خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اختتامِ سال 2025 کا جائزہ


خواتین اور اطفال کی بہبود کی وزارت خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانے ، جامع ترقی ، حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے

پوشن ٹریکر میں 9 کروڑ سے زیادہ مستفیدین رجسٹر ہو چکے ہیں

سکشم آنگن واڑیوں کے طور پر اپ گریڈیشن کے لیے منظور شدہ 2 لاکھ آنگن واڑی مراکز میں سے 94,077 آنگن واڑی مراکز کو ایل ای ڈی اسکرینوں سمیت بہتر بنیادی ڈھانچے کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا

پی ایم ایم وی وائی کے تحت 4.26 کروڑ مستفیدین کو ڈی بی ٹی طریقہ کار کے ذریعے زچگی کے فوائد کی مد میں20,060 کروڑ کی رقم فراہم کی گئی

ایم ڈبلیو سی ڈی کو پی ایم-جن من کے نفاذ میں شاندار تعاون کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی وزارتوں میں سے ایک کے طور پر نوازا گیا

آٹھویں قومی پوشن ماہ کے دوران ملک بھر میں 14.33 کروڑ سرگرمیاں انجام دی گئیں

رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پی ایم کیئرز ، پوشن اور پی ایم ایم وی وائی ہیلپ لائن کا شارٹ کوڈ 14408 سے بدل کر 1515 کیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 09 JAN 2026 11:54AM by PIB Delhi

خواتین و اطفاع کی بہبود کی وزارت نے سال 2025 کے لیے اپنی کامیابیوں اور اقدامات کا جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ وزارت خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانے ، جامع ترقی ، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ذیل میں اس کے اہم مشن و منصوبوں اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش ہے:

1.مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0: ہندوستان کی غذائی بہتری کو مضبوط بنانا

آنگن واڑی خدمات ، پوشن ابھیان اور نوعمر لڑکیوں کے لئے اسکیم کو مربوط کرنے والے مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 سے 30 نومبر 2025 تک 8.69 کروڑ سے زیادہ حاملہ خواتین ، دودھ پلانے والی مائیں ، نوعمر لڑکیوں اور بچوں کو فائدہ پہنچا یاگیا ۔

A.آنگن واڑی بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانا

  • کل 2 لاکھ آنگن واڑی مراکز (اے ڈبلیو سی ایز) کو مشن پوشن 2.0 کے تحت سکشم آنگن واڑی کے طور پر اپگریڈ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے 94,077 آنگن واڑی مراکز کو بہتر بنیادی ڈھانچے بشمول ایل ای ڈی اسکرینوں کے ساتھ اپگریڈ کیا جا چکا ہے۔
  • پی ایم جن من کے تحت خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروپوں(پی وی ٹی جی) کے علاقوں میں 2,500 آنگن واڑی مراکز منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 2,326 مراکز فعال ہیں۔ حال ہی میں عزت مآب صدر جمہوریہ نے پی ایم -جن من کے نفاذ میں شاندار خدمات پر خواتین وا طفال کی بہبود کی وزارت کو بہترین کارکردگی  کا مظاہرہ کرنے والی وزارتوں میں سے ایک کے طور پر ایوارڈ سے نوازا ہے۔
  • قبائلی امور کی وزارت کی ڈی اے جے جی یو اے پہل کے تحت ہم آہنگی کے ذریعے 875 آنگن واڑی مراکز کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 455 آنگن واڑی مراکز اس وقت فعال ہیں اور 27,785 قبائلی افراداس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

.Bپوشن ٹریکر کے ذریعے ڈیجیٹل حکمرانی اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی

  • آنگن واڑی کے لیے ایک حکمرانی پر مبنی ٹول پوشن ٹریکر ایپلی کیشن مارچ 2021 میں لانچ کیا گیا تھا ، جو آنگن واڑی مراکز میں حاملہ خواتین ، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں (0سے 6برس) سمیت مستفیدین کی غذائیت کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے 360 ڈگری ویو(مکمل نگرانی) اور خدمات کی فراہمی ، آنگن واڑی کے بنیادی ڈھانچے اور اضافی غذائیت کی ٹریکنگ کی بروقت نگرانی کے قابل بناتا ہے۔
  • پوشن ٹریکر میں  9 کروڑ سے زیادہ مستفیدیں  کا اندراج
  • تقریباً 8 کروڑ بچوں کی ماہانہ بنیاد پر افزائش (قد اور وزن) کی نگرانی
  • 14 لاکھ: آنگن واڑی مراکز منسلک
  • 24 زبانیں ایپ میں دستیاب ہیں
  • اختراعی (مرکز) زمرے کے تحت عوامی انتظامیہ- 2024 میں بہترین کارکردگی کے لیے وزیر اعظم کا ایوارڈ
  • پوشن ٹریکر ایپلیکیشن آنگن واڑی ورکرز (اےڈبلیو ڈبلیو ایز) کی روزانہ اور ماہانہ سرگرمیوں  میں مدد فراہم کرتی ہے، جیسے آنگن واڑی مرکز (اے ڈبلیو سی)کو کھولنا اور حاضری درج کرنا، گرم پکایا ہوا کھانا(ایچ سی ایم) اور گھر لے جانے والا راشن تقسیم کرنا، ای سی سی ای سرگرمیوں کے لیے روزانہ تدریسی ویڈیوز اور وائس اوورز اور اے پی اے اے آر آئی ڈی؍اے بی ایچ اے آئی ڈی کی تخلیق وغیرہ۔
  • مستفیدین/شہریوں کا بااختیار بنانا:پوشن ٹریکر کا مستفید/شہری ماڈیول شہریوں کو قریبی آنگن واڑی مرکز پر آنگن واڑی خدمات تک رسائی کے لیے رجسٹریشن کی درخواست دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

.Cسوپوشت گرام پنجایت ابھیان

  • یہ ابھیان 26 دسمبر 2024 کو  عزت مآب وزیراعظم کی جانب سے شروع کیا گیا، جس کا مقصد غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچےاور کم غذائیت کے نتائج میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر نے والی 1,000 پنچایتوں کی شناخت اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
  • ’غذائی قلت سے پاک ہندوستان‘ کی طرف صحت مند مسابقت کو  فروغ دینے کے لیے پوشن ٹریکر کی حمایت یافتہ بینچ مارکنگ اور بین الریاستی پیئر ریویو کا استعمال کرتا ہے۔

.Dغذائیت تک رسائی اور بڑے پیمانے پر رویوں میں تبدیلی

  • 8؍واں راشٹریہ پوشن ماہ(آٹھواں قومی پوشن ماہ) 17 ستمبر 2025 کو مدھیہ پردیش کے  دھار سے عزت مآب وزیراعظم کے ذریعے سوستھ ناری، سشکست پریوار ابھیان کے تحت شروع کیا گیا۔
  • 20 سے زیادہ وزارتوں کے باہمی اشتراک  سےپورے ملک میں 14.33 کروڑ سرگرمیاں سے انجام دی گئیں۔
  • سوستھ ناری، سشکست پریوار ابھیان اور آٹھویں راشٹریہ پوشن ماہ کے تحت، پی ایم ایم وی وائی کے مستفیدین کے لیے ڈی بی ٹی (براہِ راست فائدہ منتقلی) کے ذریعے ایک ہی دن میں 15 لاکھ سے زائد خواتین کو 450 کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔

.Eپوشن بھی پڑھائی بھی کے ذریعے ای سی سی ای کو مضبوط بنانا

  • قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق وزارت آنگن واڑی مراکز کو متحرک ابتدائی تعلیمی مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ’پوشن بھی پڑھائی بھی‘ پہل کے تحت دسمبر 2025 تک 8,55,728 آنگن واڑی ورکرز (اے ڈبلیو ڈبلیو ایز) اور 41,645 ایس ایل ایم ٹیز کو تربیت دی جا چکی ہے۔ آدھارشیلہ (0–3 سال) اور نوچیتنا (3 سے6سال) نصاب پورے ملک میں اختیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں 12 علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔
  • ڈیجیٹل تعلیم کو فعال بنانے کے عمل کو پوشن ٹریکر کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے، جو ہر ماہ 2.56 کروڑ سے زیادہ پری اسکول سرگرمیوں کا اندراج کرتا ہے اور آنگن واڑی ورکرز کے لیے روزانہ تعلیمی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
  • 3 ستمبر 2025 کو وزارت نے اسکولوں کے ساتھ آنگن واڑی مراکز کی شراکت (کو لوکیشن) سے متعلق رہنما خطوط جاری کیے تاکہ اسکولی نظام کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے، جس کے تحت 2.9 لاکھ آنگن واڑی مراکز اسکول کے احاطے کے اندر واقع ہیں۔

.Fہیلپ لائن نمبر – 1515

  • وزارت نے پی ایم کیئرز، مشن سکشم آنگن واڑی و پوشن 2.0 اور پی ایم ایم وی وائی کے تحت شکایات کے ازالے کے لیے ایک ٹول فری ہیلپ لائن قائم کی ہے۔ کال سینٹر مستفیدین اور آنگن واڑی کارکنوں سے موصول ہونے والی شکایات، فیڈبیک اور تکنیکی مسائل کو سنبھالتا ہے اور فالو اَپ کالز بھی کرتا ہے۔ شکایات کا ازالہ یا تو کال سینٹر کے ایگزیکٹو کرتے ہیں یا بروقت کارروائی کے لیے متعلقہ آنگن واڑی ورکر/سپروائزر/سی ڈی پی او کو بھیج دی جاتی ہیں۔
  • رسائی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پی ایم کیئرز، پوشن اور پی ایم ایم وی وائی ہیلپ لائن کے شارٹ کوڈ کو 14408 سے تبدیل کر کے 1515 کر دیا گیا ہے۔ یہ آسانی سے یاد رہنے والا نمبر تینوں اسکیموں کے مستفیدین کے لیے سہولت اور معاونت بڑھانے کے مقصد سے متعارف کرایا گیا ہے۔
  • کل موصولہ 1,40,862 شکایات میں سے دسمبر 2025 تک 1,04,662 شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔

.Gآنگن واڑی مراکز اور پرائمری اسکولوں کا مشترکہ قیام

خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت نے وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر 3 ستمبر 2025 کو آنگن واڑی مراکز کے اسکولوں کے ساتھ مشترکہ قیام کے لیے رہنما خطوط جاری کیے۔ یہ رہنما خطوط ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم(ای سی سی ای) کو مضبوط بنانے کے لیے آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں کو ایک ہی کیمپس پر مربوط کرنے کے مقصد سے تیار کیے گئے ہیں۔ 2.9 لاکھ سے زائد مراکز پہلے ہی اسکول کے احاطے میں واقع ہیں اور یہ رہنما خطوط ریاستوں اور مرکزی علاقوں(یو ٹی ایز) کو ماڈل کو مؤثر طریقے سے ترقی دینے کے لیے عملی وضاحت فراہم کرتے ہیں۔

.Hایف آر ایس پر مبنی تصدیق  آنگن واڑی خدمات اور پی ایم ایم وی وائی میں متعارف کرایا گیا:

پی ایم ایم وی وائی اور آنگن واڑی میں تصدیق کے لیے چہرے کی شناخت کا نظام یعنی فیس ریکوگنیشن سسٹم (ایف آر ایس) شروع کیا گیا ہے ۔  ایف آر ایس پر مبنی تصدیق ، جو محفوظ شدہ ٹیمپلیٹس کے ساتھ چہرے کی زندہ خصوصیات کا موازنہ کرکے کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اہم فوائد پیش کرتی ہے ۔  یہ چہرے کی خصوصیات کی انفرادیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر تحفظ فراہم کرتا ہے ، جس سے جعلی بنانے یا بائی پاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔  یہ شفافیت کو بہتر بناتا ہے اور کام کاج کو ہموار کرتا ہے ۔

آنگن واڑی خدمات میں ٹی ایچ آر کی فراہمی کے لیے چہرے کی شناخت کا نظام (ایف آر ایس)

  • آنگن واڑی مراکز میں گھر لے جانے والے راشن یعنی ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر) کی ڈیلیوری کے آخری سرے تک نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ۔  یہ ای کے وائی سی کا استعمال کرتے ہوئے آدھار سے چہرے کی تفصیلات کی بنیاد پر مستفیدین کی تصدیق کرتا ہے ۔  ایف آر ایس ماڈیول-پوشن ٹریکر ایپ میں شامل کیا گیا جو آنگن واڑی کارکنوں کے ذریعے تمام معمول کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔  کسی علیحدہ ایپ کی ضرورت نہیں ہے ۔

  • 31 دسمبر 2025 تک  ٹی ایچ آر کے لیے تقریباً 4.73 کروڑ اہل مستفیدین میں سے  کل 4.51 کروڑ (91.38 فیصد) مستفیدین نے اپنی ای کے وائی سی اور فیس میچنگ (چہرے کی شناخت)مکمل کر لی ہے  اور 2.79 کروڑ (52.68 فیصد) اہل مستفیدین نے دسمبر 2025 میں ایف آر ایس کا استعمال کرتے ہوئے ٹی ایچ آر حاصل کیا ہے ۔

پی ایم ایم وی وائی میں چہرے کی شناخت کا نظام (ایف آر ایس): پی ایم ایم وی وائی کے تحت تمام نئے اندراجات کے لیے چہرے کی تصدیق کے ذریعے لازمی بائیو میٹرک تصدیق 21 مئی 2025 سے متعارف کرائی گئی ہے ۔  ایف آر ایس نظام کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بڑے پیمانے پر قبول کیا ہے ۔  اس فیچر کے متعارف ہونے کے بعد سے 17.82 لاکھ مستفیدین (17.11.2025 تک) کو ایف آر ایس کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد اندراج کیا گیا ہے ۔

.2مشن شکتی: خواتین کی حفاظت ، وقار اور بااختیار بنانا


  • 1025 ون اسٹاپ سینٹرز او ایس سی کو منظوری دے دی گئی ہے ،جبکہ 865 (او ایس سی) کام کر رہے ہیں ؛ 12.67 لاکھ خواتین کی مدد کی گئی ہے۔
  • خواتین کی ہیلپ لائن 181 کو 35 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ای آر ایس ایس-112 کے ساتھ مربوط کیا گیا ؛ 93.48 لاکھ خواتین  کو کومدد فراہم کرائی گئی۔
  • مشن شکتی موبائل ایپ آئی او ایس اور اینڈرائڈ دونوں پلیٹ فارم پر کام کر رہی ہے ۔
  • پی ایم ایم وی وائی (پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا) کے تحت 4.26 کروڑ مستفیدین نے ڈی بی ٹی موڈ کے ذریعے زچگی کے فوائد میں 20,060 کروڑ روپے موصول کیے۔
  • 411 شکتی سدن ہومز اور 531 سکھی نیواس(سابقہ ورکنگ ویمن ہاسٹل) ملک بھر میں کام کر رہے ہیں ۔

  • بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے 10 برس مکمل ہونے کا جشن: وزارت نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اسکیم کی 10 ویں سالگرہ 22 جنوری سے 8 مارچ 2025 تک منائی ہے ، جس کا اختتام عالمی یوم خواتین پر ہوگا ۔ ’لڑکیوں کے تحفظ ، تعلیم اور بااختیار بنانے کی ایک دہائی’، یہ سنگ میل ہندوستان کے وکست بھارت 2047 کے وژن اور خواتین کی قیادت میں ترقی کی طرف بڑھنے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔
  • شی باکس(SHe Box) پورٹل:کام کی جگہ پر خواتین کی حفاظت کو مضبوط بنانے اور ’کام کی جگہ پر خواتین کے ساتھ جنسی ہراسانی (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ 2013‘‘(شیی ایکٹ)کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے 29 اگست 2024 کو سیکسول ہراسانی الیکٹرانک باکس(شی باکس) لانچ کیا۔یہ اہم پہل حکومت ہند کی جانب سے خواتین کو تمام شعبوں—منظم یا غیر منظم، نجی یا سرکاری—میں کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کی شکایات درج کرنے کے لیے سنگل ونڈو رسائی فراہم کرتی ہے۔ محفوظ، خفیہ اور صارف دوست پلیٹ فارم فراہم کر کے،شی-باکس خواتین کو بغیر خوف کے واقعات رپورٹ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ یہ محفوظ اور زیادہ جوابدہ کام کی جگہیں یقینی بنا کر خواتین کی ورک فورس میں شمولیت کو بڑھانے اور شفافیت کے کلچر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ پورٹل ملک بھر میں داخلی کمیٹیوں(آئی سی ایز) اور مقامی کمیٹیوں (ایل سی ایز) کے بارے میں معلومات کے ذخیرے کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ پورٹل ہندی اور انگریزی سمیت  22 زبانوں میں دستیاب ہے۔۔ 05.01.2026 تک، 1,30,000 سے زائد کام کی جگہوں (سرکاری اور نجی شعبہ) کو شامل کیا جا چکا ہے اور 50,000 سے زائد آئی سی ایز کی تفصیلات اپ ڈیٹ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پورٹل پر تمام 777 اضلاع کی ایل سی ایز کی تفصیلات بھی دستیاب ہیں۔
  • وزارت ہر سال 25 نومبر (خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن) سے 10 دسمبر (انسانی حقوق کا عالمی دن) تک 16 روزہ مہم مناتی ہے، جس میں جنسی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے باہمی شرکت اور مشترکہ نقطۂ نظر کے تحت مؤثر سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، جس میں خواتین و اطفال کی بہبود کی وزارت کے تمام ادارے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز فعال طور پر حصہ لیتے ہیں۔ہر سال وزارت اس مقصد کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے؛ ایک اہم تعاون وزارتِ دیہی ترقی(ایم او آر ڈی) کے ساتھ ’نئی چیتنا‘ کے تحت کیا جاتا ہے، جو خواتین کی اپنی مد دآپ گروپوںکی قیادت میں جنس کی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے پر ایک قومی مہم ہے۔ رواں برس’’نئی چیتنا 4.0‘‘ کا چوتھا ایڈیشن 25 نومبر سے 22 دسمبر 2025 تک منعقد کیا گیا۔ یہ پہل وزارت کی جانب سے جنسی بنیاد پر تشدد کو روکنے اور ختم کرنے کے عزم کو دوہراتی ہے۔

.3مشن وتسلہ: بچوں کے تحفظ اور دیکھ بھال کو بہتر بنانا

  • مشن واتسلہ پورٹل تمام بچوں کی فلاح و بہبود کے نظاموں کے لیے ایک جامع کام کی جگہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔گود لینے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیےکیئرنگ(سی اے آر آئی این جی ایس) ایڈاپشن پلیٹ فارم کو  ایم وی پورٹل کے ساتھ ی مربوط کیا گیا ہے۔
  • مشن وتسلہ پورٹل پر ماسٹر ٹرینرز کی تکنیکی تربیت دہلی، بنگلور، گوہاٹی، بھوپال اور لکھنؤ سمیت پانچ مقامات پر دی گئی ہے، جہاں بچوں کے تحفظ کے نظام میں کام کرنے والے مختلف اسٹیک ہولڈرز نے حصہ لیا۔ تمام 36 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقو ں میں مجموعی طور پر 303 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔
  • چائلڈ ہیلپ لائن تمام 36 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہے اور ہنگامی ردعمل کے لیےای آرایس ایس-112 کے ساتھ مربوط ہے۔ 01.01.2026 تک 728 اضلاع میں تنصیب مکمل ہو چکی ہے، جس سے ایک متحد قومی بچوں کے ردعمل کا نظام ممکن ہوا ہے۔
  • ایم او ڈبلیو سی ڈی نے لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن (ایل بی ایس این اے اے) کے ساتھ شراکت داری کی اور ایک آن لائن ٹریننگ ماڈیول تیار کیا-جو ہندوستان میں جووینائل جسٹس ایکٹ پ(نابالغ بچوں کو انصاف کی فراہمی کا قانون) پر خصوصی توجہ کے ساتھ بچوں کے حقوق کے نفاذ کو مضبوط بنانے کے لیے کرم یوگی آئی جی او ٹی پر دستیاب ہے ۔  31.12.2025 تک ، کل 37,242 اسٹیک ہولڈرز نے کورس کے لیے داخلہ لیا ہے اور 19,728 نے اسے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے ۔

مہمات

  • پی ایم آر بی پی-پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار-2025:

پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار (پی ایم آر بی پی) ہندوستان کے سب سے باوقار قومی اعزازوں میں سے ایک ہے ، جو حکومت ہند کی طرف سے ہر سال ان بچوں کی صلاحیت کےاعتراف کے لیے دیاجاتا ہے،جنہوں نے کم عمری میں غیر معمولی مہارت اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے ۔

پی ایم آر بی پی-2025 کی تقریب 26 دسمبر 2025 کو وگیان بھون ، نئی دہلی میں منعقد ہوئی ، جہاں عزت مآب صدر جمہوریہ ہند کے ذریعے انعامات سے نوازا گیا ۔  اس ممتاز تقریب میں نوجوانوں کی قابل ذکر کامیابیوں کا جشن منایا گیا ،جن کی لگن اور استقامت نے قوم کو متاثر کیا ہے ۔

2025 میں ، 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 20 ہونہار بچوں کو اس باوقار اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ۔  ان نوجوان رول ماڈلز کو بہادری ، آرٹ اور ثقافت ، ماحولیات ، سماجی خدمت ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور کھیلوں سمیت متنوع شعبوں میں ان کی غیر معمولی شراکت کے لیے تسلیم کیا گیا ۔

پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار نہ صرف ان بچوں کی غیر معمولی کامیابیوں کو تسلیم کرتا ہے ،بلکہ ملک بھر کے نوجوان ذہنوں کو بہترین کارکردگی ، اختراع اور معاشرے کی خدمت کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تحریک کی کرن کے طور پر بھی کام کرتا ہے ۔

  • ویر بال دیواس-2025

ویر بال دیوس عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں بڑے عقیدت  وجوش وخروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر نوجوان ہیروز کی ہمت اور قربانی کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ۔ وزیر اعظم پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار ایوارڈ یافتگان کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور ایک براہ راست ویب کاسٹ کے ذریعے طلباء اور بچوں کے ملک گیر سامعین سے خطاب کرتے ہیں ، جس سے یہ تقریب نوجوانوں کی بہادری اور جرأت کا ایک یادگار اور اثر انگیز جشن بن جاتی ہے ۔ وزارت نے 26 دسمبر 2025 کو ویر بال دیوس کا انعقاد ایک ملک گیر جشن کے طور پر کیا ،جو ہندوستان کے مستقبل کے معماربچوں کی مثالی ہمت ، لچک اور صلاحیت کا احترام کرنے کے لیے وقف ہے ۔ جشن کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر میں مختلف سرگرمیوں اور یادگاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا ، جس کا اختتام مرکزی تقریب میں ہوا ، جس میں 26 دسمبر 2025 کو ہندوستان کے عزت مآب وزیر اعظم نے شرکت کی ۔

وزیراعظم شری نریندر مودی نے ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 20 بچوں سے بھی گفتگو کی ،جنہیں وزیراعظم کے قومی  ’چائلڈ ایواراڈ‘ سےنوازا گیا ہے۔
ویر بال دیوس منانے کے لیے ریاستی اور ضلعی سطح کے پروگرام بھی منعقد کیے گئے ۔

  • بال ویوہ مکت بھارت مہم: 27 نومبر 2025 کو کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے لیے قومی مہم ’بال ویوہ مکت بھارت‘ کے ایک سال مکمل ہوئے ۔ اس سنگ میل کی یاد میں ، خواتین اور بچوں کی ترقی کے وزیر نے نئی دہلی میں 04 دسمبر 2025 کو بال ویوہ مکت بھارت کے لیے 100 دن کی گہری موضوعاتی مہم کا آغاز کیا ۔ یہ 100 دن کی مہم جو 8 مارچ 2026 کو اختتام پذیر ہوگی ، پہلے مرحلے میں اسکولوں ، کالجوں اور تعلیمی اداروں ، دوسرے مرحلے میں شادی سے متعلق خدمات فراہم کرنے والوں اور تیسرے مرحلے میں گرام پنچایتوں اور میونسپل وارڈوں کے ساتھ مشغول ہونے پر توجہ مرکوز کرے گی ۔ کم عمری کی شادی کے خلاف بیداری بڑھانے اور کم عمری کی شادی کے واقعات کی موثر رپورٹنگ اور روک تھام کے لئے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مدد کے لئے 2024 میں شروع کیا گیا 'https://stopchildmarryage.wcd.gov.in' پورٹل  پر 58,262 بچوں کی شادی کی  روک تھام کے افسران (سی ایم پی اوز) کی تفصیلات دستیاب ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں  ملک بھر میں 1.79 کروڑ لوگوں کی شرکت کے ساتھ 92,819 بیداری کی سرگرمیاں پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہیں ۔ بی وی ایم بی پورٹل اور مائی گو پلیٹ فارم نے 8 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو کم عمری کی شادی کے خلاف عہد لینے کا ریکارڈبنایا ہے۔

وزارت نے جامع، ٹیکنالوجی سے قابلِ مدد اور شفاف طرزِ حکمرانی کے اپنے عزم ایک بار پھر  اعادہ کیا ہےتاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خواتین اور بچے ہندوستان کی ترقی کے سفر کے مرکز میں رہیں۔

*********

UR-0345

(ش ح۔  م ع ن-ن م)


(रिलीज़ आईडी: 2212925) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Gujarati , English , हिन्दी , Tamil , Malayalam