امور داخلہ کی وزارت
داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے پنچکولہ میں ہریانہ پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب سے خطاب کیا
اعتماد ، کارکردگی اور ٹیکنالوجی سے لیس ہریانہ پولیس، ڈیوٹی کو اپنا سب کچھ سمجھ کر آگے بڑھ رہی ہے
ہریانہ پولیس کا یہ پہلا دستہ ہے جس نے تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کی تربیت حاصل کی ہے اور اب ان کے تحت فرائض انجام دے رہا ہے
جب ملک کی بیٹیاں سکیورٹی کی پہلی صف میں کھڑی ہوں تو ملک کی سلامتی پر اعتماد کئی گنا بڑھ جاتا ہے
مودی حکومت ٹیکنالوجی پر مبنی شواہد اور گواہی کے ذریعے درست انصاف کو یقینی بنا رہی ہے
ہریانہ پولیس تین نئے قوانین اور اصلاحات کو نافذ کرنے میں ملک کی قیادت کر رہی ہے
عوامی خدمت کے لیے نئے قوانین اور نئی ٹیکنالوجی کو نافذ کرنا تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کی سب سے بڑی
ذمہ داری ہے
ہریانہ پولیس کو منشیات کی اسمگلنگ ، انسانی اسمگلنگ ، سائبر کرائم اور بھتہ خوری میں ملوث منظم جرائم کے
نیٹ ورک سے مؤثر طریقے سے نمٹنا ہوگا
ہماری حکومت نے ہریانہ کو ایک ایسی ریاست بنا کر وہاں کے لوگوں کی شاندار خدمت کی ہے جو بغیر کسی ‘‘کھرچی’’ (رشوت) یا ‘‘پرچی’’ (سفارشات) کے روزگار حاصل کر رہے ہیں
ہریانہ پولیس میں تقریباً 5000 نومنتخب نوجوان مرد اور خواتین ہیں، جنہیں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے جو ریاست کی خدمت کرنے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے تیار ہیں
مودی حکومت نے اندرون ملک میں سلامتی کے تین اہم مقامات جموں و کشمیر ، شمال مشرق اور نکسل متاثرہ علاقوں میں امن قائم کیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
24 DEC 2025 9:40PM by PIB Delhi
داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج پنچکولہ میں ہریانہ پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب سے خطاب کیا ۔ اس موقع پر ہریانہ کے وزیر اعلی جناب نایب سنگھ سینی ، چیف سکریٹری ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور متعدد دیگر معززین موجود تھے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہریانہ اور اس سے ملحقہ ملک کے دارالحکومت کی حفاظت کی اہم ذمہ داری اب اعتماد ، کارکردگی اور ٹیکنالوجی کے ساتھ تربیت یافتہ نوجوان پولیس اہلکاروں پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے 5161 جوانوں کے 93 ویں بیچ میں خواتین نے اہم مقام حاصل کیا ہے ۔ جناب شاہ نے کہا کہ جب ملک کی نوجوان بیٹیاں دفاع کی پہلی صف میں کھڑی ہوتی ہیں تو ملک کی سلامتی پر اعتماد کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ پہلا بیچ ہے جس میں 85 فیصد نوجوان گریجویٹ یا ڈبل گریجویٹ ہیں ، جو آج ہریانہ پولیس میں شامل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا بیچ ہے جس کی اوسط عمر سب سے کم 26 سال ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ، یہ وہ دور ہے جب انگریزوں کے ذریعے بنائے گئے قدیم قوانین کو تبدیل کیا جا رہا ہے ، اور نئے فوجداری انصاف کے نظام-بھارتیہ نیائے سنہیتا ، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا ، اور بھارتیہ سکشیا ادھینیم کے ذریعے ملک کے لوگوں کو انصاف پہنچانے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ پولیس کا یہ پہلا دستہ ہے جس نے تین نئے فوجداری قوانین کی تربیت حاصل کی ہے اور اب ان کے تحت فرائض انجام دے رہا ہے ۔ جناب شاہ نے کہا کہ امبالا میں پولیس اکیڈمی 1966 میں قائم کی گئی تھی ۔ اس کے بعد سے لے کر آج تک پاس آؤٹ ہونے والے تمام بیچوں نے انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین کا مطالعہ کیا اور اس سے سیکھ حاصل کی ہے ۔ یہ پہلا دستہ ہے جسے ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کردہ نئے قوانین کی تربیت دی گئی ہے اور اب وہ لوگوں کی خدمت کے لیے آگے بڑھے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2023 میں ہریانہ پولیس کو اس کی شاندار کارکردگی کے مسلسل اور قابل ستائش سفر کے اعتراف میں صدر جمہوریہ نے ‘پریسیڈنٹ کلرس’ سے نوازا تھا ۔ آج تربیت یافتہ جوانوں کو اسی روایت کو آگے بڑھانا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہریانہ کی تشکیل کے وقت صرف ایک پولیس رینج اور 6 اضلاع تھے ۔ آج ہریانہ پولیس ایک بڑا برگد کا درخت بن چکی ہے ، جس میں ریلوے پولیس ، سائبر کرائم یونٹس ، اور پولیس فورس کی مختلف دیگر شاخوں اور ونگز کے ساتھ 5 رینج اور 19 اضلاع شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ پولیس کا شمار ملک کے سرکردہ پولیس دستوں میں ہوتا ہے ۔ 77000 کی منظور شدہ قوت کے ساتھ ہریانہ پولیس کی افرادی قوت ریاست کے لوگوں کی خدمت میں ہمیشہ دستیاب رہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد ، کارکردگی اور ٹیکنالوجی سے لیس ہریانہ پولیس ڈیوٹی کو اپنا سب کچھ سمجھ کر آگے بڑھ رہی ہے ۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ دس سال پہلے ملک کو امن و امان کے حوالے سے تین بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا-بائیں بازو کی انتہا پسندی ، جموں و کشمیر میں
دہشت گردی اور شمال مشرق میں سرگرم مسلح گروہ ۔ تاہم مودی حکومت نے ان تینوں خطوں میں امن قائم کیا ہے ۔ اس کے باوجود داخلی سلامتی کی ذمہ داری آج بھی اتنی ہی اہم ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام کی خدمت میں نئی ٹیکنالوجی کو نافذ کرنا اس بیچ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے قوانین میں فارنسک سائنس کے کردار کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ سات سال یا اس سے زیادہ کی سزا کے قابل کسی بھی جرم کے لیے جائے وقوعہ پر فارنسک دورہ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ اس شق کا واحد مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مجرموں کو مناسب سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ٹیکنالوجی پر مبنی شواہد کے ذریعے درست انصاف کو یقینی بنا رہی ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہفتہ وار اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ہریانہ پولیس تین نئے قوانین اور اصلاحات کو نافذ کرنے میں ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر نے میں کامیاب رہی ہے ۔ تربیت یافتہ پولیس اہلکاروں کو اس روایت کو آگے بڑھانا چاہیے ۔ جناب شاہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہریانہ ملک کی ایک سرکردہ ریاست بن جائے گی ، حالانکہ کچھ چیلنجز بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہریانہ پولیس کو منشیات کی اسمگلنگ ، انسانی اسمگلنگ ، سائبر کرائم اور بھتہ خوری میں ملوث منظم جرائم کے نیٹ ورک جیسے بڑے چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان چاروں چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند کی وزارت داخلہ نے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی ہیں ۔ ہم ریاستوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہریانہ میں سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ نوکری حاصل کرنے کے لیے پیسے دینے اور سفارش کی ایک سلپ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے صرف ایک مخصوص ذات سے تعلق رکھنے والے اور رشوت دینے کی طاقت رکھنے والوں کو ہی نوکری ملتی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نایب سنگھ سینی جی نے ہریانہ کے لوگوں کے لیے ایک ایسی ریاست بنا کر بہت اہم خدمت کی ہے جہاں نوکریاں بغیر پیسے یا سفارش کی پرچیوں کے دی جاتی ہیں ۔ آج تقریباً 5000 نوجوان اپنی اہلیت کی بنیاد پر ریاست کی حفاظت اور اس کی خدمت کے لیے تیار ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ع ح۔ت ح۔
U-49
(रिलीज़ आईडी: 2210774)
आगंतुक पटल : 8