وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گجرات میں واقع سومناتھ مندر میں سومناتھ سوابھیمان پرو سے خطاب کیا
سومناتھ مندر پر ایک ہزار سال بعد بھی پرچم لہرا رہا ہے، یہ دنیا کو بھارت کی طاقت اور جذبے کی یاد دلاتا ہے:وزیر اعظم
سومناتھ سوابھیمان پرو ایک ہزار سالہ سفر کی علامت ہے، یہ بھارت کے وجود اور خود پر فخر کرنے کے جشن کے طور پر اجاگر ہے: وزیر اعظم
سومناتھ کی تاریخ تباہی اور شکست کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ فتح اور احیا کی تاریخ ہے: وزیر اعظم
جو لوگ سومناتھ کو تباہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے وہ آج تاریخ کے چند صفحات میں سمٹ کر رہ گئے ہیں، دریں اثنا، سومناتھ مندر اب بھی وسیع سمندر کے کنارے کھڑا ہے، اس کے عقیدے کا پرچم بلند ہے: وزیر اعظم
سومناتھ مندر یہ دکھاتا ہے کہ بھلے ہی تخلیق میں وقت لگتا ہو، تاہم وہ ہمیشہ باقی رہتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JAN 2026 1:29PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج گجرات کے سومناتھ میں سومناتھ سوابھیمان پرو سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت غیر معمولی ہے، یہ ماحول غیر معمولی ہے، اور یہ جشن غیر معمولی ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ ایک جانب بھگوان مہادیو خود کھڑے ہیں، اور دوسری جناب سمندر کی وسیع لہریں، سورج کی کرنیں، منتروں کی بازگشت، اور عقیدت کی لہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس روحانی ماحول میں بھگوان سومناتھ کے تمام عقیدت مندوں کی موجودگی اس موقع کو روحانی اور عظیم الشان بنا رہی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ وہ اسے بڑی خوش قسمتی سمجھتے ہیں کہ سومناتھ مندر ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے انہیں سومناتھ سوابھیمان پرو میں فعال طور پر خدمت کرنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے 72 گھنٹے تک اومکار کے بلاتعطل جاپ اور 72 گھنٹے تک منتروں کے مسلسل جاپ کا ذکر کیا۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ کل شام، ایک ہزار ڈرونوں نے، ویدک گروکلوں کے ایک ہزار طلباء کی موجودگی کے ساتھ، سومناتھ کے ہزار سال کی داستان پیش کی، اور آج 108 گھوڑوں کے ساتھ ’شوریہ یاترا‘ مندر پہنچی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منتروں اور بھجنوں کی مسحور کن پیشکش الفاظ سے بیاں نہیں ہوسکتی، اور صرف وقت ہی اس تجربے کو اپنے اندر قید کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جشن فخر اور عزت، وقار اور علم، عظمت اور وراثت، روحانیت اور احساس، تجربہ، خوشی اور قربت کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑھ کراس میں بھگوان مہادیو کا آشیرواد ہے۔
وزیر اعظم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج جب وہ یہ باتیں کر رہے ہیں ، تو ان کے ذہن میں بار بار یہ خیال ابھرتا ہے کہ ٹھیک ایک ہزار سال پہلے اسی جگہ جہاں لوگ اب بیٹھے ہوئے ہیں وہاں کا ماحول کیسا رہا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہاں لوگوں کے آباؤ اجداد، یعنی ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے یقین، اپنے عقیدے اور اپنے بھگوان مہادیو کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار سال پہلے حملہ آوروں کو یقین تھا کہ وہ جیت گئے ہیں لیکن آج ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی سومناتھ مہادیو کے مندر کے اوپر جھنڈا پوری کائنات کے سامنے بھارت کی طاقت اور صلاحیت کا اعلان کرتا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ پربھاس پٹن کی مٹی کا ہر ذرہ بہادری، ہمت اور شجاعت کا گواہ ہے اور شیو کے ان گنت عقیدت مندوں نے سومناتھ کی شکل کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ سومناتھ سوابھیمان پرو کے موقع پر، وہ ہر اس بہادر مرد اور عورت کے سامنے سر عقیدت خم کرتے ہیں جنہوں نے سومناتھ کی حفاظت اور تعمیر نو کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی، بھگوان مہادیو کو اپنا سب کچھ پیش کیا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پربھاس پاٹن نہ صرف بھگوان شیو کا ہی نہیں بلکہ بھگوان شری کرشن کا بھی مقدس مقام ہے، جناب مودی نے کہا کہ مہابھارت کے دور میں بھی پانڈوؤں نے اس مقدس مقام پر تپسیا کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع بھارت کی ان گنت جہتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقع ایک اتفاق ہے کیونکہ جہاں ایک جانب سومناتھ کے سوابھیمان کے ایک ہزار سالہ سفر کی تکمیل ہو رہی ہے وہیں دوسری جانب 1951 میں اس کی ازسر نو تعمیر کے 75 برس بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے سومناتھ سوابھیمان پرو کے موقع پر دنیا بھر کے لاکھوں عقیدت مندوں کو مبارکباد دی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ تہوار محض ایک ہزار سال قبل ہونے والی تباہی کی یاد نہیں ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک ہزار سال کے سفر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے وجود اور فخر کا موقع بھی ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ ہر قدم اور سنگ میل پر سومناتھ اور ہندوستان کے درمیان منفرد مماثلت دیکھی جا سکتی ہے۔ جس طرح سومناتھ کو تباہ کرنے کی بے شمار کوششیں ہوئیں، اسی طرح غیر ملکی حملہ آوروں نے صدیوں تک ہندوستان کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود نہ سومناتھ کو تباہ کیا گیا اور نہ ہی بھارت کو، کیونکہ بھارت اور اس کے عقیدے کے مراکز ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
جناب مودی نے تبصرہ کیا کہ ایک ہزار سال پہلے کی تاریخ کا تصور کرنا چاہیے، جب 1026 عیسوی میں، محمود غزنوی نے پہلی مرتبہ سومناتھ مندر پر حملہ کیا اور اسے تباہ کیا، اور یہ سمجھا کہ اس نے اس کا وجود ہی مٹا دیا تھا۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ چند برسوں میں، سومناتھ کو دوبارہ تعمیر کیا گیا، اور بارہویں صدی میں بادشاہ کمارپالا نے مندر کی ایک عظیم الشان بحالی کی۔ انہوں نے کہا کہ تیرھویں صدی کے آخر میں علاؤالدین خلجی نے دوبارہ سومناتھ پر حملہ کرنے کی جرات کی لیکن جالور کے حکمراں نے خلجی کی فوجوں کے خلاف بہادری سے مقابلہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چودھویں صدی کے اوائل میں جوناگڑھ کے بادشاہ نے ایک بار پھر مندر کا وقار بحال کیا اور بعد میں اسی صدی میں مظفر خان نے سومناتھ پر حملہ کیا لیکن اس کی کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پندرہویں صدی میں سلطان احمد شاہ نے مندر کی بے حرمتی کی کوشش کی اور ان کے پوتے سلطان محمود بیگڑا نے اسے مسجد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن مہادیو کے عقیدت مندوں کی کوششوں سے مندر ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سترہویں اور اٹھارویں صدیوں کے دوران اورنگ زیب نے سومناتھ کی بے حرمتی کی اور اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی کوشش کی، تاہم اہلیا بائی ہولکر نے بعد میں ایک نیا مندر قائم کیا، جس سے سومناتھ کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ "سومناتھ کی تاریخ تباہی اور شکست کی نہیں ہے، بلکہ فتح اور تعمیر نو کی ہے"، وزیر اعظم نے زور دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حملہ آور آتے رہے، مذہبی دہشت گردی کے نئے حملے ہوتے رہے، لیکن ہر دور میں سومناتھ کو بار بار قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں کی ایسی جدوجہد، اتنی طویل مزاحمت، ایسے بے پناہ صبر، تخلیقی صلاحیت اور تعمیر نو میں قوت مزاحمت اور ثقافت اور عقیدے پر ایسے غیر متزلزل یقین کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہمیں اپنے آباؤاجداد کی بہادری کو یاد نہیں رکھنا چاہیے اور کیا ہمیں ان کی بہادری سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کوئی بھی بیٹا، کوئی اولاد کبھی بھی اپنے آباؤ اجداد کے بہادری کے کارناموں کو فراموش کرنے کا ڈرامہ نہیں کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی یاد نہ صرف ایک فرض ہے بلکہ طاقت کا ذریعہ بھی ہے اور انہوں نے ہر ایک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ ہمارے اباؤاجداد کی قربانیاں اور بہادری ہمارے شعور میں زندہ رہے۔
جناب مودی نے مزید کہا کہ جب غزنی سے لے کر اورنگ زیب تک حملہ آوروں نے سومناتھ پر حملہ کیا تو انہیں یقین تھا کہ ان کی تلواریں لازوال سومناتھ کو فتح کر رہی ہیں، لیکن وہ جنونی یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ’سوم‘ نام ہی امرت کا جوہر ہے، زہر کھا کر بھی لافانی رہنے کا خیال۔ انہوں نے مزید کہا کہ سومناتھ کے اندر سداشیوا مہادیو کی شعوری طاقت رہتی ہے، جو مہربان اور شدید "پرچنڈ تانڈو شیو" دونوں ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سومناتھ میں موجود بھگوان مہادیو کے ناموں میں سے ایک مرتیونجے ہے، جس نے موت پر فتح حاصل کی ہے، جو خود وقت کا مجسم ہے۔ ایک اشلوک پڑھتے ہوئے ، جناب مودی نے وضاحت کی کہ تخلیق اس سے شروع ہوتی ہے اور واپس اسی میں ضم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے اس عقیدے کی تصدیق کی کہ شیو پوری کائنات پر محیط ہیں، کہ ہر ذرہ شنکر بسے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی شنکر کی لاتعداد شکلوں کو ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ جانداروں میں بھی ہم شیو کو دیکھتے ہیں، اور اس طرح کوئی طاقت ہمارے عقیدے کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وقت کے چکر نے ان جنونی حملہ آوروں کی تعداد کم کر دی ہے جنہوں نے سومناتھ کو تباہ کرنے کی کوشش کی جو تاریخ کے محض صفحات تک محدود رہ گئے ہیں، جبکہ مندر اب بھی وسیع سمندر کے کنارے پر اونچا کھڑا ہے اور اپنے بلند و بالا دھرم دھوَج کو تھامے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سومناتھ کا شکھر اعلان کرتا ہے، "میں چندر شیکھر شیو پر بھروسہ کرتا ہوں، وقت بھی میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟"
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سومناتھ سوابھیمان پرو نہ صرف تاریخی فخر کا تہوار ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک ابدی سفر کو زندہ کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے، جناب مودی نے زور دیا کہ اس موقع کو ہمارے وجود اور شناخت کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کچھ قومیں چند صدیوں پرانی وراثت کو بھی دنیا کے سامنے اپنی شناخت کے طور پر پیش کرتی ہیں، بھارت کے پاس سومناتھ جیسے مقدس مقامات ہیں جو ہزاروں سال پرانے ہیں، طاقت، مزاحمت اور روایت کی علامت ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے آزادی کے بعد نوآبادیاتی ذہنیت کے حامل افراد نے اپنے آپ کو ایسے ورثے سے دور کرنے کی کوشش کی اور اس تاریخ کو مٹانے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔ وزیر اعظم نے سومناتھ کے تحفظ کے لیے دی گئی قربانیوں کو یاد کیا، راول کانہڑ دیو جیسے حکمرانوں کی کوششوں، ویر ہمیر جی گوہل کی بہادری اور ویگڑا بھیل کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے ہیروز مندر کی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن انہیں کبھی بھی مناسب شناخت نہیں دی گئی۔ انہوں نے تنقید کی کہ کچھ مورخین اور سیاست دانوں نے یلغار کی تاریخ کو سفید کرنے کی کوشش کی، مذہبی جنونیت کو محض لوٹ مار کا روپ دھار کر، اور سچائی کو چھپانے کے لیے کتابیں لکھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سومناتھ پر صرف ایک بار نہیں بلکہ بار بار حملہ کیا گیا تھا اور اگر یہ حملے صرف معاشی لوٹ مار کے لیے ہوتے تو ہزار سال پہلے پہلی بڑی لوٹ مار کے بعد وہ رک جاتے، لیکن ایسا نہیں تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سومناتھ کے مقدس بتوں کو توڑا گیا، مندر کی شکل کو بار بار تبدیل کیا گیا، اور پھر بھی لوگوں کو یہ سکھایا گیا کہ سومناتھ کو محض لوٹ مار کے لیے تباہ کیا گیا، جبکہ نفرت، جبر اور دہشت کی ظالمانہ تاریخ ہم سے چھپی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی اپنے عقیدے کو لے کر ایماندار شخص کبھی بھی ایسی انتہا پسند سوچ کی حمایت نہیں کرے گا، پھر بھی خوشامدیلوگ ہمیشہ اس کے سامنے جھکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جب ہندوستان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا اور سردار پٹیل نے سومناتھ کی تعمیر نو کا عہد کیا تو اسے روکنے کی کوششیں کی گئیں اور 1951 میں جب صدر ڈاکٹر راجیندر پرساد آئے تو اس پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔انہوں نے یاد کیا کہ اس وقت جام صاحب مہاراج دگ وجے سنگھ جی نے سوراشٹر کے حکمراں کے طور پر قومی فخر کو بالاتر رکھا۔ انہوں نے سومناتھ مندر کے لیے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ ٹرسٹ کے اولین چیئرمین کے طو رپر خدمت انجام دی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بدقسمتی سے آج بھی ملک میں ایسی قوتیں سرگرم ہیں جنہوں نے سومناتھ کی تعمیر نو کی مخالفت کی تھی، جناب مودی نے کہا کہ اب ہندوستان کے خلاف سازشیں تلواروں کے بجائے بدنیتی کے دیگر ذرائع سے جاتی ہیں۔ انہوں نے چوکسی، قوت ، اتحاد اور ہر اس طاقت کو شکست دینے پر زور دیا جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جب ہم اپنے عقیدے، اپنی جڑوں سے وابستہ رہتے ہیں اور اپنے ورثے کو پورے فخر کے ساتھ محفوظ رکھتے ہیں، تو ہماری تہذیب کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہزار سالہ سفر ہمیں اگلے ہزار برسوں کے لیے تیاری کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
رام مندر پران پرتشٹھا کے تاریخی موقع کو یاد کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے لیے ایک ہزار سالہ عظیم تصوریت پیش کی تھی، جس میں "دیو سے دیش" کے وژن کے ساتھ آگے بڑھنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی ثقافتی نشاۃ ثانیہ کروڑوں شہریوں کو نئے اعتماد سے بھر رہی ہے، ہر ہندوستانی ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے پرعزم ہے، اور 140 کروڑ لوگ مستقبل کے مقاصد کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہندوستان اپنی شان کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، غربت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا، اور ترقی کی نئی سطحوں کو حاصل کرے گا، دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے اور اس سے آگے بڑھنے کے ہدف کے ساتھ، سومناتھ مندر کی توانائی سے ان قراردادوں کو آشیرواد ملے گا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آج کا ہندوستان وراثت سے ترقی کی جانب ترغیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اور سومناتھ دونوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے مندر کی ثقافتی توسیع، سومناتھ سنسکرت یونیورسٹی کے قیام، مادھو پور میلے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، اور گر شیروں کے تحفظ جیسے ورثے کو مضبوط بنانے کا ذکر کیا، وہیں دوسری جانب پربھاس پاٹن ترقی کی نئی جہتیں پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کیشود ہوائی اڈے کی توسیع کی جانب اشارہ کیا جس سے ہندوستان اور بیرون ملک کے زائرین کے لئے براہ راست رسائی ممکن ہو سکے گی، احمد آباد-ویراول وندے بھارت ٹرین کے آغاز سے سفر کا وقت کم ہو گا، اور خطے میں یاتری سرکٹ کی ترقی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان آج اپنے عقیدے کو یاد رکھتا ہے اور اسے بنیادی ڈھانچہ، کنیکٹیویٹی اور تکنالوجی کے ذریعے مستقبل کے لیے بااختیار بناتا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان کا تہذیبی پیغام دوسروں کو شکست دینے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ زندگی میں توازن برقرار رکھنے کے بارے میں ہے، جناب مودی نے کہا کہ عقیدہ ہمیں نفرت کی جانب نہیں لے جاتا، اور طاقت ہمیں تباہی کا تکبر نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ سومناتھ سکھاتا ہے کہ تخلیق کا راستہ طویل لیکن دیرپا ہے، اور تلوار کی دھار سے دلوں کو نہیں جیتا جا سکتا، اور جو تہذیبیں دوسروں کو مٹانے کی کوشش کرتی ہیں وہ خود وقت کے ساتھ گم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان نے دنیا کو یہ نہیں سکھایا ہے کہ دوسروں کو ہرا کر کیسے جیتنا ہے، بلکہ دل جیت کر کیسے جینا ہے، آج دنیا کو اس سوچ کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی سومناتھ کی ہزار سالہ داستان انسانیت کو یہ سبق دیتی ہے، اور انہوں نے اپنے ماضی اور وراثت سے جڑے رہتے ہوئے ترقی اور مستقبل کی جانب آگے بڑھنے کا عزم لینے، جدیدیت کو اپناتے ہوئے اپنے شعور کو برقرار رکھنے، اور سومناتھ سوابھیمان پرو سے ترغیب حاصل کرکے ترقی کے راستے پر تیزی سے آگے بڑھنے، ہر چنوتی کو عبور کرکے اپنے اہداف تک پہنچنے کی اپیل کی، اور ایک مرتبہ پھر تمام شہریوں کو تہہ دل سے مبارکباد دی۔
اس تقریب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپندر بھائی پٹیل کے علاوہ دیگر معززین بھی موجود تھے۔
پس منظر
8 سے 11 جنوری 2026 تک منعقد ہونے والے سومناتھ سوابھیمان پرو کا انعقاد سومناتھ میں کیا گیا ہے۔ یہ ہندوستان کے ان لاتعداد شہریوں کو یاد کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے جن کی مندر کے دفاع کے لیے قربانیاں آنے والی نسلوں کے ثقافتی شعور کو ابھارتی ہیں۔
یہ پروگرام سال 1026 میں سومناتھ مندر پر محمود غزنوی کے حملے کے 1,000 برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ صدیوں سے اس کی تباہی کی متعدد مرتبہ کوششوں کے باوجود، سومناتھ مندر آج قوت مزاحمت، عقیدے اور قومی فخر کی ایک طاقتور علامت کے طور پر کھڑا ہے، کیونکہ اس کی قدیم عظمت کو بحال کرنے کے لیے اجتماعی عزم اور کوششیں کی گئیں۔
آزادی کے بعد، مندر کی بحالی کی کوشش سردار پٹیل نے کی تھی۔ بازبحالی کے اس سفر میں ایک اہم ترین سنگ میل 1951 میں حاصل ہوا، جب بحال شدہ سومناتھ مندر کو رسمی طور پر اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں عقیدت مندوں کے لیے کھول دیا گیا۔ 2026 میں اس تاریخی بحالی کے 75 سال مکمل ہونے سے سومناتھ سوابھیمان پرو کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
تقریبات میں ملک بھر سے سینکڑوں سنتوں کی شرکت کے ساتھ ساتھ مندر کے احاطے میں ’اوم‘ کا 72 گھنٹے مسلسل جاپ کیا جائے گا۔
سومناتھ سوابھیمان پرو میں وزیر اعظم کی شرکت سے بھارتی تہذیب کا مضبوط جذبہ اجاگر ہوتا ہے اور بھارت کے بھرپور ثقافتی اور روحانی ورثے کے تحفظ اور جشن منانے کے ان کے عزم کا اعادہ ظاہر ہوتاہے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:413
(रिलीज़ आईडी: 2213425)
आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
Malayalam
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Nepali
,
Bengali
,
Assamese
,
Manipuri
,
Gujarati
,
Tamil
,
Kannada