دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

محکمۂ دیہی ترقیات: سال نامہ2025


پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت دیہی رابطہ کو بڑا فروغ، 16 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں اور 900 سے زیادہ پل کی تعمیر مکمل

دین دیال انتودیہ یوجنا– نیشنل رورل لائیولی ہُڈمشن کے ذریعے 2 کروڑ لکھ پتی دیدیوں کو بااختیار بنایا گیا

پردھان منتری گرامین آواس یوجنا کے تحت 3.86 کروڑ مکانات کی منظوری دی گئی اور 2.92 کروڑ مکانات کی تعمیر مکمل کی گئی،پی ایم–جن من ہاؤسنگ کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 4.71  لاکھ مکانات کی منظوری دی گئی، جن میں سے 2.42 لاکھ مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے

دین دیال اُپادھیائے–گرامین کوشل یوجنا (ڈی ڈی یو-جی کے وائی) کے تحت 82 ہزار سے زائد دیہی نوجوانوں کو تربیت دی گئی اور 37 ہزار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا

آر ایس ای ٹی آئی کے ذریعے دیہی نوجوانوں کی تفویض اختیارات؛59 لاکھ نوجوانوں کو تربیت دی گئی اور 625 اداروں میں43 لاکھ کو روزگار کے مواقع حاصل ہوئے

وِکست بھارت – روزگار اور اجیویکا مشن (گرامین) کی گارنٹی ایکٹ (وی بی-جی آراے ایم جی ایکٹ) کے نفاذ کے ذریعے دیہی گھرانوں کو 125 دن تک یقینی روزگار کی گارنٹی فراہم کی گئی

نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی) کے لیے مالی سال26-2025 میں 9,652 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 5,564 کروڑ روپے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو جاری کیے گئے

ڈی آئی ایس ایچ اےکے تحت ضلعی سطح پر 1058 اجلاس منعقد کیے گئے؛ ڈی آئی ایس ایچ اےکے ڈیش بورڈ میں مجموعی طور پر 8 اسکیمیں شامل کی گئی ہیں

प्रविष्टि तिथि: 01 JAN 2026 11:19AM by PIB Delhi

سال 2025 میں محکمۂ دیہی ترقیات کی ہمہ گیر کوششوں کے نتیجے میں دیہی ہندوستان میں مقامی باشندوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئی، جہاں بنیادی ڈھانچے، ذریعۂ معاش، رہائش، روزگار، مہارت سازی اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے اقدامات کئے گئے۔

  1. پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی)

  • پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کا آغاز دسمبر 2000 میں کیا گیا تھا،جس کے تحت تقریباً تمام اہل دیہی بستیوں کو سڑک رابطے سے جوڑنے اور بڑے پیمانے پر سماجی و معاشی انقلاب کو فروغ دینے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔

  • پی ایم جی ایس وائی اسکیم کے تحت ہر عمودی (ورٹیکل) شعبے میں 01.01.2025 سے 12.12.2025 تک حاصل ہونے والی ٹھوس کامیابیاں حسب ذیل ہیں:

نمبرشمار

پی ایم جی ایس وائی کے عمودی شعبے

مکمل شدہ سڑکوں کی تعداد

سڑک کی لمبائی مکمل (کلومیٹر میں)

مکمل شدہ پلوں کی تعداد

1

پی ایم جی ایس وائی-I

180

552

72

2

پی ایم جی ایس وائی-II

24

62

03

3

آر سی پی ایل ڈبلیو ای اے

90

433

76

4

پی ایم جی ایس وائی-III

2121

14285

632

5

پی ایم جن من

220

1046

158

 

مجموعہ

2635

16378

941

 

  • ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 1,720 سڑک منصوبے مکمل کیے گئے، جس سے قومی اور علاقائی سڑک رابطہ کو مضبوطی ملی۔

  • 8,693.54 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں، جن سے دیہی، دور افتادہ اور معاشی لحاظ سے اہم علاقوں تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔

  • 481 پلوں کی تعمیر کے پروجیکٹس کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے، جس سے ہر موسم میں آمد و رفت کی سہولت ممکن ہوئی اور دریاؤں و دشوار گزار علاقوں میں نقل و حرکت آسان ہوئی۔

  • اس مدت کے دوران سڑک اور پلوں کی تعمیر پر 8,548.26 کروڑ روپے کا سرمایہ جاتی خرچ آیا۔

  • اس کے علاوہ، دیہی سڑکوں کی دیکھ ریکھ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی طرف سے 811  کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے پائیداری، سفر کے بہتر معیار اور موجودہ اثاثوں کی طویل سروس لائف کو یقینی بنایا گیا۔

  • تمل ناڈو 536 سڑک تعمیر کے منصوبوں کی تکمیل اور سڑک نیٹ ورک میں 1,736.25 کلومیٹر اضافے کے ساتھ سرفہرست کارکردگی درج کرنے والی ریاست کے طور پر سرفہرست ہے۔

  • ہماچل پردیش نے 1,103.77 کلومیٹر سڑک تعمیرکے منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ سب سے زیادہ اونچی لمبی سڑک مکمل کی، جو پہاڑی اور دشوار جغرافیائی حالات میں مضبوط کارکردگی کی عکاس ہے۔

  • بہار میں 173  پلوں کی تعمیر کے منصوبے مکمل کیے گئے، جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کا باعث بنا ہے۔

  • چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، اتر پردیش اور جھارکھنڈ میں بھی خاطر خواہ پیش رفت درج کی گئی۔

  • اروناچل پردیش، جموں و کشمیر، لداخ اور اتراکھنڈ جیسے سرحدی، پہاڑی اور شمال مشرق کے دشوار علاقوں میں مرکوز بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی گئی، جس سے علاقائی ترقی اور اسٹریٹجک رابطہ کو تقویت ملی۔

  • پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے فیز–IV کے تحت اب تک اتراکھنڈ، چھتیس گڑھ اور جموں و کشمیر کی ریاستوں کے لیے مجموعی طور پر 5,436 کلومیٹر سڑک کی منظوری دی جا چکی ہے۔

ڈیجیٹل اقدامات

  • پی ایم جی ایس وائی او ایم ایم اے ایس (اوایم ایم اے ایس) پورٹل کو نیشنل ای-گورننس سروسز لمیٹڈ (این ای ایس ایل) کے ساتھ مربوط کر کے الیکٹرانک بینک گارنٹی (ای بی جی ایس) کے اجرا کو ممکن بنایا گیا، جس سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا۔

  • سڑکوں کے لحاظ سے مادی  اور مالی اہداف و کامیابیوں کی نگرانی کے لیے ڈیلٹا رپورٹس متعارف کرائی گئیں، جس سے بر وقت کارکردگی کی جانچ میں مدد ملی۔

  • اسٹینڈرڈ بڈنگ ڈاکیومنٹ (ایس بی ڈی) کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی گئی، جس سے بولی کے دستاویزات کی آن لائن تیاری ممکن ہوئی اور حصول کے عمل کو مزید ہموار بنایا گیا۔

  1. دین دیال انتودیہ یوجنا– نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایم ایل)

دین دیال انتودیہ یوجنا– نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایم ایل): اس مشن کا آغاز جون 2011 میں کیا گیا،جو وزارتِ دیہی ترقیات (ایم او آر ڈی) کی طرف سے مرکزی اعانت یافتہ اسکیم ہے۔ اس مشن کو وزارتِ دیہی ترقیات کے رورل لائیولی ہُڈ (آرایل) ڈویژن کی جانب سے ریاستی رورل لائیولی ہُڈ مشن (ایس آر ایل ایم ایس) کے اشتراک سے نافذ کیا جاتا ہے۔اس مشن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غریب گھرانوں کو فائدہ مندذاتی روزگار اور ہنر مند انہ روزگار کے مواقع تک رسائی فراہم کر کے غربت میں کمی لائی جائے، تاکہ پائیدارطور پر ان کے ذریعۂ معاش میں خاطر خواہ بہتری آئے۔ یہ مقصد دیہی غریب گھرانوں کے مضبوط اور نچلی سطح کے اداروں کی تعمیر کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔یہ مشن اپنے اہداف کے حصول کے لیے چار بنیادی مرکبات میں سرمایہ کاری کرتا ہے:(الف) سماجی مشغولیت اور تنظیم کاری، نیز دیہی غریبوں کے زیرانتظام اور مالی طور پر پائیدار کمیونٹی اداروں کا فروغ اور استحکام؛(ب) دیہی غریبوں کی مالی شمولیت؛(ج) پائیدار ذریعۂ معاش کی ترقی؛(د) سماجی شمولیت، سماجی ترقی اور مختلف اسکیموں و شعبوں کے درمیان ہم آہنگی (کنورجنس)۔

پروگرام کےاہم مرکبات

(i) اداروں کی تعمیراور صلاحیت سازی:یہ پروگرام سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی ایس)، ولیج آرگنائزیشن (وی او ایس) اور کلسٹر لیول فیڈریشن (سی ایل ایف ایس) جیسے کمیونٹی اداروں کی تشکیل اور مضبوطی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ان اداروں کے ذریعے دیہی غریبوں کو امدادباہمی، بچت اور قرض تک رسائی کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ گروپس اجتماعی وسائل کے ذریعے غربت پر قابو پانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

(ii) سماجی شمولیت اور سماجی ترقی: ڈی اے وائی-این آر ایم ایل سماجی طرز سلوک میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے سوشل بیہیویئر چینج کمیونیکیشن (ایس بی سی سی) کو فروغ دیتا ہے، تاکہ دیہی برادریاں صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں اور سوچھ بھارت مشن، پوشن ابھیان اور دیگر سرکاری اسکیموں سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔ اس مرکب کے تحت خوراک، تغذیہ، صحت اور ڈبلیواے ایس ایچ (پانی، صفائی اور حفظانِ صحت)، صنفی مساوات اور پی آر آئی–سی بی او (مقامی ادارۂ حکومت اور کمیونٹی تنظیموں) کے باہمی اشتراک پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔

(iii) مالی شمولیت:یہ مرکب مالیاتی خدمات تک یکساں رسائی کے ہدف کے ساتھ، ڈی اے وائی-این آر ایم ایل دور دراز علاقوں میں خواتین کو بینکنگ کرسپانڈنٹ سکھی کے طور پر تعینات کر کے اہم معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے بینکنگ خدمات، قرضوں اور سماجی تحفظ کی اسکیموں جیسے پنشن اور انشورنس کی سہولت دیہی آبادی تک پہنچائی جاتی ہے۔

(iv) ذریعۂ معاش:

  • زراعتی ذریعۂ معاش:یہ پروگرام خواتین کسانوں کو زرعی ماحولیاتی طریقوں، مویشیوں کے انتظام، اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کے ذریعے بااختیار بناتا ہے۔ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور لاگت کم کرنے کے لیے تربیت اور صلاحیت سازی پر زور دیا جاتا ہے۔

  • غیر زراعتی ذریعۂ معاش:زراعتی سرگرمیوں کے علاوہ، ڈی اے وائی-این آر ایم ایل کے تحت خواتین کی مدد کرتا ہے کہ وہ دستکاری، خوراک کی پروسیسنگ اور چھوٹے پیمانے کی صنعت جیسے شعبوں میں خوردہ کاروبار قائم کریں۔ پروگرام بغیر زمین والی دیہی خواتین کو آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں شامل ہونے میں معاونت فراہم کرتا ہے، خاص طور پر وہ مائیکرو انٹرپرائز جو مقامی وسائل کا استعمال کرتی ہیں۔

کامیابی میں مددگار جدید خصوصیات

(a) صلاحیت سازی اور انسانی وسائل: ڈی اے وائی-این آر ایم ایل کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اچھی تربیت یافتہ انسانی وسائل کے ذریعے صلاحیت سازی پر زور دیتا ہے۔ ریاستی اور محکمہ جاتی  معاونت پروگرام کے بہتر نفاذ اور انتظام کو ممکن بناتی ہے۔

(b) کمیونٹی کی زیر قیادت والا طریقہ کار:پروگرام میں ترقی کے مرکز میں خواتین کو رکھا گیا ہے، جنہیں ایس ایچ جی کی تشکیل کے ذریعے وی او اور سی ایل ایف میں فیڈریٹ کیا جاتا ہے۔ یہ خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کر کے سماجی سرمایہ مضبوط کرتا ہے، اعتماد اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ تقریباً 6 لاکھ تربیت یافتہ کمیونٹی ریسورس پرسن (سی آرپی) مویشیوں، زراعت، اور مالی خدمات جیسے موضوعاتی شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔

(c) فیڈریشن:ایس ایچ جی ڈی اے وائی-این آر ایم ایل کی بنیاد ہیں، جن کی تقریباً 5.35 لاکھ وی او اور 33,590 سی ایل ایف میں فیڈریشن کے ذریعے اجتماعی بااختیاری ممکن ہوتی ہے۔ یہ فیڈریشن اجتماعی کارروائی، فیصلہ سازی، اور وسائل تک رسائی کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

(d) شراکتی منصوبہ بندی: ڈی اے وائی-این آر ایم ایل اس مرکب میں نیچے سے اوپر کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے، جس میں دیہی برادریوں کو ترقیاتی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے گاؤں کی سطح کے اجلاس، مشاورت اور شرکت پر مبنی دیہی جائزے  کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

(e) بزنس کرسپانڈنٹ ایجنٹس (بی سی اے):1.44 لاکھ سے زائد ایس ایچ جی ممبران کو بی سی اے (جسے  بی سی سکھی بھی کہا جاتا ہے) کے طور پر تعینات کیا گیا ہے، جس سے بینکنگ خدمات تک رسائی بہتر ہوئی ہے، جن میں جمع، قرض، ریمیٹنس، پنشن اور انشورنس شامل ہیں۔

(f) لکھ پتی دیدی انیشیٹو:اس اقدام کا مقصد خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانا ہے۔ اس کا ہدف یہ ہے کہ 3 کروڑ ’’لکھ پتی دیدیاں‘‘ پیدا کی جائیں، یعنی وہ خواتین جو سالانہ ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کمائیں، تاکہ وہ کاروبار کو بڑھا کر دیہی ہندوستان کی پائیدار ترقی میں اداکرس سکیں۔ اب تک ملک بھر میں 2 کروڑ سے زیادہ ایس ایچ جی خواتین لکھ پتی دیدیاں بن چکی ہیں۔

نتائج اور اثرات

سال2019 میں انٹرنیشنل انیشی ایٹو فار ایمپیکٹ ایویلیوایشن (3آئی ای) کی ایک تحقیق، جسے ورلڈ بینک نے سپورٹ فراہم کی، نے ڈی اے وائی-این آر ایم ایل پروگرام کے نمایاں اثرات کو اجاگر کیا:

  • آمدنی میں اضافہ:مستفیدین کی بنیادی آمدنی پر 19 فیصداضافہ۔

  • غیر رسمی قرض میں کمی:غیر رسمی قرضوں پر انحصار میں 20 فیصدکمی۔

  • بچت میں اضافہ:مستفیدین کی بچت کی شرح میں 28 فیصداضافہ۔

  • افرادی قوت میں بہتر شمولیت:ثانوی پیشوں میں شامل ہونے والی خواتین کا تناسب 4فیصد زیادہ۔

  • سرکاری اسکیموں تک بہتر رسائی:احاطہ شدہ علاقوں میں سماجی بہبود کی اسکیموں تک رسائی 6.5 فیصدزیادہ، بنیادی اعداد و شمار کے مقابلے میں۔

خاتمہ

ڈی اے وائی-این آر ایم ایل سے دیہی خواتین اور برادریوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانے میں انقلاب آفرین کردار ادا ہوا ہے۔ سماجی تنظیم کاری، مالی شمولیت، ذریعۂ معاش کے فروغ اور سماجی ترقی پر توجہ مرکوز کر کے اس پروگرام کے ذریعہ لاکھوں دیہی خواتین کو بااختیار بنایاگیا، غربت میں کمی آئی اور ملک بھر میں شمولیتی ترقی میں اضافہ ہوا۔ پروگرام کی کامیابی اس کی کمیونٹی پر مبنی حکمت عملی، صلاحیت سازی، اور خواتین پرمرکوز اقدامات میں پنہاں ہے، جو پائیدار اور مضبوط دیہی معیشت تخلیق کرنے کا مقصد رکھتے ہیں۔

ٹیبل: ڈی اے وائی-این آر ایم ایل کے تحت پیش رفت کا مختصر جائزہ

دورانیہ: 2011-12 سے 2024-25 (30 نومبر 2025 تک)

نمبرشمار

اشارے

مالی سال 2011-12 سے مالی سال 2013-14 تک کی پیش رفت

مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک کی پیش رفت (30 نومبر 2025 تک)

30 نومبر 2025 تک مجموعی حصولیابی

  1.  

ایس ایچ جی میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد (کروڑ میں)

2.37

7.68

10.05

  1.  

ایس ایچ جی کی تعداد (لاکھ میں)

21.31

69.59

90.90

  1.  

فراہم کردہ قرض کی رقم (کروڑروپے میں)

22,944.16

1166927.52

11.89 لاکھ کروڑ روپے

  1.  

سرمایہ جاتی سپورٹ کی رقم (ریوولونگ فنڈ + کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ)(کروڑروپے میں)

1,501.58

49,866.81

62,339.75 کروڑ

  1.  

غیر کارکردگی والے اثاثہ جات (این پی اے)

9.58 فیصد (31 مارچ 2014ء کے مطابق)

1.76 فیصد(اب تک)

  1.  

بینکنگ کرسپانڈنٹ سکھی/ڈیجی پے سکھی کی تعیناتی (این آر ایل ایم + این آر ای ٹی پی)

-

 

1.49 لاکھ

  1.  

زراعتی ماحولیاتی طریقوں (اے ای پی) کی مداخلتوں کے تحت شامل خواتین کسانوں کی تعداد (لاکھ میں)

24.27

420.73

487

  1.  

زراعتی نیوٹری گارڈن والی مہیلا کسان (لاکھ میں)

0

328

  1.  

ایس وی ای پی کے تحت تعاون یافتہ کاروباری اداروں کی تعداد (لاکھ میں)

-

4.02

  1.  

لکھ پتی دیدی کی تعداد

0

1.48 کروڑ

 

 

 

یکم جنوری سے 30 نومبر 2025 تک ڈے-این آر ایل ایم کی پیش رفت

 

نمبر شمار

اشارے

یکم جنوری سے 30 نومبر 2025 تک پیشرفت

 

 ایس ایچ جیز میں متحرک  ہوئی خواتین کی تعداد

3,117

 

ترقی یافتہ ایس ایچ جیزکی تعداد

387

 

ادا کیے گئے قرض کی رقم (کروڑ روپے)

2,06,563

(یکم جنوری تا 31 اکتوبر 2025)

 

کیپٹلائزیشن سپورٹ کی رقم (ریوالونگ فنڈ + کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ) فراہم کی گئی (کروڑ روپے)

12,669.53

 

نان پرفارمنگ اثاثے (این پی اے)

فیصد ( آج تک)1.79

 

بینکنگ نمائندوں کی تعداد سخی/ڈیجی پے سخی کی  تعیناتی (این آر ایل ایم+این آر ای ٹی پی)

12,241

 

شامل مہیلا کسانوں کی تعداد

ایگرو ایکولوجیکل کے تحت

پریکٹسز(اے ای پی )مداخلتیں (لاکھ میں)

76.45

 

مہیلا کسان کی تعداد

ایگری نٹری گارڈن (لاکھ میں)

51.25

 

ایس وی ای پی کے تحت تعاون یافتہ کاروباری اداروں کی تعداد (لاکھ میں)

71,833

 

لکھ پتی دید یوں کی تعداد

مجمو عی 2 کروڑ

 

  1. پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین

پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی) حکومت ہند کے فلیگ شپ پروگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد دیہی علاقوں میں کچے اور خستہ حال گھروں میں رہنے والے تمام بے گھر افراد اور گھرانوں کو دیگر اسکیموں کے ساتھ مل کر بنیادی سہولیات کے ساتھ 4.95 کروڑ پکے مکانات فراہم کرکے 2029 تک ’’سب کے لیے مکان‘‘کے مقصد کو حاصل کرنا ہے ۔  اس اسکیم کے تحت ابتدائی ہدف مارچ 2024 تک 2.95 کروڑ مکانات کی تعمیر میں امداد فراہم کرنا تھا ۔  مرکزی کابینہ نے مالی سال 25-2024 سے مالی سال29-2028 کے دوران اضافی 2 کروڑ دیہی مکانات کی تعمیر کے لئے اسکیم کی توسیع کو منظوری دی تاکہ دیہی علاقوں میں خاندانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے رہائش کی پیدا ہونے والی ضرورت کو پورا کیا جاسکے ۔

9دسمبر 2025 تک  ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 4.14 کروڑ مکانات کا مجموعی ہدف مختص کیا گیا ہے ، جن میں سے 3.86 کروڑ مکانات کو منظوری دی جا چکی ہے اور 2.92 کروڑ مکانات مکمل ہو چکے ہیں ۔

اسکیم کی مجموعی جسمانی پیش رفت درج ذیل ہے:

 

منظور شدہ مکانات کی کل تعداد

3,86,31,160

جاری پہلی قسط کی کل تعداد

3,60,69,568

کل مکمل مکانات

291,90,774

 

سال 2025 کے لئے اسکیم کے تحت جسمانی کامیابی یعنی یکم جنوری 2025 سے شروع ہونے والی رقم درج ذیل ہے:

 

2025 میں منظور شدہ مکانات کی کل تعداد

63,92,689

جاری پہلی قسط کی تعداد

55,72,041

کل مکمل مکانات

23,43,066

 

علاقائی دیہی ورکشاپس: وزارت نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پی ایم اے وائی-جی اور پی ایم-جن من کے تحت پی ایم اے وائی-جی ، ایچ آر اسٹیٹس اور آواس + 2024 سروے کے تحت فزیکل اور مالی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے گوا اور سکم (جس میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے عہدیداروں نے شرکت کی تھی) میں علاقائی دیہی ورکشاپس کا انعقاد کیا ۔

اقدامات:

اس اسکیم کو اینڈ ٹو اینڈ ای-گورننس حل ، آواس سافٹ اور آواس ایپ کے ذریعے نافذ اور نگرانی کی جا رہی ہے ۔  آواس سافٹ ڈیٹا انٹری اور اسکیم کے نفاذ کے پہلوؤں سے متعلق متعدد اعدادوشمار کی نگرانی کے لیے فعالیت فراہم کرتا ہے ۔  ان اعدادوشمار میں جسمانی پیش رفت (رجسٹریشن ، منظوری ، گھر کی تکمیل اور قسطوں کی رہائی وغیرہ) شامل ہیں ۔ ) مالی ترقی ، کنورجنس کی حیثیت وغیرہ ۔  2016 میں اسکیم کے آغاز کے بعد سے ، نئے اقدامات متعارف کروا کر اسکیم کو زیادہ مستفید کرنے والی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔  رواں مالی سال میں وزارت کی طرف سے کیے گئے بڑے اقدامات درج ذیل ہیں:

تکنیکی مداخلت

پی ایم اے وائی-جی ہمیشہ اسکیم کے موثر اور شفاف انتظام کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل متعارف کرانے میں پیش پیش رہا ہے ۔  نئے مرحلے کے نفاذ کے ساتھ پی ایم اے وائی-جی نے زیادہ سے زیادہ شفافیت اور گھروں کی شناخت سے لے کر تکمیل تک کے عمل میں تقدس کو یقینی بنانے کے لیے متعدد خصوصیات متعارف کرائی ہیں ۔  نئی خصوصیات یہ ہیں:

  1. آواس + 2024 سروے-آواس + 2024 گھریلو سروے پی ایم اے وائی-جی کے تحت ممکنہ طور پر اہل گھرانوں کی شناخت کے لیے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ آواس + 2024 موبائل ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہوئے پی ایم اے وائی-جی (مالی سال 25-2024سے29-2028) کے مستفید ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا ہے ۔  آواس پلس موبائل ایپ میں پہلے سے رجسٹرڈ سروےرز کے ذریعے سیلف سروے اور اسسٹڈ سروے ، ہاؤسنگ ٹیکنالوجی کا انتخاب ، چہرے کی تصدیق ، آدھار پر مبنی ای-کے وائی سی ، گھر کا ڈیٹا کیپچر ، موجودہ گھر کے حالات ، ٹائم اسٹیمپڈ اور تعمیر کے موجودہ گھر کی مجوزہ سائٹ کی جیو ٹیگڈ فوٹو کیپچر دونوں کی خصوصیات ہیں ۔  ایپ آن لائن کے ساتھ ساتھ آف لائن موڈ میں بھی کام کرتی ہے ۔

  2. پہل-پی ایم اے وائی-جی سے مستفید ہونے والوں کو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے گھر کی تعمیر میں ڈیزاسٹر لچکدار خصوصیات سمیت گھر کے ڈیزائن کی اقسام کے گلدستے کے ساتھ مدد فراہم کی جارہی ہے جو ان کے مقامی جیو آب و ہوا کے حالات کے مطابق موزوں ہیں ۔  دیہی ترقی کی وزارت نے سی ایس آئی آر-سی بی آر آئی کے اشتراک سے آواس ایپ کے ذریعے مستفیدین کو مثالی ہاؤسنگ ڈیزائن کی سفارش کرنے کے لیے تھری ڈی ڈیزائن ٹائپولوجی پہل مجموعہ پر مبنی ایک ایپ تیار کرنے کی پہل کی ہے ۔

  3. دیہی میسن ٹریننگ-پی ایم اے وائی-جی کے ہنر کی منتقلی کے آن سائٹ ماڈل کے ساتھ ساتھ ، دیہی میسن ٹریننگ بھی رواں مالی سال سے دیہی سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آر ایس ای ٹی آئی) کے ذریعے شروع کی گئی ہے ۔  آر ایس ای ٹی آئی کیمپس پر مبنی تربیتی ماحول فراہم کرتے ہیں جو نیشنل اکیڈمی آف آر یو ڈی ایس ای ٹی آئی (این اے آر) کے ذریعہ تشکیل دیا گیا ہے جسے نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) ڈوئل ایوارڈنگ باڈی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔  میسنری اینڈ کنکریٹ ورکس (این اے آر کیو 30055)-ایک این ایس کیو ایف لیول1 پروگرام ہے جس میں240 گھنٹے کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں فاؤنڈیشنز ، مارٹر مکسنگ ، اینٹ/بلاک/اسٹون میسنری ، پلسٹرنگ ، ڈی پی سی ، فلورنگ اور اس میں کاروباری ترقی کے اجزاء جیسے مالیاتی خواندگی اور مائیکرو انٹرپرائز مینجمنٹ شامل ہیں ۔  جائزے این اے آر کے ذریعے آزادانہ طور پر کیے جاتے ہیں ، کامیاب تشخیص پر سرٹیفکیٹ جاری کیے جاتے ہیں ۔  تربیت یافتہ نوجوانوں کے لیے مقامی روزی روٹی کے اختیارات کو مضبوط کرتے ہوئے آر ایس ای ٹی آئی روٹ کے ذریعے اب تک کل 7,700 امیدواروں کی تصدیق کی جا چکی ہے ۔

ii. پی ایم-جن من اقدامات اور کامیابیاں

مرکزی کابینہ کی طرف سے منظور کردہ پی ایم-جن من میں11 اہم مداخلت شامل ہیں جن میں دیہی ترقی کی وزارت سمیت حکومت ہند کی9 وزارتوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔  اس کا مقصد پی وی ٹی جی خاندانوں اور بستیوں کو محفوظ رہائش ، سڑک رابطہ ، پینے کا صاف پانی اور صفائی ستھرائی ، تعلیم ، صحت ، غذائیت ، ٹیلی کام رابطہ ، بجلی اور پائیدار روزی روٹی کے مواقع جیسی بنیادی سہولیات کے ساتھ مکمل کرنا ہے ۔  اسکیم کے تحت ہاؤسنگ مداخلت پی ایم اے وائی-جی کے ذریعے شامل ہے ۔  9 دسمبر 2025 تک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں4,71,486 مکانات کو منظوری دی گئی ہے اور 2,42,811 مکانات مکمل ہو چکے ہیں ۔  تاہم یکم جنوری2025 سے اب تک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں1,24,204 مکانات کی منظوری دی گئی ہے اور 1,71,719 مکانات مکمل ہو چکے ہیں ۔

  1. دین دیال اپادھیا گرامین کوشلیا یوجنا (ڈی ڈی یو-جی کے وائی)

پلیسمنٹ سے منسلک پروگراموں کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے ایک پرجوش ایجنڈے کے ساتھ  دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی) نے 25 ستمبر 2014 کو نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے تحت پلیسمنٹ سے منسلک ہنر مندی کے فروغ کے پروگرام کو دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیا یوجنا (ڈی ڈی یو-جی کے وائی) کے طور پر نئی شکل دی ۔  ڈی ڈی یو-جی کے وائی ، ایک معیاری قیادت والے نتائج پر مبنی کوالٹی اسکلنگ پروگرام ہے۔ جس کا مقصد ہندوستان کو عالمی سطح پر ترجیحی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے وزیر اعظم کی’میک ان انڈیا‘مہم میں شراکت دار بنا ہے ، جبکہ ملک کے دیگر فلیگ شپ پروگراموں میں نمایاں شراکت کے لیے اس کی کوششوں کو مربوط کرنا ہے ۔

ڈی ڈی یو-جی کے وائی ایک ریاست کی قیادت والی اسکیم ہے جسے پی پی پی موڈ میں نافذ کیا جا رہا ہے ، جو مانگ پر مبنی ہدف کی منظوری کے عمل پر مبنی ہے ۔  دیہی غریب نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرنے اور پلیسمنٹ کے بعد ٹریکنگ ، برقرار رکھنے اور کریئر کی ترقی کو دی جانے والی اہمیت اور ترغیبات کے ذریعے پائیدار روزگار پر زور دینے کی وجہ سے یہ پروگرام دیگر ہنر مندی کے تربیتی پروگراموں میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے ۔  معیار کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ، ڈی ڈی یو-جی کے وائی ہر تربیت یافتہ کی مہارت ، علم اور رویے کا جائزہ لینے کے لیے این ایس ڈی سی کی سیکٹر اسکل کونسلوں (ایس ایس سی) کے ذریعے ہر تربیت یافتہ کی آزاد تھرڈ پارٹی سرٹیفیکیشن کا حکم دیتا ہے ۔  ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے تحت دو خصوصی پروگرام نافذ کیے جا رہے ہیں ۔  یعنی روشنی پروگرام 9 ریاستوں کے 27 بائیں بازو کے انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے جس میں خواتین امیدواروں کے لیے 40فیصد کوریج کے ساتھ لازمی رہائشی کورس ہے اور حمایت-جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے تمام نوجوانوں کو 100فیصدمرکزی فنڈنگ کے ساتھ اس اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے ۔

اہم خصوصیات:

  • ریاست کی قیادت والی اسکیم

  • پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا نفاذ کا طریقہ

  • پلیسمنٹ سے منسلک ہنر مندی کے فروغ کا پروگرام

  • لازمی سماجی شمولیت: ایس سی/ایس ٹی (50فیصد) خواتین (33فیصد) اور معذور افراد (5فیصد)

  • کم از کم 70فیصدپلیسمنٹ (کم از کم 50فیصداجرت ملازمت اور زیادہ سے زیادہ 20فیصدخود روزگار)

  • مقرر کردہ امیدواروں کو تنخواہ کم از کم اجرت یا اس سے زیادہ کے مطابق دی جاتی ہے ۔  پوسٹ پلیسمنٹ سپورٹ اور پوزیشن حاصل کرنے والے امیدواروں کو برقرار رکھنے کی مدد ۔

ٹارگٹ گروپ:

ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے لیے ہدف گروپ 15 سے35 سال کی عمر کے غریب دیہی نوجوان ہیں ۔  تاہم ، خواتین امیدواروں اور خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں (پی وی ٹی جی) معذور افراد (پی ڈبلیو ڈی) ٹرانس جینڈر اور دیگر خصوصی گروپوں جیسے بحالی شدہ بانڈڈ لیبر ، اسمگلنگ کا شکار ، ہاتھ سے صفائی کرنے والے ، ٹرانس جینڈر ، ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والے افراد وغیرہ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے عمر کی اوپری حد ۔ اس کی عمر 45 سال ہوگی ۔

اہم کامیابیاں:

  • ڈی ڈی یو-جی کے وائی فی الحال 27 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کے 606 پروجیکٹوں میں2369 سے زیادہ تربیتی مراکز (تاہم611 کام کر رہے ہیں) ہیں جو 466 سے زیادہ پروجیکٹ پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ شراکت میں 37 شعبوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں اور 816 سے زیادہ ملازمت  فراہم کر رہے ہیں ۔

  • پیش رفت جسمانی: ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے تحت آغاز کے بعد سے کل 17.92 لاکھ امیدواروں کو تربیت دی گئی ہے اور 31اکتوبر 2025تک 11.64 لاکھ امیدواروں کو ملازمت دی گئی ہے ۔ جن575 غیر ملکی جگہیں بھی شامل ہیں۔

  • پیش رفت مالی: ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے تحت آغاز کے بعد سے31اکتوبر 2025 تک کل 779667.03 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں ۔

  • کیلنڈر سال 2025 کے دوران کل 82272 امیدواروں کو تربیت دی گئی ہے  اور 37035 امیدواروں کو 31اکتوبر 2025 تک تعینات کیا گیا ہے ۔

  1. رورل سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آر ایس ای ٹی آئی ایس) آر ایس ای ٹی آئی اسکیم کا پس منظر اور جائزہ

دیہی سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آر ایس ای ٹی آئی) دیہی ترقی کی وزارت (ایم او آر ڈی) کے تعاون سے سرکاری شعبے/نجی بینکوں کی سرپرستی میں قائم کیے گئے ضلعی سطح کے تربیتی مراکز ہیں ۔  یہ اسکیم دیہی نوجوانوں کو رہائش اور رہائش کی سہولیات کے ساتھ مفت ، قلیل مدتی ، رہائشی تربیت فراہم کرتی ہے ۔  تربیت مانگ پر مبنی ہوتی ہے اور این ایس کیو ایف کے مطابق کورسز کے ساتھ منسلک ہوتی ہے ۔ جس میں زراعت ، صنعت ، خدمات اور مقامی طور پر متعلقہ تجارت کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔  تربیت کے بعد زیر تربیت افراد کو بینکوں کے ذریعے کریڈٹ لنکیج پر زور دینے کے ساتھ خود روزگار ، مائیکرو انٹرپرائز ڈویلپمنٹ ، یا اجرت کے روزگار کو آسان بنانے کے لیے دو سال تک ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ ملتی ہے ۔  آر ایس ای ٹی آئی دیگر ہنر مندی کے پروگراموں کے برعکس جو کرائے کی سہولیات پر انحصار کرتے ہیں ، اپنا مخصوص بنیادی ڈھانچہ (زمین اور عمارتیں جو حکومت ہند کی گرانٹ سے تعاون یافتہ ہیں) رکھنے میں منفرد ہیں ۔

اسکیم کا مقصد

  • 18سے50 سال کی عمر کے دیہی بے روزگار نوجوانوں کو مفت ، رہائشی ، مانگ پر مبنی مہارت کی تربیت فراہم کرنا ۔

  • تربیت یافتہ افراد کو انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ اور بینکوں کے ساتھ کریڈٹ لنک کے ذریعے خود روزگار کے منصوبے شروع کرنے کے قابل بنانا ۔

  • تربیت کے بعد ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ کے ذریعے1 سے2 سال تک پائیدار معاش کو یقینی بنانا ۔

  • دیگر قومی پروگراموں (این آر ایل ایم ، پی ایم اے وائی-جی ، ایم جی این آر ای  جی ایس -انتی ، پی ایم وکاس ایم ایس ڈی ای ، ایم ایس ایم ای ، ایم او ٹی اے ، کے وی آئی سی وغیرہ) کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرنے کے لئےمربوط ہونا ۔

اسکیم کی منفرد خصوصیات

  • مفت ، کل وقتی رہائشی تربیت بشمول بورڈنگ ، قیام اور سفری الاؤنس ۔

  • شفافیت کے لیے اے ای بی اے ایس (آدھار فعال بائیو میٹرک حاضری کا نظام) ۔

  • کوشل پنجی ایپ کے ذریعے امیدوار کا رجسٹریشن ۔

  • پیش کردہ 70 کورسز (65 این ایس کیو ایف سے منسلک + 5 خصوصی کورسز جو ایم او آر ڈی کے ذریعے منظور شدہ ہیں)

  • مقامی معیشت اور ضروریات پر مبنی اپنی مرضی کے مطابق تربیتی ماڈیول ۔

  • تصفیے کو یقینی بنانے کے لیے تربیت کے بعد ہینڈ ہولڈنگ اور 2 سال تک فالو اپ ۔

  • بینکوں کے ساتھ کریڈٹ لنک کی سہولت ؛ انٹرپرینیورشپ پر مضبوط توجہ ۔

  • خواتین ، ایس سی/ایس ٹی ، معذور افراد ، ایس ایچ جی اراکین اور اقلیتوں کے لیے خصوصی دفعات ۔

 فزیکل کامیابیاں (اکتوبر 2025 تک)

  • کل ادارے: 27 ریاستوں اور 6 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں625 آر ایس ای ٹی آئی ، جو 612 اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں ۔

  • کل تربیت یافتہ: 59 لاکھ دیہی نوجوان ۔

  • کل آباد: 43 لاکھ خود/اجرت ملازمت کے ذریعے ۔

آر ایس ای ٹی آئی 2.0کے تحت  مالی سال 26-25 میں کی گئیں اہم تبدیلیاں

  • کریڈٹ لنک کا ہدف 50 فیصد تک بڑھ گیا ۔

  • حقیقی وقت کی شفافیت کے لیے ڈیجیٹل گورننس سسٹم

  • توسیع شدہ این ایس کیو ایف سے منسلک کورس باسکٹ

  1. مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا)

مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (مہاتما گاندھی نریگا) ایک ایسا ایکٹ ہے جس کا مقصد ملک کے دیہی علاقوں میں ہر مالی سال میں ہر اس دیہی گھرانے کو کم از کم 100 دن کا گارنٹیڈ اجرت کا روزگار فراہم کرنا ہے جس کے بالغ افراد غیر ہنر مند دستی کام کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں ۔

مقاصد

مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس) کے مقاصد  درج ذیل ہیں:

  1. دیہی علاقوں میں ہر گھرانے کو مانگ کے مطابق مالی سال میں کم از کم ایک سو دن کا غیر ہنر مند دستی کام فراہم کرنا جس کے نتیجے میں مقررہ معیار اور استحکام کے پیداواری اثاثے پیدا ہوں۔

  2. غریبوں کی روزی روٹی کے وسائل کی بنیاد کو مضبوط کرنا

  3. سماجی شمولیت کو فعال طور پر یقینی بنانا  اور

  4. پنچایتی راج اداروں (پی آر آئی) کو مضبوط کرنا ۔

نمبر شمار

اشارے

مالی سال 26-2025

( یکم اکتوبر سے 2 دسمبر 2025تک)

1.

پیدا ہونے والے شخصی دن (کروڑ میں(

161.6

2.

کل مرکزی ریلیز (کروڑ روپے میں)

69,194.59

3.

8 دنوں کے اندر تیار کردہ ایف ٹی اوز کا فیصد

95.31

4.

مکمل شدہ کاموں کی تعداد (لاکھوں میں)

49.62

5.

کل میں سے خواتین کےذاتی دنوں کا فیصد

56.73

6.

کل افرادی دنوں کے مطابق ایس سی  کے شخصی دنوں کا فیصد

17.37

7.

کل افرادی دنوں کے مطابق ایس ٹی شخصی دنوں کا فیصد

19.03

8.

زمرہ بی کے کاموں کا فیصد

60.59

 

مہاتما گاندھی نریگا میں اہم اقدامات/کلیدی مداخلت:

  1. نیشنل موبائل مانیٹرنگ سروس (این ایم ایم ایس): مہاتما گاندھی نریگا ورک سائٹس (انفرادی مستفید کاموں کو چھوڑ کر) پر کارکنوں کی حاضری کو جیو ٹیگ اور دن میں دو بار ٹائم اسٹیمپڈ تصاویر کے ساتھ حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے ۔  نومبر کے مہینے میں95.09 فیصد (پہلے پندرہ دن) اور 91.50 فیصد (دوسرے پندرہ دن) حاضری این ایم ایم ایس ایپ کے استعمال کے ذریعے حاصل کی گئی ہے ۔

  2. ایریا آفیسر مانیٹرنگ وزٹ ایپلی کیشن: یہ ایپ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے عہدیداروں کو اپنے فیلڈ وزٹ کے نتائج کو آن لائن ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور افسران کو تمام کام کی جگہوں کے لیے وقت کی مہر اور جیو ٹیگ شدہ تصویر ریکارڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔  ریاستی ، ضلع اور بلاک سطح کے عہدیداروں نے ایریا آفیسر معائنہ ایپ کے ذریعے مالی سال 2025-26 میں 25 نومبر تک تمام ریاستوں میں کل 16,67,847 کام کی جگہوں کا معائنہ کیا ہے ۔

  3. یُکت دھارا: جی آئی ایس پر مبنی منصوبہ بندی کا آلہ -  جی پی کی سطح پر جی آئی ایس پر مبنی منصوبہ بندی کو آسان بنانے کے لیے ، اسرو-این آر ایس سی کے تعاون سے جیو اسپیشل پلاننگ پورٹل یکت دھارا تیار کیا گیا ہے ۔  یکت دھارا کا استعمال کرتے ہوئے جی پی کی منصوبہ بندی پائلٹ کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے ، جس میں فی بلاک ایک جی پی ہے ۔  کل 6709 گرام پنچایتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، اور ان سب نے یکت دھارا کا استعمال کرتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے ۔

  4. سکیور:دیہی روزگار کے لیے شرحوں کو استعمال کرنے کے  تخمینہ حساب کاسافٹ ویئر: اسکیم کے تحت کیے جانے والے کاموں کے تخمینہ حساب کے لیے ایپلی کیشن کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔

  5. جیو منریگا: ایپ کو اسپیس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اثاثوں کی تخلیق کو جیو ٹیگ کرکے ، اثاثوں کی تخلیق کے "پہلے" ، "دوران" اور "بعد" مراحل میں پتہ لگانے کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔  اب تک کل 6.44 کروڑ اثاثوں کو جیو ٹیگ سے منسلک کیا گیا ہے ۔

  6. جلدوت ایپ: گرام روزگار سہایک (جی آر ایس) کو سال میں دو بار (مانسون سے پہلے اور مانسون کے بعد) منتخب کنویں کے پانی کی سطح کی پیمائش کرنے کی سہولت پیدا کرتا ہے ۔  2025 میں 2.57 لاکھ گاؤں اور 1.08 لاکھ گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتے ہوئے مانسون کے بعد اب تک تقریبا 3.92 لاکھ کنوؤں کے پانی کی سطح کے اعداد و شمار حاصل کیے گئے ہیں ۔

  7. جن منریگا ایپ: اپنے شہریوں کو معلومات کے فعال انکشاف کے ساتھ ساتھ مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس کے نفاذ کے بارے میں ایک معلومات فراہم کرنے کے طریقہ کار میں مدد کرتا ہے ۔

  8. مشن امرت سروور: مستقبل کی نسلوں کے لیے پانی کے تحفظ کو مستحکم کرنے کے لیے 15 اگست 2023 تک ملک بھر میں 50,000 سرووروں کو نشانہ بناتے ہوئے ہر دیہی ضلع (دہلی ، چنڈی گڑھ اور لکشدیپ کو چھوڑ کر) میں 75 امرت سرووروں کی تعمیر یا احیا کے لیے 24 اپریل 2022 کو وزیر اعظم کے ذریعے مشن امرت سروور کا آغاز کیا گیا تھا ۔  پہلے مرحلے کے تحت ، 68,000 سے زیادہ امرت سروروں کی تعمیر یا احیا کیا گیا ، جن میں سے 46,000 سے زیادہ مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس کے ذریعے مکمل کیے گئے ۔  جیسے جیسے ہم مشن کے لیے اپنے وسیع تر وژن کے ساتھ آگے بڑھیں گے ، کمیونٹی کی شمولیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مزید سرووروں کی تعمیر اور احیا کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ سروور نہ صرف پائیدار آبی وسائل کے طور پر کام کریں بلکہ مشن امرت سروور کے دوسرے مرحلے میں متحرک کمیونٹی مرکز بھی بنیں ۔

  9. نومبر 2025 تک ، دوسرے مرحلے کے تحت ، 15,892 سے زیادہ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے اور 1,818 کام شروع ہو چکے ہیں ۔  عالمی یوم ماحولیات اور یوگا کا بین الاقوامی دن امرت سروور کے مقامات پر 11.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی فعال کمیونٹی کی شرکت کے ساتھ منایا گیا ، یوم آزادی 2025 "ایک سروور ، ایک سنکلپ-جل سنرکشن کا" کے موضوع کے ساتھ منایا گیا جس میں 12 لاکھ سے زیادہ شرکاء شامل ہوئے ، اور یوم آئین (26 نومبر 2025) کو آئینی اقدار ، ثقافتی پرفارمنس  اور صفائی ستھرائی اور شجرکاری مہموں کی سرگرمیوں کے ساتھ منایا گیا ۔

  10. فائدے کی براہ است منتقلی:نظام میں مزید شفافیت لانے اور فنٖڈز کے غلط استعمال روکنے کے لیے اجرت کی ادائیگی میں براہ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کا نظام اپنایا گیا ہے ۔  پروگرام کے تحت ، اجرت کی 99فیصد سے زیادہ ادائیگیاں ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے کارکنوں کے کھاتوں میں الیکٹرانک طور پر جمع کی جاتی ہیں ۔

  11. آدھار پیمنٹ برج سسٹم: ڈی بی ٹی پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے مستفیدین کے کھاتوں میں آدھار پیمنٹ برج سسٹم کے ذریعے اجرت کی ادائیگی کی جاتی ہے ۔  کل 12.17 کروڑ فعال کارکنوں کے مقابلے میں 99.67 فیصد فعال کارکنوں کے آدھار کو منسلک کیا گیا ہے ۔

  12. آدھار پر مبنی ای-کے وائی سی تصدیق:  مہاتما گاندھی نریگا کے نفاذ میں شفافیت اور صداقت کو مستحکم کرنے کے لیے این ایم ایم ایس ایپ کے ذریعے تمام فعال کارکنوں کی آدھار پر مبنی ای-کے وائی سی تصدیق متعارف کرائی گئی ہے ۔

یہ اصلاح کارکنوں کی مستند شناخت کو یقینی بناتی ہے ، ڈپلیکیٹ یا جعلی جاب کارڈز کو ختم کرتی ہے ، اور آدھار کی تصدیق کو براہ راست فیلڈ آپریشنز میں ضم کرکے تصدیق کے عمل کو آسان بناتی ہے ۔  نتیجے کے طور پر ، صرف حقیقی کارکن ہی اجرت حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، جس سے دھوکہ دہی ، نقالی اور غلط رپورٹنگ کی گنجائش نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے ۔  ای-کے وائی سی کا عمل تیز تر ، زیادہ قابل اعتماد فیلڈ تصدیق کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے اور حاضری اور اجرت کی تقسیم کے نظام کی درستگی کو بڑھاتا ہے ، جس سے اسکیم کے نفاذ میں زیادہ کارکردگی اور جواب دہی میں مدد ملتی ہے ۔  مہاتما گاندھی نریگا کے تحت سرگرم کارکنوں کی ای-کے وائی سی تکمیل کی صورتحال 30 دسمبر2025 تک 71.48 فیصد ہے ۔

  1. سوشل آڈٹ گرام سبھا میں پنہایت نرنے ایپ (پی این اے) کے ساتھ انضمام:  سوشل آڈٹ یونٹ پنچایت نرنے ایپ (پی این اے) کے ساتھ مربوط  حقیقی وقت میں جیو ٹیگ شدہ تصاویر ، ویڈیوز ، اور قراردادیں اور سوشل آڈٹ گرام سبھا کی حاضری حاصل کر رہے ہیں اس  پہل کے پہلے مرحلے کے تحت ، 27 ایس اے یوز میں سے ہر ایک میں سے ایک گرام پنچایت کا انتخاب کیا گیا اور پائلٹ رول آؤٹ کے حصے کے طور پر کامیابی کے ساتھ اس کا احاطہ کیا گیا ۔  اس بنیاد پر ، مرحلہ دوم یکم مئی 2025 کو شروع کیا گیا تھا ، جس میں ستمبر 2025 تک تمام شریک ریاستوں کے ہر بلاک میں کم از کم ایک گرام پنچایت کا احاطہ کرنے کا وسیع تر التزام  تھا۔  مرحلہ II کا دوسرا دور دائرہ کار کو مزید وسعت دیتا ہے ، جس کا مقصد مالی سال 2025-26 کے آخر تک ملک بھر میں 100 فیصد گرام پنچایتوں کا احاطہ کرنے کی پہل کو بڑھانا ہے ۔  یہ منظم اور ٹکنالوجی سے چلنے والا نقطہ نظر ملک بھر میں سوشل آڈٹ کے عمل کی شفافیت ، جوابدہی کو نمایاں طور پر مضبوط کر رہا ہے ۔  آج تک پی این اے پلیٹ فارم پر 39,252 گرام پنچایتوں کی نقشہ سازی کی جا چکی ہے ، جن میں سے 28,369 کو سوشل آڈٹ کے عمل کے ذریعے پہلے ہی شامل کیا جا چکا ہے ۔

  2. مرکزی ٹیموں کے  ذریعہ  نگراں دورے: مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس کے نفاذ کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے مالی سال 2025-26 میں 25 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 55 اضلاع میں خصوصی نگرانی کی گئی ہے ۔  نگرانی کرنے والی ٹیموں نے 1000 سے زیادہ کام کی جگہوں کا دورہ کیا ہے ۔  ان دوروں کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

  1. غیر مجاز کاموں کا آغاز

  2. کاموں کی تقسیم

  3. کاموں کی تکرار / نقل

  4. کاموں کے ناقص معیار اور پائیداری کے مسائل

  5. وزارت کی جانب سے جاری کردہ ضوابط اور رہنما خطوط کی خلاف ورزی

نگراں دوروں کے  نتائج کی بنیاد پر، وزارت نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام خطوں  کو مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم  کے بہتر نفاذ کے لیے مختلف مشورے جاری کیے۔ ان میں شامل ہیں: انفرادی مستفید کنندہ کے کاموں پر مشورہ، دیہی رابطہ کاری کے کاموں کے بہتر نفاذ کے لیے مشورہ، اور زمین کی ترقی کے کاموں کے نفاذ اور جائزہ/تصدیق کے لیے مشورہ۔

اس کے علاوہ، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایک ورک مانیٹرنگ ماڈیول (ڈبلیو ایم ایم) تیار کیا جائے تاکہ منریگا کے تحت ایسے کاموں کی نشاندہی کی جا سکے جو زیادہ خطرے یا شبہات کے حامل ہوں اور جن پر قریب سے نگرانی، معائنہ اور فیلڈ تصدیق کی ضرورت ہو۔ متعدد ایپلیکیشنز اور مانیٹرنگ سسٹمز سے نشان زدہ کاموں کو جمع اور مربوط کر کے، ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی اس بات کو یقینی بناتی ہے  کہ ایسے کام فوری طور پر ترجیح دیے جائیں، منظم طور پر تصدیق کیے جائیں، اور مناسب کارروائی کی جائے۔ایک بار جب کوئی کام اس فریم ورک کے تحت نشان زد ہو جاتا ہے، تو اس کے مزید فزیکل  ادائیگیاں منجمد کر دی جائیں گی اور نریگا سافٹ کے ذریعے کوئی ادائیگی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک کہ کم از کم پروگرام آفیسر کی سطح پر فیلڈ تصدیق مکمل نہ ہو، جس کے بعد کارروائی کی رپورٹیں (اے ٹی آر) ورک فلو کے تحت جمع کرائی جائیں اور اعلیٰ حکام کی منظوری حاصل ہو۔

وکست بھارت -روزگار اور اجیوکا مشن (گرامین) کی ضمانت-وی بی-جی رام جی ایکٹ ، 2025 کا نفاذ

سال کے دوران ، حکومت نے دیہی روزگار ، پائیدار  ذریعہ معاش اور پائیدار عوامی اثاثوں کی تخلیق کو مضبوط بنانے کے مقصد سے وکست بھارت-روزگار کے لیے گارنٹی اور اجیوکا مشن (گرامین)-وی بی-جی رام جی ایکٹ ، 2025 متعارف کروا کر ایک تبدیلی لانے والی پالیسی کی پہل کی ۔  منریگا سے ادارہ جاتی تعلیم کی بنیاد پر ، یہ ایکٹ دیہی گھرانوں کو 125 دن تک کے اجرت والے روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔

نئے ایکٹ میں تصور کی گئی منصوبہ بندی ڈی سینٹرلائزڈ، شراکت دار اور بنیادی سطح سے شروع ہونے پر مبنی ہے ۔  وکست گرام پنچایت منصوبے (وی جی پی پیز) گرام پنچایتوں کے ذریعے گرام سبھا کے ذریعے تیار کیے جائیں گے ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ترجیحات کمیونٹی سے ہی سامنے آئیں۔  ان منصوبوں کو وکست بھارت نیشنل رورل انفراسٹرکچر اسٹیک (وی بی این آر آئی ایس) میں یکجا کیا گیا ہے-جو کہ وی جی پی پیز سے ابھرتے ہوئے مجوزہ کاموں کا مجموعی مجموعہ ہے ، جسے ضلع اور ریاستی سطحوں پر یکجا کیا گیا ہے ، اور کاموں کے چار موضوعاتی شعبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ، یعنی پانی کی یقینی فراہمی ، اصل دیہی بنیادی ڈھانچہ ، روزی روٹی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ  اور انتہائی موسمی واقعات اور آفات کو کم کرنے کے لیے خصوصی کام ۔  یہ فریم ورک پائیدار اور پیداواری دیہی اثاثے بنانے کے لیے تمام شعبوں میں ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے ۔  ایکٹ کی ایک اہم خصوصیت عوامی کاموں کے ذریعے بااختیار بنانے ، ترقی ، ہم آہنگی اور موثر ہونے پر توجہ مرکوز کرنا ہے جو اجتماعی طور پر ایک جامع دیہی بنیادی ڈھانچے کے ایکو سسٹم میں تعاون دیتے ہیں ۔

یہ ایکٹ معیاری مختص کے عمل کو ادارہ جاتی بناتا ہے ، جوابدہی کو مضبوط کرتا ہے  اور بائیو میٹرک تصدیق ، جی آئی ایس/خلائی ٹیکنالوجی پر مبنی تصدیق ، ریئل ٹائم ایم آئی ایس کی نگرانی اور سماجی آڈٹ میکانزم کو مضبوط کرنے سمیت متعدد ٹیکنالوجی سے چلنے والے نظاموں کو شامل کرتا ہے ۔  یہ اصلاحات فنڈ کے استعمال کو بہتر بنانے ، شفافیت کو بڑھانے اور  فنڈ کے غلط استعمال کو کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں ۔

وی بی-جی رام جی ایکٹ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ دیہی روزگار بہتر آمدنی ، مستحکم ذریعہ معاش اور مضبوط دیہی معیشتوں میں تبدیل ہو۔  اس کا آغاز وکست بھارت @2047 کے طویل مدتی وژن کے ساتھ دیہی روزگار ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزی روٹی کی یقینی فراہمی کو ہم آہنگ کرنے میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے ۔

7.       قومی سماجی مدد پروگرام (این ایس اے پی)

  1. بھارت کے آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت ریاست کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی معاشی صلاحیت اور ترقی کی حد میں رہتے ہوئے اپنے شہریوں کو بے روزگاری، بڑھاپے، بیماری اور معذوری کے مواقع پر عوامی امداد فراہم کرے اور دیگر ایسے حالات میں بھی جہاں ضرورت بے جا اور غیر متوقع ہو۔  قومی سماجی امدادی پروگرام (این ایس اے پی) ریاستی پالیسی کے ان رہنما اصولوں کو پورا کرنے کی سمت میں 15 اگست 1995 کو نافذ ہوا ۔  این ایس اے پی کا مقصد این ایس اے پی کے رہنما خطوط کے مطابق ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے شناخت کردہ خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) سے تعلق رکھنے والے روٹی کمانے والے کی موت کی صورت میں بڑھاپے ، بیواؤں اور معذور افراد کے ساتھ ساتھ سوگوار گھرانوں کو بنیادی سطح کی مالی مدد فراہم کرنا ہے ۔

  2. اس پروگرام میں گذشتہ برسوں کے دوران ساخت ، اہلیت کے معیار اور فنڈنگ کے انداز کے لحاظ سے بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں ۔  فی الحال ، یہ پانچ الگ الگ اسکیموں پر مشتمل ہے ۔  ان اسکیموں میں سے ہر ایک کے تحت فراہم کردہ اہلیت کے معیار اور مالی امداد کی رقم کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

اسکیم

امدادی رقم

اہلیت کا معیار

اندرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج پنشن اسکیم

Rs.200

60-79 سال کی عمر کے زمرے کے  بی پی ایل بزرگ شہری

Rs. 500

80 سال اور اس سے اوپر کے بی پی ایل بزرگ شہری

اندرا گاندھی قومی بیوہ پنشن اسکیم

Rs.300

بی پی ایل بیوائیں جن کی عمر 40-79 سال ہے

Rs.500

80 سال اور اس سے زیادہ عمر کی بی پی ایل بیوہ

اندرا گاندھی قومی معذوری پنشن اسکیم

Rs.300

18-79 سال کی عمر کے زمرےکے 80فیصد معذوری والے بی پی ایل افراد

Rs.500

80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے زمرے کے بی پی ایل معذور پنشنرز

نیشنل فیملی بینیفٹ سکیم (این ایف بی ایس) *

Rs. 20,000/-

18-59 سال کی عمر کے  واحد  روزی روٹی  کمانے والے کی موت پر بی پی ایل خاندانوں کے  لواحقین  سربراہ کے لیے

ان پورنا*

10 kg of food grains p.m.

بی پی ایل بزرگ شہریوں کو جو بڑھاپے کی پنشن حاصل نہیں کر رہے ہیں۔

*این ایف بی ایس اور ان پورنا مانگ پر مبنی اسکیمیں ہیں ۔

iii.      ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تینوں پنشن اسکیموں کے تحت کم از کم مساوی تعاون دیں ۔  فی الحال، ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے ہر ماہ 50 روپے سے لے کر 5700 روپے تک کا تعاون دے رہے ہیں ۔  فی الحال ، این ایس اے پی 3.09 کروڑ بی پی ایل مستفیدین کو اسکیم کے لحاظ سے ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے مستفیدین کی تعداد کی حد کے ساتھ پورا کرتا ہے ۔  این ایس اے پی کے تحت اسکیم کے لحاظ سے امداد ڈیجیٹائزڈ مستفیدین کی تعداد یا ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حد ، جو بھی کم ہو ، تک منظور کی جاتی ہے ۔  2024-25 کے دوران ، این ایس اے پی اسکیموں کے نفاذ کے لئے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 9652 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ۔  مالی سال 2025-26 کے لئے این ایس اے پی اسکیم کے لئے 9652.00 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 30 نومبر2025 تک 5564.00 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ۔ 

پروگرام کے اہم اقدامات اور کامیابیاں

  • این ایس اے پی کو زیادہ موثر ، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے بہت سی کوششیں (پالیسی اصلاحات ، بجٹ مختص کرنے میں اضافہ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا موثر استعمال وغیرہ) کیا گیا ہے ۔  اپریل 2025 سے نومبر 2025 تک (30 نومبر2025 تک) اس پروگرام کی کامیابیوں کی مختصر تفصیل ذیل میں دی گئی ہے: این ایس اے پی کی اسکیموں کے تحت اپریل سے نومبر 2025 تک (30 نومبر2025 تک) جاری کردہ مستفیدین کی تعداد اور فنڈز کے لحاظ سے فزیکل اور مالی کامیابیاں ذیل میں دی گئی ہیں ۔     

سال

2025-26 (اپریل 2025 تا نومبر 2025)

استفادہ کنندگان (لاکھ میں)

301.06

جاری کیے گئے فنڈز (کروڑ میں)

5564.00

 

  • این آئی سی ، ڈی او آر ڈی نے ایک مرکزی ایم آئی ایس-نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام-پنشن پیمنٹ سسٹم (این ایس اے پی-پی پی ایس) تیار کیا ہے جو ابتدائی مقام سے تقسیم کے مقام تک حتمی لین دین کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔  یہ بڑھاپے ، بیوہ اور معذور مستفیدین کی تفصیلات بھی فراہم کرتا ہے ۔

  • مستفیدین کا ڈیٹا ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے ڈیجیٹل کیا جاتا ہے ۔  این ایس اے پی پورٹل پر دستیاب ڈیجیٹائزڈ مستفیدین کی تعداد کی بنیاد پر ریاستوں کو فنڈز جاری کیے جاتے ہیں ۔ گزشتہ برسوں کے دوران ، مسلسل کوششوں کے ساتھ ڈیجیٹائزیشن کل ریاستی حد/کیپ کے 96-97 فیصد تک پہنچ گئی ۔  اس وقت تمام ممکنہ مستفیدین کے تقریبا 100 فیصد ڈیٹا کو ڈیجیٹل کیا جا چکا ہے ۔

  • اس وقت 18 ریاستیں/مرکز کے زیر انتظام علاقے این ایس اے پی-پی پی ایس کا استعمال ابتدا سے لے کر حتمی  ادائیگی کے لیے کر رہے ہیں اور 14 دیگر ریاستیں ویب سروس کے ذریعے این ایس اے پی-پی پی ایس پر لین دین کے اعداد و شمار کی اطلاع دے رہی ہیں ۔

  • 4 مزید ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں یعنی اروناچل پردیش ، ناگالینڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں چنڈی گڑھ ، دادرا نگر حویلی اور دمن اور دیو کو شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔

  • این ایس اے پی-پی پی ایس ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو این ایس اے پی سے مستفید ہونے والوں کے آدھار اور ایس ای سی سی ٹن نمبر حاصل کرنے میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے ۔  اس وقت این ایس اے پی کے رجسٹرڈ پنشن یافتگان کے آدھار اور ایس ای سی سی ٹن کی سیڈنگ کی صورتحال بالترتیب تقریبا 91.45 فیصد اور 28.83فیصد ہے ۔

  • این ایس اے پی پنشن سے مستفید ہونے والوں کے ڈیجیٹل لائف سرٹیفیکیشن کے لیے آدھار پر مبنی موبائل ایپلی کیشن کا آغاز 15 جولائی 2025 کو دیہی ترقی کے وزیر نے کیا تھا ۔  ڈی ایل سی کے رہنما خطوط اور یوزر مینوئل کو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھیج دیا گیا ہے ۔  پورے ہندوستان میں ڈی ایل سی کے ذریعے 10 دسمبر2025 تک کل 44.00 لاکھ مستفیدین کی تصدیق کی گئی ہے ۔  این ایس اے پی-پی پی ایس پر شامل کچھ ریاستوں نے ڈی ایل سی درخواست کے ذریعے مستفید کی تصدیق کے لیے ریاستی اسکیموں کو شامل کرنے کی درخواست کی ہے ۔  سکریٹری (آر ڈی) نے ڈی ایل سی تصدیق کے لیے این ایس اے پی پی پی ایس پر شامل ریاستوں کے لیے ریاستی پنشن اسکیموں کو شامل کرنے کی منظوری دی ہے ۔  ریاستوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ 05جنوری2026 سے پہلے تمام موجودہ مستفیدین کے ڈی ایل سی کا مثبت طور پر احاطہ کرنے کے لیے خصوصی مہمات کا انعقاد کریں۔

  • ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ، مستفیدین کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک شہری مرکوز موبائل ایپ 'امنگ' تیار کیا گیاہے (1) ریاستی ٹاپ اپس کے ساتھ این ایس اے پی اسکیمیں (2) نئے درخواست دہندگان کا اندراج ، درخواستوں  اور منظوریوں اور ادائیگیوں کی صورتحال  کا پتہ لگانا۔

  1. ضلع ترقیاتی تعاون اور نگراں کمیٹی (دیشا)

پائیدار اور مربوط دیہی ترقی کے لیے ایک جامع نقطہ نظر اپنانا اور مختلف وزارتوں کی غیر آئینی اسکیموں کے نفاذ کی نگرانی کرنا ضروری ہے جس کا مقصد ہم آہنگی کے ذریعے دیہی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک مشترکہ مقصد ہے ۔  اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ، موثر اور مقررہ وقت پر ترقی کے لیے پارلیمنٹ ، ریاستی قانون سازوں اور مقامی حکومتوں (پنچایتی راج اداروں/میونسپل اداروں) میں تمام منتخب نمائندوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی صدارت میں 776 اضلاع میں ضلعی سطح کی دیشا کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔  اسی طرح ، ریاستی حکومتوں کے ذریعے ریاستی سطح کی دیشا کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں جن کے سربراہ ریاست کے وزیر اعلی ہوتے ہیں ، تاکہ ان معاملات پر توجہ دی جاسکے جنہیں ریاست میں اعلی ترین سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔   دیشا ترقیاتی پروگراموں کے مربوط نفاذ کے لیے مرکزی ، ریاستی اور مقامی کوششوں کو متحد کرکے ایک مکمل حکومتی نقطہ نظر کو فروغ دیتی ہے ۔  وزارت نے ان دیشا کمیٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے 35 وزارتوں کی 100 اسکیموں پر مشتمل ایک جدید ترین ڈیش بورڈ بھی تیار کیا ہے جو سب سے بنیادی سطح (گاؤں تک) کی اسکیموں کی ٹائم سیریز پیش رفت کے اعداد و شمار فراہم کرتا ہے جس میں رجحانات ، دیگر جغرافیائی حدود کے ساتھ تقابلی تجزیہ ، مختلف قسم کے چارٹ ، ٹیبل وغیرہ شامل ہیں ۔

دیشا کمیٹیاں عوامی نمائندوں ، سول سوسائٹی کے اراکین اور سرکاری اہلکاروں کو اکٹھا کرکے مختلف مرکزی اسکیموں سے متعلق نفاذ کے چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے تعاون پر مبنی وفاقیت کا مثالی نمونہ ہیں ۔  تشکیل کے بعد ، ملک بھر میں 7800 سے زیادہ ضلعی سطح کی میٹنگیں اور 38 ریاستی سطح کی میٹنگیں منعقد کی گئی ہیں ، جو حکمرانی اور جواب دہی کو مضبوط بنانے میں ان کے فعال کردار کو واضح کرتی ہیں ۔   دیشا کمیٹیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت وزارتوں کی طرف سے اپنی اسکیموں کو اس نظام کے تحت شامل کرنے کی بڑھتی ہوئی درخواستوں سے ظاہر ہوتی ہے ۔

یکم جنوری 2025 سے اب تک کی اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:

  • سال کے دوران ضلع کے معزز رکن پارلیمنٹ کی صدارت میں کل 1058 ضلعی سطح کی دیشا میٹنگیں بلائی جاتی ہیں ۔

  • ریاستی/ضلعی سطح کی دیشا کمیٹیوں کے لیے سال کے دوران کل 246 غیر سرکاری اراکین کو نامزد کیا جاتا ہے ۔

  • ریاست کے معزز وزیر اعلی کی صدارت میں کل 8 ریاستی سطح کی دیشا کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں ۔

  • کل 23 معزز راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ کو ضلعی سطح کی دیشا کمیٹیوں کے لیے چیئرپرسن/شریک چیئرمین کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے ۔

  • دیشا ڈیش بورڈ میں کل 8 اسکیمیں شامل ہیں ۔

******

ش ح۔م ش ع۔ م ح۔ش ب۔م ا۔ رض۔ن م۔

Urdu.No-55       


(रिलीज़ आईडी: 2210759) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam