وزارات ثقافت
azadi ka amrit mahotsav

پپراہوا کے باقیات کی واپسی ملکیت کے بجائے مشترکہ دیکھ بھال کا ایک عمل ہے


دنیا بھر میں بدھ کی تعلیمات زبردستی یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے اور اخلاقی رویے کے ذریعے پھیلی

رائے پتھورا ثقافتی کمپلیکس میں بدھ مت کے فلسفے پر پینل مباحثے کا انعقاد

प्रविष्टि तिथि: 05 JAN 2026 9:43AM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے مقدس پپراہوا باقیات کی عظیم الشان بین الاقوامی نمائش کے افتتاح کے موقع پر نئی دہلی کے رائے پتھورا ثقافتی کمپلیکس میں’بدھ مت کے فلسفے‘ کے موضوع پر ایک پینل مباحثے کا انعقاد کیاگیا۔

اس سیشن کی صدارت نوا نالندہ نوا نالندہ مہا وہارہ (ڈیمد یونیورسٹی) کے وائس چانسلرپروفیسر سدھارتھ سنگھ نے کی۔ پینل میں ممتازاسکالرزایک ساتھ جمع ہوئے، جن میں پروفیسر نالِن کمار شاستری، سابق رجسٹرار، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، لکھنؤ؛ پروفیسر بالا گنپتی، شعبہ فلسفہ، یونیورسٹی آف دہلی؛ پروفیسر آنند سنگھ، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی، لکھنؤ؛ پروفیسر راجنیش مشرا، شعبہ سنسکرت، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی اور پروفیسر اُجوال کمار، سابق سربراہ، شعبہ بدھ اسٹڈیز، یونیورسٹی آف کولکتہ شامل ہیں۔

اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر سدھارتھ سنگھ نے مشاہدہ کیا کہ بدھ کی تعلیمات دنیا بھر میں زبردستی یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ مکالمے، اخلاقی رویے اور ذاتی کردارو مثال کے ذریعے پھیلی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدھ مت دیگرمذاہب پر مبنی روایات کی طرح، مذہب تبدیل کرانے کے بجائے انسان کے ذہن کی پاکیزگی اور تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کے باقیات معاصر پیروکاروں کو تاریخی بدھ سے جوڑ کر زندہ روایتوں کو برقرار رکھتے ہیں اور پپراہوا کے  باقیات کی واپسی ملکیت کے بجائے مشترکہ دیکھ ریکھ کی ذمہ داری کا عمل ہے۔

پروفیسر نالِن کمار شاستری نے کہا کہ پپراہوا کے باقیات کی واپسی بدھ مت کے فلسفے کی امن اور مربوط قومی ترقی کے لیے رہنمائی کے طور پر زندہ مثال کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بدھ مت فکر کی قدیم حکمت کو آج کے مسائل جیسے اخلاقی حکمرانی، ماحولیاتی پائیداری اور ذہنی صحت سے جوڑتی ہے اور سماجی ہم آہنگی، ماحولیاتی ذمہ داری اور عالمی فلاح کے لیے ’آناتا‘، ’برہم وہار ’اور ’پرتیتیا سموتپادہ‘ کی تعلیمات کو ضروری قرار دیا، جس سے مذہب کی جائے پیدائش کے طور پر  ہندوستان کےکردار کی تصدیق ہوتی ہے۔۔

پروفیسر آنند سنگھ نے اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ بدھ اور ان کے شاگردوں کے  باقیات مذہب کی علامتی تجسیم کے طور پر کام کرتے ہیں، جو بدھ کی موجودہ موجودگی اور ان کی تعلیمات دونوں کو یکجا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ باقیات کی عقیدت بدھ مت کے مقدس جغرافیہ کواستوپوس اور چیتیوں کے ذریعے پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ مقامی ثقافتی عناصر جیسے آدی بدھ کے تصورات اور مادری دیوی کے موتف کو شامل کرتے ہوئے بنیادی فلسفیانہ اقدار کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

پروفیسر بالا گنپتی نے زور دیا کہ بدھ مت کی عالمی قبولیت اس کی فلسفیانہ گہرائی اور اخلاقی عالمیّت میں مضمر ہے۔ پپراہوا کے باقیات کو بدھ کے پیغام کی زندہ یادگار قرار دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے تہذیبی کردار کو مذہب کی جائے پیدائش کے طور پر دوبارہ تصدیق کی اور مشاہدہ کیا کہ بدھ مت کا فلسفہ بڑھتی ہوئی تقسیم شدہ دنیا میں امن، بقائے باہمی اور اخلاقی وضاحت کے لیے ایک عملی اور انسانی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

پروفیسر راجنیش مشرا نے بدھ مت اور کلاسیکی  ہندوستانی فکر کے درمیان گہری فلسفیانہ اور متنی تسلسل پر زور دیا اور ’شرمنیک‘ اور ’برہمنیکل ‘روایات کے مشترکہ علمی ماحول کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ وارنسی جیسے مراکز تاریخی طور پر مکالمے، مباحثے اور فلسفیانہ نفاست کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

پروفیسر اجوال کمار نے بدھ کے پہلے خطبے کے لیے سرناتھ کے انتخاب پر زور دیا اور استوپا اور چیتیا کے درمیان فرق سمیت کلیدی عقائدی تصورات کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں ایک ا ستوپا میں باقیات محفوظ ہوتی ہیں، وہیں چیتیا بدھ کے تقدس کی یاد دہانی کراتا اور دونوں بدھ مت کی اخلاقی اور عقیدتی زندگی میں مرکزی مقام رکھتے ہیں۔

پینل نے مشترکہ طور پر عزت مآب وزیر اعظم ہند،قابل احترام وزیرثقافت کی پپراہوا کے باقیات کی واپسی میں کیے گئے ٹھوس اقدامات کو تسلیم کیا اور اسے ثقافتی قیادت، عالمی خیر سگالی اور امن اور مشترکہ انسانی اقدار کے لیے ہندوستان  کی مستقل وابستگی کی علامت قرار دیا۔

                                                                                                                ****

 

ش ح۔م ع ن-ن م

Urdu No. 0126


(रिलीज़ आईडी: 2211402) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Tamil , Telugu , Kannada