی ہوتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سابق فوجیوں کی فلاح و بہبود ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جسے ملک کو پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سابق فوجی اپنے ساتھ وسیع تجربہ، قائدانہ خصوصیات اور فرض کا گہرا احساس لاتے ہیں اور یہ ملک کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ سابق فوجی اپنی زندگی وقار اور عزت نفس کے ساتھ گزاریں۔

محترمہ سکریتی لیکھی نے سابق فوجیوں کو بروقت خدمات فراہم کرنے کے لیے سابق فوجیوں کی بہبود کے محکمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کی خدمات ، قربانی اور وقار پالیسیوں کی بنیاد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ’’ہمارا محکمہ سابق فوجیوں اور ان پر منحصر افراد کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں، بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں پنشن کی بروقت فراہمی میں بہتری، کیندریہ سینک بورڈ سے گرانٹ میں اضافہ، ڈی جی آر کی از سرنوتشکیل اور تربیتی کورسز کی توسیع شامل ہیں، جبکہ ای سی ایچ ایس اب 64 لاکھ مستفیدین کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے‘‘ ۔
دفاعی عملے کے سربراہ جنرل انیل چوہان، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش کے ترپاٹھی ، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ایئر مارشل آشوتوش دکشت، وائس چیف آف دی آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل پشپیندر سنگھ، سابق چیفس اور دیگر سابق فوجیوں نے اس تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر ڈائریکٹوریٹ آف انڈین آرمی ویٹرنز کے ذریعہ شائع کردہ سالانہ رسالے سمّان، ڈائریکٹوریٹ آف نیول ویٹرنز کے ذریعہ ساگر سمواد اور ڈائریکٹوریٹ آف ایئر ویٹرنز کے ذریعہ ویو سمویدنا کا اجرا کیا گیا۔
سابق فوجیوں کی ریلیوں اور گلہائے عقیدت نذرکرنے کی تقریبات کا اہتمام راجوری، امرتسر، لکھنؤ، رانچی، گوہاٹی، پونے، گوا اور کوچی سمیت ملک بھر میں متعدد مقامات پر کیا گیا تاکہ سابق فوجیوں کو ان کی بے لوث لگن، ملک کی خدمت اور قربانی کے لیے خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چونتیس (34) راجیہ سینک بورڈ اور 434 ضلع سینک بورڈ اس دن کو منانے کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں۔ ملک بھر کے تمام مقامات پر شکایات کے ازالے، سہولت اور بیداری کے لیے تینوں افواج، دفاعی اور سرکاری بہبود کی تنظیموں، بینکوں اور روزگار ایجنسیوں کے ذریعے ہیلپ ڈیسک اور اسٹال لگائے گئے ہیں ۔
یہ دن ہر سال 14 جنوری کو ہندوستانی فوج کے پہلے کمانڈر ان چیف، فیلڈ مارشل کے ایم کیریپا، او بی ای، کی میراث اور عظیم خدمات کے اعزاز میں منایا جاتا ہے، جو 1953 میں اسی دن ریٹائر ہوئے تھے۔
******
( ش ح ۔ اع خ ۔ م ا )
Urdu.No-584
(रिलीज़ आईडी: 2214639)
आगंतुक पटल : 13