امور داخلہ کی وزارت
امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نیشنل سکیورٹی گارڈ ( این ایس جی ) کے آئی ای ڈی ڈاٹا کے بندوبست کے قومی نظام ( این آئی ڈی ایم ایس ) کا افتتاح کیا
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ چھ برسوں میں مختلف قسم کے ڈاٹا تیار کرنے اور اسے منظم طریقے سے جمع کرنے کے لیے اہم کام کیا گیا ہے
این آئی ڈی ایم ایس دہشت گردی کے خلاف اگلی سلسلے کے حفاظتی ڈھال کے طور پر کام کرے گا
این آئی ڈی ایم ایس دہشت گردانہ سرگرمیوں کی تحقیقات ، دھماکوں کے رجحانات کو سمجھنے اور ان کے خلاف موثر حکمت عملی وضع کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوگا
این آئی ڈی ایم ایس ، ملک میں اب تک ہونے والے بم دھماکوں کے نمونے ، طریقہ ٔ کار اور استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کا درست تجزیہ کرنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہو گا
این آئی ڈی ایم ایس تحقیقاتی ایجنسیوں اور انسدادِ دہشت گردی اداروں کے لیے مختلف کیس فائلوں میں بکھرے ہوئے ڈاٹا کے لیے واحد کلک رسائی مرکز کے طور پر کام کرے گا
اے آئی کی مدد سے این آئی ڈی ایم ایس ملک میں ایک مضبوط سیکورٹی گرڈ بنانے کے لیے ڈاٹا کے دیگر ذرائع سے منسلک ہوگا
’ ایک ملک ، ایک ڈاٹا خزینہ ‘ کے ذریعے مختلف محکموں میں بکھرا ہوا ڈاٹا اب ہر پولیس یونٹ کو قومی اثاثہ کے طور پر دستیاب ہو گا
بھارت کی عالمی معیار کی غلطی سے مبرا فورس ، این ایس جی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور انسداد دہشت گردی ، طیارہ شکن ہائی جیکنگ اور بم کو ٹھکانے لگانے کے شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کیے ہیں
آئی سی جے ایس – دو ’ ایک ڈاٹا ایک اندراج ‘ کے تصور پر مبنی اگلے سلسلے کے ڈاٹا شیئرنگ نظام کے طور پر ابھر رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
09 JAN 2026 3:24PM by PIB Delhi
امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کےمرکزی وزیر ، جناب امت شاہ نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نئی دلّی میں نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کے آئی ای ڈی ڈاٹا بندوبست کے قومی نظام (این آئی ڈی ایم ایس) کا افتتاح کیا ۔ اس تقریب میں ، مرکزی داخلہ سکریٹری ، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر ، این ایس جی کے ڈائریکٹر جنرل ، مرکزی مسلح پولیس فورسز کے ڈائریکٹر جنرل اور مختلف ریاستوں کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے شرکت کی۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ چھ برسوں میں مختلف قسم کے ڈاٹا تیار کرنے اور اسے منظم طریقے سے جمع کرنے کے لیے اہم کام کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس آنے والے دنوں میں ، ملک میں ہونے والے ہر قسم کے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات اور ان کے مختلف پہلوؤں کے تجزیے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا ۔ مزید برآں ، این آئی ڈی ایم ایس دہشت گردی کے خلاف اگلے سلسلے کا حفاظتی ڈھال ثابت ہو گا ۔ جناب شاہ نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے پچھلے برسوں میں مختلف قسم کے ڈاٹا تیار کیے ہیں لیکن اب تک وہ ایک دوسرے سے الگ یعنی الگ الگ سائلوز میں تھے ۔ اب ، ہم ان تمام ڈاٹا ذرائع کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج این آئی ڈی ایم ایس کا آغاز ، اس عمل کو تیز کرے گا اور ملک کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا ۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج این آئی ڈی ایم ایس کے آغاز کے ساتھ ہی قومی جانچ ایجنسی ( این آئی اے ) ، ملک بھر کے انسدادِ دہشت گردی اداروں (اے ٹی ایس) ، ریاستی پولیس فورسز اور تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے لیے دو طرفہ جامع ، مربوط اور آن لائن ڈاٹا پلیٹ فارم دستیاب ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقام پر ہونے والے کسی بھی دھماکے یا آئی ای ڈی کے واقعے سے متعلق ڈاٹا کو اس نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ اس ڈاٹا کو استعمال کرکے ، ہر ریاست میں تحقیقات کے دوران ضروری رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس دہشت گردانہ سرگرمیوں کی تحقیقات ، دھماکوں کے رجحانات کو سمجھنے اور ان کے خلاف موثر حکمت عملی وضع کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوگا ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این ایس جی کے پاس دستیاب ڈاٹا بیس میں 1999 ء سے لے کر اب تک کے تمام بم دھماکوں سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس کے ذریعے یہ ڈاٹا اب پورے ملک کی پولیس فورسز اور متعلقہ ایجنسیوں کو دستیاب کرایا جائے گا ۔ این آئی ڈی ایم ایس ، ملک میں اب تک ہونے والے بم دھماکوں کے نمونے ، کام کرنے کے طریقے (ایم او) اور استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کا درست تجزیہ کرنے کے لیے ایک مستحکم پلیٹ فارم بن جائے گا ۔ جناب شاہ نے کہا کہ طریقۂ کار اور سرکٹ طریقوں پر مبنی واقعات کے درمیان باہمی روابط قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مجموعی رجحانات اور بصیرت کو سمجھنے میں اہم مدد فراہم کرے گا ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس ایک محفوظ قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے ، جس کے ذریعے ملک بھر میں بم دھماکوں سے متعلق واقعات کا درست اور منظم تجزیہ کیا جا سکتا ہے ۔ یہ پلیٹ فارم آئی ای ڈی سے متعلق ڈاٹا کو جمع کرنے ، معیاری بنانے ، مربوط کرنے اور محفوظ طریقے سے شیئر کرنے کے عمل کو مضبوط کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ این آئی ڈی ایم ایس تحقیقاتی ایجنسیوں اور انسدادِ دہشت گردی اداروں کے لیے مختلف کیس فائلوں میں بکھرے ہوئے ڈاٹا کے لیے سنگل کلک رسائی کے مرکز کے طور پر کام کرے گا ۔ اس سے مرکزی اور ریاستی تحقیقاتی ایجنسیوں ، انسداد ِ دہشت گردی کے اداروں اور تمام مرکزی مسلح پولیس فورسز ( سی اے پی ایف ) کے لیے ڈاٹا تک فوری رسائی ممکن ہو سکے گی ۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ملک کے داخلی سلامتی کے نظام کو تین بڑے طریقوں سے فائدہ پہنچائے گا ۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ ایک ملک ، ایک ڈاٹا خزینہ ‘ کے ذریعے مختلف محکموں میں بکھرے ہوئے ڈاٹا ، اب ہر پولیس یونٹ کو قومی اثاثہ کے طور پر دستیاب ہوں گے ۔ اس سے قانونی چارہ جوئی کی رفتار اور معیار دونوں میں بہت مثبت تبدیلی آئے گی اور ہم آسانی سے نمونے کی شناخت بھی کر سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کو سمجھنے کے اِن نمونوں سے سائنسی شواہد پر مبنی مقدمہ چلانے میں مدد ملے گی ۔ اس کے علاوہ ، ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی بہت بہتر طریقے سے قائم کی جائے گی ۔ جناب شاہ نے کہا کہ صحیح وقت پر صحیح جگہ پر صحیح معلومات پہنچانے کے لیے یہ ایک انتہائی اہم کوشش ہوگی ۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی گارڈ ( این ایس جی ) ہمارے ملک کی داخلی سلامتی کا ایک مضبوط ستون ہے ۔ این ایس جی اہلکاروں کی بہادری ، منفرد مہارت اور غیر متزلزل لگن کی وجہ سے ہمارے شہری آرام سے سو پا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چاہے وہ کہیں بھی حملے کا درست اور تیزی سے جواب دے رہا ہو ، ہائی جیک مخالف کارروائیوں کے لیے مسلسل تیاری کر رہا ہو ، بم کو ناکارہ بنانے کا کام کر رہا ہو ، یا کسی اور چیلنج کا سامنا کر رہا ہو-ہر شعبے میں این ایس جی نے نہ صرف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ہر بار کامیاب نتائج بھی حاصل کیے ہیں ۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این ایس جی ، بھارت کی دہشت گردی کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے والی عالمی معیار کی فورس ہے ۔ این ایس جی کا قیام 1984 ء میں عمل میں آیا تھا اور اس کے بعد سے ، کسی بھی واقعے کی نوعیت سے قطع نظر ، اس نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات کا مسلسل تجزیہ کیا ہے اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خود کو پوری طرح تیار رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں ، طیاروں کو ہائی جیک کرنے کے مشن ، بموں کو ناکارہ بنانے کے جدید نظام اور اب تمام ایجنسیوں کے ساتھ اپنا ڈاٹا شیئر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانا ، این ایس جی کی طرف سے کئے جانے والے تمام اہم کام اور ذمہ داریاں ہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ این ایس جی افسران اور کمانڈوز کو ان کی بہادری کے لیے مختلف سطح پر کئی بار اعزاز سے نوازا گیا ہے ۔ ان میں تین اشوک چکر ، دو کیرتی چکر ، تین شوریہ چکر ، 10 پولیس میڈلز اور 44 سینا میڈلز شامل ہیں ۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ان چار دہائیوں کے دوران این ایس جی نے مسلسل بدلتے ہوئے سیکورٹی منظر نامے کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کا عمل جاری رکھا ہے ۔ این ایس جی کے علاقائی مراکز ، اب ملک کے مختلف حصوں-ممبئی ، چنئی ، کولکاتہ ، حیدرآباد اور احمد آباد سے کام کریں گے ۔ اس کے علاوہ ایودھیا میں ایک نیا مرکز بھی قائم کیا جا رہا ہے ۔ اس سے این ایس جی کو کسی بھی مقام تک پہنچنے میں لگنے والے وقت میں کافی کمی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار جب یہ تمام مراکز فعال ہو جائیں گے ، خاص طور پر ایودھیا مرکز کے فعال ہونے کے بعد ، این ایس جی ہنگامی صورت حال میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ملک کے کسی بھی کونے تک پہنچ سکے گا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دلّی میں اسپیشل ایکشن گروپ ہیں ، جنہیں انسداد دہشت گردی اور اغوا ء مخالف گروپوں کے طور پر قائم کیا گیا ہے ۔ ایک طرح سے این ایس جی دن میں 24 گھنٹے ، سال میں 365 دن پوری طرح تیار رہتا ہے اور اس سے ملک کو یقینی طور پر فائدہ ہوا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کے تقریبا ً 100 فی صد پولیس اسٹیشن ، تقریباً 17741 ، سی سی ٹی این ایس سے جڑے ہوئے ہیں ، جس سے ان کا آن لائن ڈاٹا دستیاب ہوتا ہے ۔ آئی سی جے ایس-2 ’ ایک ڈاٹا ایک اندراج ‘ کے تصور پر مبنی اگلے سلسلے کے ڈاٹا شیئرنگ نظام کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا ً 22000 عدالتوں کے اعداد و شمار کے علاوہ ، ای-جیل کے ذریعے تقریبا ً 2 کروڑ 20 لاکھ قیدیوں کے ریکارڈ ، الیکٹرانک طریقے سے مقدمہ چلانے کے ذریعے 2 کروڑ قانونی چارہ جوئی کے اعداد و شمار ، ای-فارینسکس کے ذریعے 31 لاکھ نمونوں کے نتائج اور این اے ایف آئی ایس کے ذریعے 1 کروڑ 21 لاکھ فنگر پرنٹس کے ریکارڈ اب ایک بٹن کے کلک پر دستیاب ہیں ۔ این آئی ڈی ایم ایس کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اے آئی کی مدد سے این آئی ڈی ایم ایس ، ملک میں ایک مستحکم سکیورٹی گرڈ بنانے کے لیے ڈاٹا کے دیگر ذرائع سے منسلک ہوگا ۔
...............
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 356
(रिलीज़ आईडी: 2212999)
आगंतुक पटल : 21