پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 DEC 2025 5:15PM by PIB Delhi
سب کا بیمہ سب کی رَکشا (انشورنس قوانین میں ترمیم) بل ، 2025 کو پارلیمنٹ نے 17دسمبر2025 کو منظوری دے دی ہے ۔ یہ بل بیمہ شعبے سے متعلق تین قوانین ، یعنی بیمہ قانون ، 1938 ، لائف انشورنس کارپوریشن قانون ، 1956 اور بیمہ انضباطی ترقیاتی اتھارٹی ایکٹ ، 1999 میں ترمیم کرتا ہے ۔
بل کی کلیدی خصوصیات میں سے ایک انشورنس کمپنیوں میں 100فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینا ہے ، جس سے ہندوستان میں مزید غیر ملکی کمپنیوں کے لئےراہیں کھل جائیں گی ۔ اس سے سرمایہ بڑھانے ، جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بہترین طریقوں کو لانے میں مدد ملے گی ۔ بڑھتی ہوئی مسابقت، شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے والی مصنوعات اور خدمات کوموثر بنانے میں مددگار ہو گی ۔
یک وقتی لائسنسنگ کی فراہمی اور لائسنس کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے بجائے معطل کرنے کی تجویز کے ذریعے بچولیوں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ بیمہ کنندگان کے لیے ، سرمایہ کی منتقلی کے لیے پیشگی ضابطے کی منظوری حاصل کرنے کی حد 1فیصد سے بڑھا کر 5فیصدکر دی گئی ہے ، غیر ملکی ری انشورنس برانچوں کے نیٹ اونڈ فنڈ کی ضرورت کو 5000 کروڑ روپے سے کم کر کے 1000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ ایل آئی سی کو ملک میں زونل دفاتر کھولنے اور اپنے غیر ملکی دفاتر کو ان کے متعلقہ دائرہ اختیار کے قوانین اور ضوابط سے ہم آہنگ کرنے کے لیے خود مختاری فراہم کی گئی ہے ۔
پالیسی ہولڈرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے ، بیمہ کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے ایک مخصوص فنڈ ، یعنی پالیسی ہولڈرز ایجوکیشن اینڈ پروٹیکشن فنڈ قائم کیا جائے گا ۔ پالیسی ہولڈرز کے ڈیٹا کو اب ڈی پی ڈی پی ایکٹ 2023 کے مطابق جمع اور محفوظ کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
ضابطے بنانے اور مشاورتی عمل کو لازمی بنانے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار متعارف کروا کرانضباطی حکمرانی کو مضبوط کیا جا رہا ہے ۔ آئی آر ڈی اے آئی کو بیمہ کنندگان اور بچولیوں سے حاصل ہونے والے غلط فوائد کو ختم کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے ۔ سزاؤں کو معقول بنایا جا رہا ہے اور سزاؤں کے نفاذ کے لیے عوامل متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔
ان اصلاحات کا مقصد لوگوں ،کنبوں اور کاروباری اداروں تک بیمہ کوریج کو بڑھانا ، بیمہ کوریج کو توسیع دینا ، کاروبار کرنے میں آسانی فراہم کرنا ، انضباطی نگرانی اور حکمرانی کو بہتر بنانا ہے ۔ ان تمام اقدامات سے ہندوستانی معیشت کو مالی استحکام فراہم کرنے کے لیے ہندوستانی بیمہ شعبے کو تقویت ملے گی ۔
***
ش ح۔م ش ۔ف ر
U-3510