صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) میں نوعمرافراد کی غذائیت سے متعلق قومی مشاورت: آئیے اپنی غذا کو درست کریں (ایل ایف او ایف )کنسورشیم کا انعقاد
مشاورت کے دوران کلیدی پالیسی بریف اور غذائیت سے متعلق خواندگی کے وسائل جاری کیے گئے ؛ کثیر فریقی اشتراک کو مضبوط بنانے پر پینل مباحثہ کا انعقاد
نوعمروں میں زیادہ وزن اور موٹاپے کا بڑھتا ہوا بوجھ ایک ابھرتا ہوا بحران ہے۔ اگر توجہ نہ دی گئی تو اس کے صحت عامہ اور معاشی پیداواری صلاحیت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے: ڈاکٹر وی کے۔ پال، رکن، نیتی آیوگ
نوعمروں کی غذائیت میں سرمایہ کاری صرف صحت کی ترجیح نہیں ہے بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔ صحت مند غذا کے ماحول کو فروغ اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کو نافذ کرکے، ہم آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کو محفوظ بنا سکتے ہیں: ڈاکٹر راجیو بہل، سکریٹری، محکمہ صحت ریسرچ ، حکومت ہند اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی ایم آر
Posted On:
28 MAR 2025 3:28PM by PIB Delhi
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن(آئی سی ایم آر- این آئی این)، پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا(پی ایچ ایف آئی)، یونیسیف- انڈیااور دیگر معزز قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کی قیادت میں لیٹس فکس آور فوڈ(ایل ایف اوایف)کنسورشیم نے آج آئی سی ایم آر، نئی دہلی میں بیداری کوبڑھانے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا اہتمام کیا۔ یہ پہل ہندوستانی نوعمروں میں زیادہ وزن اور موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ان کے کھانے کے ماحول کو متاثر کرنے والے عوامل پر کام کرتے ہوئے حل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
ڈاکٹر وی کےپال، رکن، نیتی آیوگ اور ڈاکٹر راجیو بہل، سکریٹری، محکمہ صحت تحقیق، حکومت ہند،کی مشاورت کے دوران اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی ایم آر، ڈاکٹر بھارتی کلکرنی، ڈائریکٹر،آئی سی ایم آر-این آئی این کی موجودگی میں کلیدی پالیسی بریف اور نیوٹریشن لٹریسی ریسورسزجاری کیے گئے ۔

اس مسئلے کی ہنگامی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر وی کے۔ پال نے ، "نوعمروں میں زیادہ وزن اور موٹاپے کا بڑھتا ہوا بوجھ ایک ابھرتا ہوا بحران ہے،پر زور دیا ۔ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی، تو اس کے عوامی صحت اور معاشی پیداواری صلاحیت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "آئیے اپنا اپنی غذا کودرست کریں(ایل ایف او ایف) کنسورشیم شواہد پیدا کرنے اور صحت مند غذا کے ماحول کو بنانے کے لیے مضبوط پالیسیوں کی وکالت کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔"

اپنے خطاب میں، ڈاکٹر راجیو بہل نے کہاکہ "نوجوانوں کی غذائیت میں سرمایہ کاری صرف ایک صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترجیح ہے۔ صحت مند غذا کے ماحول کو فروغ دے کر اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کو نافذ کر کے، جیسے کہ بچوں کے لیے خوراک کی تشہیر اور مارکیٹنگ پر مناسب پابندیاں لگاکر، چکنائی، شکر یا نمک سے بھرپور غذاؤں پر ممکنہ ٹیکس عائد کرکے ، اور غذائی خواندگی کو فروغ دیکر، ہم آنے والی نسلوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنا سکتے ہیں۔"

ڈاکٹر بھارتی کلکرنی نے اس بات پر زور دیا کہ’’نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ مؤثر وکالت اور فکری قیادت بھی غذائی پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایل ایف او ایف کنسورشیم کا کام ہمیں قیمتی بصیرت فراہم کرنا ہے، جو نوجوانوں میں مہارت پر مبنی غذائی خواندگی کو فروغ دینے کے ہمارے عزم میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاکہ وہ بہتر اور صحت مند غذائی انتخاب اور طرزِ زندگی اپنا سکیں۔‘‘
کلیدی ریلیزز اور مباحثے
پروگرام کے دوران جاری کی گئی پالیسی بریفس اور تحقیقی نتائج میں شامل ہیں: پالیسی بریفس- یو -رپورٹ ڈیجیٹل چینل کے ذریعے 163,000 سے زیادہ نوجوانوں کی رائے اکٹھا کرکے، اشتہارات اور مارکیٹنگ کو ریگولیٹ کرنے، ایچ ایف ایس ایس(ہائی فیٹ، شوگر، اور سالٹ) کھانے پینے کی اشیاء اور مشروبات پر ٹیکس لگا نے ، پالیسی بریفز- نوجوانوں کے صحت مند کھانے کے حق کو آگے بڑھانے ؛ اور رویے میں تبدیلی کے اسٹریٹجک رابطے ؛ خوراک اور غذائیت کی تعلیم کو اسکولوں میں ضم کرنے کے لیے ماڈل اسکول نیوٹریشن نصاب؛ فوڈ لیبل ریڈنگ کامک بک، کا مقصد نوعمروں کے کھانے کے لیبل اور مجموعی طور پر مہارت پر مبنی غذائیت کی خواندگی کو بہتر بنانا ہے۔
یونیسیف اور پی ایچ ایف آئی کی مسلسل تکنیکی مدد کے ساتھ ایل ایف او ایف اقدام نے نوجوانوں کو مسلسل بات چیت میں سب سے آگے رکھا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ای ڈائیلاگ،یوتھ ایمبیسیڈر نیٹ ورکس، اور فوڈ لٹریسی پروگراموں میں شمولیت کے ذریعے ان کی آواز سنی جائے۔ اجرا کے دوران دو نوعمر لڑکی اور لڑکے نے بھی موٹاپے بڑھاوادینے والے کھانے کے ماحول پر اپنے خیالات کا اظہار کیا جو ان کے کھانے کے انتخاب اور صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تقریب کے دوران، ایک پینل مباحثہ نے صحت مند کھانے کے ماحول کو فروغ دینے میں کثیر شعبہ جاتی تعاون کو بڑھانے کے لیے حکمت عملیوں کی کھوج کی۔ ماہرین نے بڑھتے ہوئے موٹاپے کی وبا کو روکنے کے لیے ریگولیٹری اقدامات، نوعمروں کی زیرقیادت وکالت، اور غیر صحت بخش کھانوں پر ٹیکس لگانے جیسی مالیاتی پالیسیوں پر غور کیا۔
دو سال سے زیادہ تحقیق اور وکالت کی بنیاد پر، ایل ایف او ایف کنسورشیم کا مقصد اس بات پر توجہ مرکوز کرنا ہے: باخبر کھانے کے انتخاب کے ساتھ نوعمروں کو بااختیار بنانے کے لیے غذائیت کی خواندگی کے پروگراموں کو بڑھانا؛ نوجوانوں کو گمراہ کن ایچ ایف ایس ایس فوڈ مارکیٹنگ سے بچانے کے لیے اشتہارات کے ضوابط کو مضبوط بنانا؛ غیر صحت بخش کھانوں کی روک تھام کے طور پر شکر والے مشروبات اور ایچ ایف ایس ایس فوڈز پر ہیلتھ ٹیکس کی وکالت؛ قومی غذائیت کے پروگراموں میں ضم شدہ ڈبل ڈیوٹی کارروائیوں کے ذریعے صحت مند اسکول اور گھریلو ماحول بنانا۔

وزارت صحت اور خاندانی بہبود(ایم او ایچ ایف ڈبلیو)، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیاایف ایس ایس اے آئی، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز(ڈی جی ایچ ایس)، وزارت تعلیم، سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن(سی بی ایس ای)، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے چلڈرن فنڈ(یونیسیف)، انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی ایف پی آر آئی) کے سینئر نمائندے، آئی ایف پی آر آئی، لائیو آف انڈیا (آئی ایف پی آر آئی) اور دیگر اہم صحت سے متعلق تحقیقی ادارے۔ چند اسکولوں کے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ تنظیموں نے بھی مشاورت میں حصہ لیا۔
پس منظر: لیٹس فکس آور فوڈ (ایل ایف او ایف) کنسورشیم ایک کثیر فریقی اقدام ہے جس کی قیادت آئی سی ایم آر-این آئی این، پی ایچ ایف آئی، اور یونیسیف کرتی ہے، جو نوجوانوں کے لیے صحت مند کھانے کے ماحول کی تخلیق کے لیے قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ اس کا مقصد شواہد پر مبنی پالیسیوں کو آگے بڑھانا، غذائی خواندگی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا، اور ایسے ریگولیٹری فریم ورک کی وکالت کرنا ہے جو صحت مند خوراک کے انتخاب کو فروغ دیتے ہیں۔ ایل ایف او ایف کنسورشیم تسلیم کرتا ہے کہ نوعمروں کے لیے خوراک کے ماحول کو بہتر بنانا زیادہ وزن اور موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے جس میں پالیسی میں اصلاحات، آگاہی پروگرام، اور دیرپا اثر پیدا کرنے کے لیے متعدد فریقوں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔
************
ش ح ۔ ف ا۔ م ص
(U:9114)
(Release ID: 2116389)
Visitor Counter : 25